ہندوستان میں انگریزی حکومت کے تسلط کے بعد یہاں کی تہذیبی و ثقافتی فضا مکدر و متزلزل ہونے لگی۔ اب جن نئی قدروں نے اپنے قدم جمانے شروع کیے،اُس نے یوں تو زندگی گذارنا آسان بنایا لیکن اس کے ساتھ ہی بہت طرح کے خدشات اور خرابیو ںکو بھی جنم دیا۔ چنانچہ تحفظِ ذات بھی اجتماعی طور پر تحریکات و رحجانات میں خود رو پودوں کی طرح تشکیل پانے لگا ۔ اِن تحریکات و رحجانات نے زندگی کے تمام پہلوؤں، بشمول ادب کے، متاثر کرنا شروع کیا۔ علی گڑھ تحریک سے حلقۂ ارباب ذوق تک تمام رحجانات و تحریکات ادب بالخصوص اُردو ادب کو نئی سمت و رفتار عطا کرنے میں ممد و معاون ہوئے ۔ علی گڑھ تحریک نے موضوع و مواد کو اہمیت دی تو اُس زمانے میں غزل پسِ پُشت چلی گئی اور نظموں کا واضح خاکہ اُبھر کر سامنے آیا ۔ ترقی پسند تحریک ایک مقصد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھی تو اس زمانے میں راست بیانی نے بہت شہرت پائی اور غزل سے اس کا ایجاز و اختصار جاتا رہا۔ اس تبدیلی کو محسوس کرتے ہوئے حلقۂ ارباب ذوق نے ادب برائے ادب کے نظریے کو فروغ دیا لیکن ان کا زیادہ تر سروکار نظم نگاری سے تھا،اس لئے غزل کو کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہوا ۔ برسوں کی غلامی کے بعد جب آزادی کا سورج طلوع ہوا تو ایک نئی امید انسانی ذہن کو روشن کرنے لگی لیکن آزادی کے بعد جس طرح کے حالات رو نما ہوئے، اُس نے ایک ایک کرکے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیااور سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی نئے حالات و خدشات کے طابع ہوتا چلا گیا ۔ نئے حالات اور ماحول میں زندگی گذارنا آسان تو ضرور ہوا لیکن ساتھ ہی ذات کے تحفظ کا مسئلہ بھی آن کھڑا ہوا، جس کی وجہ سے لوگوں کے اندر تنہائی اور اس کے متعلق رویوں نے گھر کرنا شروع کر دیا ۔ اُن نئے حالات اور ماحول سے پیدا شدہ مواد و موضوعات کی عکاسی سابقہ تمام تحریکات و رحجانات کے تحت نہیں کی جا سکتی تھی، لہذا شعرا و ادبا ایک نئے روّیے کی طرف گامزن ہوئے جسے ’جدیدیت ‘ اور اس کے تحت لکھے جانے والے ادب کو ’جدید ادب ‘ کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے ۔ جدید شعرا و ادبا نے اپنے مواد و موضوعات کی پیشکش ماضی کے آئینے کو سامنے رکھ کر کیا چنانچہ اِن میں کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ حلقۂ ارباب ذوق سے ہم آہنگی بھی نظر آتی ہے۔
مجموعی طور پر ہمارے یہاں جدیدیت 1955 کے آس پاس سے شروع ہوتی ہے، جس میں علامتی اظہار کو اہمیت دی گئی ہے۔ علامتی اظہار باالواسطہ اظہار کا وہ طریقہ ہے جو اُس دور میں اس لئے مقبول ہوا کہ یہ دور کوئی سبق دینے یا کسی قصہ کی زیبائش کرنے کا قائل نہیں بلکہ ان ننگے لمحوں کی مصوری کا قائل ہے جو کبھی کبھار بڑی کاوش کے بعد ہاتھ آتے ہیں۔ آزاد نظم کے فروغ میں اس علامتی اظہار کو ہم جدیدیت کا خاص اظہار کہہ سکتے ہیں۔ یہ فرد کی تنہائی کا عکس ہے، مگر یہ صرف انسان کی تنہائی ،مایوسی،افسردگی وغیرہ کی داستان نہیں ہے بلکہ جدید شعرا نے اس میں انسانیت کی عظمت کے ترانے بھی شامل کئے ہیں ۔ مظہر امام کا شمار اُنہیں جدید شعرا کی صف اوّل میں کیا جاتا ہے ۔ اُن کی پیدائش صوبہ بہار کے معروف ضلع دربھنگہ میں ہوئی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے شہر نشاط کلکتہ کے ایک اسکول میں معلم کے فرائض انجام دیے۔ اس کے بعد وہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے اور ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچے۔ جدیدیت کے بارے میں خود مظہر امام کے خیالات کچھ یوں ہیں :
’’جدیدت وقت کا تقاضہ ہے اور یہ جدیدیت اپنا رول ادا کرکے کل پرانی ہو جائے گی او راس کا عہدہ کوئی نئی جدیدیت سنبھال لے گی… وہی لوگ زندہ رہ پائیں گے ،جنہیں زمانے کی آگہی اور فنّی قدروں کا عرفان ہے۔ ‘‘
( آتی جاتی لہریں ،مظہر امام ،۱۹۸۱ء، ص ، ۲۴)
مذکورہ کتاب میں شامل اپنے ایک مضمون میں وہ آگے لکھتے ہیں :
’’ میں ذاتی طور پر جدیدیت کو رحجان تصور کرتا ہوں ۔ عصری زندگی کی پیچیدگیوں کے شعور کا نام جدیدیت ہے۔ یہ رحجان نئے انسان کی مضطرب روح کا تقاضہ ہے۔ ٹوٹتے رشتوں اور منہدم ہوتی ہوئی قدروں کی کشاکش میں آج کا انسان اپنے آپ کو بے بس اور لا چار محسوس کرتے ہوئے بھی کسی نہ کسی شکل میں جئے جا رہا ہے ۔ جدید ادب زخم خوردہ انسان کے آشوب ِ سفرکی داستان ہے۔‘‘
(ایضاً ، ص، ۲۵)
مظہر اما م کی ادبی زندگی کا آغاز جدیدیت سے بہت پہلے ترقی پسند تحریک کے زمانے میں ہی ہو چکا تھا۔چنانچہ اُن کی شعری کائنات میں ترقی پسندی کی خارجیت ،جدیدت پسندوں کی داخلیت اور ما بعد جدید کا امتزاجی روّیہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اِن سب سے بڑھ کر کلاسیکی رچائو اُن کی شاعری میں موجود ہے جو اُن کی تخلیقات کو فنی و فکری حُسن عطا کرکے اپنے معاصرین میں امتیاز عطا کرتا ہے۔ اُن کی ابتدائی تخلیقات فکری طور پر ترقی پسند انہ روّیے کا اظہار کرتی ہیں لیکن فنّی طور پر وہ کلاسیکی تخلیقی روّیے کا تصور پیش کرتی ہیں اس لئے اُن کے اشعار میں موضوع و مواد کی راست بیانی کا احساس نہیں ہوتا ۔ مظہرامام کی شاعری میں ایک ارتقاپذیر ذہن کارفرما معلوم ہوتاہے۔اس لئے کہ وہ اردو ادب کی تین تحریکات و رجحانات کے شاہد و مشہود رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ’’میں ادب پر کوئی لیبل لگانے کے حق میں نہیں ہوں۔‘‘
مظہر امام اپنی اختراعی طبیعت کی وجہ سے مراجعت کرتے ہوئے جب جدیدیت کے زیر سایہ آئے تو یہاں بھی وہ اپنی تخلیقات کو کلاسیکیرنگ دینے میں کامیاب رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی غزلوں میں جدیدت کے حاوی روّیے کے طور پر تنہائی کا ذکر بار بار آیا ہے لیکن اس میں وہ انتہا پسندی دیکھنے کو نہیں ملتی جو کہ جدیدیوں کا طرۂ امتیاز کہا جاتا ہے۔ تنہائی پر مبنی ان کے چند اشعار ملاحظہ کریں :
یہ عمر کے بادل تھے کہ تنہائی کے سایے
اِس بار جو دیکھا اُسے وہ بات نہیں تھی
___
ہم ہی ساقی تھے، ہمیں نشّہ تھے، صہبا ہم تھے
ایسی محفل تھی کہ کوئی نہ تھا،تنہا ہم تھے
___
رات ٹھہرے ہوئے دریا میں بہت ہلچل تھی
میری تنہائی کے ساحل پہ کوئی اُترا تھا
اس زمانے میں بہت سے شعرا تھے جو تنہائی،اجنبیت اور بے گانگی وغیرہ جیسے وجودی لوازم کو اپنے شعری تجربے کا حصّہ بنا رہے تھے ۔ مثلاً
تنہائی کی یہ کون سی منزل ہے رفیقو
تا حد نظر ایک بیابان سا کیوں ہے
(شہر یار)
مظہر امام کے اشعار:
ہائے یہ شبِ وعدہ ،دل کا حال کیا کہیے
حُجلۂ عروسی میں جس طرح دُلہن تنہا
___
وہ تو خیر یوں کہیے ذوقِ حُسن ہمدم تھا
جُوئے شیر کیا لاتا ،عزم ِ کوہکن تنہا
جدیدیت کے عروج کے زمانے کے اُن کے چند اشعار اور ملاحظ کریں:
وسعتیں اپنی لیے سمٹی ہوئی دنیا میں ہوں
میں سمندر ہوں مگر خود پیاس کے صحرا میں ہوں
___
میں نے ہی ماضی کی تربت پر جلائے ہیں چراغ
میں مجاور حال کا ہوں،حُجرۂ فردا میں ہوں
بد دعا کس لمحۂ حاضر کی ہے مجھ پر امامؔ
ہوں صدائے عصر لیکن گنبد فردا میں ہوں
مظہر امام کی شاعری میں زمانہ ماضی بلیغ استعارے میں ڈھلا ہے۔ ’پالکی کہکشاں کی‘ اُن کی غزلوں کا کلیات ہے جس میں ۱۹۴۳ ء سے لے کر سن ۲۰۰۰ ء تک کی غزلیں شامل ہیں۔ اِن غزلوں کی ترتیب کو شاعر نے حال سے ماضی کی طرف رکھا ہے ۔ پروفیسر مولا بخش لکھتے ہیں :
’’ گویا مظہر امام تاریخ سے زیادہ ساخت پر توجہ دیتے ہیں ۔ اُن کے نذدیک حال ماضی کا نتیجہ ہے ۔ گویا وہ Synchronic یک زمانی تصوّر زمان میں یقین رکھتے ہیں اور اُن کی غزلوں میں وہ زمانہ ماضی ہے جس میں انہوں نے زیادہ تر غزلیں کہی ہیں۔ یعنی مظہر امام کی غزلیں عہد گذشتہ کی یادوں کا البم ہے جو ما بعد جدیدیت کی ایک اہم وصف قرار دی جا سکتی ہے۔ ‘‘
( رسالہ فکر و نظر ، علی گڑھ ، مارچ، ۲۰۱۶ء )
’پالکی کہکشاں کی ‘ کی پہلی غزل مکمل طر پر رمزیہ بیانیہ اور ایک افسانہ سا لگتا ہے:
وہ بے قصور تھا لیکن سزا سے ڈرتا تھا
لکیر دیکھ کے دستِ دعا سے ڈرتا تھا
___
اُسے عزیز غزالانِ دشت تھے لیکن
وہ باغِ شوق کی آب و ہوا سے ڈرتا تھا
اِس دور کی غزلوں میں اُن کے یہاں نئے مضامین کی تلاش و جستجو بھی خا ص طور پر نظر آتی ہے۔ کلیات میں شامل غزلوں میں تازگی اور تازہ دمی کا احساس ہوتا ہے نیز اُن کے لب و لہجے میں استقامت نظر آتی ہے:
اپنا ہی فیصلہ تھا کہ گھر چھوڑ کر چلے
مڑ مڑ کہ پھر یہ کیوں درو دیوار دیکھنا
___
وہ اپنے نقشِ قدم پر فریفتہ تھا بہت
نئے خیال کی آوازِ پا سے ڈرتا تھا
___
میں غرق ہونے ہی والا تھا جب تو اک تِنکا
بھنور میں مجھ کو دکھائی دیا اُبھرتا ہوا
ہزار بار مرے پائوں لڑکھڑائے ہیں
ہزار بار نئے عزم سے چلا ہوں میں
مظہر امام لفظوں کے تخلیقی برتائو سے بخوبی واقف تھے ۔لہجے میں نرمی اور گفتگو کا انداز اُن کی غزلوں کے اسلوب کی نمایاں خصوصیت قرار دی جا سکتی ہے ۔ مثال کے طور پر چند اور اشعار دیکھیں :
بہت سے لوگ ہیں ،ملتے بچھڑتے رہتے ہیں
یہ کام پہلے بھی ہوتا تھا ،اب بھی ہوتا ہے
___
چار ،چھہ شعر کام کے کہہ لے
کچھ تو مظہر امام کرتا جا
___
وہ شوخ رنگ کا شیدا ہے ،یہ خیال رہے
قریب آنا تو خود کو لہو میں تر لانا
___
کیسا خیال ،کِس کا تصّور ،کہاں کی یاد
کِن بے خیالیوں میں گزرنے لگی ہے شام
___
اپنے رِستے ہوئے زخموں کی قبا لایا ہوں
زندگی ! میری طرف دیکھ کہ میں آیا ہوں
___
یہ بھی کیا قرب قیامت کی نشانی ہے امام
رہنما ہی رہنما ہیں، کارواں کوئی نہ ہو
___
نئی بارش کی رِم جھم میں لباس غم تو بدلے گا
وہی رسم چمن ہوگی، مگر موسم تو بدلے گا
___
مسیحائوں نے کچھ تازہ دوائیں لا کے رکھی ہیں
نئے زخم آئیں گے اب بھی مگر مرہم تو بدلے گا
کئی سراب ملے تشنگی کے رستے میں
رُکاوٹیں ہیں بہت روشنی کے رستے میں
نئی غزل میں جس قسم کی بے چینی،تشکیک،تنہائی ،اور اداسی کے روّیوں نے جنم لیا اُس کی جگہ مظہر امام کے یہاں مضبوطی سے نہیں بن سکی۔ وہ نئی غزل سے اتنا رشتہ رکھتے ہیں کہ وہ فرد کی آزادی ایک حد تک چاہتے ہیں مگر سماجی عوامل سے گریز بھی نہیں کرتے۔ چونکہ مظہر امام کبھی ادعائیت کے شکارنہیں رہے، اِس لیے اُن کے متن میں مستقبل کی شاعری کے رحجانات آتے چلے گئے ۔ اُن کو بجا طو رپراُردو شاعری کی نئی نسل کا پیش رو کہا جاسکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جن چند معتبر شعرا کے ساتھ ہماری تنقید نے نا انصافی کی ہے ، مظہر امام بھی اُن میں سے ایک ہیں۔ اُن کی شاعرانہ عظمت کئی سطحوں پر نمو پذیر ہوتیہے، خاص طو رپر تازہ کار ڈِکشن،خیال کی ندرت کاری، تراکیب کی مانوس اجنبیت،طرز اظہار کا ذاتی پن ، خلاقانہ روِش،اور اِن کے ساتھ اُن کی شخصیت کے داخل کا سوز اور خارج کا ساز وغیرہ وہ خصوصیات ہیں جن کی بنا پر مظہر اما م کی شناخت جدیدت کے منظر نامے پر نہ صرف امتیازی طورپرقائم ہوتی ہے بلکہ اپنے ہم عصروں میں وہ ایک خاص بلندی پر بھی نظر آتے ہیں۔
٭٭٭
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں گیسٹ ٹیچر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

