Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

کلیات یگانہ میں ترتیب اور تلاش کا طریقہ کار – سیدہ ہما شیرازی

by adbimiras ستمبر 26, 2021
by adbimiras ستمبر 26, 2021 0 comment

اردو ادب میں یہ روایت اور رواج ہے کہ شاعر یا فنکار کے ذہنی ارتقا کو سمجھنے کے لیے اس کی تخلیقات کو ادوار میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ان ادوار سے تخلیق کار کے موضوعات اور اسالیب کے درجہ بدرجہ ارتقا کا علم ہوتا ہے۔ اس ارتقا میں بہت سے معاشرتی، سیاسی، ذہنی اور انفرادی عوامل ہوتے ہیں ۔ اس ارتقا کی درست نشان دہی کا پہلا عنصر یہ ہے کہ تخلیقات کی تاریخیں معلوم ہوں یعنی کون سی غزل کب لکھی گئی یا کون سا افسانہ و ناول پہلی بار کب لکھا گیا اور کب شائع ہوا۔ اس اصول و رواج کے مطابق ادب کی تاریخ میں متعدد تخلیق کاروں کی تخلیقات کو ادوار میں تقسیم کر کے ان کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور اس سے مختلف نتائج کا استخراج کیا گیا ہے

کلیات یگانہ کی ترتیب میں بھی مشفق خواجہ نے تاریخی ترتیب کو اہمیت دی اور یگانہ کا سارا  کلام تاریخی حوالے سے مرتب کیاانہوں نے ہر جگہ تدوین متن کے اصولوں کی پابندی کی ہے اور یہ پابندی شعوری ہے روایتی نہیں ۔ اس لئے کہ انہوں نے جگہ جگہ اس کی طرف اشارے بھی کئے ہیں

مشفق خواجہ کے تدوینی عمل پر بحث کرنے سے پہلے خواجہ صاحب کا مختصر تعارف پیش کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی ہمہ جہت شخصیت کا احاطہ کیا جا سکے

اردو کے نامور محقق، ادیب اور شاعر مشفق خواجہ 19 دسمبر 1935ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ مشفق خواجہ کا اصل نام خواجہ عبدالحئی تھا- ان کے والد خواجہ عبدالوحید علامہ اقبال کے ہم جلیس اور کئی علمی کتب کے مصنف تھے جبکہ ان کے چچا خواجہ عبدالمجید اردو کی معروف لغت جامع اللغات کے مؤلف تھے۔ قیام پاکستان کے بعد مشفق خواجہ کراچی منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے 1958ء میں ایم اے کیا۔ 1957ء سے 1973ء تک وہ انجمن ترقی اردو سے وابستہ رہے۔ اس ادارے سے وابستگی نے مشفق خواجہ کی شخصیت کو جلا بخشی اور یوں انہوں نے تن تنہا کئی اہم تحقیقی کارنامے انجام دیئے۔ 1980ء کی دہائی میں مشفق خواجہ نے خامہ بگوش کے قلمی نام سے ادبی کالم نگاری کا آغاز کیا جس نے پورے برصغیر میں دھوم مچادی۔ مشفق خواجہ کی تصانیف اور تالیفات میں قاموس الکتب، خوش معرکہ زیبا، پرانے شاعر نیا کلام، اقبال از احمد دین، غالب اور صفیر بلگرامی، جائزہ مکتوبات اردو، تحقیق نامہ اور کلیات یگانہ کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ابیات کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے ادبی کالموں اور مکاتیب کے کئی مجموعے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ ٭21 فروری 2005ء کو اردو کے نامور محقق، ادیب اور شاعر مشفق خواجہ کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں

مشفق خواجہ کے تعارف کے بعد یگانہ کے  تعارف پیش کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یگانہ کے کلام پر بات کرنے سے پہلے اس کے حوالے سے چند تعارفی چیزوں کو دیکھ لیا جائے

یاس یگانہ چنگیزی 17 اکتوبر 1884ء کو صوبہ بہار کے شہر پٹنہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اصل نام مرزا واجد حسین تھا۔ ابتدا میں یاس تخلص کرتے تھے پھر یگانہ تخلص اختیار کیا۔ 1904ء میں وہ لکھنؤ گئے جہاں کی فضا انہیں کچھ ایسی راس آئی کے وہیں کے رہے۔ لکھنؤ میں مشاعروں اور ادبی محافل کا دور دورہ تھا لیکن لکھنؤ کے روایت پسند اساتذہ سے یگانہ کی بنی نہیں۔ یگانہ اچھے اچھے شاعروں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے حتیٰ کہ مرزا غالب بھی ان کے اعتراضات کی زد سے محفوظ نہ رہ سکے۔ یگانہ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ لکھنؤ میں بڑی کسمپرسی میں بسر کیا اور وہیں 4 فروری 1956ء کو انتقال کیا۔ یگانہ کے شعری مجموعے نشتر یاس، آیات وجدانی، ترانہ اور گنجینہ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ 2003ء میں مشفق خواجہ نے ان کے کلام کی کلیات شائع کی- (یہ بھی پڑھیں  ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ ہما شیرازی)

یاس یگانہ کا کلام اور اس کی اشاعتی صورتحال و اہمیت:

کلیات یگانہ کے تدوینی طریقہ کار اور اس  کی کامیابی کے حوالے سے بات کرنے سے پہلے ہمیں یگانہ    کے کلام پر مختصر طور پر نظر ڈالنی ہوگی تاکہ ہمیں اس بات کا اندازہ ہوسکے کہ کلام یگانہ کس شکل میں موجود تھا اور اس میں کس کس طرح کی خامیاں موجود تھی  اس کے بعد ہی اس بات کا اندازہ بہتر  طور پر ہو سکے گا کہ مشفق خواجہ کو اس کلیات کی تدوین میں کن کن مشکلات سے نبرد آزما ہونا پڑا اور اس کے بعد انہوں نے کس انداز سے  اس کلیات کے تدوینی عمل کو مکمل کیا

یگانہ  کا پورا کلام کبھی شائع نہیں ہوا اور جو مجموعے شائع ہوئے ان میں بھی کسی سلیقے کا اظہار نظر نہیں آتا  یگانہ   کا پہلا مجموعہ  ”نشتریاس” جو کہ 14 19میں چھپا تھا اس میں موجود اگر کلام کی بات کی جائے تو اس کا بڑا حصہ یگانہ کے ابتدائی طور پر مشتمل ہے اس کی شہرت اپنے زمانے میں اس کے مندرجات کی وجہ سے کم اور اس میں لکھنؤ کے ہم عصر شعراء سے جھگڑے کی بنا پر زیادہ ہوئی اس مجموعہ میں موجود کلام کے غیر اہم ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بعد کے مجموعوں میں اس کے بہت سے اشعار کو شامل ہونے کے لائق  نہیں سمجھا  گیا-

یگانہ کا دوسرا اور اہم مجموعہ ”آیات وجدانی” 1927 میں شائع ہوا اگر یوں کہا جائے کہ یگانہ کی شاعرانہ اہمیت کا دارومدار بڑی حد تک اسی مجموعہ پر ہے تو بے جا نہ ہوگا لیکن اس مجموعہ کی اشاعت  کچھ اس انداز میں ہوئی کہ نثر کا پلہ شاعری سے بھاری ہو گیا اور مرزا مراد  بیگ کے محاضرات    کے سامنے کلام یگانہ  کی اہمیت ثانوی  نظر آئی اس مجموعہ کو قاری پڑھتے ہوئے محسوس کرتا ہے کہ نثر  اشعار کی وضاحت کے لیے نہیں لکھی بلکہ نثر  کی خوبصورتی کیلئے اشعار کا استعمال کیا گیا ہے -اس طرح کا سلوک وہ بھی اپنے بہترین کلام سے یگانہ جیسا تخلیق کار ہی کر سکتاہے زمانی اعتبار سے آیات وجدانی کے سات برس بعد 1933 میں” ترانہ ” کی اشاعت عمل میں آئی ـ یہ کتاب عمر خیام کی رباعیات کی طرح جیبی سائز میں شائع ہوئی تھی اس سائز میں ہونے کی وجہ سے کم نسخےمحفوظ رہ سکے

1934 میں ”آیات وجدانی ” کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا اس میں اہم بات یہ تھی کہ سوائے انتساب کے اس میں نثر      نام کی کوئی چیز شامل نہیں تھی

اس حوالے سے مشفق خواجہ لکھتے ہیں کہ

” مگر معلوم نہیں اس پر کیا گزرے کے اس  کی اشاعت کی کانوں کان کسی کو خبر نہ ہوئی کسی کتاب خانے میں موجود نہیں ہے اگر یگانہ  اس کا ایک نسخہ پروفیسر سید مسعود حسن رضوی ادیب نہ دیتے تو میرے لئے استفادہ کرنا ناممکن تھا”(کلیات یگانہ ص ن  26)

1946 میں” آیا ت وجدانی”  کا تیسرا ایڈیشن شائع ہوا جس کی حالت پہلے ایڈیشن سے بھی ابتر تھی اس میں مضامین کو اتنے برے انداز میں شامل کیا گیا کہ کلام کی ثانوی حیثیت بھی جاتی رہی حالانکہ اس اشاعت میں یگانہ نے کچھ نیا کلام بھی شامل کیا لیکن وہ بھی اس بد سلیقی کی نظر ہوگیا

1964میں یگانہ  کا سفر بمبئی اور وہاں سید سجاد ظہیر سے ملاقات کے بعد یگانہ نے تمام مجموعہ میں شامل کلام کو ان کے لئے گنجینہ کے نام سے مرتب کر دیا جو کہ 1947میں شائع ہوا اس طرح یہ نسخہ تقسیم اور اس سے ہونے والے فسادات کی نذر ہوگیا اور یہ محدود تعداد میں قارئین تک پہنچ سکا لیکن یہی وہ مجموعہ ہے جن کے نسخے کم ہی سہی دستیاب ہو جاتے ہیں لیکن یگانہ اس مجموعے سے مطمئن نہیں تھی مالک رام کے نام مکتوب مورخہ 10 فروری 1951 میں لکھتے ہیں

” گنجینہ میں طباعت کی بعض افسوسناک غلطیاں رہ گئی ہیں اور بعض مقام پر تو معلوم ہوتا ہے کہ پبلشرنے اشعار پر اصلاح بھی دے دی ہے اور بعض اشعار اپنی خوش ذوقی جتلانے کے لئے خارج بھی کردیے ہیں ”

(کلیات یگانہ ص ن  27)

لیکن یہ کتابت کی غلطی صرف گنجینہ میں ہی دیکھنے کو نہیں ملتی بلکہ جو مجموعے یگانہ  نے خود طبع کرائےاس میں بھی غلطیاں موجود ہیں

کلیات  مرزا یاس یگانہ چنگیزی کے مآخذ اور تلاش کا طریقہ کار

کلیات یگانہ میں مشفق خواجہ نے صرف مطبوعہ کلام  کو ہی یکجا نہیں کیا بلکہ گنجینہ کی اشاعت کے بعد آٹھ ،نو برس یگانہ زندہ رہے  اس زمانے کے کلام کو بھی  کلیات میں شامل کیا گیا جس کی دریافت کے لیے انہوں نے یگانہ کی بیٹی اور بیٹے سے رابطہ کیا جس سے ان کو دوبیاضیں ملی جو کہ بخط یگانہ تھی اسی طرح دیگر ذرائع سے یگانہ کے خطوط حاصل کیے بقول مشفق خواجہ

”یگانہ خطوں کے ساتھ شعلہ کو اپنا کلام بھی بھیجا کرتے تھے اسی ذخیرے سے ترانہ کا مسودہ بھی درستیاب ہوا ”

