سید امجد ربانی کے نعتیہ کلام کا جمالیاتی کینوس – طفیل احمد مصباحی

by adbimiras
0 comment

جمالیات ( جس کو انگریزی میں ” Aesthetics ” کہتے ہیں ) یونانی لفظ ” Aistheta ” سے ماخوذ ہے ۔ اس کا لغوی معنیٰ ہے : حواس کے ذریعے حسن و دلکشی سے متعلق مشاہدے میں آنے والی اشیا ۔ حسین اشیا کی اصل یا حسین اشیا سے حاصل ہونے والی مسرت و شادمانی اور زندگی میں حسن و دلکشی کی افادیت ظاہر کرنے والے علم و فلسفہ کو ” جمالیات ” کہتے ہیں ۔ حسن و دلکشی ، خوبی و عمدگی ، نظم و ترتیب اور تہذیب و شائستگی جو کلیتاً  یا جزئیتاً اشیا کے مشاہدے سے حواس کو متاثر کریں اور ان کے جزوی و کلی تاثر سے ناظر یا سامع پر فرحت و انبساط کے جذبات طاری ہوں ، اس کو ” جمال ” کہتے ہیں ۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ عرف عام میں ہم جس چیز کو ” جمال ” کہتے ہیں ، اس کی مجموعی کیفیت اور اس سے متعلق علم و فلسفہ کو ” جمالیات ” کہا جاتا ہے ۔

” جمالیات ” کی توضیح و تشریح میں محققینِ ادب کے اقوال و آرا مختلف ہیں ۔ ہر ایک نے اپنے ذوق و وجدان کے مطابق اس تعریف و تشریح کی ہے ۔ لیکن ہر ایک کی تعریف میں قدرِ مشترک کے طور پر جو بات سامنے آتی ہے ، وہ یہ کہ ” جمالیات ، حسن اور فلسفۂ حسن بیان کرنے اور اس سے مسرت و شادمانی حاصل کرنے کا نام ہے ” ۔

مجنوں گورکھ پوری لکھتے ہیں  :

جس انگریزی لفظ ( Aesthetics ) کے جواب میں یہ اردو لفظ ( جمالیات ) گڑھا گیا ہے ، اس کا یہ صحیح مرادف نہیں ہے ۔ انگریزی زبان میں Aesthetics ، جمالیات سے کہیں زیادہ جامع اور بلیغ ہے ۔ Aesthetics کے لغوی معنیٰ ہر اس چیز کے ہیں جس کا تعلق حِس یا حِس لطیف سے ہو ۔ اس اعتبار سے اگر اردو میں ترجمہ کیا جائے تو Aesthetics کے لیے ” حِسّیات ” یا ” وجدانیات ” یا ” ذوقیات ” بہتریں اصطلاح ہو ……………. Aesthetics کا موضوع حسن اور فنونِ لطیفہ ہے ۔ اول اول ہیگل نے اس لفظ کو فلسفۂ فنونِ لطیفہ ( موسیقی ، سنگ تراشی ، شاعری وغیرہ ) کے معنوں میں استعمال کیا ۔ اسی رعایت سے عربی اور اردو میں اس کا ترجمہ ” جمالیات ” کیا گیا اور اب اس کو اردو میں قبول کر لیا گیا ہے ۔ جمالیات ، فلسفہ ہے حسن اور فنکاری کا ۔

( تاریخ جمالیات ، ص : 11 – 12 ، ناشر : انجمن ترقی اردو ہند ، علی گڑھ )

مجنوں گورکھ پوری نے حسن اور فن کاری کے فلسفے کو جمالیات کا نام دیا ہے ۔ راقم کی محدود اور ناقص معلومات کے مطابق ہر وہ چیز جو حسن و جمال اور دلکشی و رعنائی کی مُظہر ہو ، وہ جمالیات کے زمرے میں آتی ہے ۔ جمالیات ایک وصف ہے ، جس سے موصوف ہونے والی اشیا بیشمار ہیں ۔ مثلاً : علم و دانائی ، اخلاقِ حسنہ ، دولت و ثروت ( جب کہ اس کا استعمال جائز طریقوں سے ہو ) فکر و فن ، شعر و سخن ، فنونِ لطیفہ کے سارے اقسام ، انسان کے موزوں و متناسب اعضا ، حسین چہرہ ، حسین طرزِ گفتار و کردار ، خوب صورت اعمال و اشغال ، حسین قدرتی مناظر ،  وغیرہ وغیرہ ۔ جس طرح وصف کا اپنا کوئی مستقلاً وجود نہیں ہوتا ، اسی طرح جمالیات کا فی نفسہ کوئی وجود نہیں ہوتا ۔ یہ جب بھی پائی جائے جائے گی ، کسی حقیقتِ ثابتہ کے ضمن میں پائی جائے گی ۔ حسن و جمال جہاں اور جس چیز سے متعلق ہو گی ، جمالیات بھی اس کے ارد گرد یا اس کے اندر پائی جائے گی ۔

غرض کہ فنونِ لطیفہ کے علاوہ جمالیات کہیں بھی اپنا جلوہ دکھا سکتی ہے ، لیکن اس کا نظارہ کرنے کے لیے ذوق آشنا نظر اور بلاغت آشنا فکر چاہیے ۔ جمالیات کا تعلق شعر و ادب سے کچھ زیادہ ہی رہا ہے ۔ جمالیاتی ادب ، جمالیاتی اسلوب اور جمالیاتی تنقید کی اصطلاح  آپ نے بارہا سنی ہوگی ۔ مشہور مفکر ” سارتر ” نے شاعری کو فنونِ لطیفہ یعنی مصوری ، موسیقی اور سنگ تراشی کی مانند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان فنونِ لطیفہ ( Fine Arts ) کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے :  تفریحِ طبع ، لطف اندوزی اور فرحت و انبساط کا حصول ۔ انسان گانا سن کر لطف اندوز ہوتا ہے ۔ موسیقی کی راگ اور سریلی آواز سے حظ اٹھاتا ہے ۔ خوب صورت عمارت یا مجسمہ دیکھ کر خوش ہوتا ہے ۔ انسان کے کانوں میں  معنیٰ خیز اشعار جب رس گھولتے ہیں تو وہ مچل اٹھتا ہے ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے  ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان فنونِ لطیفہ میں ایک غیر مرئی مقناطیسی کشش ہے ، جو انسان کو اپنی جانب کھینچتی ہے اور اپنا والہ و شیدا بناتی ہے ۔ فنونِ لطیفہ میں موجود اس غیر مرئی مقناطیسی کشش کو ” حسن کاری ” کہتے ہیں ، جس کو ادب کی اصطلاح میں ” جمالیات ” کا نام دیا جاتا ہے ۔ اظہارِ حسن اور حصولِ انبساط ، فنونِ لطیفہ کا بنیادی مقصد ہے ۔ شاعری بھی ایک حسنِ مجسم ہے ۔ اب تنقید نگار کا منصبی فرض بنتا ہے کہ دیگر خوبیوں کے علاوہ شعر میں حسن کے جتنے بھی عناصر موجود ہیں، ان سب کا پتہ لگائے ۔ جو تنقید اس جہت سے شعر اور شاعر کو پرکھے ، اسے ” جمالیاتی تنقید ” کہا جاتا ہے ۔ جس طرح انسان شاعری سے متاثر اور مسحور ہوتا ہے ، اسی طرح نثر نگاری سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے ۔ نظم کی طرح نثر میں بھی ” جمالیات ” اپنا اثر دکھاتی ہے ۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ شعر و ادب کا جمالیات سے بڑا گہرا تعلق ہے ۔ جمالیات کی تفہیم اور اس کے شعور و ادراک کے لیے گہرا علم ، وسیع مطالعہ اور  ذوقِ سلیم کی ضرورت ہے ۔

ابو الاعجاز حفیظ صدیقی نے اپنی کتاب ” ادبی اصطلاحات کا تعارف ” میں ان تمام عناصر کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے ، جس سے حسن ( جمالیات ) جنم لیتا ہے اور وہ یہ ہیں  :

( 1 )  تناسب و توازن  . مثلاً : متوازن حرکت ، موزونیت ، تسویہ و تعدیل ، اجزا کا باہمی تناسب ، خطوط کا تناسب ۔

( 2 )  حواس اور جذبات کو متحرک کرنے کی صلاحیت .

( 3 )  رنگ  .

( 4 )  خونِ جگر کی نمود ، فنکار کا خلوص اور محنتِ شاقہ .

( 5 )  لطافت ، ملائمت ، پاکیزگی اور نکہت  .

( 6 )  تحیر آفرینی کی صلاحیت  .

( 7 )  کمال  . مثلاً  :  کمالِ اظہارِ ، کمالِ فن ، صوری ترکیب کا کمال ، فنی جامعیت ، احساس یا جذبہ کا مکمل اظہار  .

( 8 )  افادیت  .

جب ہم کسی ادیب و شاعر کو ” باکمال ادیب ” یا ” باکمال شاعر ” کہتے ہیں اور اس کے شعری و نثری جواہر پاروں کو سراہتے ہیں تو اس وقت یہ تعریف و توصیف کبھی محض رسمی یا تاثراتی ہوتی ہے اور کبھی حقیقی ہوتی ہے ۔ ادب پارے کو سراہنے کا ہمارا یہ انداز اگر واقعی علمی و معروضی ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ فن پارے میں جمالیات کا کوئی خاص عنصر موجود ہے ، جس کو حفیظ صدیقی نے ” کمال ، افادیت ، لطافت ، فنکار کا خلوص ” جیسے الفاظ سے موسوم کیا ہے ۔ اب اس وقت باکمال شاعر و ادیب کے باکمال فن پارے میں دیکھا جائے گا کہ اس میں فکری و فنی جامعیت کتنی ہے ؟  اس میں تکنیکی اصول کا پاس و لحاظ رکھا گیا ہے یا نہیں ۔ اس کا طریقۂ اظہار ، افادی پہلو اور اسلوبِ بیان کس حد تک ذہن و فکر کو متاثر کرنے والے ہیں ؟ اگر اس فن پارے میں جامعیت و افادیت اور فنی کمال ہو ، موضوع و مواد عمدہ ہو ، اسلوب انوکھا ہو ، جذبات و احساسات کی صورت گری نقطۂ انتہا کو پہنچی ہو تو ہم بلا تکلف کہہ دیں گے کہ یہ شعر یا کلام جمالیاتی نوعیت کا حامل ہے اور اس کا حسن و دلکشی قارئین کے دلوں کو مسحور کر دینے والی ہے ۔ تنقیدی نقطۂ نظر سے شعر و ادب میں دو چیزیں دیکھی جاتی ہیں ۔ ایک اصل مضمون اور دوسرا طرزِ بیان ۔ شاعری و نثر نگاری میں حسنِ معنیٰ کو جتنی اہمیت حاصل ہے ، اتنی ہی اہمیت حسنِ صورت کو بھی حاصل ہے ۔ حسن کاری ( جمالیات ) کا عمل دخل صرف ظاہری شکل و صورت تک محدود نہیں ، بلکہ معنوی صورت سے بھی یہ سروکار رکھتی ہے ۔ اسی لیے افلاطون نے صدیوں پہلے یہ کہہ کر کہ علوم و فنون اور اعمال و قوانین بھی حسین ( جمالیات سے آراستہ ) ہوتے ہیں ، اس حقیقت کی وضاحت کر دی تھی کہ حسن یا جمالیات صرف پیشکش ( اسلوب ) ہی میں نہیں ، بلکہ جو چیز پیش کی جا رہی ہے ( موضوع و مواد ) اس میں بھی ہوتی ہے

نعت وہ تقدس مآب صنفِ سخن ہے جس کی عظمت و رفعت اور شہرت و مقبولیت ہر دور اور ہر طبقے میں مسلم رہی ہے ۔ یہ ایک وسیع فکری تناظر کی حامل موضوعاتی صنف ہے ۔ اردو نعت کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے ۔ تاریخِ شعر و ادب کے واقف کار اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ اردو شاعری کا آغاز مذہبی شاعری ( حمد و نعت و منقبت ) سے ہوا ہے ۔ گویا حمد و نعت ، اردو شاعری کا جنم داتا ہے ۔ اس مبارک صنف میں عرصۂ دراز تک روایتی اسلوب کا قائم رہا ۔ اس کے بعد جوں جوں وقت گزرتا گیا ، دیگر شعری و نثری اصناف کی طرح اس میں بھی خاطر خواہ تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی و حضرت محسن کاکوروی علیھما الرحمہ کے زمانے سے نعتیہ شاعری کے زرّیں دور کا آغاز ہوا اور آج اکیسویں صدی عیسوی کو نعتیہ شاعری کا دور مانا جا رہا ہے ، جو بڑی حد درست ہے ۔ رواں صدی کے وہ شاہین صفت نعت گو شعرا جنہوں نے گلشنِ نعت کی آبیاری میں اپنا خونِ جگر جلا کر عقیدت نگاری کے باب میں خلوص ، وارفتگی ، والہانہ اسلوب اور اپنی فکری و فنی مہارت کے نقوش ثبت کر کے آنے والی نسلوں کے لیے خضرِ راہ ثابت ہوئے ، ان میں ایک نہایت معتبر اور قابلِ ذکر نام ماہرِ علم و فن ، جد الشعراء ، حضرت علامہ مفتی سید امجد ربانی مصباحی دام ظلہ العالی کا بھی ہے ۔

موصوف نئی نسل کے علمائے کرام و مفتیانِ عظام میں گو ناگوں اوصاف و کمالات کے حامل ہیں ۔ فقہ و افتا ، احسان و تصوف اور شعر و ادب کے کثیر الجہات پہلوؤں پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ شاعری بالخصوص نعت گوئی کے اصول و مبادی سے کما حقہ آگاہ ہیں ۔  شعر و سخن کے معاملے میں اپنے معاصرین پر تفوق رکھتے ہیں ۔ وثوقِ علم اور عبورِ فن میں اپنا جواب نہیں رکھتے ۔ ان کا نعتیہ دیوان ” تخیّلات ” ان کے علمی تبحّر ، اعلیٰ فکر و فن اور ارفع شعری ذوق پر دال ہے ۔ قدیم صالح اور جدید نافع کی حامل اس باوقار شخصیت نے دین و مذہب ، علم و دانش اور تصوف و روحانیت کی گراں قدر خدمات انجام دینے کے علاوہ بالخصوص نعت گوئی کو مقامِ امتیاز و افتخار بخشا ہے اور نعتیہ ادب کے فروغ و استحکام میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے ۔ موصوف اپنے بیشمار علمی ، فقہی ، تدریسی ، روحانی و ادبی مشاغل کے با وجود صنفِ نعت کو پروان چڑھانے میں شب و روز کوشاں رہتے ہیں ۔ ان کی نعتیہ شاعری میں زبان و بیان کی قوت ، فصاحت و بلاغت ، جدت و ندرت ، عشق و عقیدت ، موضوعات کا تنوع ، تخیل کی بلند پروازی ، جذبات و واقعات نگاری اور والہانہ و سرمستانہ اسلوب کی وہ چاشنی پائی جاتی ہے کہ قارئین وجد کرنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں ۔ مندرجہ ذیل وقیع اور فکر انگیز اشعار کہنے والا کوئی معمولی شاعر نہیں ہو سکتا  :

قطرۂ خونِ جگر آنکھ میں پڑھتا ہے درود

ہجر نے یہ بھی نکالی ہے ثنا کی صورت

 

نبی  کا  روضۂ  انور  تجلیات  کی  روح

جمالِ گنبدِ خضریٰ جمالیات کی روح

 

مشامِ جاں میں گھُلا شہدِ ناب سا احمد

ثنائے  سرورِ  عالم  کی  چاشنی  لے  کر

 

امجد نعتِ ساقیِ کوثر ، شاخِ تمنا سے جو لکھی

کیا کہیے ، کیا جھوم کے برسی فکر پہ یہ صہبائی شاخ

 

زورِ تخیل و مضمون آفرینی  :

تخیل ، شاعری کی جان ہے ۔ نظم کو نثر پر جو تفوق و برتری حاصل ہے ، اس کی ایک بنیادی وجہ شاعری کا وہ تخیلاتی نظام ہے ، جو انسان کو خاک نشیں ہو کر بھی عرش نشیں بنا دیتا ہے اور زمین پر بیٹھے بیٹھے ہفت افلاک کی سیر کرا دیتا ہے ۔ ” تخیل و محاکات ” کو جسمِ شاعری کے لیے ریڑھ کی ہڈی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ شاعر کا تخیل جتنا بلند ہوتا ہے ، اس کی شاعری اتنی ہی بلند اور کامیاب سمجھی جاتی ہے ۔ لیکن تخیل کو حقیقت کے قریب ہونا چاہیے ۔ ایسا نہ ہو کہ رہوارِ تخیل اپنی سرعت اور برق رفتاری دکھانے کے چکر میں حقیقت و واقعیت کے دائرے سے باہر ہو جائے اور فرضی دنیا میں سرپٹ سرپٹ دوڑ لگانے لگے ۔ تخیل ، حقائقِ اشیا کا ادراک اور معلومات کو ترتیب دے کر مجہولات کو حاصل کرنے کا نام ہے ۔ شاعر کے اندر مضمون آفرینی یا معنیٰ آفرینی کی صلاحیت اسی تخیل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔

جناب سید امجد ربانی کے وجد آفریں نعتیہ کلام کی سب سے بڑی ادبی و جمالیاتی خصوصیت ” زورِ تخیل و مضمون آفرینی ” ہے ۔ مضمون آفرینی کا مطلب یہ ہے کہ شاعر روایتی مضامین میں سے نت نئے مبالغہ آمیز اور عجیب و غریب پہلو تلاش کر کے اپنے کلام کو زینت بخشے ۔ ایسے مضامین کی بنیاد جذبہ کے بجائے تخیل یا واہمے پر ہوتی ہے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے یہ اشعار ” مضمون آفرینی ” کے بہترین مثال ہیں :

ہشت خلد آئیں وہاں کسبِ لطافت کو رضاؔ

چار  دن  برسے  جہاں  ابرِ  بہارانِ  عرب

 

بزمِ ثنائے زلف میں میری عروسِ فکر کو

ساری بہارِ ہشت خلد چھوٹا سا عطر دان ہے

 

سرِ فلک نہ کبھی تا بہ آستاں پہنچا

کہ ابتدائے بلندی تھی انتہائے فلک

 

عصائے کلیم اژدہائے غضب تھا

گروں کا سہارا عصائے محمد

 

دھارے چلتے ہیں عطا کے ، وہ ہے قطرہ تیرا

تارے کھِلتے ہیں سخا کے ، وہ ہے ذرّہ تیرا

 

سید امجد ربانی صاحب نے اپنی نعتیہ شاعری کے خیابان کو طہارتِ فکر اور رفعتِ خیال کے علاوہ ” مضمون آفرینی ” کے گل بوٹوں سے بھی سجایا ہے اور اپنی مہارتِ فکر و فن کا بھر پور ثبوت دیتے ہوئے وہ گلکاریاں کی ہیں کہ بس دیکھا کیجیے ۔ ان کا نعتیہ کلام شاید ہی کوئی ایسا ہو ، جو اس وصف سے خالی ہو ۔ علاوہ ازیں ان کا کا شعری لہجہ منفرد بھی ہے اور مؤثر بھی ۔ ان کی نعتیہ شاعری میں روایت و درایت کا ایک حسین امتزاج پایا جاتا ہے ۔ وہ ایک طرف قدیم شعری لہجے کے پیرو کار ہیں تو دوسری طرف جدید طرزِ اظہار سے پوری طرح آشنا ہیں ۔ شعر و سخن کی معمولی استعداد رکھنے والا شخص بھی ٹوٹے پھوٹے انداز میں شاعری کر لیتا ہے ، لیکن حقیقی شاعری اس کے بس کا کام نہیں ۔ حقیقی ، کامیاب اور جمالیات آفریں  شاعری وہی کر سکتا ہے ، جو زبان و ادب کا گہرا علم رکھتا ہو ۔ علم بیان و عروض اور معانی و بدیع کے اصول و مبادی کا رمز آشنا ہو ۔ قدیم اساتذۂ سخن کے دواوین و کلیات پر اس کی نظر گہری ہو ۔ ماشاء اللہ ! جناب امجد ربانی مصباحی ان اوصاف سے متصف ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نعت گوئی میں شعری جمالیات اور فکری و فنی محاسن کا ایک خوب صورت سلسلہ نظر آتا ہے ۔ رفعتِ خیال اور ندرتِ اسلوب ان کی انفرادی پہچان ہے ۔ مندرجہ ذیل اشعار میں مضمون آفرینی و معنیٰ آفرینی کا جو حسن نمایاں ہے ، وہ اہلِ نظر سے پوشیدہ نہیں ۔

 

صحرا نورد ہو کے بھی ہے بے غبار دل

کس حسنِ پُر بَہار کا ہے داغدار دل

 

اس جانِ آرزو کا سراپا ، ہزار دل

زلف و رخ و جبین و لب و چشمِ یار دل

 

یادِ  خرام  آپ  کی  آئی  تو  پھول  ہو  گئے

شاخوں سے اپنی ٹوٹ کے نذرِ صبا چمن چمن

 

خوشبوئے زلفِ مصطفیٰ موجِ نسیم لائے تو

مہکے مشامِ جاں تو ہو دل کی فضا چمن چمن

 

نقشِ پا نوشۂ اسریٰ کے جو آ جائیں نظر

اپنی پلکوں سے گنیں عرش کے زینے ہم لوگ

 

خاک بیزی نے مدینے کی وہ بخشا ہے کمال

سنگ ریزوں کو بناتے ہیں نگینے ہم لوگ

 

ذراتِ  خاکِ  پائے  نبی  فرق  پر  نہیں

تارے چمک رہے ہیں سرِ افتخار میں

 

ہے دیدنی خمارِ محبت حضور کا

میخانۂ الست کے ہر بادہ خوار میں

 

قسمت سے موت آئے جو ان کے دیار میں

پھر  تا ابد  حیات  رہے  اعتبار  میں

 

جمالیات کا فنونِ لطیفہ سے بڑا گہرا تعلق ہے ۔ بلکہ فنونِ لطیفہ کا مقصد ہی ناظرین کو حسن و جمال کی قدروں سے آشنا کرنا اور ان کو مسرت و شادمانی سے ہمکنار کرنا ہے ۔ فنونِ لطیفہ ( جس کا ایک فرد شاعری بھی ہے ) کا کام محض حسین چیزوں کو پیش کرنا نہیں ہے ، بلکہ چیزوں کو حسین پیرائے میں پیش کرنا ہے ۔ سید امجد ربانی مصباحی نے اپنی نعتیہ شاعری میں اس کام کو بطریقِ احسن انجام دیا ہے ۔ انہوں نے دور ازکار خیالات اور پامال موضوعات کو بھی اپنے منفرد اسلوب سے جدت و ندرت کا حسین پیرہن عطا کیا ہے اور صنفِ نعت سے تعلق رکھنے والے ہر قسم کے عنوانات کو حسین پیرائے میں پیش کر کے ان حضرات کے بلند بانگ دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ، جو یہ کہتے ہیں کہ  ”  نعتیہ شاعری میں زورِ تخیل ، رفعتِ افکار اور علوئے خیالات کی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ محض روایتی شاعری ہے  ” ۔

اس حوالے سے امجد ربانی کی جمالیاتی فکر کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں  :

 

ان کی انگشتِ عنایت کے ادھر ہونے تک

آہ کھینچوں گا جگر ، رشکِ قمر ہونے تک

 

گریہ چشمانِ کرم آپ کی فرمائیں گی

مجرمِ  عشق  پہ  گلزار  سقر  ہونے  تک

 

اے اسیرِ شبِ ہجراں ! ابھی خورشید بنا

اشک کے تاروں سے ، تشکیل سحر ہونے تک

 

راہ تو شوق کی سب پاؤں کے چھالوں نے رنگی

دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

 

جانِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہجر و فرقت میں تڑپنے والوں کو ” شبِ ہجراں کے زنداں کا اسیر کہنا ” اور پھر شبِ ہجراں کی تاریکیوں میں آہ و فغاں کرنے والوں کو شبِ ہجر کی قید سے رہائی کے لیے ” اشک کے تاروں کے خورشید سے صبحِ وصال کی تشکیل ” کا فارمولہ بتانا ، ایک ایسا شعری پیرایہ ہے جس میں جمالیات ، علوئے فکر ، مضمون آفرینی اور جدت و ندرت کا پہلو ہر جہت سے نمایاں ہے ۔ مجرمِ عشق پر جہنم کے گلزار ہونے تک حضور نبیِ کریم ، رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ و سلم  کی چشمانِ عنایت کا گریہ و زاری کرنا ، انفرادی اسلوب کا وقیع نمونہ ہے ۔ اسی طرح عشقِ حقیقی کی پُر شوق راہوں کو عبور کرنے والے مسافرانِ حق کے عزم اور حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہنا کہ ” ان کے پاؤں کے چھالوں سے ٹپکنے والے خون سے راہِ پُر شوق رنگین ہے ” ، جمالیاتی قدروں کا حامل یہ شعر تعبیر کی عمدگی کی بہترین مثال ہے ۔

باغ  قرآن  کا  مہکا  ہے  درونِ  کردار

ان کی رفتار ہے اک موجِ صبا کی صورت

 

کیسے گلزار کھِلائے ہیں وفا داروں کی

آبلہ پائی نے ہر گام حنا کی صورت

 

سرِ سناں ، سرِ شبیر ، سر بسر ، سرشار

سرورِ سرِ شہادت کی سرخوشی لے کر

ام المومنین حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصافِ حمیدہ و اخلاقِ حسنہ کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے کہا : ”  کان خلقه القرآن ” یعنی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق سراپا قرآن تھا ۔ اس مفہوم کو سید امجد ربانی نے جس بلیغ فکر اور اچھوتے اسلوب میں بیان کیا ہے ، وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ نبی اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وفا داروں کی بے مثال قربانیوں اور آبلہ پائیوں کو یہ کہہ کر خراج عقیدت پیش کرنا کہ ” ان جاں نثاروں کی محنت و مشقت اور آبلہ پائی نے قدم قدم پر حنا کی صورت عشق و وفا کے گلزار کھِلائے ہیں ” ندرتِ فکر و اسلوب کا وہ جمالیاتی رنگ و آہنگ ہے ، جس پر شعر و سخن کی رعنائیاں بہ ہزار جان قربان ہیں ۔ سید الشہداء حضرت شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت سے متعلق مذکورہ شعر ( سرِ سناں سرِ شبیر سر بسر سرشار ) میں شعری جمالیات کے دو پہلو در آئے ہیں ۔ اس میں جہاں صنعتِ تکرار کی خوبی ہے ، وہیں ” ضلع جگت ” کا حسن بھی نمایاں ہے ۔

جناب سید امجد ربانی صاحب ایک قادر الکلام شاعر اور بلاغت آشنا نعت گو ہیں ۔ موقع و محل کی نزاکت کو وہ خوب سمجھتے ہیں اور موضوع کی مناسبت سے کس طرح کے الفاظ لائے جائیں ، اس تکنیک سے بھی اچھی طرح واقف ہیں ۔ ان کی نعتیہ شاعری کے جمالیاتی کینوس کا یہ رخ نہایت اہم اور قابلِ قدر ہے کہ وہ ہر جگہ الفاظ و معانی کے تناسب کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ کیوں کہ لفظ کی خرابی معنیٰ پر اور معنیٰ کی خرابی لفظ پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ سیاق و سباق کے لحاظ سے کون سا لفظ کہاں چسپاں ہوگا اور متعینہ موضوع یا مضمون کو ادا کرنے کے لیے کون سا لفظ اور کون سا اسلوب زیادہ مؤثر اور دل پذیر ہوگا ، شاعری میں اس کا پاس و لحاظ بہر حال ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف اپنی قوتِ متخیّلہ کے سہارے جب نوع بہ نوع خیال ڈھونڈ کر لاتے ہیں تو اس کے لیے اس کے متناسب الفاظ بھی وضع کرتے ہیں اور انہیں شعر کی لڑی میں اس مہارت کے ساتھ پِروتے ہیں کہ سامعین و قارئین وجد کرنے لگتے ہیں ۔ موضوع سے متعلق یہ اقتباس ملاحظہ کریں ۔ اس کے بعد مثالیں پیش کی جائیں گی ۔ مرزا واجد حسین یاس عظیم آبادی اس حوالے سے رقم طراز ہیں  :

”  قوتِ متخیّلہ جہاں خیالات میں باریکیاں پیدا کرتی ہے ، وہاں الفاظ بھی ایسے الہامی اور اچھوتے ڈھونڈ کر لاتی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قوتِ متخیّلہ کا تصرف جس قدر خیالات پر ہوتا ہے ، اتنا ہی الفاظ پر بھی ہوتا ہے ۔ حسنِ الفاظ کے متعلق کسی محقق کا قول ہے کہ لفظ بمنزلۂ قالب کے ہے اور معنیٰ اس کی روح ہے ۔ دونوں ( لفظ و معنی ) میں روح و قالب جیسا ارتباط ہے کہ وہ کمزور ہوگا تو یہ بھی مضمحل ہوگی ۔ معنی میں اگر خوبی ہو اور لفظ میں نقص ہو تو بھی شعر کے لیے عیب ہے ۔ جس طرح لنگڑے اور لنجے میں روح ہوتی ہے ، لیکن بدن میں عیب ہوتا ہے ۔ اسی طرح اگر لفظ اچھے ہوں اور معنیٰ برے ہوں تو بھی شعر اچھا نہ ہوگا ۔ معنیٰ کی خرابی الفاظ پر اور الفاظ کی خرابی معنیٰ پر اثر ڈالتی ہے  ” ۔

( چراغِ سخن ، ص : 3 ؛ 4 ، مطبوعہ : گلشنِ ابراہیمی ، لکھنؤ )

 

الفاظ و معانی کے حسنِ امتزاج پر مشتمل یہ اشعار ہمارے دعویٰ کو ثبوت فراہم کرتے ہیں اور شاعر کے جمالیاتی فکر و فن کو ظاہر کرتے ہیں  :

 

شجرہ شجرہ فیض اسی کا سب سادات کے گلشن میں

صحنِ چمن میں دنیا کے جو قلبِ نبی سے نکلی شاخ

 

کیسا سرور بخش ہے ساقی ترا خرام

” لرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر ”

 

اک انجمن خیال کی ، اک انجمن جمال کی

اک ہے اویس کا اثاث ، اک ہے بلال کا اثاث

 

طور ، سدرہ ، عرشِ اعظم اور جبینِ جبرئیل

ان کے قدموں میں ہے ساری رفعتوں کا اجتماع

 

تمہارے حسن کے جلوؤں کی فیض بخشی ہے

ادائے عشق ہے ، امجد کی شاعری کیا ہے

 

جو  یاد  ان  کے  تکلم  کی  آ گئی  امجد

تو دل کے ساز پہ تا عمر نغمگی سی رہی

 

دل  دردِ  محبت  کا  تو  دریا  نہیں  میرا  !!!

اٹھتی ہے مگر سینے میں اک موجۂ مخصوص

 

جدّتِ اسلوب و ندرتِ بیان  :

 

شعری جمالیات کا ایک عظیم الشان پہلو یہ بھی ہے کہ شاعر کے کلام میں جدتِ اسلوب اور ندرتِ بیان کی چاندنی صفحۂ قرطاس پر اپنی روشنی بکھیرے اور خیال و فکر کی دنیا میں روشنی کا اہتمام کرے ۔ کسی مضمون یا خیال کو دوسروں سے زیادہ پُر زور اسلوب ، دلکش انداز ، کسی خاص ترتیب اور مبہم و گنجلک خیالات کو واضح طریقے سے بیان کرنے کو ” جدت و ندرت ” کہتے ہیں ۔ اس وصف میں امجد ربانی صاحب کو بڑا کمال اور ملکہ حاصل ہے ۔ بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ جدتِ اسلوب ان کی امتیازی شان اور انفرادی پہچان ہے ۔ ہندوستانی تناظر میں صنفِ نعت گوئی کو نوع بہ نوع مضامین اور نت نئے اسالیب سے مالا مال کرنے والے شعرا میں موصوف کا نام بڑے ادب سے لیا جاتا ہے اور ان کے فکر و فن اور وقیع نعتیہ شاعری کا حوالہ دیا ہے ۔ جدت طرازی ان کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔ ان کے نعتیہ دیوان ” تخیّلات ” میں جدید رنگ و آہنگ کے سینکڑوں اشعار موجود ہیں ۔ موصوف کی شاعرانہ جدت طرازی اور ندرت بیانی پر طویل مقالہ یا مختصر رسالہ ترتیب دیا جا سکتا ہے ۔ چند اشعار ملاحظہ کریں اور ان کی جدت طراز فکر و طبیعت کی داد دیں  :

 

مہر فرمائے تو جلوؤں کے ستارے دے دے

ماہِ طیبہ ، دلِ عشاق کی انگنائی کو

 

مسجدِ عشق میں عرفاں کی نمازیں جو ملیں

روح کے سجدے کریں دل کو مصلیٰ جانیں

 

اے کاش ان کی شہرِ مدینہ رسائی ہو

حرفِ نوا جو دستِ صبا نے اڑائے ہیں

 

شکستِ ظلمتِ شب کے لیے ضروری ہے

کہ ذکرِ چہرۂ شمس الضحیٰ کریں ہم لوگ

 

لب کھولتے ہیں ہو کے یہ شبنم سے با وضو

آدابِ نعت پھولوں کو کس نے سکھائے ہیں

 

نبی کی یاد کے اشکوں سے سینچتے ہیں وہی

جو  لوگ  کشتِ  محبت  اگائے  بیٹھے  ہیں

 

مشتاقِ دید  !  آنکھوں کے اشکوں سے سینچ کر

کچھ  اور  اپنی  شاخِ  تمنا   اٹھائیے

 

رکھیے مدینہ اپنی نگاہوں کے سامنے

قیسِ خیال  !  محملِ لیلیٰ اٹھائیے

 

بساطِ حشر ، شورِ نفسی نفسی ، ان کی محمودی

سمجھ واعظ انہیں شانِ محمد کے تناظر میں

 

یہ مہکی مہکی گلیاں مصطفیٰ کے شہر کی امجد

رسول اللہ کی زلفیں بسی ہیں اس تعطّر میں

 

لفظی صناعی ، تکرارِ لفظی اور خوب صورت آہنگ ( لفظ کے صوتی حسن کو آہنگ کہتے ہیں ) کا یہ دلنشیں انداز بھی دیکھتے چلیں کہ شاعر نے اپنی فکری استعداد اور ذہنی اپج سے شعر میں جمالیات کا رنگ گھول دیا ہے  :

 

سرِ سناں ، سرِ شبیر ، سر بسر ، سرشار

سرورِ سرِ شہادت کی سرخوشی لے کر

 

شبنم شرست ، راحتِ جاں ، عارضِ نبی

ہیں یہ شرار اور شراروں سے مختلف

 

کلامِ امجد ربانی میں مختلف شعری جمالیات  :

ڈاکٹر اقبال کے استاذ اور راقم کے شجرۂ شعری کے مورثِ اعلیٰ جناب داغ دہلوی نے اپنے شاگردوں کے لیے جو ” منظوم پند نامہ ” تحریر کیا تھا ، اس میں انہوں نے شعری جمالیات اور محاسنِ سخن  کے حوالے سے بڑے قیمتی افادات بیان کیے ہیں ۔ اس میں انہوں نے ” لطیف استعارہ ” ؛ ” عمدہ تشبیہہ ” اور ” بندش کی چستی ” کا بھی ذکر کیا ہے ۔

 

” استعارہ ” جو مزے کا ہو مزے کی ” تشبیہ ”

اس میں اک لطف ہے اس کہنے کا پھر کیا کہنا

 

چست بندش ہو ، نہ ہو سست یہی خوبی ہے

وہ فصاحت سے گرا شعر میں جو حرف دبا

( داغ دہلوی )

 

تشبیہ کی حقیقت سے آپ حضرات واقف ہیں ۔ استعارہ ، تشبیہ کی ایک مختصر اور دل آویز شکل ہے ۔ بندش کی چستی یہ ہے کہ شعر میں جتنے الفاظ و فقرات لائے جائیں ، ان کی نشست ایسی ہو کہ کوئی لفظ اپنی جگہ سے ہٹایا نہ جا سکے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی لازم ہے کہ شعر میں مستعمل ہر لفظ ، معنی و مضمون کے لحاظ سے مفید اور کارگر ہو ۔ وزن کا لحاظ کرتے ہوئے شعر میں کوئی لفظ زائد یا بھرتی کا نہ ہو ۔ ورنہ اس سے شعر کی بندش مجروح ہوگی ۔ لفظ کا ایک مدلول اور معنیٰ موضوع لہ ہوتا ہے ۔ شعر میں اگر کوئی لفظ سرے سے زائد ہو یا پھر وہ اپنے مدلول پر پوری طرح روشنی نہیں ڈال رہا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس لفظ کی جگہ شعر میں خالی رہ گئی ہے ، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شعر جس کی حیثیت انگوٹھی یا تاج کی ہے ، اس میں ایک موتی یا ایک نگ نہیں ہے ۔ لہٰذا شعر میں بندشِ الفاظ کی اہمیت مسلم ہے ۔ مضمون خواہ جس نوعیت کا ہو ، بندش کا چست ہونا کامیاب شاعری  کے لیے ضروری ہے ۔

” پند نامۂ داغ دہلوی ” کو سامنے رکھ کر جب ہم سید امجد ربانی کی نعتیہ شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں ” شعری جمالیات ” کا ایک پر کیف اور روح پرور سماں نظر آتا ہے ۔ ہر ایک کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ۔  ذیل کے اشعار میں فصاحت و بلاغت ، سلاست و روانی اور سادگی و پرکاری کے علاوہ حسنِ تشبیہ ، لطفِ استعارہ ، رنگِ تغزل اور بندش کی چستی قابلِ دید اور شاعر کی جمالیاتی فکر کی آئینہ دار ہے  :

 

نبی کا روضۂ انور تجلیات کی روح

جمالِ گنبدِ خضریٰ جمالیات کی روح

 

بیاضِ روئے محمد ہماری صبح کی جان

سوائے گیسوئے احمد ہماری رات کی روح

 

میں بزمِ حسنِ محمد میں نعت کہتا ہوں

یہی ہے نکتہ مری فکر کے نکات کی روح

 

نبی کی خاک نشینی ہے سادگی کا سچ

جلوسِ عرشِ معلیٰ ہے خسروی کا سچ

 

ازل سے تھے جو بہارِ بہشت کے حق دار

کھُلا انہیں پہ ترے شہر کی گلی کا سچ

 

دردِ دل کا مرے سوا ہے آج

یادِ  محبوب  کا  مزا  ہے آج

 

کر رہی ہے حیات سرگوشی

کوئے محبوب کی ہوا ہے آج

 

نمکِ  روئے  مصطفائی  کا

زخمِ دل لذت آشنا ہے آج

 

مرحبا ان کے لطف کا غنچہ

شاخِ امید پر کھِلا ہے آج

 

ان کے جلوے کے میکدے میں ہوں

زلف و رخسار کا نشہ ہے آج

 

مذکورہ بالا اشعار میں بندش کی چستی اور ترکیب کی دل آویزی قابلِ تعریف اور لائقِ دید ہے ۔ نیز ان میں ایک بھی لفظ یا صیغہ ایسا نہیں ، جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ وہ ” زائد ” ہے یا ” محض بھرتی کے لیے لایا گیا ہے ۔

لفظ کی تازگی ، کلام میں نگینہ جڑنے کا کام کرتی ہے ۔ ثقیل الفاظ اور بھاری بھرکم کلمات کو تازہ سمجھ کر شعر میں ٹھونسنا ، ریشمی لباس میں ٹاٹ کا پیوند جوڑنے کے مترادف ہے ۔ بھرتی کا لفظ ، شعر کو سست اور اس کے حسن کو متاثر کرتا ہے ۔ سید امجد ربانی کے شعری اسلوب میں وضاحت و قطعیت ، سادگی و پرکاری ، پاکیزگی و نادرہ کاری ، صفائی و برجستگی ، رنگینی و چاشنی ، شوخی ، چلبلاہٹ اور لسانی چٹخارہ پایا جاتا ہے اور یہ چیزیں ” شعری جمالیات ” کے لازمی اجزا ہیں ۔ ذیل کے اشعار میں شعری جمالیات کے یہ سارے اسالیب موجود ہیں  :

 

قطرۂ خونِ جگر آنکھ میں پڑھتا ہے درود

ہجر نے یہ بھی نکالی ہے ثنا کی صورت

 

نہ قدِ سروِ سہی اور نہ شاخ طوبیٰ کی

نبی کی قامتِ زیبا تناسبات کی روح

 

ہے جستجوئے پیمبر مجاہدات کی جان

رمق جمالِ نبی کی مشاہدات کی روح

 

اک انجمن خیال کی ، اک انجمن جمال کی

اک ہے اویس کا اثاث ، اک ہے بلال کا اثاث

 

نیازِ  فقر  اوڑھیں  اور  بچھائیں  نازِ  شاہانہ

ترے نادار تو اپنی ہی دارائی میں جیتے ہیں

 

وہ اک خفیف تبسم بکھیر کر امجد

ہمارے سوزِ محبت کو ساز کرتے ہیں

 

خیالِ جلوۂ جاناں تجھے خدا رکھے

مہک رہی ہے مری فکر شاعری لے کر

 

مشامِ جاں میں گھُلا شہدِ ناب سا احمد

ثنائے  سرورِ  عالم  کی  چاشنی  لے  کر

 

امجد نعتِ ساقیِ کوثر ، شاخِ تمنا سے جو لکھی

کیا کہیے ، کیا جھوم کے برسی فکر پہ یہ صہبائی شاخ

 

صنائعِ لفظی و معنوی کا خوب صورت استعمال  :

شاعری کے حسن و دلکشی میں اضافہ کرنے والے امور میں ” صنائعِ لفظی و معنوی ” بھی ہیں ۔ یہ عروسِ کلام کے لیے بمنزلۂ زیور ہیں ۔ ان سے شعر کا حسن اور ملاحت بڑھ جاتی ہے ۔ سید امجد ربانی صاحب کے نعتیہ کلام میں ” صنائع و بدائع ” کا بکثرت استعمال ہوا ہے ، جس سے اس کی جمالیاتی قدروں میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے سرِ دست چند صنعتوں کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔

 

پھر تہہِ تیغ نہ آئے سرِ شبیر کوئی

پا بجولاں نہ ہو سجاد دوبارہ مولیٰ

 

( صنعتِ تلمیح )

 

لب  و  گیسو  و  عارض  و   رفتار

پھول ، خوشبو ، شفق ، صبا ہیں آپ

 

( لف و نشر مرتب )

 

ان  کی  زلفوں  کا  تصور  ،  رخِ  انور  کا  خیال

ان کے عاشق کے لیے صبح و مسا کی صورت

 

( لف و نشر غیر مرتب )

 

دل داریاں حضور کی ، دل بخش ہیں بہت

اک  بار  دل  سے  دامنِ  دل  تو  پسار  دل

 

( صنعتِ تکرار )

 

ابتداؤں  کی  ابتدا  ہیں  آپ

انتہاؤں  کی  انتہا  ہیں  آپ

 

( صنعتِ ترصیع )

اس لیے پشت پہ تھی مہرِ نبوت ان کی

جتنا مضبوط ہو اک دن تو گلے گا کاغذ

( صنعتِ حسنِ تعلیل )

حبیب کے لیے امجد ہے کن فکاں کی نمود

جمالِ وحدت و کثرت ہے نکتۂ لولاک

( صنعتِ تضاد )

یادِ  خرام  آپ  کی  آئی  تو  پھول  ہو  گئے

شاخوں سے اپنی ٹوٹ کر نذرِ صبا چمن چمن

( صنعتِ مراعات النظیر )

غرض کہ جناب سید امجد ربانی صاحب کی نعتیہ شاعری مختلف جہتوں سے فکر و فن کا اعلیٰ نمونہ ہونے کے ساتھ شعری جمالیات کا ایک حسین اور دل آویز مرقع ہے ۔ حسین لفظ ، گہرائی پر مشتمل معنی اور دلکش اسلوب کے مثلث نے ان کی نعتیہ شاعری کو روایت کی پستیوں سے اٹھا کر درایت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ موصوف کے علم و ادب اور فکر و فن میں مزید استحکام بخشے اور انہیں عمرِ خضر عطا فرمائے آمین ۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment