گیان چند جین ،جموں اور غالب – ڈاکٹرشاہ نواز فیاض

by adbimiras
0 comment

’’جموں پہاڑ کی تلی میں ہے لیکن یہاں بھوپال کے سے قدرتی مناظر مفقود ہیں۔ ہاں دور کے جلوے کی کمی نہیں۔شمال کی جانب مشرق سے مغرب تک پہاڑوں کا ایک سلسلہ چلا گیا ہے جس میں کچھ چوٹیوں پر برف کی چھ سات فٹ اونچی دیوار ادھر سے ادھر تک دکھائی دیتی ہے۔ بارش کے بعد یہ برفانی جلوے بڑے نکھر جاتے ہیں۔ جموں کی مشرقی سرحد پر ایک پہاڑی ہے جس پر ایک بار جیپ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ پہاڑیوں کے گرد گھومنے والی تنگ سڑک جس کے ایک طرف فراز اور دوسری طرف نشیب ۔ دور تک چلے گئے ایک پہاڑی کے بعد دوسری پہاڑی اور ساتھ ساتھ لا متناہی سڑک۔ یعنی جموں کے آس پاس قدرتی مناظر ہیں، لیکن خاص شہر حسن فطرت کے معاملے میں بے رنگ و بے کیف ہے۔ بھوپال والی بات کہاں۔ہاں حسن انسانی کے معاملے میں جموں بھوپال کو بہت پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ (گیان چندجین)

گیان چند جین (1923-2007)کا شمار ان عظیم ادیبوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے نصف صدی سے زیادہ زندگی اردو زبان و ادب کے نام کر دی اور اسے اپنے خون جگر سے سینچا۔ گیان چند جین کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع اور ناقابل فراموش ہے، اردو کے چوٹی کے محققین میں آپ کی شخصیت ایسی ہے، جن کے بغیر تحقیق کا فن نا مکمل ہے، آپ ایک بلند پایہ محقق، استاد اور ماہر لسانیات ہیں۔

اردو زبان میں گیان چند جین کی لکھی گئی متعدد کتابیں نہ صرف بر صغیر کی جامعات کے نصاب کا حصہ ہیں، بلکہ ان کی کئی تصانیف مستند حوالے کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ اپنی عمیق نظری اور وسیع عملی تجربے کے باعث انہوں نے اردو زبان کے حوالے سے کئی ایسے پوشیدہ گوشوں کو اجاگر کیا ہے، جن پر دوسروں کی نگاہ نہیں گئی۔

اکتوبر1965میں گیان چند جین جموں یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہاں شعبۂ اردو کا قیام اسی سال عمل میں آیا تھا۔ابتدا میں وہاں اردو کا کوئی طالب علم اور محقق موجود نہ تھا۔ اس لیے یونیورسٹی کو نسل نے شام کے اوقات میں کلاسوں کی اجازت دی۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تحقیقی کام نے ترقی کی ۔1972 میں پروفیسر گیان چند کو شعبہ کا ’’پہلا صدر نشین‘‘ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

گیان چند جین 1976 تک جموں یونیورسٹی میںرہے۔ اس کے بعد الہ آباد یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں تقریباً تین سال پانچ ماہ (1976تا 1979) پروفیسر رہے۔ مارچ 1979میں مرکزی یونیورسٹی حیدر آباد (دکن) میں اردو کے پروفیسر ہو گئے۔اپریل 1989میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ گیان چند جین بھوپال سے جموں گئے تھے۔ انھوں نے اپنے ایک مضمون’’جموں تا بھوپال-گردش خیال‘‘ میں دونوں شہروںکا تقابل پیش کیا ہے۔ جموں میں اردو کا رسم الخط تو تھا، ہر جگہ اسی کا استعمال بھی ہوتا تھا، لیکن یہ شہر اردو تحقیق و تنقید سے ایک طرح سے نابلد تھا۔ جب کہ موجودہ صورت تب سے بالکل مختلف ہے۔ اپنے اس مضمون میں اردو کی اسی صورت کے متعلق انھوں نے لکھا ہے:

جموں میں ہر طرف اردو ہی اردو ہے۔ ہندی محض نئی پود تک رسائی پا سکی ہے۔ گئو رکشا کمیٹی یا مہابیر جینتی کا پوسٹر ہو یاشمسان گھاٹ پر نوٹس ہر جگہ محض اردو ہی اردو ہے۔ ابھی یونیورسٹی میں ایم۔اے اردو کی جماعتیں شام کو کرانے کے لئے ارباب اقتدار کو کچھ اداروں نے محضر دیے۔مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی ہے کہ مقامی جن سنگھ نے بھی از خود اردو کی حمایت میں یادداشت پیش کی۔ اردو کے اس عام رواج کے باوجود جموں میں اردو ادب کا مذاق نہیں۔ تحقیق وتنقید سے تو کوئی آشنا ہی نہیں۔ لیکن شاعری کے رسیاسب  ہیں۔ مشاعرے بڑے مقبول ہیں۔ …. … جموں میں اچھے برے شاعر کل پانچ چھ ہیں۔ ان میں عرش صہبائی کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کا نام اس ریاست سے باہر معروف ہو۔‘‘