(کلیات یگانہ ص ن  28)

کلیات یگانہ کے دیباچے میں مشفق خواجہ لکھتے ہیں

”اسی دوران معلوم ہوا کہ 1951میں یگانہ نے گنجینہ کو از سر نو مرتب کیا تو اس کا مسودہ مالک رام کے پاس ہے میں نے اس عکس ان سے منگوایا ”(کلیات یگانہ ص ن  28)

ساتھ  ہی وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس کے کچھ حصے پڑھنے نہیں جاتے تھے اس لیے اصل کو دیکھنا ضروری تھا جہاں مشفق خواجہ تدوین کے اہم اصول منشائے مصنف کو اپناتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اوربجائے قیاس لگانے کہ اکتوبر 1985 میں دہلی کے سفر کے دوران مالک رام سے گنجینہ کا قلمی نسخہ حاصل کرتے ہیں

بقول مشفق خواجہ

گنجینہ قلمی میں یگانہ نے آیات وجدانی سے لے کر گنجینہ مطبوعہ تک تمام مجموعوں میں شامل کلام بھی شامل کیا ہے جو ان مجموعوں سے پہلے کا ہےاور کسی مجموعے میں شامل نہیں کیا  ہےگیا نیز 1951-1947 تک جو کچھ لکھا تھا وہ       بھی اس میں شامل کر لیا”(کلیات یگانہ ص ن29)

اس طرح گنجینہ قلمی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں یگانہ کا تمام کلام شامل تھا اور اس کے ساتھ ساتھیگانہ نے کلام میں جو ترامیم کی اور متعدد غزلوں کے اشعار ترتیب بھی بدلی وہ بھی اس اہم ترین مجموعہ میں شامل ہے

اس کلیات کی تدوین میں مشفق خواجہ نےخود نوشت یاس اورکجکول کو بھی پیش نظر رکھا

کجکول یگانہ کی ایسی بیاض ہے جس میں یگا نہ نے علمی اور ادبی لطائف پسندیدہ اردو  اور فارسی  اشعار وغیرہ  لکھے  ہیں اس بیاض کا زمانہ تحریر 17-1916 ہے جبکہ خود نوشت اور کشکول میں یگانہ  کا کلام بھی ملتا ہے

کلام یگانہ کا اہم ماخذ رسائل بھی ہیں اس مآخذ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یگانہ  اپنے دور میں رسائل میں سب سے زیادہ چھپنے والے شاعر تھے (یہ بھی پڑھیں غلام باغ اور بدلتی ہوئی سماجی صورتحال – سیدہ ہما شیرازی )

مشفق خواجہ کلیات کہ دیباچہ میں لکھتے ہیں

”بعض رسائل میں یگانہ کا ایسا کلام نظر آیا جو ان کے کس مجموعہ میں شامل نہیں ہے تو میں نے طے کر لیا کہ یگانہ کی زندگی میں شائع ہونے والے تمام ادبی رسائل کو دیکھا جائے” (کلیات یگانہ ص ن  30)

اوپر بیان کیے گئے مآخذات اور تلاش کے طریقہ کار  سے مشفق خواجہ کے اس تدوینی عمل کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کس عرق ریزی سے یہ کام سر انجام دیا ہےاور ان مآخذات کےحصول کے لیے کن کن لوگوں سے رابطہ کیاجس کہ بعد کلیات یگانہ کو ترتیب دیا گیا ہے

مشفق  خواجہ دیباچے میں لکھتے ہیں

”زیر نظر کلیات میں یگانہ کاسارا کلام ہے مگر بات شعر مجبورا شامل نہیں کیے یہ وہ شعر ہے جن سے اہل مذہب یا کسی خاص مذہبی فرقے کے کسی خاص ایک خطے کے باشندوں کی دل آزاری کا پہلو نکلتا ہے یا بعض شخصیات کے حوالے سے فحاشی کی حدوں کو چھولیاگیا ہے”(کلیات یگانہ ص ن  31)

