اسمٰعیل میرٹھی کا شما ر ایسے شاعروں کی حیثیت سے ہوتا ہے جس نے متعدد نسلوں کی اپنے فکرو فن سے آبیاری کی ہے اور یہ سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی ذریعے سے جاری ہے۔یہ ایک ایسا نام ہے جس کی رسائی بچّوں کے بستوں سے لے کر بڑوں کے ذہن و شعور تک یکساں طور پر رہی ہے۔اردو زبان و ادب کو جاننے والا ہر فرد بشر ان کا مرہون منت ہے کیوں کہ ان کی تالیف کی ہوئی درسی کتابیں ہی اس کے لئے علم و آگہی کی پہلی سیڑھی بنی ہیں۔
اسمٰعیلؔ میرٹھی کو ایک بڑا اردو داں طبقہ محض بچوں کا شاعر او ر ادیب سمجھتا ہے لیکن حقیقت اس کے بر خلاف ہے ۔وہ صرف بچّوں کے شاعر و ادیب نہیں ہیں ۔ وہ تو ہمہ صفت اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔’’پن چکی اور’’ اسلم کی بلی ‘ جیسی ادب اطفال میں اضافہ کرنے والی نظموں کا خالق محض بچوں کا شاعر نہیں ہے ‘ وہ ستّر مثمن بندوں یعنی ۲۸۰ اشعار پر مشتمل ’’آثار سلف‘‘ اور ۱۰۸ اشعار پر مشتمل ’’مکالمہ سیف و قلم‘‘ جیسی نظموں نیز ’’جریدئہ عبرت‘‘ جیسے طویل قصیدے کا خالق بھی ہے۔
اسمٰعیلؔ میرٹھی کی شخصیت اور شاعری کا ایک اور نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ایک انقلابی ذہن رکھتے تھے اور انہوں نے پرانی روایات سے انحراف کرتے ہوئے کئی نئے تجربے بھی کئے ۔انہوں نے نظم ‘ غزل ‘ قصیدہ ‘ رباعی ‘ قطعہ ‘ مرثیہ ‘ تقریبا ہر صنف سخن میں روایات سے انحراف کرتے ہوئے نئے تجربات کئے۔انہوں نے غزل میں ہئیت کے نئے تجربے کو اپناتے ہوئے شعوری طور پر متعدد جگہوں پراپنی غزلوں میں مطلع کہنے سے پرہیز کیا نیز انہوں نے اپنی کسی بھی غزل میں مقطع نہیں کہا۔
اس کے علاوہ قصائد اور رباعیات میں بھی روایات سے واضح طور پر انحراف کیا۔اس کے علاوہ ان کی شناخت عربی کے عالم اور فارسی کے استاد کی حیثیت سے بھی ہوتی ہے۔لہذا ان کے کلام میں عربی اور فارسی زبان کو بھی جا بجا جگہ دی گئی ہے۔انہوں نے یک شعری نظموں (مطلع کی ہیئت میں محض ایک شعر میں بات کہنے) کی طرح ڈالی ہے۔انہوں نے ’’تاروں بھری رات‘‘ اور’’ چڑیا کے بچے‘‘ کہہ کر اردو کی نظمیہ شاعری میں نظم معریٰ کا اضافہ کیا۔
اسمٰعیلؔ میرٹھی نے اپنی شاعری کی ابتدا تو غزل گوئی سے کی تھی لیکن جب انہیں قلق ؔمیرٹھی کی انگریزی کی ۱۵ اخلاقی نظموں کے منظوم تراجم کا مطالعہ کیا تو اس کے بعد ان کی شاعری کا رخ ہی بدل گیا ۔تراجم کا یہ مجموعہ ۱۸۶۴ء میں’’ جواہر منظوم ‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا۔انہوں نے یہ قابل قدر تعمیری اور سنجیدہ کا م کا ۱۸۵۷ ء میں غدر کے ہنگامہ خیز دور کے معا ً بعد کیا۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنے کشیدہ حالات میں ایسا کام کیا جا سکتا ہے ۔وہ بھی ایک ایسے مقام پر جہاں سے ۱۸۵۷ء کی چنگاری اٹھی تھی۔ اس سلسلے میں اسمٰعیل میرٹھی کے صاحبزادے اسلم سیفی فرماتے ہیں :
’’مولانا فرمایا کرتے تھے کہ اس ترجمے کو دیکھ کر استعجاب ہوا کہ شاعر ایسا کلام بھی لکھتے ہیں ‘ ایک طرف دور از کار حیرت انگیز مبالغہ جو غزل اور قصیدے کی جان سمجھا جاتا تھا ‘ ادھر اس ترجمے کا مطالعہ ایک امر اتفاقی تھا جس نے مولانا کی طبیعت کا رخ بالکل بدل دیا۔اس ترجمے کو دیکھ کر بعض انگریزی نظموں کا ترجمہ کیا ۔یہ نظمیں کلیات میں موجود ہیں۔آئیندہ کے کلام کی بنیاد اسی انداز پر رکھی۔‘‘
(حیات کلیات اسمٰعیل‘ اسلم سیفی‘ دیال پرنٹنگ پریس‘ ۱۹۳۹ء ‘ ص۱۰۵)
اسمٰعیلؔ میرٹھی نے قلقؔ میرٹھی کے ترجموں سے متاثر ہوکر جن نظموں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے وہ درج ذیل ہیں:
۱۔کیڑا ۷ ۱۸۶ء
۲۔ایک قانع مفلس ۱۸۶۷ء
۳۔موت کی گھڑی ۱۸۶۷ء
۴۔فادر ولیم ۱۸۶۷ء
۵۔حب وطن ۱۸۶۸ء
۶۔انسان کی خام خیالی ۱۸۶۸
متذکرہ بالا سبھی نظموں میں کوئی نہ کوئی اخلاقیات سے متعلق درس و نصیحت چھپا ہوا ہے۔عیاں رہے کہ اسمٰعیل میرٹھی اور قلق ؔمیرٹھی کے ان تراجم نے انگریزی شاعری کے دروازے اردو شاعری پر وا کئے اور ان ترجموں سے متاثر ہوکر دیگر ادبا اور شعرا نے بھی اس طرح کے کامیاب تجربے کئے۔مثال کے طور پر نظم طبا ؔطباعی نے گرے کی مشہور ایلجی کا ترجمہ ’’گور غریباں ‘‘کے نا م سے کیا۔اکبرؔ الہ آبادی کی نظم ’’روانی آب‘‘ بھی انگلستان کے ایک مشہور شاعر روبرٹ سائورے کی انگریزی نظم’’ ہائو دی واٹر کمز ڈائون ایٹ لوڈور‘‘(How The Water Comes Down the Loder) کا اردو ترجمہ ہے ۔اس طرح اردو شاعری کی نئی زمینیں اور نئے آسمان کی دریافت میں اسمٰعیل میرٹھی نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے ۔
اسمٰعیل ؔمیرٹھی کے منظوم تراجم کے علاوہ ان کی طبع زاد نظمیں بھی کافی اہمیت کی حامل ہیں ۔انھوں نے جہاں بچوں کے لئے متعدد اخلاقی اور اصلاحی نظموں کی تخلیق کی ہے وہیں بڑوں کے لئے بھی بے شمار نظمیں لکھ کر ایک سچے مصلح کا رول ادا کیا ہے۔اس مضمون میں ان کی بڑوں کے لئے لکھی گئی نظموں پر ہی گفتگو کی جائے گی تاکہ بعض ادبی حلقوں میں پائی جانے والی اس غلط فہمی کا کسی حد تک ازالہ ہو سکے کہ اسمٰعیل تو بچوں کے شاعر ہیں۔
’’صنائع الٰہی ‘‘ اسمٰعیل میرٹھی کی ۵۹ اشعار پر مشتمل ایک طویل نظم ہے جو کہ مثنوی کے فورم میں لکھی گئی اس نظم میں خدا کی تخلیق کی گئی اس کائنات کے مختلف مظاہر پر غورو فکر کرنے اور اس وسیلے سے خدا کی قدرت کو پہچاننے کی تلقین کی گئی ہے۔
اسمٰعیل فرماتے ہیں کہ صرف اللہ کی صناعی سے اور اس کی تخلیق کردہ اشیا ء سے ہی اللہ کے وجود کا اور اس کی عظمت کا علم انسان کو ہوتا ہے۔اسمٰعیل میرٹھی نیلگوں فلک کے ذریعے اللہ کی صناعی کی تعریف کرتے ہیں ۔مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ ہو ؎
اگر تیری قدرت کی کاریگری
نہ کرتی سمجھ بوجھ کی رہبری
تو وہ سر پٹکتی ہی رہتی مدام
طلب میں بھٹکتی ہی رہتی مدام
بنائی ہے تو نے یہ کیا خوب چھت
کہ ہے سارے عالم کی جس میں کھپت
(جدید اردو شاعری کا نقطہ آغاز ۔۔۔اسمٰعیل میرٹھی۔ڈاکٹر شاداب علیم‘ ص ۲۴۱)
وہ خلاء میں بکھرے اجرام فلکی اور دیگر سائنسی حقائق کا بیان اپنی شاعری میں کرتے ہیں جس سے اس بات کا بخوبی اندزہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اس کائنات کو صرف ایک شاعر کی نگاہ سے ہی نہیں بلکہ ایک سائنسی مفکر کی نظر سے بھی دیکھا ہے اور اپنے کلام میں جابجا برتا بھی ہے۔ مثال کے طور پر کشش ثقل(Gravity) اور اس کے باعث سیّاروں کے مدار میں گردش کرنے کی حقیقت کا بیان اس طرح کرتے ہیں ۔
یہ قائم ہیں تیری ہی تدبیر سے
بندھے ہیں بہم سخت زنجیر سے
وہ زنجیر کیا ہے ؟ کشش باہمی
نہ اس میں خلل ہو نہ بیشی کمی
یہ سب لگ رہے ہیں اسی لاگ پر
لگاتے ہیں چکر اسی باگ پر
نشہ میں اطاعت کے سب چور ہیں
کہ قانون قدرت سے مجبور ہیں
(جدید اردو شاعری کا نقطہ آغاز ۔اسمٰعیل میرٹھی۔ص۲۴۲)
وہ اس خیال کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ ممکن ہے نظام شمسی کی طرح ان ستاروں میں بھی کئی دنیا آباد ہو جو ہماری زمین ہی کے جیسی ہو ۔ممکن ہے وہاں اس زمین کی ہی مانند جمادات اور نباتات بھی ہو ں ۔موسموں کی تبدیلی بھی اس زمین کی طرح ہوتی ہو نیز اس کے فلک پرچاند ‘ سورج اور ستارے بھی ہوں ۔ اسمٰعیل کے دور کو اگر مد نظر رکھیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا ایک انقلابی اور اجتہادی شاعر تھے۔
اسمٰعیل ؔکی ایک مثنوی ’’آب زلال ‘‘ ہے جو ان کی بے نظیر تخلیقات میں سے ایک ہے۔اس میں انہوں نے بظاہر معمولی سی چیز سمجھا جانے والا پانی کی اہمیت و افادیت اور اس کے کیمیائی عناصر کا تجزیہ سائنسی حقائق کی روشنی میں کیا ہے۔یہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ پانی در اصل دو گیسوں آکسیجن اور ہائیڈروجن کے ملنے سے بنتا ہے ۔اسمٰعیل میرٹھی اس کو کچھ اس انداز میں بیان کرتے ہیں ؎
نظر ڈھونڈے مگر کچھ بھی نہ پائے
زباں چکھے مزہ ہرگز نہ آئے
ہوائوں میں لگایا خوب پھندہ
انوکھا ہے تری قدرت کا دھندہ
مزاج اس کو دیا ہے نرم کیسا
جگہ جیسی ملے بن جائے ویسا
توضح سے سدا پستی میں بہنا
جفا سہنا مگر ہموار رہنا
جو ہلکا ہو اسے سر پہ اٹھائے
جو بھاری ہو اسے غوطہ کھلائے
لگے گرمی تو اڑ جائے ہوا پر
پڑے سردی تو بن جاتا ہے پتھر
ہوامیں مل کے غائب ہو نظر سے
کبھی اوپر سے بادل بن کے برسے
ہوا پہ چڑھ کے پہنچے سینکڑوں کوس
کبھی اولا کبھی پالا کبھی اوس
کہر ہے بھاپ ہے پانی ہے یا برف
کئی صیغوں میں ہے اک اصل کی صرف
(جدید شعری کانقطہ آغاز اسمٰعیل میرٹھی ۔۔۔ص۲۶۰)
اسمٰعیل نے مندرجہ بالا اشعار میں پانی کی طبعی و کیمیائی خصوصیات کا ذکر کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح وہ بظاہر روکھے پھیکے سائنسی حقائق کو خوبصورت اور واضح انداز میں برتنے کا ہنر جانتے ہیں۔
۴۷اشعار پر مشتمل ایک مثنوی ’’خدا کی صنعت ‘‘ ہے ۔ اس مثنوی میں بھی خدا کی بنائی ہوئی مختلف اشیا کا اور اللہ کی صناعی کاذکر کرتے ہیں خواہ وہ پھول او ر پرندے ہوں ‘ اجرام فلکی ہوں یا موسم ہوں سب کا ذکر کرتے ہوئے وہ قاری کو غور و خوض کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں ۔
اسمٰعیل ؔمیرٹھی کے کلام کا ایک نمایاں وصف اس میں پیش کئے گئے منظر نگاری کے نمونے ہیں۔ ان کی بچوں کے لئے لکھی گئی نظم ہو ‘ مثنوی ہو ‘ کائنات کی بوقلمونی کا تذکرہ ہو یا تہذیبوں کے زوال کی داستان ‘ جس موضوع پر انہوں نے قلم اٹھایا ہے منظر نگاری کے نشان صاف طور پر چھوڑے ہیں۔
اسمٰعیلؔ میرٹھی نے اس دور کی فرسودہ شاعری سے انحراف کرتے ہوئے نئی طرح ڈالی ۔اس کا تذکرہ کوثر مظہری نے بجا طور پر کیا ہے ۔فرماتے ہیں :
’’ مگر یہی کیا کم ہے کہ اس دور میں اسمٰعیل میرٹھی (اور بعد میں آزاد اور حالی نے) فرسودہ شاعری سے بیزار ہوکر انگیا ‘ چوٹی ‘ زلف و لب و رخسار اور ہجر و وصال کی ظلمت سے نکل کر اعلیٰ تہذیبی ‘ سماجی اور ثقافتی قدروں ‘ حب ا لوطنی ‘ محنت و مشقت اور نیچرل طرز کی شاعری کی طرف قدم بڑھایا جس میں ہندی تہذیب و تمدن اور اسلامی تمدن کے روشن نقوش در آئے جو آگے چل کر جدید تر نظم نگاری کا پیش خیمہ بنے ۔‘‘
(جدید نظم : حالی سے میراجی تک‘ کوثر مظہری‘ص۹۸)
اردو شاعری میں فطرت کی منظر کشی مغرب کی نیچرل شاعری کی تقلید میں ہی داخل ہوئی ہے ۔اسمٰعیلؔ میرٹھی کی نظمیہ شاعری میں فطرت اپنے تمام تر تنوع ‘ رنگینی اور حسن کے ساتھ جلوہ گر ہے۔انکی نظموں میں جگہ جگہ فطرت کے مناظر کی جلوہ گری ہے ۔ان کے منظوم کلام بعنوان ہوا چلی‘ گرمی کا موسم ‘ رات ‘ برسات ‘ شفق ‘کو ہ ہمالہ ‘ ساون کی جھڑی وغیرہ قابل ذکر ہیں جن میں مناظر فطرت کے خوبصورت نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ان کی ایک نظم گرمی کا موسم ہے ۔۱۰ اشعار پر مشتمل اس نظم میں منظر کشی کے ساتھ مقامی رنگ بھی دیکھائی دیتا ہے ؎
مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ
بہا چوٹی سے ایڑی تک پسینہ
چلی لو اور تراقے کی پڑی دھوپ
لپٹ ہے آگ کی گویا کڑی دھوپ
زمیں ہے یاکوئی جلتا توا ہے
کوئی شعلہ ہے یا پچھوا ہوا ہے
(جدید شاعری کا نقطہ آغاز۔۔ص۲۹۳)
ایک نظم’’ برسات‘‘ کے کچھ بند ملاحظہ ہوں ۔
گھٹا آن کے مینہ جو برسا گئی
تو بے جان مٹی میں جان آ گئی
زمیں سبزے سے لہلہانے لگی
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا
کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا
جہاں کل تھا میدان چٹیل پڑا
وہاں آج ہے گھاس کا بن کھڑا
ہزاروں پھدکنے لگے جانور
نکل آئے گویا کہ مٹی کے پر
(جدید اردو شاعری ۔۔۔ص۹۵۔۲۹۴)
مندرجہ بالا اشعار میں شمالی ہندوستا ن میں گرمی کے موسم کے بعد برسات کی آمد کا نقشہ دیکھائی دیتا ہے جو کہ ہمارے دیہی علاقے کے برسات کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔یہ اشعار اسمٰعیل ؔمیرٹھی کے تخلیق کی سادگی ‘ روانی اور حقیقت نگاری کی عمدہ مثال ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے دیہی مناظر اور دیہی عناصر کو بھی اپنی شاعری کا خاص موضوع بنایا ہے۔اپنی نظم میں انہوں نے مختلف ہیتوں کا استعمال کیا ہے نئے تجربوں کو بھی برتا ہے ۔
ان کی ایک مشہور نظم’’ آثار سلف ‘‘ ہے ۔یہ نظم مثمن کے فورم میں ہے اور ۷۰ بندوں پر مشتمل ہے ۔اس میں قلع اکبر آباد سے منسلک بادشاہوں ‘ ادیبوں ‘ شاعروں اور بزرگان دین کی سرگرمیوں نیز اس کے رو بہ زوال ہونے کا نقشہ کھینچا ہے ۔
ہندوستان میں اس قلعے کو ایک خاص مقام حاصل تھا ۔اس قلعے کے اقبال و جلال کو برتری حاصل تھی لیکن اب چا ر سو ادبار و افسردگی کا راج ہے یہاں اسمٰعیل نے قلعہ کو طاقت گویائی دے کر عہد گذشتہ کی عظیم شخصیتوں کے احوال و کوائف کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بند ملاحظہ ہو ؎
وہ چتر وہ دیہیم و سامان کہاں ہیں
وہ شاہ وہ نوئین وہ خاقان کہاں ہیں
وہ بخشی وہ دستور وہ دیوان کہاں ہیں
خدام ادب اور وہ دربان کہاں ہیں
وہ دولت مغلیہ کے دربان کہاں ہیں
فیضی وہ ابو الفضل سے اعیان کہاں ہیں
سنسان ہے وہ شاہ نشیں آج صد افسوس
ہوتے تھے جہاں خان و خوانین زمیں بوس
(جدید نظم حالی سے میراجی تک۔۔۔۔ص۱۰۲)
مندرجہ بالا نظم اسمٰعیل میرٹھی کی ایک لاثانی نظم ہے ۔اس نظم میں حقیقت و تخیل کا حسین امتزاج دیکھائی دتیا ہے۔بظاہر تو یہ مغلیہ سلطنت کے عروج و زوال کی داستان ہے لیکن ان کے تخیل کی پرواز صرف مغلیہ دور تک محدود نہیں رہی ہے آئینہ تخیل میںوہ بکرم ‘ ارجن ‘ بھوج ‘ کسریٰ ‘ سکندر اور جمشید کو بھی دیکھتے ہیں۔ان کے تخیل کی پرواز جب مغلیہ دور کے علوم و فنون کی طرف ہوتی ہے تو یہ ابو الفضل اور فیضی سے ہوتی ہوئی بو علی سینا اور افلاطون تک جاتی ہے۔ ان حقائق کے مد نظر ’’آثار سلف‘‘ کی اہمیت اور معنویت آفاقی ہے۔ اس نظم کے سلسلے میںپروفیسر حامد کاشمیری کچھ اس طرح رقمطراز ہیں :
’’نظم کا موضوع ایک خارجی نوعیت رکھنے کے باوجود شاعر کی خلاقانہ صلاحیتوں کی بدولت داخلی جذبے کی گہرائی سے ہم کنار ہے‘‘
(جرئت افکار ‘ کوثر مظہری‘شارب پرنٹنگ پریس ایجنسی‘ص۵۲)
اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جدید نظم نگاری کے میدان میں حالیؔ اور آزادؔ سے ایک قدم آگے بڑھ کر اسمٰعیلؔ میرٹھی نے اپنے فکرو فن و آہنگ کے ذریعے اردو شعر و ادب کی زمین کو سیراب کیا ہے ۔اس لئے انہیں محض بچوں کے شاعر تک محدود کرنا ایک بہت بڑا مغالطہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے فکرو فن کے ہمہ جہت پہلوکو زیر بحث لا یا جائے تاکہ ادبی دنیا انکے فکر و فن کے سے مزید روشناس ہو سکے۔
ڈاکٹر صبیحہ ناہید
email-snaheed3@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

