گزشتہ ماہ (اکتوبر 2021)تقریباً تین سال کے طویل عرصے کے بعد مادر علمی دار العلوم دیوبند جانا نصیب ہوا۔دہلی سے دیررات بذریعہ بس ہم دیوبند پہنچے ۔ سفر میں میرے ساتھ میرے رفیقِ درس مولانا امیر حمزہ بھی تھے۔ کرم فرمامولانانسیم اختر شاہ قیصر صاحب نے ہمیں اپنا مہمان بنایا اور ہم ان کے دولت کدہ محلہ خانقاہ میں فروکش ہوئے۔بعد فجر ہم دونوں سب سے پہلے مزار ِ قاسمی حاضر ہوئےاور فاتحہ میں مشغول ہوگئے۔فاتحہ پڑھتے پڑھتے ذہن و دماغ ماضی میں کھو گیا ۔ اپنے وہ اساتذہ ایک ایک کرکے یاد آنے لگے جنھوں نے ہمیں بولنا، لکھنا پڑھنا، چلنا،آگے بڑھنااور جینا سکھایاتھا۔حضرت شیخ نصیر احمد خاں ؒ، شیخ ثانی مولانا عبد الحق اعظمیؒ،مولانا ریاست علی ظفربجنوریؒ،مولانا شبیر احمد باغونوالیؒ،بابا مولانا عبد الرحیم بستویؒ، قاری عثمان منصور پوریؒ،مفتی سعید احمد پالنپوریؒ اور ماہر فن اسمائے رجال مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ۔ان میں مولانا باغونوالی اور مولانا بستوی کو چھوڑ کر سب کے سب ہمارے دورہ حدیث کے اساتذہ تھے، رونق ِ مہر و ماہ اور سروں کا تاج تھےلیکن پرآشوبی کے گزشتہ دوبرسوں (2020-2021)نے ہم سے ہمارا انتہائی قیمتی اچاثہ چھین لیا۔ ان میں حضرت مفتی صاحب تو ممبئی کی سرزمین میں آسودہ خواب ہیں اور استاذاعظمی اپنے وطن اعظم گڑھ میں ۔
اساتذہ کی اسی کہکشاں میں ایک روشن نام مولانا عبد الخالق سنبھلی ؒ کا بھی ہے ۔ مولانا ہمارے انتہائی مشفق اساتذہ میں تھے۔ہمہ لمحہ وہ حرکت میں رہتے،جسم و جثے اور لباس و پوشاک سے وہ ایک درویش معلوم ہوتے۔اجلا چہرہ،سفید ریش ،سفید کرتا سفید پاجاما،تس پر سفید عربی رومال زیبِ سر کیے رہتے، آنکھوں پہ بڑے فریم کا چشمہ اور ہاتھوں میں کوئی نہ کوئی کتاب ، نگاہیں نیچی کیے بڑی تیزی سےڈگ بھرتے ہوئے دارالمدرسین کی جانب قدم رنجہ ہیں تو کبھی درسگاہ اور دفاتر کی طرف چلے جارہے ہیں؛بلکہ طالب علمانہ ادا میں کبھی وہ احاطہ مولسری میں آتے ہوئے نظر آرہے ہیں ، کبھی مدرسہ ثانویہ، کبھی اعظمی منزل اور کبھی مسجد رشید کے سامنے سے تیزی سے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور کبھی مدنی دروازہ میں داخل ہورہے ہیں۔غالباً 2008میں جب انھیں نائب مہتمم کی ذمہ داری سپرد کی گئی تو وہ اور بھی بے سکون اور متحرک ہوگئے۔
حضرت سے ہمیں ششم عربی میں دیوان متنبی اور حماسہ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، وہ خود مولانا وحید الزماں کیرانوی کے شاگردوں میں تھے، عربی لہجے میں عربی بولتے ، سکھاتے اور پڑھاتے ۔ کوئی شاگرد غیر عربی انداز میں عبارت خوانی کرتا تو اسے بھینسیہ (بھینس والی)عربی کا نام دیتے۔استاذ علیہ الرحمہ بڑی مرنجاں مرنج طبیعت کے مالک تھے۔ان کے درس میں کبھی اکٹاہٹ پیدا نہیں ہوتی، ہر طالب علم چست اور درست رہتا۔ ظہر بعدان کا گھنٹہ چھٹا تھا، وہ وقت پر مسندِ درس پر متمکن ہوجاتے، بہت سے طلبہ تاخیر سےآتے اور درسگاہ میں داخل ہونے کے بجائے دروازے کی اوٹ میں نودرے میں بیٹھ جاتےاور جب حاضری ہوتی تو وہیں سے حاضری دے مارتے، اندر کے حاضر باش طلبہ شکایت کرتے کہ حضرت حاضری کی یہ آواز درسگاہ کے باہر سےآئی ہے، لیکن شاگردوں کی اس گستاخی کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑی معصومیت کے ساتھ اور شفقت و محبت کے لہجے میں لب کشا ہوتے : نہیں نہیں ، تمہیں مغالطہ ہورہا ہے،وہ میری درسگاہ کےطلبہ نہیں ہیں اور یہ بات اس ادا سے فرماتے گویا بدگمانی ان کی طرف آنا بھی چاہتی ہے تو وہ اسے آنے نہیں دے رہے۔
مسند پہ بیٹھتے ہی خود ہی عبارت خوانی شروع کردیتےاور بڑے کیف و سرور اور لے میں اشعار پڑھتے چلے جاتے ، اس کا اثر یہ ہوتا کہ ہم بھی استاذ محترم کے ساتھ ساتھ گنگناناشروع ہوجاتے۔اشعار کا ترجمہ کرلینے کے بعد جب اس کی تشریح کرنی ہوتی تو عین پر زور لگا کر دو بار بولتے یعنی یعنی۔۔۔ پھر اس کی وضاحت فرماتےاور مفہوم و معنیٰ سمجھاتے۔شاعر کے ممدوح کے نام بھی اس احترام سے لیتے گویا متنبی کے نہیں ؛خود حضرت الاستاذکے ممدوح ہیں ۔مثلاًخولہ مرحومہ،سیف الدولہ مرحوم وغیرہ۔ عربی اشعار کی تشریح میں اردو کے بھی بے شمار اشعار پیش فرماتے۔بیچ بیچ میں ان کے چٹپٹے چٹکلے تو منہ کا مزا دوبالا کردیتے۔ایک دفعہ فرمایا : طلبہ کی انجمن کا ایک پروگرام تھا، کسی بزرگ استاذ کو پروگرام کی صدارت کرنی تھی،اتفاق سےوہ پروگرام میں حاضر نہ ہوسکے اور اس کی بھرپائی کے لیے مجھے حاضر ہونا پڑا۔ بچوں نے اپنی نظامت بوڑھے استاذ کے لیے تیار کی تھی ، من و عن وہی میرے لیے پیش کردی کہ ْ حضرت اپنی پیرانہ سالی کے باوجود یہاں تشریف لائےٗ جب کہ اس وقت میں جوان اور سیاہ ریش تھا۔ اسی طرح ایک مرتبہ فرمایا: ایک بار میں جلسے میں گیا ، وہاں جبے قبے میں ملبوس ایک لحیم شحیم مولوی نما شخص بیٹھا تھا ، میں نے سمجھا کوئی بڑے علامہ یا پیر و مرشد بیٹھے ہیں ، ایک طرح سے مجھ پر اس کا رعب چھا گیا ، میں تقریر کے لیے گیا اور بڑے محتاط انداز میں تقریر کی ، سوچ سمجھ کر الفاظ کا استعمال کیا ، جب خطاب سے فارغ ہوکر اپنی جگہ واپس آیا تو وہ شخص بڑا خوش ہوا اور کہنے لگا ْججاک اللہ ججاک اللہ(جزاک اللہ)میں حیرت میں پڑ گیا۔ایسے ہی اہلِ علم وادب کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا جہاں غزل خوانی ہورہی تھی، ہر طرف سے داد و تحسین کی آواز بلند ہورہی تھی اور واہ واہ کی صدائیں گونج رہی تھیں لیکن ایک شخص کسی اور چیز میں کھویا ہوا تھا، جب اسے توجہ دلائی گئی تو کہنے لگا اچھا گجل(غزل)ہے تو واہ واہ۔
ایسےہی کبھی لفظوں کے دلچسپ کھیل بھی پیش کرتے۔دَل دَل،دِل دِل، دُل دُل۔۔۔کبھی اچھے اچھے سبق آموز اردو اشعار سناتے۔ ان میں دو شعر آج بھی میری دیوارِ ذہن سے چپکے ہوئے ہیں ۔ع
ایسے ویسے کیسے کیسے ہو گئے
کیسے کیسے ویسے ویسے ہوگئے
جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
2009 میں میری دوسری کتاب ْآؤقلم پکڑنا سیکھیں ! منظرِ عام پر آنے کو تھی ، حضرت الاستاذ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کتاب پر تقریظ تحریر کرنے کی درخواست پیش کی، عرضی منظور ہوئی اور چند روز کے بعدحضرت نے ایک خوبصورت تقریظ لکھ کر کتاب کے حسن کو دوبالا فرمایا۔ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
” کسی بھی مضمون اورخیالات کی ترجمانی کے لیے مقتضائے حال کے مطابق سہل الفاظ کاسہارا لینا ضروری ہے۔انہیں چیزوں کومدنظر رکھتے ہوئے عزیز مکرم مولوی فاروق اعظم قاسمی سلمہ نے یہ مجموعہ تیارکیا، یہ کتاب ”آؤقلم پکڑنا سیکھیں! “ جگہ جگہ سےدیکھی پسندآئی۔ عزیزم مؤلف سلمہ نے بڑی عرق ریزی اورکاوش سے یہ تالیف تیارکی ہے۔اس سےمضمون نگاری اور انشا پردازی کی راہ نمائی حاصل ہوگی؛ بلکہ جملہ قلمی ضروریات فراہم کرکے ان شاءاللہ یہ عمدہ قلم کاربنائے گی۔“(حرفِ دعا ، آؤ قلم پڑنا سیکھیں!)
حضرت الاستاذ کی یہ دعا میرے حق میں مقبول ہوئی اور الحمدللہ بہت سے طلبہ کو اس سے فائدہ بھی پہنچا۔حضرت کے یہ حروف و الفاظ میرے لیے محض حروف والفاظ نہیں؛سرمایہ حیات ہیں۔
دیوانِ متنبی اور دیوان حماسہ کے علاوہ تخصصات میں بھی مولانا سنبھلی مرحوم نے ہمیں افکارِ مولانا مودودی پر کئی محاضرے دیے ۔ ایک محاضرے کے دوران میں انھوں نے فرمایا تھا کہ مولانا مودودیؒ کی فکر سے سب سے پہلے علامہ سید مناظر احسن گیلانی ؒ نے اختلاف کیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ علامہ گیلانی نے مولانا مودودی کو پڑھایابھی ہے لیکن علامہ گیلانی کے ایک خط سے اس کا انکار ملتا ہے۔” مولانا ابواللیث امیر ہند خاکسار کے شاگرد ہیں،قرآن پڑھنے کے لیے گیلانی آئے تھے اور مولوی ابو الاعلی صاحب سے بھی خاکسار ذاتی نیازمندی کا تعلق رکھتا ہے ۔ “ (خط بنام حکیم سید محمود احمد برکاتی،مجموعہ خطوط ِ گیلانی،مرتب : محمد راشد شیخ (مکتبہ عمر فاروق، کراچی(2011)ص : 427)
مولانا کو النادی الادبی اور دیگر انجمنوں کے مختلف پروگراموں میں بارہا سننے کا موقع ملا ، عربی زبان کو عربی لہجے میں بولتےاور خطاب فرماتے تھے۔مولیٰ نے حضرت کو مزاح کا اعلیٰ ذوق عطا فرمایا تھا اور ان کا ذہن ہر موقعے کے لیے سینکڑوں لطائف و ظرائف کا ذخیرہ رکھتا تھا۔جب کوئی لطیفہ بیان فرمارہے ہوتے تو ہم خوشہ چیں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتے لیکن مجال کیا کہ وہ خود ہنس دیں ، ہنسی کیا تبسم کو بھی ان کے ہونٹوں کے قریب پھٹکنے کی جسارت نہ ہوتی۔
مدنی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے محاذاۃ میں دارالمدسین میں حضرت کا قیام تھا، ان کے دروازے پر نام کی ایک تختی معلق ہوتی جس پر یہ سطر لکھی ہوتی ”مولانا عبد الخالق سنبھلی۔پروفیسر عربی“
اللہ استاذ محترم کی جملہ خدماتِ حسنہ کو شرف قبولیت سےنواز کر اپنی رحمتوں میں انھیں جگہ عنایت فرمائے۔
ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی
رام لکھن سنگھ یادو کالج،بتیا۔مغربی چمپارن
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