اس کے بعد وہ  لکھتے ہیں کہ

”ہاں میں نے احتیاط کی ہے کہ کسی غزل کا کوئی شعر یا کوئی رباعی حذف کی ہے تو حواشی میں صراحت کر دی جائے بوجوہ ایسا کیا گیا ہے”(کلیات یگانہ ص ن  32)

دیباچے  میں کلیات کی ترتیب کے حوالے سے مشفق خواجہ  نے لکھا ہے کہ

”بہت سوچ بچار کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمام مجموعہ جس ترتیب سے چھپے ہیں اسی ترتیب سے کلیات میں شامل کیے جائیں ”(کلیات یگانہ ص ن32)

یعنی کلیات میں کلام کو تاریخی اعتبار سے ترتیب دیا گیا ہے اور شروع میں غزلیات ،رباعیات کی ردیف وار فہرستیں دی گئی ہیں جس سے یہ فائدہ ہوا کہ کلام اسی ترتیب سےسامنے آیا جس سے بڑی حد تک لکھا گیا اور پھر مجموعہ کی صورت میں شائع ہوا

مکررات کے مسئلہ کے حوالے سے مشفق خواجہ بیان کرتے ہیں کہ

” اگر کلیات میں تمام مجموعے  بہ تمام و کمال شامل کیے جائے تو کلام کا بڑا حصہ مجموعوں میں مشترک ہوتا ہے اور یہ بات مضحکہ خیز ہوتی ہے کہ ہر غزل رباعی کلیات میں پانچ سے سات مرتبہ  تک موجود ہو اس کا حل میں نے یہ نکالا کہ نشتر یاستو  کلیات میں مکمل طور پر شامل کیا ہے آیات وجدانی میں  نشتر یاس سے جو شعر یا غزلیں شامل تھیں انھیں حذف کر  دیاہے متعلقہ مقامات پر اس کی صراحت کردی اور حواشی میں بھی حوالہ دے دیا ہے ”

(کلیات یگانہ ص ن  33)

کلیات میں مشفق خواجہ نے نمبر شمار کا نظام اسی ترتیب کے ساتھ فرض کیا ہے جو گنجینہ مطبوعہ اور قلمی میں یگانہ نے غزلوں اور رباعیوں کےنمبر شمار درج کیے تھے اور یہی نمبر ہر غزل یا رباعی کے شروع میں درج کیے ہیں اور حواشی میں جہاں کہیں بھی نمبروں کا حوالہ دیا ہے بقیدہ صفحہ دیا ہے تاکہ اصل مجموعہ کلام سے بھی  متعلقہ  تخلیق کے شمار میں آسانی ہو اور ان نمبر شمار سے ہر مجموعے میں شامل تخلیقات کی تعداد معلوم ہو جاتی ہے آیات وجدانی طبع دوم اور اس کے بعد کی تمام مجموعہ میں خارج متعدد تخلیقات کی فردا فردا نشاندہی نہیں کی گئی اور نمبر شمار سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ کون سی تخلیقات سابقہ مجموعوں میں آچکی ہیں البتہ حواشی میں نشاندہی کی گئی ہے

مثلا آیات وجدانی طبع دوم میں غزل ایک کے بعد غزل نمبر 23 ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ درمیان 21 غزلیں آیات وجدانی  طبع اول  یا نشتر یاس میں شامل ہیں

یہی معاملہ اشعار کے ساتھ بھی برتا گیا ہے اگر کسی غزل کے چند اشعار کسی سابقہ مجموعہ میں آچکے ہیں تو بعدکے مجموعہ میں صرف وہی شعر شامل کیے گئے ہیں جو سابقہ مجموعے میں شامل نہیں تھے جن کی تفصیل حواشی میں درج کردی گئی ہے

حواشی چونکہ ہر مجموعہ کے صفحات کے حوالے سے لکھے گئے ہیں لہذا ان تمام مجموعہ کے مندرجات کی تفسیر معلوم ہوتی ہے ہر مجموعے  میں تخلیقات کی ترتیب جاننے کے لئے حواشی  مکمل فہرست کام دیتی ہے مجموعی طور پر کلیات دس حصوں پر مشتمل ہے جن میں سے ابتدائی سات حصوں پر تو بات ہو چکی ہے جبکہ باقی تین حصے ذیل ہیں

1غیر مدون کلام

2 باقیات

3ضمائم

غیر مدون کلام کے عنوان کے تحت وہ کلام جمع کیا گیا ہے جویگانہ کے کسی مجموعے میں شامل نہیں  ہے اور شاعری کی بیاضوں اور ادبی سالوں میں دستیاب ہوا ہے اس  کے دو حصے ہیں

ایک حصے میں رباعیات

اور دوسرے میں دیگر کلام

رباعیات کا حصہ سنہ وار مرتب کیا گیا ہے جو ان ادوار میں منقسم ہے

1932-1914

1935-1933

1938-1936

1952-1951

اس کے علاوہ جن رباعیات کے حتمی سنین  مل گئے ہیں وہ  ہررباعی کے آخر میں درجہ ہیں مذکورہ چاروں حصوں میں رباعیوں کے اندرونی ترتیب ردیف وار رکھی گئی ہے مگر دیگر کلام یہ طریقہ استعمال نہیں کیا گیا اس حصے کی  اہم بات یہ ہے کہ یہ جس ترتیب سے دستیاب ہوا ہے اسی ترتیب سے کلیات میں شامل کیا گیا ہے

باقیات کے تحت  غزلوں کے متفرق اشعار ہیں جو بیاضاور رسالوں میں تو ملتے ہیں لیکن متعلقہ غزلوں کے مجموعے میں شامل کرتے وقت خارج کر دیے گئے گویا یہ شاعر کے رد کردہ اشعار ہیں

بقول مشفق خواجہ

”انہوں نے متعدد ردکردہ شعروں کو دوبارہ قبول بھی کیا اور انہیں اپنے مجموعہ میں شامل کیا اس لئے میں نے بھی ان شعروں کو محفوظ کرنا مناسب سمجھا”

کلیات کی ترتیب کا کام مکمل ہو جانے کے بعد جو کلام ملا اس کو آخر میں دو ضمیموں کی صورت میں شامل کیا گیا ہے

ایک غیر مدون کلام اور دوسرا باقیات

اس کلیات میں  یگانہ کے مجموعوں میں شامل دیباچے تعارفی تحریر یں اور انتسابات وغیرہ کو بھی شامل کیا ہے کچھ تحریریں ایسی بھی ہیں جن کو کلیات میں شامل نہیں کیا گیا جن کے بارے میں مشفق خواجہ  تفصیل سے بیان کرتے ہیں

مشفق خواجہ کے مطابق 11 اپریل 1951 کے بعد کی ترمیموں کو مصنف کے آخری متن کو سامنے رکھنے کہ اصول کے تحت کلیات میں جگہ دی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مختلف ادوار میں ادیب کی بدلتی ہوئی سماجی حیثیت ۔ سیدہ ہما شہزادی )

حواشی کی بات کی جائے تو  جیسے پہلے تفصیل سےذکر ہو چکا ہے کہ تمام حصوں کی حواشی الگ الگ رکھے گئے ہیں سب سے پہلے نمبر شمار درج ہے کہ متعلقہ مجموعہ کا صفحہ نمبر اس کے بعد ماخذ کے عنوان کے تحت ان تماممآخذ کی فہرست ہے  جن میں تخلیق ملتی ہے اس میں سب سے پہلے یگانہ کی تصانیف ہے پھر دیگر کتابیں اور رسالے شامل ہیں نشتریاس میں ایسی غزلیں جن کی اصلاح یگانہ کے  بعض  اساتذہ نے دی تھی ان کی تفصیل اصلاح استاد کے عنوان کے تحت درج کی گئی ہے۔لیکن بعد کے مجموعوں میں جو ترامیم یگانہ نے کی ہے ان کو اختلاف نسخہ کت تحت دیا گیا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر نے مختلف اوقات میں اپنے کلام میں کیا کیا تبدیلیاں کی ہے۔