(ذکر و فکر۔ گیان چند جین۔ ناشر، مصنف۔ 1980ص،61-62)

ظاہر ہے کہ گیان چند جین نے جموں میں اردو کی جس صورت حال سے قارئین کو آگاہ کیا ہے، موجودہ وقت میں اس طرح کی صورت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ گیان چند جین کی کتابوں کے سن اشاعت پر غور کریں تو اس بات کابخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ قیام جموں نے ان کے تحقیقی مزاج کو آگے بڑھایا۔ یہاں کی آب و ہوا ان کے علمی کاموں کے لیے بہت معاون ثابت ہوئی۔ کیونکہ دورانِ قیامِ جموں ان کی کئی اہم کتابیں منظر عام پر آئیں۔اسی کے ساتھ بہت سے ایسے تحقیقی و تنقیدی مضامین لکھے گئے، جو بعد میں ان کے مضامین کے مجموعے میں شامل کیے گئے۔ اس دوران ان کے ڈی۔ لٹ کا مقالہ’اردو مثنوی شمالی ہند میں‘(1969)تفسیر غالب(1971)لسانی مطالعے(1973)تجزیے(تحقیقی وتنقید ی مضامین کا مجموعہ،1973 )رموز غالب(1976)جیسی کتابیں منظر عام پر آئیں۔اس کے علاوہ عام لسانیات کے عرض مصنف کے آخر میں/28مئی1975کے ساتھ جموں لکھا ہے۔شاعری کا دوسرا دور جموں میں ہی شروع ہوا ۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ جموں کے جنت نما ماحول نے گیان چند جین کی علمی فتوحات میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ عام لسانیات کے لکھنے کے دوران لسانیات کے موضوع پر کتابوںکی عدم دستیابی ان کی پریشانی کاسبب رہیں۔ اس کا اظہار انھوں نے عام لسانیات کے’ عرض مصنف‘ میں کیا ہے۔گو کہ اس کتاب کوانھوں نے اپنے قیام بھوپال کے دوران 1961-62 میں لکھناشروع کر دیا تھا۔لیکن اس کی تکمیل جموں میں ہوئی۔ کتابوں کی عدم فراہمی کااحساس انھیں تھا، وہ جس طرح سے اس کتاب کو لکھنا چاہتے تھے، اس طرح سے کام نہیں کر سکے، اس کا اظہار انھوں نے اس طرح سے کیا ہے:

’’ترقی اردو بیورو بنااور میں اس کی لسانیات کمیٹی میں لیا گیاتو مختلف حضرات کو کتابیں لکھنے کی ذمہ داری تقسیم کی گئی۔ میں نے عام لسانیات کی کتاب اپنے نام لکھا لی کہ میں اس پر پہلے ہی سے کام کر رہا تھا۔

مطالعہ جاری رہا۔ اپنی کم مائگی کا احساس بڑھتا گیا۔ جموں میں لسانیات کی کتابیں نہ تھیں۔ خریدیں لیکن کتاب لکھنے کے لیے جو ذخیرہ چاہیے وہ میسر نہ ہوا۔ اگر میں کہیں ایسے ادارے میں ہوتا جہاں لسانیات کی کتابیں بقدر مالیت موجود ہوتیں تو اس کتاب کا نقشہ بہت بہتر ہوتا۔‘‘

(عام لسانیات۔(دوسرا اڈیشن) گیان چند جین۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، نئی دہلی۔2003ص،12)

گیان چند جین لسانیات کے موضوع پر جموں سے جانے کے بعد بھی لکھتے رہے ۔ لیکن اس موضوع پر ان کی دوسری کو ئی باضابطہ کتاب منظر عام پر نہیں آئی۔ البتہ ان کے مختلف مضامین کے مجموعے میںلسانیات پر مضامین مل جائیں گے، لیکن باقاعدہ اس موضوع پر ان کی دو کتابیں منظر عام پر آئیں اور وہ دونوں جموں کے قیام کے دوران آئیں۔’ لسانی مطالعے ‘گرچہ ان کے مضامین کا مجموعہ ہی ہے، لیکن ان سارے مضامین کا تعلق زبان اور علم زبان سے ہے۔ اس طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ ماہر لسانیات ہونے میں بھی جموں کا ماحول ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوا۔

گیان چند جین ایک مستقل مزاج اور حوصلہ مند محقق تھے۔ تحقیق میں مسلسل محنت اور لگن کو شعار بنائے رکھا۔ انہوں نے اپنی گہری تحقیقی نظر کو بروئے کار لا کر تحقیق کے لیے اصول سازی کی۔ جو تحقیق کو نئی روشنی عطا کر رہے ہیں۔ اگرچہ تحقیقی طرزِ تحریر زیادہ جچی تلی، زیادہ معین اور قطعی ہوتی ہے۔ اس میں حوالے کی پابندی لازمی ہوتی ہے۔ اس میں انشا پردازی کے مواقع نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ سائنسی قسم کا رکھ رکھاؤ ناگزیر ہوتا ہے۔ اس لیے عام طور پر یہ محققانہ مضامین شگفتہ نہیں ہوتے۔ مگر گیان چند جین کی تحقیقی تحریروں میں بھی دل چسپی کی کمی نہیں۔ آپ جہاں ہر بات اور ہر نظریے کا مدلل حوالہ دیتے ہیں ،وہاں کئی مقامات پر اپنی زندگی سے متعلق دلچسپ واقعات کا تذکرہ بھی کرتے ہیں، جس سے قاری میں آگے مطالعہ کی خواہش بڑھ جاتی ہے ، اس کے ذریعے قاری بالواسطہ مصنف کے ساتھ ربط برقرار رکھتا ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں جا بجا مختلف شعرا کے اشعار سے بھی رنگینی پیدا کرتے ہیں۔ جس سے ایک تحقیقی کتاب یا مضمون میں دل موہ لینے والی کفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

تحقیق کے ساتھ ساتھ گیان چند جین میں تنقید کا مادہ بھی بدرجۂ اتم موجود تھا۔ اس سے وہ اپنی تحریروں میں بھی کام لیتے رہے۔ کیوں کہ تحقیق و تنقید دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تنقید کی عدم موجودگی میں تحقیق غیر مفید ہوتی ہے۔ اور تنقید بعض اوقا ت تحقیق کی کمی کہ وجہ سے لغزش کر جاتی ہے۔ گیان چند جین نے خود لکھا ہے:

’’ محقق تنقید ی شعور سے بے نیاز ہو جائے تو اہم اور غیر اہم کی شناخت بھلا دیتا ہے۔‘‘

(تحقیق کا فن۔گیان چند جین،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،2008ص،46)

گیان چند جین کے بارے میں ڈاکٹر جمیل الدین عالی لکھتے ہیں:

’’ڈاکٹر گیان چند جین ہمارے عہد کے ذمہ دار محقق اور باریک بین نقاد ہیں۔۔۔۔۔ وہ اردو تحقیق کی ایک ناگزیر شخصیت ہیں۔‘‘

(اردو کی ادبی تاریخیں۔گیان چند جین،انجمن ترقی اردو پاکستان،2000 ،ص،7)

گیان چند جین کے تنقیدی کارناموں میں دو مستقل تصانیف ’’رموز غالب‘‘ اور ’’تفسیر غالب‘‘ہیں۔ جنہیں تشریحی اور عملی تنقید کا اچھا نمونہ کہا جا سکتا ہے۔ ’’تجزیے‘‘ میں بھی تنقیدی مضامین ہیں۔ جس میں ’’خانم کی مثنوی[حسن و دل]‘‘ کے عنوان سے ان کا ایک مضمون اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ انہوں نے تحقیق و تنقید دونوں کی سرحدیں ملا دی ہیں۔’’ اردو شاعری کے مجدد حالی‘‘اور’’ اردو ادب میں جدیدت کے رجحانات‘‘ان دونوں مضامین میں تحقیق و تنقیدکا غیر معمولی امتزاج نظر آتا ہے۔اس طرح کی تحریروں کے مطالعے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ تحقیق وتنقید ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

گیان چند جین کی ہمہ جہت شخصیت کا ایک دلکش پہلو شاعری ہے ۔ان کے مجموعۂ کلام کا نام ’’کچے بول‘‘ ہے۔ آپ کی شاعری دو ادوار پر محیط ہے۔ پہلا دور 1937سے 1947تک محیط ہے۔دوسرے دورکا آغازجموں کے قیام کے دوران ہوا۔ اس تعلق سے انھوں نے لکھا ہے:

’’48 تک کا سرمایہ کوئی ساڑھے تین ہزار اشعار پر مشتمل ہے اس میں سے تقریباً ایک چوتھائی لیا ہوگا اور وہ بھی اصلاح و ترمیم کے بعد ۔67کے بعد کی شاعری کا تقریباً تمام حصہ برقراررکھا ہے۔ ‘‘

(کچے بول۔گیان چند جین۔اے،ون آفسیٹ پریس،دہلی،1991 ،ص،6)

گیان چند جین نے اپنی پہلی غزل 1937 میں ’غافل‘ کے قلمی نام سے لکھی تھی۔دوسرے دور کی شاعری کا آغاز تب ہوا، جب وہ غالب کے منسوخ کلام کی شرح لکھ رہے تھے۔ اس لیے دوسرے دور کی شاعری میں غالب کا رنگ نمایاں ہے۔ غالب کے کلام جیسی رنگینی ، بے ساختگی اور سادگی صاف جھلکتی ہے۔کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں:

لگ رہا ہے آنکھ میں، یہ کیسا کڑوا سا دھواں

اک ذرا اٹھ کر بڑھاڈالو چراغِ کائنات

ہر قوی کے پاؤں کے نیچے لرز جاتی ہے یہ

کاش دھرتی کو بھی ہوتا آسماں کا سا ثبات

 

کیا بتاؤں آپ سے ، کیاہستی انسان ہے

آدمی جذبات و احساسات کا طوفان ہے

محشر جذبات ہے فتحِ خلا کے باوجود

جو بشر شدت سے جذباتی نہ ہو، حیوان ہے

گیان چند جین نے جموں میں اپنے قیام کے دوران ’’تفسیر غالب‘‘ کے عنوان سے غالب کے مکمل منسوخ کلام کی شرح لکھی۔’’رموز غالب‘‘ نامی کتاب میںغالب کے تعلق سے کئی اہم مضامین لکھے۔ تفسیر غالب کے مطالعے سے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ گیان چند جین فارسی زبان سے بہت حد تک واقف تھے۔جموں میں رہتے ہوئے انھوں نے غالب کے حوالے سے جو کام کیے ہیں وہ کئی اعتبار سے غیر معمولی ہیں، اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تفصیل سے ان کے اس کام کا جائزہ لیاجائے۔

’’رموز غالب‘‘ غالب کے کلام بالخصوص منسوخ کلام کے نسائخ کے متعلق مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں غالب کے ابتدائی کلام کے تعلق سے بحث کی گئی ہے۔ گیان چند جین نے ان مضامین میں غالب کی شاعری کو فکری وفنی حوالے سے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک تحقیق کے تعلق سے ہے، دوسرا تنقیدسے متعلق۔ انھوں نے غالب کے منسوخ کلام کے لیے کئی اصطلاحات اور معروضات بھی پیش کیے ہیں۔ گیان چند جین نے غالب کو پڑھنے والوں کے لیے اس کتاب کے ذریعے آسانی پیدا کردی ہے۔

’’رموز غالب‘‘ گیان چند جین کے تحقیقی وتنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ تحقیق والے حصے میں کل نو مضامین شامل ہیں ،جبکہ تنقید والے حصے میں کل تین مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔ اسے پہلی بار مکتبہ جامعہ نے 1976 میں شائع کیا۔ کتاب کا انتساب مالک رام کے نام کیا گیا ہے۔ 344صفحات پر مشتمل یہ کتاب جس میںگیان چند جین نہ صرف ماہر غالبیات بلکہ ایک محقق اور نقاد کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ گیان چندجین کے قول کے مطابق انھیں تنقیدی مضامین لکھنے کا شوق نہیں، لیکن تحقیقی مضمون کا مواد ہمیشہ دستیاب نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے بعض فرمائشوں کی تکمیل میں تنقیدی یا تنقید آمیز مضامین لکھنے پڑتے ہیں۔ اس کتاب میں شامل تمام تحقیقی مضامین ،جوکسی فرمائش پر نہیں لکھے گئے ہیں، بلکہ گیان چند جین نے ازخود لکھا ہے۔ اس کتاب میں گیان چند جین نے مضامین کی ترتیب اسی طرح سے کی ہے:

1:      نسخۂ بھوپال کی اصطلاحیں اور اضافے

2:      نسخۂ عرشی، طبع ثانی سے متعلق کچھ معروضات

3:      نسخۂ عرشی، کچھ اشعار کی قراتیں

4:      غالب کا خود نوشت دیوان

5:      نسخۂ عرشی زادہ، ایک جائزہ

6:      خودنوشت مخطوطۂ غالب اور اس کی اصطلاحیں

7:      دیوان غالب کا متنازع مخطوطہ

8:      دیوان غالب کے متنازع مخطوطات پر مزید مشاہدات

9:      ’’بیاض غالب‘‘ ایک تحقیقی جائزہ ‘‘ پر ایک نظر

’’نسخۂ عرشی‘‘ دراصل امتیاز علی عرشی کا مرتب کردہ دیوان غالب ہے۔ جسے پہلی بار انجمن ترقی اردو (ہند) نے 1958 میں شائع کیا۔ اس دیوان میں متن کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

1:      گنجینۂ معنی: اس میں غالب کا منسوخ کلام ہے۔

2:      نوائے سروش: یہ غالب کا متد اول کلام ہے۔

3:      یادگار نالہ: یہ مختلف مآخذ سے لیا ہوا متفرق کلام ہے۔ اس کلام کو نہ غالب نے مسترد کیا تھا اور نہ ہی اپنے مرتبہ دیوان میں شامل کیا تھا۔ جس سے یہ واضح نہیں ہوتا ہے کہ غالب اسے قابل اشاعت سمجھتے تھے یا نہیں۔

اس کتاب میں شامل ایک مضمون ’’نسخۂ عرشی زادہ ایک جائزہ‘‘ ہے۔ نسخۂ عرشی زادہ مولانا امتیاز علی عرشی کے بیٹے اکبر علی خاں کا مرتب کردہ مخطوطۂ کلام غالب ہے۔ اکبر علی خاں پہلی بار اس نسخے میں عرشی زادہ کے لقب کے ساتھ ظاہر ہوئے۔ اس کا پیش لفظ آل احمد سرور نے لکھا ہے۔ نسخۂ عرشی زادہ کے تعلق سے گیان چند جین نے لکھا ہے:

’’میں نے پچھلے سال تقریباً آدھ گھنٹے کے لیے نسخۂ عرشی زادہ کو سرسری طور پر دیکھا تھا۔ اب 1971 میں مجھے اس کے تفصیلی مطالعہ کا موقع ملا۔ دیدہ ہ زیبی اور حسن ظاہری کے اعتبار سے یہ جلد مرقع چغتائی اور شاہکار انیس کے زمرے میں جگہ پائے گی لیکن اس کی اہمیت محض اس کے ظاہر کی وجہ سے نہیں، اس کے مشمولات کی وجہ سے ہے۔‘‘

(رموز غالب، گیان چند جین، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، 1976، صفحہ:119)

مندرجہ بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گیان چند نے نسخۂ عرشی کا مطالعہ کیا۔مرتب اسے ترتیب دیتے ہوئے جس ذہانت کا ثبوت دیا ہے، اس نے عام قارئین کے لیے بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔اس چیز نے گیان چند جین کو حیرت و استعجاب میں ڈال دیا۔اور انھیں بہت متاثر بھی کیا۔ البتہ انھیں جہاں کوئی کمی نظر آئی اس کی طرف اشارہ بھی کردیا، تاکہ اشاعت ثانی میں اس کمی کو دور کیا جا سکے۔’’رموز غالب‘‘ میں تین تنقیدی مضامین شامل ہیں۔ جو درج ذیل ہیں۔

1:      غالب کے طرفدار نہیں

2:      غالب کے نقاد

3:      غالب کی زبان ابتدائی کلام کی روشنی میں

اس کتاب کا آخری مضمون جو کہ تنقیدی حصے سے متعلق ہے لیکن گیان چند جین نے اس میں اپنی محققانہ بصیرت کا ثبوت دیا ہے، اور غالب کے ابتدائی دور کی شاعری کی روشنی میں ان کی زبان وبیان کا جائزہ لیا ہے۔ اور ان کے ابتدائی کلام پر مفصل بحث کی ہے، جسے غالب نے منسوخ کردیا تھا۔ غالب کا منسوخ کلام ’’نسخہ ٔ حمیدیہ‘‘ کے عنوان سے چھپ چکا ہے اوراسی کو نسخۂ عرشی میں ’’گنجینۂ معنی‘‘ کے نام سے اکٹھا کیا گیا ہے۔

گیان چند جین کا خیال ہے کہ اردو شاعری کی تاریخ میں غالب سب سے زیادہ فارسی زدہ شاعر ہیں۔ غالب کا یہ کمال نہیں تو اور کیا ہے کہ جب ان کی عمر پچیس برس کی بھی نہیں ہوئی تھی، تب میر محمد خاں سرور نے اپنے تذکرہ’عمدۂ منتخبہ‘میں غالب کے سو سے زائد اشعار کونقل کیا تھا اور ان کے کلام پر اپنے مثبت خیال کا اظہار کرتے ہوئے ’طرز موجد‘کہہ دیا تھا۔ غالب پردو سو سال سے زیادہ عرصے سے کام ہو رہا ہے۔ لیکن غالب کا خیال تو اردو کلام سے متعلق کچھ اور تھا۔کیونکہ غالب فارسی کلام کے مقابلے میں اپنے اردو کلام کو بے رنگ تصور کرتے تھے، تبھی تو کہا تھا:

پارسی بین تابہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ

بگزراز مجموعۂ اردو کہ بے دن من است

لیکن اس بات پر غور کریں کہ غالب نے جسے حقیر جانا آج ان کی بقا کا وہی سب سے اہم ذریعہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کے فارسی کلام سے لوگوں نے رو گردانی برتی ہو، لیکن جو بات ان کے اردو کلام میں لوگوں نے تلاش کی ہے، اس طرح سے ان کے فارسی کلام میں تلاشنے کی کوشش نہ کے برابر ہوئی۔ آج اگر ان کا صرف فارسی کلام ہوتا تو اتنی گفتگو نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ ان کا فارسی کلام بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ لیکن ان کی بقا کا ذریعہ اردو کلام ہی ہے۔

گیان چند جین نے غالب کی زبان کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی ایسی تراکیب کا ذکر کیا ہے جو اردو کے مزاج کے خلاف ہے ، لیکن غالب نے اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے۔گیان چند جین نے اس طرح کی بہت سی مثالیں دی ہیں، جن میں غالب نے ایسے مرکبات کا استعمال کیا ہے ۔ گیان چند جین نے اس کی جومثالیں دی ہیں، وہ ملاحظہ ہوں:

مے تمثال پری، نشۂ میناآزاد

دل آئینہ طرب، ساغر بخت بیدار

تو یک جہاں قماش ہوس جمع کرکہ میں

حیرت متاع عالم نقصان وسود تھا

موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار

گرچہ وحشت بیقرار جلوئہ مہتاب تھا

گیان چند جین نے فارسی حروف اور مصادر کے استعمال کے تعلق سے لکھا ہے:

’’غالب کئی ممنوع فارسی شکلوں کو ایک مرکب کے رشتے میں پرودیتا ہے۔ ان میں عطف یا اضافت سے کام لیا جاتا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ ایک طویل عربی فارسی فقرہ نما مرکب وجود میں آجاتا ہے، جو اردو کو بالکل ایرانی قبا میں ملبوس کردیتا ہے۔‘‘

(ایضاً ، صفحہ:331)

گیان چند جین نے ہرحصے کو مثالوں کے ذریعے بتانے کی کوشش کی ہے۔ غالب کی خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ اردو میںفارسی مصادر اور حروف کا بے تکلف استعمال کرتے ہیں۔

تنقیدی حصے کا دوسرا مضمون ’’غالب کے نقاد‘‘ کے عنوان سے ہے۔ جیساکہ اس مضمون کے عنوان سے ہی پتہ چلتا ہے کہ یہ مضمون دراصل غالب کے ناقدین کے تعلق سے ہے۔ گیان چند جین نے غالب کے کئی ناقدین کا ذکرکیا ہے۔ جن میں الطاف حسین حالی، عبدالرحمن بجنوری، ڈاکٹر عبداللطیف، غلام رسول مہر، شیخ محمد اکرام، ڈاکٹر شوکت سبزواری، ڈاکٹر سید عبداﷲ اور کوثر چاند پوری شامل ہیں۔ گیان چند جین کے مطابق ان میں بیشتر ناقدین ایسے ہیں جنھوں نے سخن فہمی کے بجائے غالب کی جانبداری کا ثبوت دیا ہے۔

گیان چند جین نے ان تمام نقادوں اور تنقیدی کتب ومضامین میں سے صرف دوتنقیدی کتابوںکو متوازن تنقید غالب سمجھاہے۔ ایک شیخ اکرام کی کتاب ’’آثار غالب‘‘ہے۔ ان کے خیال کے مطابق اس کتاب میں سوانح کی تحقیق کے لیے بہتر ہے اور تصانیف کی تنقید کے لیے بھی موثر ہے۔ دوسری کتاب ’’نقد غالب‘‘ ہے۔ جو علی گڑھ میگزین کے غالب نمبر کا نقش ثانی ہے۔ جو 1956 میں منظرعام پر آیا۔ جب کہ کچھ لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ غالب پر حالی کی تصنیف ’’یادگار غالب‘‘ ایک منصفانہ اور متوازن کتاب ہے۔صبا ح الدین عبد الرحمن ’غالب مد ح و قدح کی روشنی میں‘کی دوسری جلد میں شیخ اکرام کی کتاب کے سوانحی حصہ پر اعتراض بھی کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس وقت وہ کام کر رہے تھے، ان کے پیش نظر بہت سارے ماخذات بھی تھے، اسی لیے انھوں نے جو بھی بات کی ہے دلیل کے ساتھ کی ہے۔

اس کتاب کے تنقید ی حصے کا پہلا مضمون ’’غالب کے طرفدار نہیں‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مضمون میں گیان چند جین نے غالب کے کلام کے محاسن ومعائب پر بحث کی ہے۔ محاسن کی بہ نسبت غالب کے کلام کے معائب کا ناقدانہ جائزہ پیش کیا ہے۔ گیان چند جین نے لکھا ہے:

’’غالب اکثر افراط وتفریط کا شکار رہے۔ انھیں معترض ملے یا معتقد۔ نقاد کم ملے، ان کی شاعری کی تنقیص ہوئی یا پرستش، متوازن تنقید کم ہوئی…

غالب بڑا شاعر ہے لیکن کیا دیوان غالب کو عالمی معیار کی عظیم شعری کتابوں شمار کیا جاسکتا ہے۔ کیا دیوان غالب کو بالمیک اور تلسی داس کی رامائن، فردوسی کے شاہنامے، ہومر کی ایلیڈ اور اوڈیسی۔ دانتے کی ڈوائن کامیڈی، ملٹن کی فردوس گم شدہ وغیرہ کے برابر رکھا جاسکتا ہے۔ مجھے اس میں تردد ہے۔ شبہ ہے۔‘‘

(ایضاً ، صفحہ:290-291)

گیان چند جین نے غالب کو بڑا شاعر ماننے سے انکار نہیں کیا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے غالب کی عظمت کا اعتراف بھی کیا ہے۔ لیکن انھیں یہ اعتراض ہے کہ غالب کا کوئی ایسا انتخاب نہیں کیاگیا، جسے عالمی سطح کے ادب کے مقابلے میں رکھا جاسکے۔ غالب پر جتنا لکھا گیا، اتنا کسی پر نہیں لکھا گیا۔ باوجود اس کے غالب کی قدروقیمت کو ایک بار پھر متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ گیان چند جین کا خیال ہے کہ غالب کا ایک ایسا انتخاب کیا جائے، جسے عالمی ادب کے مقابلے میں رکھا جا سکے۔ ظاہر ہے کہ دیوان غالب میں ہر شعر اس معیار کا نہیں۔ اسی لیے انھوں کہا کہ بے جا طرفداری سے بچتے ہوئے اس طرح کے کام میں پہل کرنی چاہیے۔یقیناً یہ ایک مشورہ تھا، جس پر غور کیا جا نا چاہیے، تاکہ غالب کی عظمت میں مزید اضافہ ہو سکے۔

رموز غالب کے علاوہ غالب کے تعلق سے ایک کتاب گیان چند جین کی ’’تفسیر غالب‘‘ کے نام سے ہے۔ یہ کتاب غالب صدی کے موقع پر شائع ہونی تھی، لیکن بوجوہ یہ کتاب 1971 کے آخر میں شائع ہوئی۔ اس کام کو گیان چند جین نے 1968 ہی میں مکمل کرلیا تھا۔ اس میں انھوں نے کل 1956 اشعار کی تشریح کی ہے۔ جن میں 143اشعار قصیدے کے، 1508 اشعارغزل کے ساتھ ساتھ 12رباعیاں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یادگارنامہ سے 118 اشعار، خودنوشت دیوان سے 169 اشعار اور ضمیمہ نسخۂ عرشی سے 6اشعار ہیں۔ یہ سب مل کر کل 1956 اشعار کی تعداد ہوتی ہے۔ اسی تفصیل اور تعداد کا ذکر انھو ںنے اپنے دیباچے میں بھی کیا ہے۔ اس تفسیر کے لیے انھوں نے نسخۂ عرشی کو پیش نظر رکھا۔ البتہ 175 اشعار ایسے ہیں، جس کے لیے انھوں نے خودنوشت دیوان اور ضمیمہ نسخۂ عرشی کی مدد لی ہے۔

تفسیر غالب لکھنے میں گیان چند جین نے بہت احتیاط سے کام لیا۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ انھوںنے جب کلام غالب کی تفسیر لکھنے کا ارادہ کیا تو ابتدا میں ماہر غالبیات مولانا امتیاز علی خاںعرشی کی خدمت میں چند اشعار بھیج کر اس کی تشریح چاہی۔ جب امتیازعلی عرشی نے ان اشعار کی تشریح بھیجی تو گیان چند جین ان کی تشریح کے کچھ حصے سے مطمئن ہوئے اور کچھ میں کسی قدر شبہ کا اظہار کیا، اور یہی چیز تھی جو ان کے اعتماد میں اضافہ کرگئی۔ ایسا نہیں ہے کہ گیان چند جین نے صرف امتیاز علی عرشی سے ہی حل معنیٰ میں مدد لی ،بلکہ دوسرے محققین سے بھی غالب کے دقیق اشعار کے حل معنیٰ میں مدد لی ۔البتہ لوگوں کی تشریح سے انھیں اندازہ ہوگیا کہ وہ غالب کے ذہن کی کجی اور ان کے مخصوص نہج فکر سے آشنا ہوگئے ہیں۔ اس تفسیر کے لکھنے میں انھیں کن دشواریوں سے دوچار ہونا پڑا، بطور خاص قلم زد کلام میں، انھیں کی زبانی ملاحظہ ہو:

’’غالب کا قلم زد کلام اجنبی فارسی محاوروں کی جنت ہے۔ فارسی لغات کے بغیر ان اشعار کے حل کی سعی نامشکور رہے گی۔ میں نے قدم قدم پر بہار عجم اور فرہنگ آنند راج کا سہارا لیا ہے… لیکن یہ یاد رکھیے کہ غالب کے اشعار میں بعض ضروری اجزا کے حذف ہونے کی وجہ سے شاعر کے مافی الضمیر تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔‘‘

(تفسیر غالب، گیان چند جین، جموںاینڈ کشمیر آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز، سرینگر، 1971، صفحہ:12)

مندرجہ بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گیان چند جین کلام غالب کی تفسیر لکھتے وقت کن دشواریوں سے دوچار ہوئے تھے، باوجود اس کے ان کا اعتماد متزلزل نہیں ہوا۔ اس تفسیر کے دو حصے قابل توجہ ہیں۔ ایک تو وہ جسے امتیاز علی عرشی نے اپنے نسخے میں منتخب اشعار کو ’’یادگارنامہ‘‘ کے عنوان سے ترتیب دیا ہے ،اور دوسرا وہ حصہ جو غالب کے خود نوشت دیوان کے نئے اشعار کی تشریح ہے۔ اس حصے میں کل 169 اشعار شامل ہیں۔ گیان چند جین کے مطابق یادگار نامہ کی ابھی تک کسی نے تشریح نہیں کی ہے۔ ان میں بیشتر اشعار صاف ہیں۔ کہیں کہیں کوئی شعروضاحت طلب ہے۔ اس تفسیر کی تکمیل کے پیچھے گیان چند کا مقصد، غالب کے مشکل اشعار کی تشریح فراہم کرنا تھا۔ گیان چند جین نے تشریح میں بھی تحقیق سے کام لیا اور اشعار کو زمانے کے تعین کے ساتھ تشریح کی ہے۔ اس سے معنی اور واضح ہوگیا ہے۔

اسی لیے کہا جاسکتا ہے کہ گیان چند جین ان دونوں تصانیف’’رموز غالب‘‘ اور ’’تفسیر غالب‘‘ سے خود کوغالب شناس کی فہرست میں کھڑا پاتے ہیں۔ کیوں کہ گیان چند جین نے غالب کے کلام کی ’کیف آور صہبا کو اپنی نکتہ آفرینوں سے غالب کے شیدائیوں کو ان دونوں تصانیف کے ذریعہ انمول تحفہ دیا ہے۔‘ یقینا گیان چند جین نے ان دونوں تصانیف کے ذریعہ غالب شناسی کے نگار خانے میں بصیرت کی ایک نئی اور رنگین شعاع کا اضافہ کیا ہے۔غالب شناسی کا پورا حصہ جموں میں قیام کے دوران ہی لکھا گیا ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں جموں کے ماحول نے انھیں غالب شناس بھی بنا دیا۔

گیان چند جین کی کتاب’اردو کا اپنا عروض‘ کی ابتدائی کڑی جموں ہی میں لکھی گئی۔ اس کتاب کے چند اہم مضامین جموں کے قیام کے دوران لکھے۔ گیان چند جین نے بعد میں جو بھی کام کیے، اگر ان سب پر غور کریں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ جموں نے انھیں جو ماحول دیا، وہ جہاں بھی رہے، اس ماحول سے علمی طور پر باہر نہیںنکل سکے۔ شاعری کا دوسرا دور ایک طویل وقفے کے بعد جموں ہی میں شروع ہوا۔ ظہور الدین صاحب نے گیان چند جین کی کتاب’تجزیے‘کی اشاعت میں بہت مدد کی۔ لیکن تحقیق کا فن نامی کتاب پر غور کریں اس کتاب کا ابتدائی خاکہ جموں ہی میں بنا۔ کیونکہ ظہور الدین صاحب نے ایک سمینار میں کہا تھا کہ میرے استاد نے اصول تحقیق سے واقف نہیں کرایا۔ اس تعلق سے گیان چند نے تحقیق کا فن میں لکھا ہے:

’’جب میں نے پہلی بار الہ آباد یونیورسٹی میں ڈی فل کے لیے ریسرچ کی تو مجھے میرے نگراں نے فٹ نوٹ لکھنے کے بارے میں ہدایت نہیں کی۔ میں نے اپنا مقالہ اردو کی نثری داستانیں، جیسے کا تیسا انجمن ترقی اردو پاکستان کو اشاعت کے لیے بھیج دیا۔ 1984میں یہ شائع ہوا تو فٹ نوٹوں سے معرا تھا۔ جنوری 1987 میں خدا بخش لائبریری پٹنہ میں اردو کے تحقیقی مقالوں پر ایک سمینار ہوا۔شرکا میں جموں یونیورسٹی کے ریڈر ڈاکٹر ظہورالدین بھی تھے۔ انھوں نے ایک زمانے میں میری نگرانی میں جموں میں پی ایچ ڈی کی تھی۔ سنا ہے کہ اعتراض کے جواب میں انھوں نے سمینار میں کہا کہ میں نے ان کے ریسرچ کے دوران انھیں تحقیق کے طریقے نہیں بتائے تھے۔ ان کا یہ کہنا درست تھا۔ میں اس زمانے میں اصول تحقیق سے بہت کچھ واقفیت حاصل کر چکا تھا۔ لیکن وہ میرے ذہن میں ترتیب شدہ شکل میں نہیں تھے۔ چنا ں چہ میں اپنے زیر نگرانی اسکالروں کو صریحاً اس کا درس نہیں دیا۔‘‘

(تحقیق کا فن، طبع سوم۔ گیان چند جین۔مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان۔ 2012ص،3)

بحیثیت مجموعی کہا جا سکتا ہے گیان چند جین نے جموں میں اپنے قیام کے دوران تقریباً بارہ برس میں جو کچھ کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن جموں کے حوالے سے ان کی خدمات کو کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ انھوں نے بھو پال سے جموں، جموں سے الہ آباد اور الہ آباد سے حیدرآباد تک کا سفر کیا۔ ایک سرے سے دوسرے سے تک اردو کے لیے اپنی خدمات انجام دیں۔ علمی طور پر جموں کا قیام ان کے لیے نیک فال ثابت ہوا۔انھوں نے یہاں رہ کر جو کچھ کیا، اور جس طرح سے طالب علموں کی ذہن سازی کی، اس سے یقیناً اردو کا مستقبل مستحکم ہوا۔ کیونکہ انھوں نے اپنے ابتدائی زمانے میں جموں کے تعلق سے جو معروضات پیش کیے ہیں ،کہ تحقیق و تنقید کے تعلق سے جموں بالکل بنجر کی طرح ہے اور اس بنجر زمین میں اردو کا مستقبل سنوارنا واقعی مشکل تھا۔ لیکن ایک آسانی یہ تھی کہ رسم الخط تھا، اس لیے ذہن سازی میں انھیں بہت زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ آج اسی جموں میں اردو تحقیق وتنقید کے حوالے سے جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ جموں کے قیام نے علمی طور پر گیان چند جین کا ارادہ مزید مستحکم کر دیا تھا۔ جو کام جموں میں شروع کیا تھا، وہ ان کی زندگی کا ایک ایسا حصہ بن گیا تھا، جو ان کے دنیا سے جانے کے بعد ہی ختم ہوا۔اس لیے جموں میں قیام کے دوران بحیثیت استاد انھوں نے جو خدمات انجام دی ہیں، اس کواور ان کے علمی کارنامے کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

 

Dr.ShahnewazFaiyaz

JMI,New Delhi.110025

sanjujmi@gmail.com

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment