متنی تنقید / خلیق انجم – مہر فاطمہ
ممتاز محقق ،ماہر غالبیات اور انجمن ترقی اردو(ہند)کے نا ئب صدر ’’خلیق انجم‘‘صاحب کا انتقال ۱۸ ــ اکتوبر۲۰۱۶ کو ہوا۔ان کی تقریبا۸۰ کتابیں مختلف مو ضوعات پر شائع ہو چکی ہیں۔جن میں آثار الصنادید،انتخاب خطوط غالب ،غالب کا سفر کلکتہ ،ادبی معرکہ ،مشفق خواجہ ایک مطالعہ،فن ترجمہ نگاری اور حسرت موہانی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ انہوںنے مرزا مظہر جان جاناںکے فارسی خطوط کا تر جمہ کیا، مرزا رفیع سودا پر ایک تفصیلی مقالہ لکھا،کربل کتھا کا لسانی مطالعہ اور افا دات سلیم مرتب کی وغیرہ وغیرہ غرضیکہ ان کے کاموں کی ایک طویل فہرست ہے۔جس میں ایک کتاب ’متنی تنقید ‘بڑی اہمیت کی حامل ہے۔یہ میں اس وجہ سے بھی کہ رہی ہوں کہ یہ اردو لکھی ہوئی پہلی کتاب ہے جو تدوین کے مسائل پر بڑی شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالتی ہے۔اس تعلق سے خلیق انجم مقدمہ میں لکھتے ہیں:
’میں پچھلے دو تین برس سے متنی تنقید کے مسائل پر غور کر رہا تھا۔یہ موضوع پوری طرح میرے ذہن میں صاف نہیں تھا ۔
اس سال جب مجھے دلی یونیورسٹی میں ایم لٹ اور ببلوگرافی کی کلاسوں کو متنی تنقید پر لیکچر دینے پڑے تو طالب علموں
کی مشکلات اچھی طرح سمجھنے کا موقع ملا۔جس کا نتیجہ یہ کتاب ہے۔‘
اس کتاب کا پیش لفظ خواجہ احمد فاروقی کا تحریر کردہ ہے۔کتاب کے ابتدائی تین ،چارصفحات میں متنی تنقید کے مفہو م پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے بعد متنی تنقید کے مدارج کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
(۱)تیاری اور مواد کی فراہمی
(۲)متن کی تصحیح
(۳)قیاسی تصحیح
(۴)اعلی تنقید
تیاری اور مواد کی فراہمی کے باب میں مواد حاصل کرنے کے ذرائع اور اس کو سمجھنے کے طریقے کو بیان کیا گیا ہے۔متن کی تصحیح کے باب میں اساسی نسخے کے متعین کرنے کا طریقہ،موازنہ،اختلاف نسخ کے مسائل ،متنوں کی مختلف قراتیں اور اردو رسم الخط کی دشواریوں وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔قیاسی تصحیح کے باب میں اس کی ضرورت اور اس کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔
اعلی تنقید کا باب نہایت دلچسپ ہے۔اس میں سرقہ ،مصنفین کے ناموں کی مماثلت،عوام کی عقیدت،مذہبی اخلافات،مصنف کی شہرت کا ناجائز فائدہ،بعض اوقات نام کو چھپانا اور جعلی نسخے پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مقدمہ ، کتابیات اور اشاریہ کی ضرورت و اہمیت بیان کیا گیا ہے۔ شان الحق حقی نے بھی اس کے مشمولات پر روشنی ڈالی ہے :
’’متن کے معاملے میں جو ہمارے یہاں ابتری پائی جاتی ہے وہ اردو کے ماتھے کا کلنک بن گئی ہے۔ہم نے شاید ہی کوئی کتاب
ایسی چھاپی ہو جو اغلاط سے اکثر مبرا کہی جاسکے۔ڈاکٹر خلیق انجم نے متن کی تحقیق کے سلسلے میں فراہمی مواد سے لے کر موازنہ
اور مقابلہ کے طریقے،اختلاف نسخ کے مسائل،اغلاط عام کی نوعیت و کیفیت سے لے کر جعلی متنوں کی تحقیق،سرقہ،گمنام
مصنفین فرضی ناموں لکھنے والے مصنفین کی تصانیف،سنہ تصنیف کا تعین غرض تمام ایسے مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے جو متن
کی تحقیق کے سلسلے میں پیش آتے ہیں۔‘‘
خلیق انجم :کثیر الجہات شخصیت ،ص۱۳۰
ظاہر ہے کہ اس کے مشمولات پر نظر ڈالنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مصنف نے متن کی تحقیق کے وقت درپیش آنے والے تمام مسائل کا بخوبی احاطہ کیا ہے۔انہوں نے سرقہ کی ذیل میں جو واقعات لکھے ہیں ان میں ایک دلچسپ واقعہ انوری کا ہے:
ایک بار انوری بلخ کے بازار سے گزر رہا تھاکہ اس نے دیکھا ایک جگہ ایک شاعر اپنا کلام سنا رہا ہے اور لوگ اس کے چاروں طرف
کھڑے ہیں ۔انوری نے بڑھ کر پوچھا یہ اشعار کس کے ہیں ؟؟؟اس شخص نے جواب دیا:انوری کے۔اس نے پھر پوچھا:انوری
کو جانتے ہیں ؟؟؟اس شخص نے کہا کہ جانتا کیا ہوں ،میں خود انوری ہوں۔۔انوری نے ہنس کر کہاشعر دزدتو سنتے آئے ہیں
لیکن شاعر دزد آج ہی دیکھا ہے۔۔۔۔
غرضیکہ اس کتاب میں متنی تنقید کے تمام مسائل کے ساتھ ساتھ دلچسپ واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں اور ساتھ ساتھ فارسی و اردو کے اشعار سے مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں جس کی وجہ سے اتنے خشک موضوعات میں قاری کی دلچسپی تو بنی ہی رہتی ہے، ساتھ ساتھ یہ خصوصیت اس کی افادیت میں بھی اضافہ کرتی ہے۔۔۔۔لہذا س کتاب کا مطالعہ خاص کر تحقیق و تدوین سے تعلق رکھنے والوں کے لئے نہایت اہم ہے بلکہ یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ آب حیات کا درجہ رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔
٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