کتابت کی غلطیاں جو مشفق خارجہ کے بقول تمام مجموعوں  میں موجود ہیں ان سب غلطیوں کی نشاندہی بھی حواشی میں س ک سہو کتابت کے عنوان کے تحت کی گئی ہے

حواشی میں آخری عنوان زمانہ تصنیف ہے جس کے تحت تخلیق کار کے زمانے تصنیف متعین کیا گیا اس حوالے سے مشفق خواجہ لکھتے ہیں کہ خطوط کے علاوہ رسائل سے اس سلسلے میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے جن غزلوں کی سنین تصنیف معلوم ہوئے اس کو آخر میں درج کیا گیا ہے

فرہنگ شامل کرنے کے حوالے سے مشفق  خواجہ لکھتے ہیں

لکھنوی حریفوں کو اپنی زبان دانی سے مرعوب کرنے کے لیے ایسے محاورے استعمال کیے جن کے مفاہیم سے لکھنؤ کی عوام تو کیا خاص بھی کم کم ہی واقف تھے اس صورتحال کے پیش نظر میں نے مناسب سمجھا کہ کلیات میں فرنگ شامل کی جائے لیکن ذرا محدود پیمانے پر فرہنگ میں کثیر معنی الفاظ کی تمام معنی نہیں لکھے وہی معنی فرنگ میں درج کیا گیا جو مطلب مراد شاعر ہیں

اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشفق خواجہ نے اس کلیات کی تکمیل کے لیے جس طرح کےطریقہ کار کا عملی طور پر مظاہرہ کیا  ہے وہ قابل تحسین ہے اور جس طریقے سے اس تحقیق و تدوین میں استعمال کیا یہ ان جیسے انسان کی ہی بس کی بات ہے دکھائی دیتی ہے جس سے  خواجہ کا قلم خوب واقف ہے

یگانہ کے کلام کو جس طرح مشفق خواجہ نے مرتب کرکے نئی زندگی بخشی اس کی مثال کہیں نہیں ملتی یہ ہی وجہ ہے کہ مشفق خواجہ یگانہ کا ایسا حوالہ ہیں  کہ جن کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اگر یہ کہا جائے کہ کلیات یگانہ  تدوین کی دنیا میں ہونے والے چند اہم کارناموں میں شامل ہے تو غلط نہ ہوگا جس میں ہر ممکن یہ سوالات کے کار کی بھی بڑے اچھے انداز میں کی گئی ہے

حوالہ جات

1 –  مشفق خواجہ ، مرتب :کلیات یگانہ ،کراچی :اکادمی بازیافت ، 2003ء

2- مشفق خواجہ ، مرتب :کلیات یگانہ،ص : 26

3- مشفق خواجہ ، مرتب :کلیات یگانہ،ص :27

4- مشفق خواجہ ، مرتب :کلیات یگانہ،ص : 28

5- مشفق خواجہ ، مرتب :کلیات یگانہ،ص : 29

6- مشفق خواجہ ، مرتب :کلیات یگانہ،ص : 31

7- مشفق خواجہ ، مرتب :کلیات یگانہ،ص : 32

8- مشفق خواجہ ، مرتب :کلیات یگانہ،ص : 33

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

سیدہ ہما شہزادی
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
نرگسیت کیا ہے؟ – ترجمہ:نایاب حسن
اگلی پوسٹ
کوویڈ 19 اور آن لائن تعلیم – ساجد حمید

یہ بھی پڑھیں

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

رولاں بارتھ،غالب  اور شمس الرحمان فاروقی – ڈاکٹر...

فروری 25, 2024

مابعد جدیدیت، اردو کے تناظر میں – پروفیسر...

نومبر 19, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں