"معروف فلم ساز و ہدایت کار پدم شری مظفر علی کی ہدایت کاری میں صوفیانہ رقص کی خوبصورت پیشکش”
مدھیہ پردیش اردو اکادمی،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام اردو ادب و ثقافت میں صوفی روایت پر مرکوز سیمینار اور شام صوفیانہ کا انعقاد 13 دسمبر 2021 کو شام 5 بجے سے رویندر بھون، بھوپال میں کیا گیا..
اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کی شروعات میں مہمان خصوصی اور محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر جناب ادیتی کمار ترپاٹھی کا اکادمی کی کتابوں سے استقبال کیا اور دیگر مہمانان کا استقبال جناب ادیتی کمار نے اکادمی کی کتابیں پیش کر کیا. ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام اردو ادب و ثقافت میں صوفی روایت پر مبنی ہے.
جیسا کہ آپ سبھی جانتے ہیں کہ مدھیہ پردیش کا جو محکمہ ثقافت ہے وہ اپنی مختلف اکادمیوں کے ساتھ ملک کا سب سے زیادہ فعال اور متحرک محکمہ ہے. اور یہ محکمہ اپنی مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے. اس ادارے کے زریعے جو پروگرام منعقد ہوتے ہیں ان زریعے محکمہ کا مقصد یہ ہے کہ سماجی آہنگی کا پیغام عام ہو اور محبت کا پیغام عام ہو. آج کا پروگرام بھی اسی پیغام کو لے تصوف پر مبنی ہے. تصوف جو ہندوستان کی سرزمین پر اس لیے پنپا اس لیے بہت مقبولیت اس نے حاصل کی کیونکہ یہاں کا پس منظر روحانی تھا. آپ سبھی اس بات سے متفق ہوں گے کہ روحانیت ہندوستان کا خاصہ ہے. اسی لیے صوفیوں نے اور سنتوں یہاں سے محبت کا پیغام عام کیا ہے. تصوف کا ایک اہم پیغام ہے "دو رنگی ٹھیک نئیں یک رنگ ہوجا” اسی پیغام کو لے کر اور اردو میں صوفیاء کرام کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے آج کا پروگرام منعقد کیا گیا ہے.
پروگرام تین اجلاس پر مبنی تھا. پہلے اجلاس میں سیمینار منعقد کیا گیا جس کی صدارت معروف دانشور اور شاعر پروفیسر سراج اجملی نے کی. اور بطور مقررین ڈاکٹر مہتاب عالم اور فرزانہ انصاری اسٹیج پر موجود رہے. پروفیسر سراج اجملی نے تصوف اور سماجی ہم آہنگی کے موضوع پر اپنے معروضات پیش کرتے ہوئے کہا کہ "معاشرے میں ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے تصوف کا جو کردار ہے وہ بڑا اہم ہے اور خاص طور سے اس معاشرے میں کہ جو کثیر مذہبی اور کثیر فکری ہو. کثیر افکار اور نظریات اور تصورات اور عقائد اور ان کے درمیان ارباب تصوف کی خدمات کے ذریعے معاشرے کو توازن بخشنے اور قائم کرنے اور اس میں صحتمند نظام رواج دینے کے سلسلے میں صوفیاء کرام نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے. اور اس میں جن نکات پر ارباب تصوف نے سب سے زیادہ زور دیا ہے وہ اصلاح نفس کا ہے اور اصلاح نفس کا راستہ تربیت اخلاق سے ہوکے گزرتا ہے. تربیت اخلاق کے لیے اور انسان کو اس کے ارتفاعِ مزاج کے لیے صوفیاء کرام نے خدمات انجام دیں. اس کے لیے انھوں نے کسی تعصب کو راہ نہیں آنے دی. اخلاق کو بہتر بنانے کے لیے عدم تعصب سب سے زیادہ کارگر حربہ ہے. اور یہ سب چیزیں براہ راست پیغمبر اعظم و آخر صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کی سنتوں سے وابستہ ہیں. اس لیے صوفیاء کرام نے اپنی زندگی کو سنت نبوی کا نمونہ اور عکس بنا کر پیش کیا اور اپنے خلوص کو اور مزاج کی سادگی کو اور اپنی غیر مشروط محبت کو اس طرح عام کیا کہ سماجی ہم آہنگی کے نشانے کو حاصل کرنے میں انھیں بہت کامیابی حاصل ہوئی اور انھوں نے ایک معاشرہ جو بہت بہتر معاشرہ تھا، محبت کا اور اخلاق کا اور احترام انسانیت کا اس کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا.”
ڈاکٹر مہتاب عالم نے تصوف پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عہد میں دنیا بارود کے ڈھیر پر بیٹھی اور اس وقت سب سے زیادہ ضروری پیغام ہے وہ امن اور محبت کا پیغام ہے اور یہ پیغام ہمیں صوفیاء کرام کی تعلیمات میں جا بجا نظر آتا ہے. صوفیاء کرام نے مذہب، ذات و برادری سے اوپر اٹھ کر آپس میں محبت بانٹنے کا پیغام عام کیا. ہمارے ملک میں ایسی کئی مثالیں مل جائیں گی جہاں صوفیاء کرام کے مزار پر ہمارے ہندو بھائی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں. نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ کے آستانے پر آج بھی ہندو بھائی چراغ روشن کرتے ہیں.فرزانہ انصاری نے اردو شاعری میں صوفیاء کا حصہ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا. سیمینار کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر واصف یار نے بحسن خوبی انجام دیں.
دوسرے اجلاس میں پدم شری مظفر علی اور ڈاکٹر نصرت مہدی کے مابین گفتگو ہوئی جس میں ڈاکٹر نصرت مہدی نے مظفر علی سے ان کی فنون لطیفہ میں دلچسپی کو لے کر سوالات پوچھے اور ہما: رقص جنوں کے بارے میں بھی سوال کیا. ان سوالات کے انھوں نے تفصیل سے جوابات دیے. تمام ملکوں سے زیادہ ہندوستان میں تصوف کی مقبولیت اور اس کے پنپنے وجہ کے بارے میں جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی سرزمین روحانیت کے نقطہء نظر سے پہلے سے ہی بہت زرخیز تھی اس لئے یہاں تصوّف کو مقبولیت حاصل ہوئی.
آخری اجلاس میں ہما نام کے پرندے کو علامت بنا کر "ہما: رقص جنوں پیش کیا گیا.” بے حد خوبصورت سجے اسٹیج پر مدھم روشنی میں پنڈت برجو مہاراج کی پوتی شنجینی کلکرنی اور ان کی ساتھی منت مشرا کے ذریعے یہ پیشکش دی گئی. یہ پیشکش اس نقطہء نظر سے بڑی اہم تھی کہ اس میں صوفیانہ رقص میں ہندوستانی فلسفے خاص طور پر وحدت الوجود کے نظریے کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا. ہما ایک پرندہ ہے جو اپنے سائے کے ساتھ عشق کے بھرم میں ہے. دھیرے دھیرے بھرم ہی حقیقت ہے تک پہنچ جاتا ہے اور ایک ہوجاتا ہے. یہی صوفی ازم ہے اور یہی وحدانیت کا پیغام.
پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام سامعین و ناطرین کا شکریہ ادا کیا.
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

