غزلیاتِ نازؔ قادری ذات سے کائنات کا سفر – پروفیسر قمر جہاں

by adbimiras
0 comment

نازؔ قادری کی غزلیات پر لکھنے کے لیے جب میں نے قلم اٹھا لیا ہے تو دیر سے سوچ رہی ہوں کہ کیا لکھوں؟ جب پروفیسر وہاب اشرفی اور پروفیسر لطف الرحمن جیسے جید عالم ونقاد نے نازؔ قادری کے کلام پر اپنی پسندیدگی کی مُہر ثبت کردی ہے تو ایسے میں مجھ ناچیز کی کیا بساط؟ مگر وہ جو برابر سنتے آئے ہیں کہ اچھی شاعری پڑھنے کے بعد خود قاری پر بھی کچھ ایسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ وہ چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی قلم ہاتھ میں اٹھا ہی لیتا ہے یا پھر کچھ گنگنانے لگتا ہے، اندر کی یہ تحریک بڑی چیز ہے، تو میں بھی اب اسی قطار میں ہوں  ع

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک

موصوف کی ارسال کردہ کتاب ’صحرا میں ایک بوند‘ جو میری میز پر دھری ہے برسوں پرانے نازؔ قادری کی یاددلا رہی ہے۔ پیش نظر مجموعہ کی زیادہ تر غزلیں اُسی دور کی یادگار ہیں، کچھ نئی بھی ہیں، اس طرح ۱۹۷۵ء سے ۲۰۱۰ تک کے کلام کے تفصیلی مطالعے اور تاریخی ترتیب کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے یہاں تخلیقی ارتفاع ہے۔ موصوف اُس وقت ٹی۔این۔ بی کالج، بھاگل پور جوائن کیے تھے اور شعبۂ اردو پوسٹ گریجویٹ میں کلاس لینے جاتے تھے۔ اُس وقت میں اور پروفیسر آصفہ واسع (انٹرنیشنل باجی) سندروتی مہیلا کالج سے کلاس لینے کے لیے ہفتہ میں دو دن جایا کرتی تھی، شعبۂ اردو کا یہ بالکل ابتدائی زمانہ تھا اور شعبے کے استحکام کے لیے ہمارے پُرخلوص تعاون کی ضرورت تھی۔ نازؔ قادری کو دیکھ کر یہ احساس ہوا تھا کہ وہ زندگی کی محرومی و محزونیت کے شکار ہیں اور اندر سے بے حد حساس بھی:

نہ کوئی عکس منوّر نہ منظرِ خوش رنگ

یہ کیسے خواب کے بستر پر سورہا ہوں میں

 

عجیب آندھی ہے یہ جسم و جاں کی آندھی بھی

مجھے سنبھال ، بکھرنے سے ڈر ہا ہوں میں

 

کبھی نہ چھو سکی باب اثر دُعا میری

عجیب قہرِ مُسلسل میں متبلا ہوں میں

بلا تخصیص یہ تینوں اشعار ایک ہی غزل سے مقتبس ہیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ موصوف کی ذہنی نہج کیا ہے۔یہ ۲۰۰۸ ء کی غزل ہے۔ آج ان اشعار کو پڑھتے ہوئے برسوں بیتے وہ لمحے یاد آرہے ہیں جب نازؔ قادری شہر بھاگلپور کے مکیں ہوکر بھی اجنبیوں کی طرح بکھرے بکھرے اور اداس اداس سے تھے اور خود اپنے شعر کی مثال:

سکوں نہ تھا مگر اتنا بھی انتشار نہ تھا

ہمارے چاروں طرف خوف کا حصار نہ تھا

 

تمام عُمر خزاں میں جھلستے گزری ہے

ہمارے سر پہ کبھی سایۂ بہار نہ تھا

 

میں اپنے شہر میں رہتا ہوں اجنبی کی طرح

زمیں یہاں کی تو اک آسماں ہے میرے لیے

۲؍نومبر ۱۹۷۶ء میں انہوں نے بھاگلپور میں T.N.B. Collegeجوائن کیا تھا اور یکم نومبر ۱۹۸۲ء میں ایل۔ ایس۔ کالج مظفرپور چلے گئے تھے پھر شعبۂ اردو، بہار یونیورسٹی  (مظفرپور) میں داخل ہوئے اور وہیں سے جولائی ۲۰۰۴ء میں ریٹائرڈ بھی ہوئے۔ اس اثنا میں جب جب وہ بھاگلپور تشریف لائے ہم لوگوں کے یہاں ذرا دیر کے لیے ہی سہی ملاقات کرنے ضرور آئے مگر میں نے کبھی ان کے چہرے پر وہ بھرپور مُسکراہٹ نہیں دیکھی جو عام طور سے ایک خوش حال زندگی کی پہچان ہوتی ہے۔ شاید اس انتشار اور اضمحلال میں ان کے مخصوص ومنفرد مزاج وماحول کا بیحد دخل تھا اور وہ جو کہتے ہیں کہ فن اور فنکار ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں سو ناز قادری بھی تمام عمر ایک فنکار کی طرح خونِ دل سے اپنی تحریر کو رنگین کرتے رہے۔ اُن کی شاعری کی اثر آفرینی میں ان کی ذات کا عکس بہت نمایاں ہے، میں ان کی شاعری کو اظہارِ ذات کی شاعری کہوں تو کچھ بیجا نہ ہوگا، یہ دوسری بات ہے کہ حصارِ ذات کا دائرہ عموماً اس قدر وسیع ہوتا ہے کہ اس کے اندر بسا اوقات ساری کائنات سما جاتی ہے، آپ بیتی سے جگ بیتی کا رشتہ نیا نہیں ہے، ہر زمانے میں اس کے نمونے اچھی شاعری میں دیکھنے کو مل جاتے ہیں، محمد تقی میرؔ ہوں، اختر الایمان ہوں، جمیل مظہری ہوں یا کلیم عاجزؔ سبھوں نے اپنی گھائل شخصیت زندگی کو فن میں درشایا ہے، کہیں علامتوں کے سہارے، کبھی پیکروں میں، کبھی بلا واسطہ اور کبھی بالواسطہ طور پر فن اور فنکار کی یکجائی دیکھنے کو مل جاتی ہے، اکثر تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ حرفِ انکار ہی حرفِ اقرار بن جاتا ہے اور جامہ پوشی کی ہر کوشش ناکام رہ جاتی ہے، نازؔ قادری کے الفاظ میں سنئے:

