عیامولانا ابولکلام آزادایک نابغہ روزگار اور عہد ساز شخص تھے ۔ان کی دینی ،علمی ادبی ،سیاسی ،قومی اور ملی خدمات نہایت متنوع اور گونا گوں ہیں ۔مولانا اپنے جن غیر امتیازات ،کمالات اور خصوصیات کی بدولت پورے ملک پر چھائے ہوئے تھے اور ان کی جن غیر معمولی ذہنی و دماغی قابلیتوں نے لوگوں کے قلب ونظر پر اپنے گہرے نقوش ثبت کیے تھے اور پورے عہد وماحول کو متاثر کیا تھا ،ان میں ایک بہت نمایاں وصف ان کی صحافت بھی تھی ۔جو ان کی عرصہ دراز تک ان کا پسندیدہ مشغلہ بنی رہی۔صحافت سے ہی ان کی علمی وادبی زندگی کا آغاز ہوا۔ صحافات ان کے لئے مشن کی تکمیل کا ذریعہ تھا ۔صحافت کو مولانا نے بڑی عظمت،عزت اور وقار عطا کیا ان کے اس فن کی جانب متوجہ ہونے سے اردو صحافت میں چار چاند لگ گئے اور وہ دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کی صحافت کے ہم پایا اور علم و ادب کی صنف میں آ کھڑی ہوئی۔صحافت میں مولانا آزاد کا کوئی استاد نہیں تھا وہ خود ہی اپنے معلم تھے جس طرح تعلیم میں انہوں نے کسی مدرسہ یا اسکول کا منہ نہیں دیکھا اسی طرح صحافت و ادارت کی مولانا نے کسی سے تربیت نہیں لی۔ اس زمانے میں اس کا نہ کوئی بندوبست تھا اور نہ چلن۔ مولانا کی اپنی خداداد صلاحیت اور غیر معمولی ذہانت ان کی معلم اور رہنما تھی جس اخبار یا رسالے کو ہاتھ لگا دیا اسے چار چاند لگا دیا۔ایڈٹ کرنے کا گرُ مولانا نے اپنے لیے خود وضع کیا ۔ان کے سامنے اگر کوئی نمونہ تھا تو مصر اور ترکی کے عربی اخبارات اور رسالے تھے جو مولانا کے پاس آتے تھے ۔یہ بات بھی لائق ذکر ہے کہ مولانا صحافت کی تکنیک اور اس کے جدید اصول و رموز سے باخبر تھے اور انہوں نے اپنی صحافت کو جدید تر بنانے کی پوری کوشش کی،اخبارات کے گیٹ اپ،طباعت اور تزئین کاری پر زور دیا، ٹائپ کا انتظام کیا، وسائل و ذرائع کی کمی کے باوجود اپنے اخبار ملک کے دوسرے زبانوں کے اخباروں سے اچھا اور بہتر نکا لے، خبروں اور مضامین میں بڑی احتیاط برتتے اور طباعت میں خوبصورتی کا لحاظ رکھتے تھے۔ وہ صحافت کو ملک و قوم میں روح حیات پھونک دینے اور انقلاب پیدا کر دینے کا ایک موسر وسیلہ خیال کرتے تھے۔
مولانا کے صحافتی دور کا آغاز لگ بھگ دس گیارہ برس کی عمر سے ہی شروع ہو چکا تھا اسی کا نتیجہ’’ نیرنگ عالم ‘‘ہے جو ۱۸۹۹ میں کلکتہ سے جاری ہوا ِ،’’نیرنگ عالم ‘‘نے ایک سال سے بھی کم عمر پائی۔ گیارہ برس کے عمر میں شاعری تو اوروں نے بھی کی ہے لیکن اس عمر میں باقاعدہ ایڈیٹری کی غالبا ًیہ پہلی اور آخری مثال ہے ۔یہاں سے ان کے صحافتی مشق نے جنم لیا لیکن’’ المصباح ‘‘کو ان کی صحافتی سفر کا آغاز کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا یہ جریدہ ۲۲ جنوری ۱۹۰۴ کو جاری ہوا ’’المصباح‘‘ تین چار مہینے سے زیادہ نہ چل سکا لیکن قلم چلتی رہی ۱۹۰۱ میں رسالہ مخزن کے اجرا سے اردو صحافت میں بیسویں صدی کے آغاز کا اعلان ہوا تو ابوالکلام آزاد کے مضامین بھی شائع ہونے لگے۔ایک مضمون ’’اخبار اور اس کے فوائد‘‘ پر اور دوسرا’’ حالات خاقانی شروانی ‘‘پر اسی زمانے کی یادگاریں ہیں اس جریدہ کا پہلا مضمون’’ عید‘‘ بہت مقبول ہوا اور اسی سے ان کے گل افشانی بڑی توانائی اور تیزی کے ساتھ چل پڑی۔مئی ۱۹۰۲ میں انہوں نے ایک مضمون پریس کی طاقت کے بارے میں’’ مخزن ‘‘لاہور کے لئے لکھا یہ ایک ممتاز ادبی رسالہ تھا جس کے مدیر عبدالقادر تھے آزاد کی رائے میں اس سے بڑا امتیاز اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص خود اپنے پرچے کی ادارت کرے۔ اس دوران میں منشی نوبت رائے نظر کے ماہانہ شعری رسالہ ’’خدنگ نظر‘‘ لکھنؤ میں می نثری حصہ کا اضافہ کیا گیا اور اس کی ادارت آزاد کے سپرد ہوئی۔۱۹۰۲ میں ’’احسن الاخبار‘‘ مولانا کی سرپرستی میں شائع ہوتا رہا جس میں مولانا کے مضامین اپنی پوری شان و شوکت سے شائع ہوتے رہے اس میں ادب کے ہر پہلو پر طبع آزمائی کی گئی۔اس سال کا ایک اہم واقعہ ’’اعلان الحق ‘‘کی اشاعت ہے۔ یہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق مولانا کی پہلی متنوع تصانیف ہے۔
۱۹۰۳ میں مولانا آزادکچھ دنوں تک’’ شاہ جہاں پور ‘‘کے’’ ایڈرو ڈگزٹ ‘‘کی ادارت سے بھی وابستہ تھے لیکن یہ ایک زمینی اور حاشیائی واقعہ ہے سچ پوچھیے تو مولانا کی صحافتی زندگی کا دور اول کے اہم ترین مضامین وغیرہ ’’ المصباح ‘‘اور ’’احسن الاخبار‘‘ ہی سے متعلق ہیں یہی وہ دو اخبار بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔’’لسان الصدق‘‘ کا پہلا شمارہ ۲۰ ستمبر ۱۹۰۳ کو شائع ہوا۔کہنے کو تو یہ ہفتہ وار تھا لیکن کچھ مالی دشواریوں اور کچھ آزاد کی علالت کے باعث باقاعدگی سے نہیں نکل سکا۔ کل ملا کر بارہ شمارے شائع بوئے جن میں آٹھ کئی ہفتوں کے مشترکہ شمارے تھے۔انہوں نے اپنے رسالے کے حسب ذیل مقاصد متعین کیے تھے۔
(۱) مسلمانوں کی معاشرتی اصلاح۔
(۲) اردو کو خصوصا ًبنگال میں فروغ دینا ۔
(۳)دانشوروں میں ادبی ذوق کی تربیت۔
(۴)ادبی تصانیف پر نقد و نظر۔
’’لسان الصدق‘‘سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ پرچہ بہت مقبول ہوا ملک کی مشہور جرائد مثلاً ’’وکیل ‘‘امرتسر میں بہت اچھے تبصرے شائع ہوئے۔۱۵ سال کی عمر میں مولانا کے ذہن میں جو بات تھی وہ ترقی پذیر ہو کرحصول آزادی ہنداور قومی یکجہتی کی شکل اختیار کر گئی جس پر وہ آخری دم تک قائم رہے۔ وہ اپنے رسالے کو اعلی پایہ کا ادبی جریدہ بنانا چاہتے تھے۔نوعمری کے زمانے میں ہی آزاد کو اردو کی اہمیت کا احساس ہو چکا تھا اور انہوں نے اپنے جریدے کو گویا کہ انجمن ترقی اردو کا ترجمان بنا دیا تھا انہیں معلوم تھا کہ اعلی تعلیم کے لیے مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنانا ضروری ہے۔ چنانچہ انہوں نے آگے چل کر مادری زبان کو سب سے زیادہ موزون اور مناسب ذریعہ تعلیم قرار دیا۔’’لسان الصدق‘‘ کے مضامین سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم کے مسئلہ پر آزاد کے خیالات نہایت ہی ترقی پسند اور دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق تھے ان کی رائے میں تعلیم ہی معاشرتی اصلاح کی کلید ہے ۔مسلم دانشوروں نے آزاد کو ’’لسان الصدق‘‘ کے مدیر کے حیثیت سے پہچانا لوگ حیران تھے کہ چودہ برس کا نوعمرجوان اتنے اعلی پایہ کے ادبی رسالے کا مدیر ہے جسے مضامین کی خوبی اور اپنی سج دھج کی بدولت ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا تھا۔
شبلی نعمانی سے آزاد کا تعلق ان کی ذہنی ارتقا میں ایک موڑ ثابت ہوا۔دونوں کی پہلی ملاقات بمبئی میں ۱۹۰۵ میں ہوئی شبلی نے آزاد کو لکھنؤ آنے کی دعوت دی اور کہا کہ’’ الندوہ ‘‘کی ادارت میں ان کا ہاتھ بٹائیں۔آزاد اکتوبر۱۹۰۵ سے مارچ ۱۹۰۶ تک’’ الندوہ ‘‘سے متعلق رہے اس سے مسلم علماء اور اساتذہ میں ان کی شہرت میں اور اضافہ ہوا ۔اس دور میں انہوں نے قرآن مجید اور اسلامی تاریخ کا خصوصیت سے مطالعہ کیا ،کئی مضامین لکھے جن میں ’’مسلمانوں کا خزانہ‘‘،’’ اسلامی ممالک میں عدل‘‘ اور’’ حقوق نسواں‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔’’لسان الصدق‘‘کے مقابلے میں ان کے ’’ الندوہ ‘‘کے مضامین میں انہوں نے زیادہ وسعت نظر اور مہارت سے کام لیا۔
امرتسر کے مشہور دو روزہ اخبار ’’وکیل ‘‘کے مالک شیخ غلام محمد کے تقاضے پر آزاد ؔنے اپریل۱۹۰۶ سے نومبر ۱۹۰۶ تک اس کی ادارت سنبھالی۔ لیکن اپنے بھائی کی علالت کے باعث انہیں کلکتہ لوٹنا پڑا۔ وہ وکیل کی ادارت کا دوسرا دور اگست یا ستمبر۱۹۰۷ سے اگست۱۹۰۸ تک رہا۔.انہوں نے اخبار کو سہ روزہ کردیا اور اس کی اشاعت میں دوگنا اضافہ ہوگیا ،اس اخبار نے انہیں ہندوستانی سیاست کے حقائق سے دوچار کیا اور قومی مسائل پر ان کو تجربے کی دولت عطا کی۔لیکن اخبار مالک سے اختلافات ہو جانے پر انہیں اس سے علیحدہ ہونا پڑا۔
’’وکیل‘‘ کی ادارت کے پہلے دور کے بعد کلکتہ لوٹنے پر انہوں نے ہفتہ وار ’’دارالسلطنت ‘‘کے مالک محمد یوسف کے اصرار پر اس اخبار کو جنوری ۱۹۰۷ میں دوبارہ جاری کیا۔ مگر وہ کچھ ہی دنوں تک زندہ رہا۔
’’وکیل ‘‘سے علحدگی اختیار کرنے کے بعد آزاد خود اپنا پرچہ جاری کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے تھے ہندوستان اور عالم اسلام کی مذکورہ بالا حالات میں ایک مہتم بالشان فیصلہ کیا اور جولائی ۱۹۱۲ میں انقلاب خیرہفتہ وار اخبار’’ الہلال‘‘ جاری کر دیا۔الہلال پر آزاد ؔکی شخصیت کی پوری چھاپ ہے۔انہوں نے ’’الہلال‘‘ کے صفحات پر یہ واضح کر دیا تھا کہ اس ہفتہ وار کو چلانے میں اۡن کی اپنی تجارتی یا ذاتی کوئی غرض شامل نہیں تھی۔’’الہلال‘‘ اردو کا پہلا باتصویر ہفتہ وار رسالہ تھا ،وہ ترکی سے منگوائے ہوئے ٹائپ میں چھپتا تھا۔ انہوں نے پوری کوشش کی کہ پرچہ کی امتیازی شان ہو اور اس کا معیار بلند ہو۔’’الہلال‘‘ نے اردو صحافت کی دنیا ہی بدل دی ۔’’الہلال‘‘ محض ایک اخبار نہیں بلکہ ایک تحریک تھا اس نے مسلمانوں میں سیاسی اور مذہبی بیداری پیدا کی۔
’’الہلال ‘‘کے پہلے شمارہ میں مولانا آزاد لکھتے ہیں..
’’آہ کاش مجھے وہ صور قیامت ملتا، جس کو میں لے کر پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر چڑھ جاتا۔
اسی ایک صدا ئے رعد آسائے غفلت شکن سے سرکشتگان خواب ذلت و رسوائی کو بیدار کرتا
اور چیخ چیخ کر پکار تا کہ اٹھوکیونکہ اب بہت سوچکے اور بیدار ہو جاؤ
کیونکہ تمہارا خدا تمہیں موت کی جگہ حیات، زوال کی جگہ عروج اور ذلت کی جگہ عزت بخشنا چاہتا ہے‘‘
’’الہلال‘‘ کی صفحات کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کو برطانوی حکومت کی وفاداری کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی۔’’الہلال ‘‘نے خصوصیت سے ان ممالک کے حال زبون کو سامنے رکھا جو سامراجی طاقتوں کے مظالم کا شکار تھے۔ اس ہفتہ وار کا ایک بڑا حصہ مشرق وسطی کے ملکوں اور ترقی کے مسلمانوں کے لئے وقف تھا۔’’الہلال‘‘ میں انہوں نے لڑاؤ اور حکومت کرو کی برطانوی پالیسی کی مذمت کی جس کی بدولت ہندوؤں اور مسلمانوں میں اختلاف کی دیوار کھڑی ہو گئی تھی۔ الہلال کے ذریعے مسلمانوں کو ان کا پیغام یہ تھا کہ غیر ملکی حکمرانوں کے خلاف متحد ہو۔ایک مختصر عرصے میں ’’الہلال ‘‘مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گیا اور اس کی اشاعت ۳۰ ہزار سے تجاوز کر گئی ۔ مجبورا ًآزاد کو پریس ایکٹ کے تحت الہلال بند کرنا پڑا جس کا آخری شمارہ ۱۸ دسمبر۱۹۱۴ کا تھا۔
لیکن مولانا آزاد ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھے۔ اس سے ان کے ارادے اور بھی مضبوط ہو گئے۔لہذا۱۲نومبر ۱۹۱۵ء کو ’’البلاغ ‘‘کے نام سے دوبارہ شائع کیا، جو کہ ‘الہلال’نقشِ ثانی تھا۔ابھی چند ہی ماہ نکلا تھا کہ یہ بھی فقط پانچ ماہ جاری رہ کر مارچ ۱۹۱۶ کو حکومت کے عتاب کا شکار ہو کر بند کر دیا گیا۔۔ مارچ۱۹۱۶ میں مولانا کو بنگال چھوڑ دینے کا حکم ہوا۔بہار کے علاوہ سارے صوبے نے اپنے یہاں داخلے پر پابندی عائدکر دی تھی۔چنانچہ مولانا رانچی چلے گئے۔اور کچھ ہی مہینوں بعد انھیں نظر بند کر دیا گیا۔تقریباًتین سال بعد نظر بندی سے رہا کئے گئے۔اور یہ ۱۹۱۹ء کے بالکل آخری ایام تھے۔رہائی کے دو سال کے اندر ہی انھوں نے کانگریس کی رکنیت قبول کرنے کے ساتھ ساتھ ہفتہ وار ’’پیغام‘‘کو بھی جاری کیا۔
مولانا نے۲۳ستمبر ۱۹۲۱ کو کلکتہ سے ‘پیغام’نامی ایک رسالہ جاری کیا تھا، جس کی ترتیب مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کے سپرد کی گئی تھی۔ اس میںمولانا نے معرکہ ارا تحریریں شایع کی ہیں، لیکن دیگر ملکی و سیاسی ذمّے داریوں کے سبب وہ اس جانب کماحقہ توجہ نہیںدے سکے۔اسی سال ۱۷ نومبر کو شہزادہ ‘ویلز’ہندستان ایا، جس کا ‘پیغام’نے بایکاٹ کیا اور بالاخر مولانا ازاد اور مرتب مولانا ملیح ابادی ۹فروری ۱۹۲۲ کو عدالتی فیصلے کے بعد جیل چلے گئے، اور ‘پیغام’بند کر دیا گیا۔ اس کا اخری شمارہ ۱۶دسمبر ۱۹۲۱ کو شایع ہوا۔
انہوں نے عربی میں پندرہ روزہ’’ الجامعہ ‘‘جاری کیا جس کا پہلا شمارہ یکم اپریل ۱۹۲۳ کو شائع ہوا۔مارچ ۱۹۲۴ میں یہ رسالہ بند ہو گیا۔ ہندوستان میں شائع ہونے والا عربی کا یہ پہلا رسالہ تھا اس کا خاص مقصد دنیا عرب کو ہندوستان کی سیاسی کارگزاریوں سے واقف رکھنا تھا۔اس کا بنیادی موضوع وہی تھا جو پیغام کا تھا۔
پھر تقریباً بارہ سال کے بعد ’’الہلال‘‘کے دورِ ثانی کا اغاز ہوا اور ۱۰جون ۱۹۲۷ کو اس دور کا پہلا شمارہ شایع کیا گیا۔جس میں مولانا شبلی نعمانی،مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبد السلام ندوی اور مولانا عبد اللہ عمادی وغیرہ کی قلمی کاوشیں شایع ہوتی تھیں اور اس کی ترتیب وغیرہ کے ذمّے دار مولانا عبد الرزاق ملیح ابادی تھے لیکن اس بار بھی ۲۰ شمارے شایع ہو کر ۹دسمبر ۱۹۲۷ کو بند کر دیا گیا۔
افسوس کا مقام ہے کہ اردو صحافت پر مولانا آزاد کا اثر محدود رہا۔ انہوں نے جو راہ روشن کی اس پر چلنے کی توفیق کسی اور کو نہیں ہوئی وجہ یہ تھی کہ ان کے درجہ کمال کو پانا ان ذہنی سطح تک پہنچنا اور ان کے بے مثال اسلوب اختیار کرنا کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی لہذا اردو صحافت کے میدان میں مولانا آزاد اپنی عظمت و جلال کے ساتھ تنہا کھڑے ہیں۔اردو زبان اپنے چمن کے صاحب قلم پر ہمیشہ فخر کرتی رہے گی مولانا آزاد کا جیسے جیسے گہرائی سے مطالعہ کیا جائے گا ان کے علمی و ادبی کارناموں کی اتنی ہی تہیں جائیں گی۔
رازداں شاہد
آبگلہ، گیا ،بہار
موبائل نمبر+918507583990-
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

