آزادی ہند میں اردو شاعری کا کردار فراموش نہیں کیا جاسکتا: پروفیسر شہپر رسول
جامعہ ملیہ اسلامیہ، فیکلٹی آف انجینئرنگ کے آڈی ٹوریم میں یوم آزادی کی مناسبت سے ۱۲ اگست کی شام کو آل انڈیا مشاعرہ اور کوی سمّیلن کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے فرمائی۔ جب کہ سابق وائس چانسلر سید شاہد مہدی بحیثیت مہمان خصوصی اور ڈاکٹر سید فاروق بطور مہمان اعزازی مشاعرے میں شریک ہوئے۔ پروفیسر ناظم حسین جعفری رجسٹرار جامعہ نے میزبانی کے فرائض انجام دیے اور پروفیسر شہپر رسول نے کنوینر کی ذمہ داری بخوبی نبھائی۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں ہندوستان کی آزادی کا پچھتر سالہ جشن ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ کی شکل میں منایا جارہا ہے۔ اسی مناسبت سے پروفیسر نجمہ اختر نے اس مشاعرے کا انعقاد کرایا جس میں ملک کے نامور اور معتبر شعرا نے شرکت کی۔ مشاعرے کی افتتاحی تقریب کا آغاز پروفیسر شہپر رسول کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ انھوںنے تمام مہمانوں کا استقبال کیا ، مشاعرے کی ادبی روایت پر روشنی ڈالی اور اس جشن کے اہتمام کے لیے جامعہ کی وائس چانسلر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے جامعہ برادری کا شکریہ ادا کیا اور اردو سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ہردم کوشاں ہے۔ انھوںنے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم آزادی کا امرت مہوتسو منارہے ہیں اور اسی سلسلے میں مشاعرہ اور کوی سمّیلن کا انعقاد کیا گیا ہے جس سے گنگا جمنی تہذیب کو تقویت ملتی ہے۔ سید شاہد مہدی سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مشاعرے کی تہذیبی اہمیت و معنویت کے حوالے سے بہت پرمغز گفتگو کی۔ نیز ڈاکٹر سید فاروق صدر ہمالیہ ڈرگس کمپنی نے شاعری میں اصلاحی اور سبق آموز پہلوئوں کی نشان دہی کی۔ پروفیسر ناظم حسین جعفری رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اخیر میں تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور مشاعرہ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
واضح رہے کہ اس مشاعرے میں ہندوستان کے معروف اور معیاری شعرا نے شرکت کی اور اپنے خوب صورت کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
شعرا میں پروفیسر شہپر رسول ، پروفیسر احمد محفوظ، جناب راجیش ریڈی، پروفیسر کوثر مظہری،ڈاکٹر احمد نصیب خاں، جناب منصور عثمانی، جناب شکیل جمالی، پروفیسر امیتا پرشو رام، محترمہ مالا کپور، جناب عزم شاکری، ڈاکٹر معین شاداب اور ڈاکٹر سالم سلیم نے اپنے اپنے کلام پیش کیے۔ نیز ہندی کے کوی پروفیسر چندردیو یادو، پروفیسر درگا پرساد گپتا اور سنسکرت کے کوی ڈاکٹر دھنن جے منی ترپاٹھی نے بھی اپنی کویتائیں سنائیں۔اس طرح ہندوستان کی تین اہم زبانوں کی نمائندگی اس مشاعرے میں ہوئی اور سامعین لطف اندوز بھی ہوئے۔ جب کہ معروف شاعر منصور عثمانی نے اپنے منفرد لب و لہجے میں مشاعرے کی نظامت فرمائی اور مشاعرے کو کامیابی کے ساتھ انجام تک پہنچایا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

