مشاہیر بہرائچ کا اجمالی تعارف – جنید احمد نور

by adbimiras
0 comment

بہرائچ کی علمی ،سیاسی اور ادبی شخصیات کے حالات کو معلوم کرنا بہت کٹھن اور مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام ہے۔افسوس کی بات یہ ہے بہرائچ کے جو خانوادے تاریخ میں اپنا اہم مقام رکھتے ہیں ان کے یہاں بھی کچھ محفوظ نہیں ہے سوائے سُنی اور سُنائی باتوں کے  اور اگر محفوظ بھی کئے ہوئے ہیں تو ان کو دیکھانے سے اور بتانے سے گریز کرتے ہیں ۔مجھے  ’’بہرائچ ایک تاریخی شہر‘‘حصہ اول  کو لکھنے کے وقت اس طرح کی تمام دشواریوں کا سامنا کر نا پڑا تھا ،بہرائچ میں کتب خانوں کی بھی بہت کمی ہے اور اگر کسی کے پاس کتابی ذخیرہ  ہے تو اس سے استفادہ کرنامشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔انہیں سب باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے بہرائچ کے مشاہیر کے حالات کو مختصر  شکل میں تیار کرنے کا ارادہ کیا اور  ’’مشاہیر بہرائچ‘‘ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے جو اس وقت آخری مرحلہ میں ہے جس   میں بزرگان بہرائچ ، علمائے بہرائچ  اور ادیبوں کے اجمالی تعارف کے ساتھ ساتھ سماجی شخصیات کا بھی  اجمالی تعارف شامل کیا گیا ہے ۔اس مضمون کی شروعات حضرت سید سالار مسعود  غازیؒ اور آپ کے چند خاص رفقاء  سے ہو رہی ہے جن کے بغیر بہرائچ  کی تاریخ پر کام کرنے کا تصور بھی  میرے نزدیک غلط ہوگا۔زیر نظر مضمون اُسی کتاب کے اقتباسات پر مشتمل ہے۔

حضرت سید سالار مسعود غازیؒ

پورا نام ـ:۔حضرتسید سالار مسعود غازیؒ

القاب ۔ غازی ؒ میاں، بالے میاں ،بالاپیر

نام والد:۔ حضرت سید سالار ساہو غازیؒ

نام والدہ :۔ بی بی ستر معلی(بہن سلطان محمود غزنوی)

تاریخ ولادت:۔ ۲۱؍رجبالمرجب۴۰۵ھ (بعض کتابوں   میں ۲۱؍شعبان۴۰۵ھ لکھا ہے)

جائے ولادت:۔ اجمیر (ہندوستان)

تاریخ شہادت:۔ ۱۴؍رجبالمرجب۴۲۴ھ مطابق ۱۵؍جون۱۰۳۳ء

جائے شہادت :۔ بہرائچ (اودھ ) اتر پردیش

جائے مدفن:۔درگاہ شریف بہرائچ

مجاہد ِکبیر ،کاروانِ عشق و مستی کے امیر حضرت سید سالار مسعود غازی شہید رحمۃ اللہ علیہ کی آخری آرام گاہ ہونے کا شرف اسی شہربہرائچ کو حاصل ہے۔آپ نےآج سے ایک ہزار سال قبل غزنی سے طویل مسافت طے کر کے شہادتِ حق کا فریضہ ادا کرتے شہید ہوئے۔موصوف سلطان محمود غزنوی کے بھانجے،پیر ہرات حضرت شیخ عبداللہ انصاریؒ کے ہم عصر اور حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کے مسترشد تھے۔ آپ کے قدموں کے نشانات آج بھی غزنی سے لیکر لاہور،دہلی،میرٹھ،سنبھل، قنوج،بارہ بنکی ،ستریکھ،،کڑامانکپور،بہرائچ میں جگہ جگہ ملتے ہیں۔بالے میاںؒ کے نام سے دور دور تک آپ کی شہرت ہے۔

حضرت سید سالار سیف الدین غازیؒ

پورا نام: ۔ حضرت سید سالار سیف الدین غازیؒ

نام والد:۔ حضرت سید عطا اللہ غازیؒ

جائے ولادت:۔ غزنی

تاریخ شہادت:۔ ۱۳؍رجبالمرجب۴۲۴ھ مطابق ۱۴؍جون۱۰۳۳ء

جائے شہادت :۔ بہرائچ (اودھ ) اتر پردیش

جائے مدفن:۔ درگاہ نزد درگاہ ریلوے کراسنگ بہرائچ

حضرت سیدسالار سیف الدین المعروف سْرخْروسالارغازیؒ حضرت سید سالار مسعود غازی ؒکے چچا  اور انکی فوج کے ایک بڑے سالار تھے ۔آپ سلطان محمود غزنوی کے عہد میں اونچے منصب پرفائزتھے۔آپ کی شہادت ۱۳؍رجب۴۲۴ھ کو ہوئی۔آپ کی مزار ریلوے کراسنگ درگاہ شریف کے نزد محلہ بخشی پورہ میں واقع ہے جہاںحافظ حیرت شاہ ؒکی مزار سے پورب سے پچھم کی طرف  وسیع راستہ جاتا ہے۔تقریباً دو سو گزچلنے کے بعد آپ کی مزار کی عمار ت نظر آتی ہے۔آپ کی درگاہ کی تعمیر سلطان فیروز شاہ تغلق نے کروائی تھی۔

حضرت سید ابراہیم شہیدؒ

پورا نام ۔ حضرت سید ابراہیم شہیدؒ

تاریخ شہادت۔ ۱۵؍رجبالمرجب۴۲۴ھ مطابق ۱۶؍جون۱۰۳۳ء

جائے شہادت ۔ بہرائچ (اودھ ) اتر پردیش

آپ سلطان محمود غزنوی کی فوج میں بارہ ہزاری کے منصب پر فائز تھے۔اس کے علاوہ آپ حضرت سید سالار مسعود غازیؒ کے استاد محترم تھے۔آپ نے ہی تمام شہدا بشمول حضرت سید سالار مسعود غازی ؒ کو دفن کیا اور بعد میں مقامی راجہ سہر دیو کو قتل کر کے جام ِ شہادت کو نوش فرمایاتھا۔

حضرت رجب سالارغازی المعروف بہ ہٹیلہؒ

نام۔ رجب سالار غازی

لقب۔ہٹیلہ[1]

والد کا نام نام۔ حضرت سالار زنگی غازیؒ

نام والدہ ۔ حضرت نور بی بی ؒ (بہن حضرت سید سالار مسعود غازیؒ)

تاریخ ولادت۔ ۹ رجب المرجب ۳۸۳ھ مطابق ۹۹۳ء

جائے ولادت۔ غزنی( افغانستان)

تاریخ وفات۔ ۱۱؍رجبالمرجب۴۲۴ھ

جائے شہادت۔ بہرائچ

مزار۔ موضع شاہ پور جوت یوسف  ہٹیلہ بہرائچ

حضرت رجب سالار ہٹیلہ حضرت سید سالار مسعود غازیؒ کے بھانجے تھے۔آپ بہرائچ کی تیسری اور آخری جنگ میں ۱۱؍رجبالمرجب۴۲۴ھ کو شہید ہوئے۔سید ظفر احسن بہرائچی لکھتے ہیں کہ اس وقت آپ کی عمر ۴۱ سال تھی۔آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور آپ کو مع لباس و ہتھیار درخت لرزہ کے نیچے دفن کیاگیا ۔جہاں آپ کا مزار مبارک بنا ہوا ہے۔آپ کے مزار کا گنبد اور احاطہ کی تعمیر سلطان فیروز شاہ تغلق نے کرائی تھی۔آپ کاعرس ۱۱؍رجبکومنایا جاتا ہے اور جیٹھ کے مہینے میں میلہ لگتا ہے۔

حضرت سکندر دیوانہشہید ؒ

نام۔ سکندر دیوانہ شہیدؒ لقب۔ برہنہ

تاریخ وفات۔ ۱۴؍رجبالمرجب۴۲۴ھ مطابق ۱۵؍جون۱۰۳۳ء

جائے شہادت۔ بہرائچ

مزار۔ درگاہ شریف بہرائچ

حضرت سکندر دیوانہ شہید ؒ حضرت سید سالار مسعود غازیؒ کے رفقاء میں اہم مقام رکھتے ہیں۔شیخ وجیہ الدین اشرف لکھنویؒ لکھتے ہیں کہ صاحب شہادت و ولایت توام،فخر شہداو وصوفیان محترم،شہید خدنگ غمزہ جاناں،واصل بدوست حضرت سکندر دیوانہؒ صاحب کمال درویش ،خواجہ ابراہیم اددھم ؒ کے سلسلہ سے تھے،سالار شہدا(سالار مسعودغازیؒ)کے عشق میں ہمشیہ اپنے ہاتھ میں ڈنڈا لیے رہتے اور لشکر کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر رہتے ۔یہ شعار سلسلہ ادھمیہ کے مریدوں کا ہے کہ سردار پاؤں برہنہ رکھتے ہیں اور محبوب کی سواری کے آگے آگے پیدل چلتے ہیں۔سالار شہدا کے مصاحبین میں سب سے زیادہ افضل تھے۔۔۔۔۔حضرت سالار شہدا کو اپنے ہاتھوں سے سہارا دے کر درخت گلچکاں کے نیچے لٹا دیا اور ان کا سر اپنی گودمیں لے لیا اور زار و قطار روئے،سالار شہدا نے ایک بار آنکھ کھولی اور کلمہ’ہو‘ پڑھا۔جان مشاہدہ جاناں میں قربان کر دی،حاضرین نے دل بریاں اور چشم گریاں کے ساتھ تلواریں کھینچی اور کافروں کے لشکر پر ٹوٹ پڑے اور شہید ہوگئے،سکندر دیوانہ پر بھی چند تیر لگے ،آپ بھی شہید ہو گئے۔۔۔۔۔۔سید ابراہیم نے سالار شہدا کو درخت گل چکاں کے سائے میں دگن کیا اور سکندر دیوانہ کو حضرت(سالار شہدا) کی قبر سے کچھ فاصلہ پر دفن کیا ،سکندر دیوانہ سے کچھ ہٹ کر اپنے لئے قبرتیار کی اور وہیں اسپ مادیہ خنگ(سفید گھوڑی) کو دفن کیا،باقی شہدا جن کی لاشیں سورج کنڈمیں تھیں ،ان پر مٹی ڈال کر تودہ بنا دیا اور اس جگہ پر تا قیامت تک ک کفارکی پرستش کو موقوف کر دیا اور مسلمانوںکی زیارت گاہ بنا دیا۔ [2]

قاضی شمس الدین بہرائچیؒ

نام ۔قاضی شمس الدین بہرائچی

قاضی شمس الدین بہرائچی بعہد سلطان ناصر الدین محمود قاضی ممالک تھے،سلطنت کے طاقت ور قاضی تھے جن سے بعض امرا حسد کرتے تھے اور سازش کر کے سلطان کو انکے خلاف کر دیا کہ بغاوت میں آپ کا ہی ہاتھ ہے۔سلطان نے ۱۱۵۳ء میں آپ کو دہلی سے شہر بدر کر کے بہرائچ واپس بھیج دیا تھا جہاں آپ کی وفات ہوئی۔سن وفات کا ذکر کسی کتاب میں نہیں ملا۔

سید افضل الدین ابو جعفر امیرماہ بہرائچیؒ

پورا نام ۔ حضرت سید افضل الدین ابو جعفر امیرماہ بہرائچیؒ

نام والد۔ حضرت سید نظام الدین ؒ

جائے ولادت۔ بہرائچ

تاریخ وفات۔ ۲۹؍ذی القعدہ ۷۷۲ھ مطابق ۱۴؍جون۱۳۷۱ء

جائےوفات ۔ بہرائچ (اودھ ) اتر پردیش

حضرت سید افضل الدین ابو جعفر امیرماہؒ کےسلسلہ سہروریہ کے مشہور صاحب تصنیف بزرگ ہیں۔سلطان فیروز شاہ تغلق آپ کے ہمراہ ہی حضرت سید سالار مسعود غازیؒ کے آستانہ پر حاضر ہوا تھا اور آپ کی بزرگی سے بہت متاثر ہوا تھا ۔آپ کی تصانیف کے سلسلہ میں صرف ایک کتاب ’’المطلوب فی عشق المحبوب‘‘ نامی رسالہ کا ذکر ملتا ہے ، اس رسالہ کے پہلے باب در بیان عشق کا کچھ حصہ مصنف مرآ ۃالاسرار نے نقل کیا ہے اور کچھ حصہ حضرت مولانا شاہ نعیم اللہؒ صاحب بہرائچی نے اپنی کتاب ’’معمولات مظہریہ ‘‘میں نقل کر کے سالک کے کچھ درجے اور مقامات بتائے ہیں۔’’آئینہ اودھ‘‘میں مصنف شاہ سید محمد ابوالحسن نے لکھتے ہیںکہ سلطان فیروز شاہ تغلق نے امیر ماہ ؒکی خانقاہ کے مصارف کے لئے اودھ کے چند دیہات دیئے ان کے بیٹے بھی پابندِ شرع صوفی اور اپنے والد کی طرح دعوت وارشادمیں مصروف رہتے۔نواب شجاع الدولہ (۱۷۳۱ء-۱۷۷۵ء) کے عہد تک اس خانقاہ کے سجادہ نشین اجداد کی علمی و رحانی روایت رکھے ہوئے تھے۔جب نواب مذکور نے ان کیجائیداد کی ضبطی کے احکام جاری کیے تو انہوں نے اپنا مذہب بدل کر مذہب امامیہ اختیار کر لیا۔جس سے ان کی نصف جائیداد بچ گئی۔اب ان کی خانقاہ میں جو دعوت و ارشاد کا مرکز تھی وہ تعزیہ داری کی مجالس منعقد کرنے لگے۔پھر نواب سعادت علی خان(۱۷۹۸ء-۱۸۱۴ء)کے عہد میں باقی جائیداد بھی ضبط ہوگئی۔[3]

سید اجمل شاہ بہرائچیؒ

پورا نام ۔ حضرت قاضی سید عبد المالک المعروف سید اجمل شاہؒ

نام والد۔قاضی سید امجد ؒ

تاریخ وفات۔ ۲۵؍رمضانالمبارک۸۶۴ء مطابق ۱۴؍جولائی۱۴۶۰ء

جائے وفات :۔ بہرائچ (اودھ ) اتر پردیش

مقبرہ:۔اسٹیشن موڑ نزد مزار حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ بہرائچ

حضرت قاضی سید عبدالمالک المعروف سید اجمل شاہ بہرائچیؒ صدر جہاںسلطان ابراہیم شاہ شرقی سلطنت شرقی جون پور۔معمولات مظہریہ میں حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ لکھتے ہیں کہ سید اجمل شاہؒکو بے شمار سلاسل سے نسبت حاصل تھی۔ قاضی سید عبد المالک المعروف سید اجمل شاہ بہرائچیؒ کو سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں اجازت اپنے پیر و مرشد سید جلال الدین مخدوم جہانیاں ؒسے اور انہیں خواجہ نصیرالدین روشن چراغ دہلویؒسے انہیں سلطان المشائخ شیخ نظام الدین محمد بن احمد البداؤنیؒ(نظام الدین اولیاء ؒ)سے انہیں خواجہ فریدالدین گنج شکرؒ سے حاصل تھی۔ اسی طرح سلسلہ سہروردیہ کی اجازت آپ کو سید جلال الدین مخدوم جہانیاںؒسے حاصل تھی انہیں حضرت شاہ رکن الدین عالمؒسے انہیں اپنے والد شیخ بہاؤالحق زکریا ملتانی ؒ سے انہیں شیخ شہابالدین سہروردیؒ سے۔ اسی طرح سلسلہ کبوریہ میں سید اجمل شاہ ؒکو اجازت حاصل تھی اپنے مرشد سید جلال الدین مخدوم جہانیاں ؒسے انہیں اپنے دادا سید جلال الدین بخاریؒ سے انہیں حمید الدین سمرقندی ؒسے انہیں شمس الدین ابو محمد بن محمود بن ابراہیم الفرغانی ؒ سے انہیں عطایا ء الخالدیؒسے انہیں شیخ احمدؒسے انہیں بابا کمال جنیدیؒ سے انہیں نجم الدین الکبریؒسے انہیں عمار یاسر ؒسے انہیں شیخ الدین  ابو نجیب سہروردی ؒسے۔سلسلہ قادریہ میں آپ کو اجازت اپنے مرشد سید جلال الدین مخدوم جہانیاںؒ سے انہیں سید جلال الدین بخاری ؒسے انہیں عبید غیبیؒ سے انہیں ابوالقاسم فاضلؒسے انہیں شیخ ابوالمکارم فاضل ؒسے انہیں قطب الدین ابوالغیثؒسے انہیں شیخ شمس الدین علی الافلحؒسے انہیں شیخ شمس الدین الحدادؒسے انہیں شیخ محی الدین ابو محمد سید عبد القادر جیلانی  ؒسے۔سلسلہ مداریہ قلندریہ کی اجازت آپ کو شاہ بدیع الدین شاہ مدارؒسے بغیر کسی واسطہ سے حاصل ہوئی انہیں طیفور شامی ؒسے انہیں عین الدین شامی ؒسے۔اسی طرح سلسلہ نقشبندیہ میں سید اجمل شاہ بہرائچی ؒخلیفہ تھے شاہ عبد الحق ؒکے وہ خلیفہ تھے خواجہ یعقوب چرخی ؒکے اور وہ خلیفہ تھے حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندی ؒکے۔[4]

مخدوم سید بڈھن شاہ بہرائچیؒ

نام :۔حضرت مخدوم سید بڈھن شاہ بہرائچی ؒ

نام والدہ ۔ حضرت مخدوم سید اللہ دادؒ بن سید مخدوم بدھےؒ

تاریخ ولادت۔ رمضان(سن اور تاریخ کا ذکر کسی کتاب میں نہیں سوائے ماہ کے)

جائے ولادت۔ بڑی ہاٹ بہرائچ

تاریخ وفات:۔ ۸؍شوال۸۸۰ھ مطابق۴؍فروری۱۴۷۶ء

جائے وفات :۔ بہرائچ (اودھ ) اتر پردیش

مقبرہ:۔آستانہ واقع محلہ فری گنج ،اسٹیشن روڈ ،نزد قرستان مولوی باغ شہربہرائچ

حضرت مخدوم سید بڈھن شاہ بہرائچیؒ خلیفہ و جانشین حضرت سید اجمل شاہ بہرائچیؒ۔ آپ کو بے شمار سلاسل سے نسبت حاصل تھی۔آپ کو سلسلہ نقشبندیہ اور قادریہ و چشتیہ کے ساتھ ساتھ مداریہ سلسلہ میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔آپ سے بیشمار سلاسل جاری ہوئے۔ مولانا سید عبدالحئی حسنی ؒ لکھتے ہیںکہ ’’ الشیخ الصالح الفقیہ السید بڈھن البہرائچی   ؒ  کا شمار مشہور و معروف مشائخ کرام میں ہو تا تھا۔آپ نے علوم ظاہری کی تعلیم اور سلسلہ چشتیہ کی اجازت شیخ حسام الدین فتح پوری سے حاصل کی جو شیخ عبدالمقتدر بن رکن الدین شریحی ؒکے شاگرد اور فیضیافتہ تھے۔سید بڈھن بہرائچی ؒنے سلسلہ مداریہ و سہروردیہ اور دیگر مشہور سلاسل کی اجازت وخلافت سید اجمل شاہ بہرا ئچی ؒسے حاصل کی اور ان سے شیخ (درویش) محمد بن قاسم اودھی ؒنے اجازت اور خلافت حاصل کی۔[5]

شیخ  فیروز شہیدؒ

نام :۔حضرت شیخ فیروز شہید بہرائچیؒ

نام والد:۔شیخ ملک موسیٰؒ

تاریخ شہادت:۔۸۶۰ھ مطابق ۱۴۵۶ء

جائے شہادت :۔ بہرائچ (اودھ ) اتر پردیش

مقبرہ:۔مزار متصل مرکزی عیدگاہ محلہ سالارگنج، شہربہرائچ

حضرت شیخ فیروز شہید بہرائچیؒ مصنف اخبار اخیار حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ کےحقیقی جد امجد تھے۔آپ سلطان بہلول لودھی کی طرف سے شرقی بادشاہ سے جنگ میں شہید ہوئے تھے۔ بقول حضرت شاہ عبد الحق محدث ؒ ’’ہمارے گھر میں شریں کلامی ،ذوق و ظرافت آپ ہی کی وجہ سے پیدا ہوا۔‘‘شیخ فیروز۸۶۰ھ مطابق۱۴۶۵ء میں بہرائچ (قدیم نام بھڑائچ) گئے تھے جہاں جنگ میں شہادت پائی اور وہیں دفن ہوئے،آپ کی مزار بہرائچ کے مرکزی عیدگاہ سے لگی ہوئے ایک اونچے ٹیلے پر ہے۔ جہاں پر ایک مسجد اور شہر کا مرکزی قبرستان بھی ہے۔معین احمد علوی کاکوروی مرحوم اپنے ایک مضمون بنام’حضرت سالار مسعودغازیؒ کے سوانحی مآخذ‘میںلکھتے ہیںکہ ’واقعات مشتاقی ‘کے مصنف شیخ رزق اللہ مشتاقی بن شیخ سعد اللہ بن شیخ فیروز ترک بخاری ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ کا سلسلہ نسب اس طرح شیخ فیروز شہید ؒ تک پہونچتا ہے۔شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ بن شیخ سیف الدینؒ بن شیخ سعد اللہ  ؒ بن شیخ فیروز شہیدؒ بن شیخ ملک موسیٰ  ؒ۔

سید سلطان بہرائچیؒ

نام ۔ سید سلطان بہرائچیؒ

تاریخ ولادت ۔۸۵۹ھ مطابق ۱۴۵۵ء

تاریخ وفات ۔ ۹۴۹ھ مطابق ۱۵۴۲ء

سید سلطان بہرائچیؒ شیخ علاءالدین اجوھنی کے مرید تھے اور سلسلہ شطاریہ سے تعلق تھا ۔بقول حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒسید سلطان بہرائچیؒ اہل دل،خاکسار اور صاحب ہمت درویش تھے۔شیخ ابن انبردھؒ آپ کے خلیفہ تھے۔

[1]آپ ہنگامہ نبردقدم جمانے میں ایسی ہٹ کرتے تھے کہ پھر وہاں سے پیچھے نہ ہٹتے تھے اسی لئے ہٹیلہ کے نام سے موسوم تھے۔(سلطان الشہداء حضرت سید سالار مسعودغازیؒ از سید ظفر احسن بہرائچی ص ۱۱۵ مطبوعہ۲۰۱۱)

[2]بحر زخار(شیخ وجیہ الدین اشرف لکھنویؒ ترجمہ مولانا ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی، جلد۲،ص ۵۴۳- ۵۴۵ ، مطبوعہ ۲۰۱۹ء)

[3]آئینہ اودھ مطبوعہ ۱۸۸۷ء، ص ۱۵۵

[4]معمولات مظہریہ ترجمہ اردو مطبوعہ ۲۰۰۷ء،ص ۵۷-۵۸

[5]نزہتہ الخواطر جلد ۳  ص۲۴۰

 

   جنید احمد نور،بہرائچ

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment