شاہد انجم جتنے اچھے شاعر ہیں، اتنے اچھے انسان بھی ہیں۔ جو شخص بھی ان سے ایک بار مل لیتا ہے وہ بے اختیار ان کے اعلیٰ اخلاق اور اونچے کردار کا قائل ہو جاتا ہے۔ انسانیت اور انسان سے محبت شاہد انجم کا مشن ہی نہیں بلکہ ان کا ایمان بھی ہے۔ وہ بلا رنگ و نسل، ذات و مذہب انسان سے محبت کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اس کاکوئی علاقہ نہیں اور اس کی کوئی برادری نہیں۔ محبت عالمگیر ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں بھائی شاہد انجم کی شخصیت بھی عالمگیر شخصیت ہے۔ (یہ بھی پڑھیں فیروز عابد…… اردو افسانے کا ایک معتبر نام – اصغر شمیم )
میری نظر میں اعلیٰ شاعری کی پہچان یہ ہے کہ وہ صحیح اور مکمل طور سے ہمارے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتی ہو۔ اگر اس میں یہ خوبیاں موجود ہیں تو اس شاعری کا معیار بلند ہوگا۔ ا س میں کوئی شک نہیں کہ اعلیٰ شاعری کی پرکھ کے لیے ہم کو اسلوب پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ مگر اسلوب صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ ہے۔ شاعری کی روح وہی جذبہ ہے جو حیاتِ انسانی کا ترجمان ہو۔ کچھ مفکرین نے ادب برائے ادب کا نظریہ بھی پیش کیا ہے مگر یہ نظریہ نہایت محودو ہے۔ ادب زندگی کا عکس ہوتا ہے یعنی ادب کا تعلق براہِ راست زندگی سے ہے اور ادب کا وجود بھی زندگی کے لیے۔ اگر ادب زندگی کے لیے نہیں ہے تو اس ادب کی زندگی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ادب تنقیدِ حیات ہے اس لیے بڑا شاعر وہی ہے جس کا کلام زندگی سے مطابقت رکھتا ہو۔اس لیے میں یہ بات اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ شاہد انجم ایک بڑے شاعر ہیں۔
شاہد انجم کی شاعری میں تخلیقی شعور کی بیداری کا عمل ضرور ہوتا ہے جس کا تعلق اپنے عہد کے مظاہر کے مشاہدوں اور زندگی کے تجربوں سے ہے۔ ان کی شاعری میں لفظیاتی آہنگ اور سوز و گداز ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کی ایک ایسی دنیا آباد کی ہے جس میں شدتِ احساس کے ساتھ شعری منطق اور بصری پیکر بھی ہیں۔ ان کا کلام پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی غزلوں میں زندگی کے داخلی اور خارجی مسائل کی تصویر کشی کی گئی ہو۔ انھوں نے زندگی کی اعلیٰ قدروں کو برقرار رکھ کر فن اور جذبوں کی آویزش سے لطافتِ بیان اور شعری نغمگی کو برقرار رکھا ہے۔ ان کی غزلوں کے یہ شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
مرے جیسا ہی اچھا آدمی ہے
مری غزلوں میں زندہ آدمی ہے
ہم اس موسم میں بھی دیکھو تمہارے ساتھ رہتے ہیں
وہ جس موسم میں پیڑوں کو پرندے چھوڑ دیتے ہیں
محبت کرنے والوں کی الگ پہچان ہوتی ہے
وہ بہتے پانیوں پہ نقش اپنے چھوڑ دیتے ہیں
اپنی شاخوں سے بچھڑ جانے کا غم ہوتا ہے
ہم پرندوں کو اجڑ جانے کا غم ہوتا ہے
میلہ جو دوستی کا لگاتے تھے گاؤں میں
تنہا وہ ممبئی کے مکانوں میں مر گئے
درد سے چیخ اُٹھے ہیں پتھر
اہلِ دل ہونٹ سیے بیٹھے ہیں
شاہد انجم کی غزلوں کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ وہ ایک ایسے فنکار ہیں جن کے کلام میں ان کے من کا اجلا پن اور طبیعت میں سادگی نمایاں ہے۔ ان کی شاعری ایک تازہ ہوا کے جھونکے کے جیسی ہے۔ جس میں زبان و بیان کی ندرت بھی ہے، سادگی اور سلاست کے ساتھ ساتھ قاری کے دل میں جگہ بنالینے والی وہ گہرائی بھی ہے جس کو پھولوں جیسی تازگی کے نام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنے تجربات کو شاعری کا لباس پہنایا ہے۔ میری نظر میں ان کے تجربات حقیقی ہیں اس لیے اظہار میں بڑی شدت ہے۔ بعض اشعار تو احساس کے زخم کی تہیں تک کھرچ ڈالتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں ؎
کسی بزرگ کی تصویر ٹانگنے کے لیے
نئے گھروں میں محبت کی کیل کوئی نہیں
عدالت میں دلالی کر رہے ہیں
وہ گوری گائے کالی کر رہے ہیں
تم اگر انصاف کر سکتے نہیں
کیوں نہیں جاتے کچہری چھوڑ کر
غریب ماؤں کے بچے لہو پہ پلتے ہیں
بغیر کھائے پئے دودھ کب اترتا ہے
میرے مالک مری سانسوں کی حفاظت کرنا
میرے بچے ابھی چلنا بھی نہیں سیکھے ہیں
شاہد انجم کا شعری منظر نامہ ان کے لب و لہجے کا آہنگ ان کی فکر و نظر کی رنگارنگی ان کی تخلیقیت کے خدو خال ان کا طرزِ اظہار اورا ن کی زبان کی شائستگی، بیان کی شگفتگی، تخیل کی آراستگی نو بہ نو لفظیات کی برجستگی، جدت طرفگی، معنی خیزی سے تجسیم پاتا ہے۔
ان کے مزید کچھ اشعار یہاں پیش کیے جا رہے ہیں جن میں موضوعات کا تنوع، محسوسات کی رنگارنگی، طرزِ ادا کی جدت، ندرت اور انفرادیت ہے نیز اندازِ پیش کش کی سادگی، سلاست اور بے ساختگی ہے۔ نئی لفظیات کے ساتھ تراکیب بھی نئی اور ان کی اپنی اختراع کردہ ہیں۔
ہوا کے ساز پہ گاتی ہوئی مکئی کی طرح
وہ ایک شام ملا شامِ سرمئی کی طرح
محبتوں کی لگادی ہے میں نے لت اس کو
نہ راس آئے گی دنیا کی سلطنت اس کو
میں تیرے واسطے دلّی تو چھوڑ دوں لیکن
مہاجروں کی کراچی میں آبرو کیا ہے
ضرورت کے تقاضے اور کچھ ہیں
اسے ضد ہے سفر سے لوٹ آؤں
میں نے ترے علاوہ کسی کی نہیں سنی
دنیا کے مشورے میرے کانوں میں مر گئے
شاہد انجم مشاعروں کی دنیا میں دھوم مچا تے رہتے ہیں۔ وہ مشاعروں کی کامیاب ترین شاعر ہیں،انھوں نے عہد حاضر کے تمام ان شعرا کے ساتھ مشاعرے پڑھے ہیں جنھیں مشاعروں میں کامیابی کی ضمانت تسلیم کیا جاتا ہے۔ مشاعروں میں وہ اپنی شاعری اور اندازِ پیش کش کی بنا پر سامعین کے دلوں پر فتح و نصرت کے الم نصب کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اشعار ان کی حب الوطنی کے آئینہ دار ہیں ؎
سلگتی دھوپ ستاروں کی چھاؤں جیسی ہے
وطن کی دھول بھی ماں کی دعاؤں جیسی ہے
اپنے لہو سے مانگ تری بھر جائیں گے
مٹی تیرا قرض ادا کر جائیں گے
ہم کو پیارا ہمارا بھارت ہے
ہم پرندوں کی یہ تو جنت ہے
اب کے ایسا کوئی خواب دیکھنا
نفرتیں مٹ جائیں ہندوستان سے
ایسے کتنے ہی اشعار یہاں قلم بند کیے جا سکتے ہیں جن سے شاہد انجم کی انفرادیت اور ان کی ذہنی توانائی کا پتا چلتا ہے۔ طوالت کی فکر دامن گیر ہے۔ اس لیے آخر میں ان کے وہ اشعار پیش کرناچاہتا ہوں جن سے مشاعروں کی دنیا میں شاہد انجم کے نام کو جانا اور پہچانا جاتا ہے ؎
جب تک ہم مٹی کے گھر میں رہتے تھے
گاؤں کے سارے لوگ اثر میں رہتے تھے
اب اسلام آباد میں بھی محفوظ نہیں
اچھے خاصے رام نگر میں رہتے تھے
تعلقات کے جنگل کی نیل گائے ہوں میں
مجھے تو گاؤں کا سادھو بھی مار سکتا ہے
ابھی تک بوجھ ہے دل پر تمہارے
ابھی تک تم مجھے بھولے نہیں ہو
میں ایک عمر سے ترتیب دے رہا ہوں انھیں
تمہارے بعد جو صدمے مجھے اُٹھانے ہیں
جہا ں پانی کی اُمیدیں فرشتے چھوڑ دیتے ہیں
خدا والے اسی صحرا میں بچے چھوڑ دیتے ہیں
امیر شہر کے بچے زکوٰۃ کھاتے ہیں
اسی لیے تو خدا کے عذاب آتے ہیں
مدتوں بعد ہوا تم سے بچھڑنے کا یقیں
مدتوں بعد کھلی مجھ پہ مری تنہائی
میری آنکھوں سے خون بہنے لگا
اس کا نمبر ڈلیٹ کرتے ہوئے
فہیم بسمل
ایڈیٹر سہ ماہی کاوش
ایمن زئی جلال نگر،
شاہ جہاں پور8707771203
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