 

سب اپنے آپ میں گم ہو کے رہ گئے اے نازؔ

حصارِ ذات عجب دائرہ لگے ہے مجھے

میں کہ اپنے آپ میں گم ہوں نہ اوروں پر عیاں

لفظ بے معنٰی ، صدائے بے صدا کہئے مجھے

عمر بھر اپنے تعاقب میں بھٹکتا ہی رہا

نازؔ! کرب و درد کا اک سلسلہ کہیے مجھے

 

لمحہ لمحہ اپنے اندر ٹوٹتا جاتا ہوں میں

تجھ کو ایسی زندگی کا شاید اندازا نہیں

 

میں ٹوٹ ٹوٹ کے لمحوں میں بٹ گیا اے نازؔ

مرا شمار بھی اوراقِ منتشر میں تھا

بقول پروفیسر عنوانؔ چشتی’انہوں نے (نازؔ قادری نے) جو کچھ کہا ہے اپنی شخصیت کے حوالے سے کہا ہے، اس سے اُن کی شاعری میں جذبوں کی کہکشاں کے ساتھ فکرِ بلیغ کی کرنیں سی پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔۔۔۔۔‘

ان کے لہجے میں نیاپن ہے، گھسا پٹا، سُنا سُنایا روایتی لہجہ نہیں بلکہ اس میں شاعر کی شخصیت کا عکس ہے اور غالباً تازگی کا انحصار بھی انھیں باتوں میں مضمر ہے۔ اکثر اوقات اکہرے اُسلوب میں انہوں نے اپنے خیال کا اظہار کیا ہے لیکن موضوع کی معنویت نے سہل ممتنع کے اشعار کو بھی ایک خاص رنگ میں ڈبو دیا ہے:

ہر لمحہ اپنے آپ سے مصروفِ جنگ ہوں

تفصیل کیا بتائوں تمہیں حادثات کی

 

خواہ پتھر ، خواہ شیشہ آدمی

ریزہ ریزہ ہو کے بکھرا آدمی

لمحہ لمحہ دھوپ سے تپ کر ہوا

دشتِ غربت میں سُنہرا آدمی

ایک دو شعر ہی نہیں، پوری غزل ایک رنگ اور ایک کیف میں ڈوبی ہوئی ہے، جہاں کہیں استعاراتی اسلوب ہے وہاں تو لاجواب انداز ہے:

آنکھ لگتی ہے تو خوابوں کا نگر جاگتا ہے

رات سوتی ہے مگر دیدۂ تر جاگتا ہے

 

مرے وجود میں در آیا کیسا سناٹا

کہ ریگ زار میں گُم گشتہ اک صدا ہوں میں

 

نازؔ کے لہجے میں ہے بند اک جہانِ اضطراب

عہدِ نو کے استعارے ہیں تمہارے نام سب

 

یہ پاش پاش تمنا یہ ریزہ ریزہ حیات

لُٹا لُٹا سا کوئی قافلہ لگے ہے مجھے

 

یہ موج موج ہوا ، یہ بھنور بھنور پانی

ڈبو نہ دے یہ سفینہ ، یہ بادباں مجھ کو

 

نہ کوئی عکس نیا ہے نہ آئینہ ہے نیا

مری نگاہ کا ہر ایک زاویہ ہے نیا

 

لوحِ احساس پہ بکھرا ہوا منظر ہوں میں

اپنے ہی خواب پریشاں پہ نظر ہے میری

 

برائے نام سہی حاصل طلب ٹھہرا

وہ ایک لمحہ جو سرمایۂ طرب ٹھہرا

حالاں کہ اس قماش کے اشعار کی تعداد ابھی کم ہے مگر امید کی جاتی ہے کہ اگر یہی تیور رہا اور وقت نے اظہارِ ہُنر کے لیے مہلت دی تو مستقبل میں مزید تیکھے رنگ دیکھنے کوملیں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ خود شاعر کا یہ شعر ان پر صادق آئے گا:

شہر در شہر بہ اندازِ دگر روشن ہے

ہر طرف اپنی صدا اپنا ہنر روشن ہے

٭٭٭

پروفیسر قمر جہاں

سابق صدر شعبۂ اردو

تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی، بھاگلپور

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment