اردو مکتوبات کی تاریخ جن ناموں سے روشن و منزہ ہے ان میں ایک نام علامہ شبلی کانعمانی (۱۸۵۷۔۱۹۱۴)کا ہے ۔۱۸۸۱ سے ۱۹۱۴تک علامہ نے ایک ہزار سے زائد خطوط لکھے ۔یہ خطوط اپنے عہد سے سرگرم مکالمے کی نوعیت رکھتے ہیں ۔علامہ نے جو کچھ اور جیسا کچھ محسوس کیا اسے بغیر کسی تکلف اور تصنع کے لکھا کیونکہ مکاتیب علم و ادب کی ایک ایسی دنیا ہے جہاں ہر شخص اپنے اپنے ذہن و معیار کے مطابق کچھ نہ کچھ ضرور حاصل کرتا ہے اور اسی وجہ سے ہرفرد کی اس میں دلچسپی ہوتی ہے ۔ علامہ کے خطوط سے اے ایم او کالج علی گڑھ ،ندوۃ العلمااور حیدر آبادکی تاریخ کے منتشر اجزا کو مرتب کیا جاسکتا ہے ۔تقریباً دو سو خطوط ایسے ہیں جو ندوۃ العلماء سے متعلق ہیں اس میں ادارہ کے قیام و استحکام اور اصلاح نصاب کے ساتھ ساتھ باہمی چپقلش اور ارکان کی سرگرمیوں کو متحرک پیکر کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔خود شبلی کی شخصیت کے بھی متعدد پہلو نظر آتے ہیں ۔ان کے علاوہ شبلی کے خطوط کی ایک دنیا وہ ہے جس میں وہ اردو،عربی،فارسی،انگریزی اور تاریخ سے متعلق کتابوں کا ذکر کرتے ہیں ۔درحقیقت علامہ کے خطوط کا یہ پہلو بہت ہی روشن ہے ۔مکتوباتی ادب میں صرف شبلی ہی ایسے مکتوب نگار ہیں جن کے خطوط میں کتابوں کا ذکر کثرت سے آیا ہے ۔مختلف فنون پرشبلی کی دسترس کا اندازہ بھی ان خطوط سے کیا جاسکتا ہے ۔علامہ کے سو(۱۰۰) خط عطیہ بیگم فیضی(۱۸۷۷۔۱۹۶۷)اور زہرا بیگم (۱۸۶۶۔۱۹۴۰)کے نام ہیں ۔۱۹۲۶ء میں انھیں پہلی بار ’’خطوط شبلی ‘‘کے نام سے مولوی محمد امین زبیری نے مرتب کیا ۔اس مجموعہ کی شہرت مولوی عبدالحق کے مقدمہ کی وجہ سے زیادہ ہوئی جس میں انھوں نے شبلی کی شخصیت کو ان خطوط کے حوالے سے داغ دار کرنے کی کوشش کی ۔علامہ شبلی نعمانی کے خطوط سب سے پہلے سید سلیمان ندوی نے دوجلدوں میں ’’مکاتیب شبلی ‘‘کے نام سے جمع کیے،جن کی اشاعت ۱۹۱۶ء اور ۱۹۱۷ میں ہوئی ۔،خطوط شبلی بنام آزاد ،سید محمد حسنین (اشاعت :بہار اردو اکادمی ،پٹنہ۱۹۸۸)کی کاوش کا نتیجہ ہے ۔ڈاکٹر محمد الیاس الااعظمی نے شبلی کے خطوط کا ایک مجموعہ ’’مکتوبات شبلی‘‘(اشاعت :ادبی دائرہ اعظم گڑھ ۔دسمبر ۲۰۱۲)کے نام سے مرتب کیا ۔یہی مجموعۂ مکاتیب اضافوں کے ساتھ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی نے ۲۰۲۱میں شائع کیا ہے ۔
اردو کے مکتوباتی ادب کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے شبلی کے خطوط ہمیشہ سے دلچسپی کا سبب رہے ہیں ۔البتہ ان پر جس قدر توجہ کی ضرورت تھی نہیں دی گئی ۔اور اگر دی گئی تو زیادہ تر لوگوں نے عطیہ فیضی اور زہرا بیگم کے نام شبلی کے خطو ط کو ہی اپنا رہنما بنایا ۔جس کا سب سبے بڑا نقصان یہ ہوا کہ آدھے ادھورے شبلی کو ان کی پوری شخصیت پر منطبق کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ کوشش اس طرح کی گئی کہ زیادہ تر لوگوں نے اسی کو سچ مان لیا۔
’’خطوط شبلی ‘‘کا مقدمہ با بائے اردو مولوی عبدالحق نے لکھا۔انھوں نے ان خطوط سے شبلی کی جو تصویر بنائی وہ تو بنائی ہی اسی جوش میں انھوں نے یہ فیصلہ بھی دے دیا کہ :
مولانا شبلی کی تصانیف کو ابھی سے نو نی لگنی شروع ہوگئی ہے زمانہ کے ہاتھوں کوئی نہیں بچ سکتا وہ بہت سخت مزاج ہے مگر آخری انصاف اسی کے ہاتھ ہے ۔ان کی بعض کتابیں ابھی سے لوگ بھولتے جاتے ہیں اور کچھ مدت کے بعد صرف کتاب خانوں میں نظر آئیں گی لیکن بعض تصانیف ان کی ایسی ہیں جو مدتوں شوق سے پڑھی جائیں گی اور انھیں میں یہ خطوط ہیں جو بمنزلہ سدابہار کے ہیں ۔اس لیے کہ یہ تکلف اور بناوٹ سے بری ہیں۔
خطوط شبلی ،مرتب مولوی محمد امین زبیری ۔شمسی مشین پریس آگرہ ص:۲۶(س ن )
مولوی عبدالحق کایہ بیان خود ان کے لیے ہی وبال جان بن گیا ۔یہاں تک کہ انھیں عبداللطیف اعظمی کو خط لکھ کر یہ اعتراف کرنا پڑا کہ میں شبلی کا مخالف نہیں ہوں۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ شبلی کی دیگر تصنیفات کے ساتھ ساتھ ان کے خطوط کی اہمیت برقرا رہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ان کے مطالعہ کی جو ٹیڑھی اینٹ مولوی عبدالحق نے رکھی تھی اس کے اثرات شمس الرحمن ،خواجہ احمد فاروقی ،محمد طفیل اور جمیل جالبی کی تحریریوں میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔اس طرح کی یہ کوئی پہلی کاوش بابائے اردو نے نہیں انجام دی ہے بلکہ اس نوع کی کاوشوںمیں ’’انتحاب میر‘‘بھی شامل ہے جس کے مقدمہ میں انھوں نے میرکی ایسی تصویر بنائی کہ شمس الرحمن فاروقی کی معرکۃ الارا تصنیف ’’شعر شور انگیز‘‘بھی اس کی کاٹ کو کچھ کم نہیں کرسکی اور اب بھی میر کو رونے دھونے والا شاعر ہی سمجھاجاتا ہے ،اس کا سہرا بابائے اردو کے سرجاتا ہے ۔مولوی صاحب کے خاکوں کی مشہور کتاب’’چند ہم عصر‘‘ میں انھوں نے مولانا محمد علی جوہر کے بارے میں لکھا ہے ’’ان کے دوست بھی ان سے اسی طرح بچتے تھے جیسے آتش پرست آگ سے بچتا ہے ‘‘۔یہ خطوط شبلی کے مقدمہ کا نتیجہ ہی تھا کہ اس کے بعدمکاتیب شبلی کے بیشتر مطالعوں میں اسی راہ کو اختیار کیا گیا ۔جومولوی عبدالحق نے دکھائی تھی۔’’خطوط شبلی ‘‘کو ہی سامنے رکھ کر ڈاکٹر وحید قریشی نے ’’شبلی کی حیات معاشقہ‘‘ لکھی اور شیخ اکرام نے ’’شبلی نامہ‘‘لکھ کر یہ خدمت انجام دی ۔
ڈاکٹر شباب الدین اور ماہر شبلیات ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی اس لحاظ سے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان دونوں بزرگوں نے ’’دارالمصنفین کی ادبی خدمات کا تعارف’‘‘(اشاعت :۲۰۰۸) اور ’آثار شبلی ‘‘(اشاعت :۲۰۱۳)میں نہ صرف مکاتیب کی فنی اور ادبی حیثیت سے اس کا مطالعہ کیا بلکہ ڈاکٹر شباب الدین صاحب نے تو شبلی کی شگفتہ مزاجی، جس کا ایک سرا مزاح سے جاکر ملتا ہے اس کے نقوش بھی اجاگر کیے ۔ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے اس پورے مسئلہ کا علمی و تحقیقی اندازمیں جائزہ لیا اور مکاتیب شبلی کے مطالعہ کی علمی راہ ہموار کی ۔ان کے رہنما خطوط کے تناظر میں مکاتیب شبلی کے نہ صرف نئے مباحث قائم ہوں گے بلکہ تحقیق و جستجو کے نئے ابواب قائم کیے جاسکتے ہیں ۔
’’نقوش‘‘لاہور کے مکاتیب نمبر میں مالک رام کا ایک مضمون’’اردو کے منفرد مکتوب نگار ‘‘کے عنوان سے ہے ۔اس مضمون کی یہ سطریں ملاحظہ فرمائیں :
مکاتیب شبلی میں وہ خطوط ہیں جو انھوں نے اپنے دوست،احباب اور شاگردوں کو لکھے تھے ۔اگرچہ ان میں بھی شبلی کی نثر کی تمام خوبیاں موجود ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں کوئی ایسی بات نہیں جو انھیں کسی دوسرے مکتوب نگار سے ممتازکرسکے ۔البتہ خطوط شبلی اردو زبان میں اپنی قسم کی واحد چیز ہے ۔ہمارے یہاں عورتوں کے خطوط کے دوتین مجموعے تو ملتے ہیں لیکن کسی ادیب کے ایسے خطوط جو اس نے اپنی رشتہ دار اور عزیز عورتوں کے سوائے کسی اور کے نام لکھے ہوں۔خطوط شبلی کے علاوہ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے ۔
(نقوش لاہور،مرتب محمد طفیل نومبر ۱۹۵۷ء ص :۴۱)
اسی مضمون میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حوالے سے جو کچھ لکھا گیا ہے ’’اگر وہ غلط ہے تو اس کی مدلل تغلیط کیوں نہیں کردی جاتی تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے طے ہوجائے اور اگر بالفرض ان لوگوں کا یہ خیال صحیح ہی ہے تو اس سے شبلی کی علمی اور ادبی حیثیت یا عظمت میں کمی کیوں کر آئے‘‘حیرت کی بات یہ ہے کہ انھوں نے مثالیں انھیں خطوط کی دی ہیں جو عطیہ فیضی اور زہرا بیگم کے نام ہیں ۔نقوش کے اسی خاص نمبر میں ایک مضمون ڈاکٹر سید عبداللہ کا ہے ’’اردو خط نگاری ‘‘۔اس میں ترتیب وار اردو کے مکتوب نگاروں کا تذکرہ ہے ۔ یہ مضمون تذکراتی نوعیت کا ہے اس میں انھوں نے شبلی کے اسلوب نگارش کی بطور خاص داد دی ہے اور لکھا ہے کہ’’ ایجاز ہی ان خطوط کی جان ہے‘‘ اور یہ شبلی کی تحریوں کا خاصہ ہے ۔ڈاکٹرسید عبداللہ کے بقول ’’شبلی کے خطوں میں جذباتیت بھی ہوتی ہے مگر ایجاز کی برکت سے ان کی جذباتیت ناگوار اور بدنما نہیں ہونے پاتی‘‘(ایضاً:ص ۲۹)ڈاکٹرسید عبداللہ نے شبلی کے مکاتیب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی لکھی ہے کہ مخاطب کے ذوقی تقاضے ان کے پیش نظر رہتے ہیں اسی لیے خط میں مکتوب الیہ کے لیے تلخی بھی ہو تو بھی اس کے لیے بڑے مزے ہیں ۔ڈاکٹرسید عبداللہ کے بقول ’’بعض بزرگوں نے ’’خطوط شبلی چھاپ کر شبلی کی اخلاقی کجروی کا ثبوت بہم پہنچایا ہے۔ ‘‘
سچ تو یہ ہے کہ یہ خط نہ بھی چھپتے تو بھی شبلی کی جذباتی تشنگی کے راز تو شعرالعجم کے انداز بیان سے ہی کھل جاتے ہیں ہیں ۔اس لیے شعرالعجم کا مصنف اگر خطوط شبلی کا ہیرو بھی نکلا تو چنداں تعجب نہ ہوا ۔
گرچہ تھی طرز تغافل پردہ دار راز عشق
پر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پاجائے ہے ‘‘
(نقوش لاہور،مرتب محمد طفیل نومبر ۱۹۵۷ء ص :۳۰)
۱۹۴۷ء میں شمس الرحمن کی کتاب ’’اردو خطو ط ادبی حیثیت ،تاریخ ،تنقید اور تبصرہ ‘‘شائع ہوئی۔یہ کتاب اب نایاب نہ سہی مگر کمیاب ضرور ہے ۔اس کا مقدمہ سید عابد حسین نے لکھاتھا۔کتاب کے ابتدائی پچاس صفحات خطوط نگاری کی تاریخ اور اس کے اصول و آداب اور ادبی حیثیت سے متعلق ہیں اس کے بعد غالب،سرسید،محمدعلی،شبلی،حالی،محمد حسین آزاد،نذیر احمد،اقبال،ابوالکلام آزاد،عبدالرحمن بجنوری،مہدی حسن افادی اور نیاز فتح پوری کا مطالعہ ان کے خطوط کی روشنی میںکیا گیا ہے ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ شبلی نے غالب کے انداز مکتوب نگاری کو خضر راہ بنایا(ص:۶۷)ان کی یہ کوشش بڑی حد تک کامیاب بھی رہی لیکن بعض مقامات پر اصل اور نقل کا فرق باقی رہتا ہے ۔انھوں نے شبلی کے بعض ایسے خطوط بھی نقل کیے ہیں جس میں انھوں نے ڈرامائیت پیدا کی ہے۔اس انداز کی وجہ سے ان کے یہاں لطیف طنز بھی پیدا ہوگیا ہے البتہ مکالموں کی وہ فضا جو غالب کے خطوط کی جان ہے یہاں اس کا لطف نہیں ۔حالانکہ شمس الرحمن (بی اے جامعہ ملیہ اسلامیہ )نے لکھا ہے کہ ’’شگفتگی جو شبلی کے انداز نگارش کا مایۂ امتیاز ہے کم و بیش ان کے ہر خط میں نظر آتی ہے ‘‘۔(ص :۷۱)ابتدائی صفحات میں غالب سے مقابلہ کی جو صورت فاضل مصنف نے پیدا کی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔مگر چونکہ غالب کے خطوط کی صرف ایک ہی جہت ہے کہ ان میں صرف اور صرف ادبی ،شعری معاملات و مسائل ہیں۔شاگردوں اور دوستوں کی خیریت ہے ۔شبلی کے خطوط کی کوئی ایک جہت نہیں ان کی رنگارنگی اپنی مثال آپ ہے ۔علوم و فنون کی کثرت دیدنی ہے اس لیے ان کا تجزیہ کرتے وقت ان سارے مصالحہ کو پیش نظر رکھنا ہوگا ۔ چند صفحات کے بعد عطیہ و زہرا فیضی کے خطوط اور ان پر تبصرہ اور مہدی و مولانا آزاد سے تعلق و محبت ۔شبلی مہدی افادی سے بہت گھل مل گئے تھے لیکن آزاد سے بے تکلفی کے باوجود ان کے نام خطوط میں شبلی نے بیگمات فیضی کی طرف بہت کم اشارے کیے ہیں ۔بیگمات فیضی کے نام خطوط سے شبلی کی جو تصویر بن سکتی ہے یہاں بھی بنائی گئی ہے ۔لیکن اسی کے ساتھ ’’شبلی کی ہمہ گیر شخصیت ‘‘کی ذیلی سرخی کے تحت جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے انداز ہوتا ہے کہ شمس الرحمن کے مطالعہ میں شبلی کے تمام خطوط رہے ہیں ۔اسی وجہ سے انھوں نے یہ نتیجہ اخذکیا ہے :
ان خطوں میں ہم انھیں تصنیف و تالیف میں مشغول بھی دیکھ سکتے ہیں اور مجلس سخن میں نواسنجی کرتے بھی ۔شبلی کی بے چین طبیعت انھیں کبھی چین سے بیٹھنے نہ دیتی ۔وہ کبھی اپنی برادری کی ترقی و تعلیم کی خاطر انجمن سازی کرتے اور اس سے ذرا فارغ ہوتے تو اشاعت اسلام میں سرگرم عمل ہوجاتے ۔کبھی اپنے شاگردوں سے علمی باتیں کرتے اور کبھی اس تمام تعلیمی فضا سے گھبراکر چمن زار بمبئی میں جا پہنچتے اور بڑھاپے میں عشق ومحبت کی داد دینے لگتے ۔شبلی انتہا پسند تھے جس کام میںہاتھ ڈالتے اسے انتہا تک پہنچا دیتے تھے ۔ملازمت کی تو بڑی سے بڑی تنخواہ حاصل کرنے کی ادھیڑ بن میں لگے رہے ۔
(اردو خطوط،ادبی حیثیت ،تاریخ،تنقید اور تبصرہ۔شمس الرحمن۔کتابی دنیا لمٹیڈ دہلی جولائی ۱۹۴۷ء ص:۸۵۔۸۶)
شمس الرحمن صاحب کا کہنا ہے کہ اسی جذبے نے شبلی کو شبلی بنایا ۔وہ اثبات ذات کے لیے نئے نئے میدان تلاش کرتے رہتے تھے ۔ان کا الزام ہے کہ وہ کبھی اپنے آپ کو ایک مقصد کے لیے وقف نہ کرسکے ۔شبلی کی زندگی پر اگر نظر ڈالی جاے تو ان کے یہاں دو ہی واضح مقصد ہیں ایک اشاعت وحفاظت اسلام اور دوسرا تعلیم ۔ان کی پوری زندگی اسی کے گرد گھومتی رہی۔البتہ ان کی شخصیت کی فعالیت نے ان سے اوربھی کام لیے ۔جہاں تک ملازمت میں بڑی تنخواہ کا معاملہ ہے یہ توسراسر غلط ہے۔حیدر آباد شبلی اس وقت گئے جب والد کی وفات کے بعد قرضوں کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں رہ گئی تھی ۔حیرت یہ ہے کہ شمس الرحمن صاحب نے جن خطوط کو بطور مثال نقل کیا ہے اس سے نتیجہ غلط نکالا ہے ۔فاضل مصنف نے شبلی کاجو خط نقل کیا ہے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں :حیدرآباد سے ۱۲،اپریل ۱۹۰۱ء کو محمد سمیع کو لکھتے ہیں :
بے شبہ اگر میں ملازمت کرسکتا اور کسی قدر دنیا داری بھی مجھ سے بن پڑتی تو دنیاوی فائدے بہت حاصل ہوتے لیکن میاں سمیع!عمر کا بڑا حصہ صرف ہوچکا۔چند برسوں کے لیے دامن زندگی کو کیا آلودہ کروں ،دعا کروکہ جو گردن ہمیشہ بلند رہی ،بلند رہے گھر کے مصائب نے یہاں تک پہنچایا ورنہ میں اپنے گوشہ عافیت کو فلک نما سے کم نہیں سمجھتا ہوں ۔(مکاتیب شبلی جلد اول ص:۱۰۳۔۱۰۴)
فاضل مصنف کا خیال ہے کہ ’’حیدر آباد میں شبلی کو بڑا عہدہ ملا اس لیے انھیں اپنا معیار زندگی بڑھانا پڑا اور پھر اس کے نتیجے میں ان کی طبیعت میں دنیاداری اور علمی اور ادبی زندگی میں کشمکش شروع ہوگئی ‘‘بطور مثال جو خط نقل کیا گیا ہے اس کی چند سطریں ملاحظہ کریں :
مولوی صاحب روپیہ اور دولت کی قدر مجھ سے زیادہ کسی کو نہیں ،میں کچھ ابراہیم ادہم یا بایزیدنہیں ہوں ،میرا تو رواں رواں دنیا کی خواہشوں میں جکڑا ہوا ہے ،لیکن دنیا کو سلیقہ کے ساتھ حاصل کرنا چاہتا ہوں ،مجھ سے جوڑ توڑ،سازش ،دربارداری ،خوشامد ،لوگوں کی جھوٹی آوبھگت نہیں ہوسکتی‘‘(مکاتیب شبلی حصہ اول ص:۱۸بنام نواب محسن الملک مولوی مہدی علی خاں مرحوم،۱۵،ستمبر ۱۸۹۴)
محمد سمیع کے نام ایک دوسرے خط سے واضح ہوجاتا ہے کہ شبلی حیدر آباد جانانہیں چاہتے تھے یہ مجبوری تھی جو ان کو لے گئی ۔فلک نما پر گوشہ عافیت کو ترجیح دینا معمولی بات نہیں ۔لیکن اس سے کہیں زیادہ وضاحت شبلی کے اس خط سے ہوتی ہے جسے فاضل مصنف نے نظرانداز کردیا ہے ۔عیاں رہے کہ فاضل مصنف نے محمد سمیع کے نام شبلی کا جو خط نقل کیاہے دو خط بعدہی شبلی کا یہ خط بھی تھا ۔اس کے نظر انداز کرنے کی وجوہات کیا ہیں واضح طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
اگر دیہات بک کر قرضہ ادا ہوجاتا تو میں دوہزار پر بھی یہاں کی بلکہ کہیں کی بھی ملازمت نہ کرتا ،میں نے ندوہ میں رہنے کا عزم جازم کرلیا ہے ،دیکھیے یہ آرزو کب پوری ہوتی ہے ۔(مکاتیب شبلی جلد دوم ص:۱۰۶۔۵،فروری ۱۹۰۲)
سید سلیمان ندوی نے حیات شبلی کے آخری صفحات میں شبلی نعمانی کے عادات و اطوار اوران کے شب و روز کے احوال تحریر کیے ہیں ۔میرے خیال سے شبلی کو سمجھنے اور ان کی شخصیت کی تصویر کشی صرف خطوط سے نہیں کی جاسکتی بلکہ سید صاحب نے جو احوال ’’حیات شبلی‘‘ میں تحریر کیے ہیں ان کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا ۔ طبیعت میں دنیاداری کے سبب علمی اور ادبی زندگی میںجس کشمکش کا ذکر گذشتہ سطور میں کیا گیا ہے اسے ثابت نہیں کیاجاسکتا ۔حیات شبلی میں سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں :
اگرمولاناکی آمدنی کا اوسط نکالا جائے تو سو روپیہ ماہوار سے زیادہ نہ ہوگا اوریہ ایک ایسی رقم ہے جو مولانا کے کمالات کے سامنے بالکل ہیچ ہے ،سادہ زندگی کی وجہ سے اگر چہ ان کے ذاتی مصارف کچھ زیادہ نہ تھے تاہم انھوں نے کبھی بد حیثیتی کے ساتھ زندگی بسر نہیں کی ۔ایک دوملازم ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے تھے ،کپڑے متوسط درجے کے پہنتے تھے ،کھانے کے شوقین تھے ،یعنی بدمزہ کھانا وہ کبھی نہیں کھاسکتے تھے ،قلمی کتابوں کا شوق الگ تھا ،ایک ایک کتاب کے سوسواور ڈیڑھ ڈیڑھ سو روپے دے ڈالتے تھے،بڑے بڑے چندے بھی دیتے تھے ،قومی اور علمی کاموں کے لیے اکثر اپنے کرایہ سے سکنڈکلاس میں سفر کرتے تھے ،بلاد اسلامیہ کے سفر کے کل مصارف خود برداشت کیے اور کسی سے اس میں ایک حبہ کی مدد قبول نہیں کی ۔(حیات شبلی،ص:۵۶۶)
معاصرین شبلی اور ندوہ سے متعلق ان خطوط کے حوالے سے جو کچھ لکھا گیا ہے وہ بھی قابل توجہ ہے ۔جن حالات میں مستعفی ہونا پڑا وہ ظاہر ہے البتہ ندوہ سے جو شبلی کا تعلق تھا اور اس کے تئیں ان کی جو محبت تھی وہ کبھی کم نہ ہوئی ۔اسے بھی فاضل مصنف نے اثبات ذات کا جذبہ قرار دیا ہے ۔وہ لکھتے ہیں :
خطوں میں وہ اپنے شاگردوں یا ندوہ کے دوسرے متعلقین کو جن پر ان کااثر تھا ،ندوہ کے منتظمین کے خلاف کارروائی کرنے پر اکساتے ہیں اور قوم کی خیر خواہی اور ندوہ کی اصلاح کا واسطہ دیتے ہیں ۔یہ تو نہیں کہاجاسکتا کہ شبلی کی یہ کارروائی خود غرضی پر مبنی تھی ممکن ہے کہ وہ اسے قومی خیر خواہی اور ندوہ کی اصلاح کے لیے بھی ضروری سمجھتے ہوں لیکن اس تمام جدوجہد میں مرکزی حیثیت اثبات ذات کے جذبہ کو ہی حاصل ہے ۔
(اردو خطوط،ادبی حیثیت ،تاریخ،تنقید اور تبصرہ۔شمس الرحمن۔کتابی دنیا لمٹیڈ دہلی جولائی ۱۹۴۷ء ص:۹۱)
انھوں نے بعض خطوط سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اپنے ہم عصر ادیبوں کے بارے میں جو کلمات شبلی کے خطوط میں ملتے ہیں وہ بھی ’’اثبات ذات کی شدت کا بین ثبوت ہیں‘‘ ۔سخن دان فارس ،حیات جاوید اور ڈپٹی نذیر احمدکی لائف لکھنے والے افتخار عالم سے متعلق خطوںکا حوالہ دیا گیا ہے ۔مہدی افادی کے نام شبلی کا وہ خط بھی شامل کتاب ہے جس میں شبلی نے حیات جاوید سے متعلق کسی سوال کے جواب میں لکھا تھا کہ ’’تم مقلد نہیں مجتہد ہو ۔پھر تقلید کیوں کرو ۔وہ بھی چھوٹی امت کی ‘‘۔حیات جاوید کے بارے میں شبلی کا وہ جملہ تو بہت مشہور ہے کہ جس میں انھوں نے اسے مدلل مداحی کہا ہے ۔بہتر ہوتاکہ شمس الرحمن صاحب شبلی کا وہ خط بھی نقل کردیتے جس میں انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اگر حالی،آزاد ،نذیر احمداور شبلی ایک دوسرے کی سوانح لکھتے تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔شبلی کے خط کی عبارت ملاحظہ فرمائیں ۔
یہ بھی ظلم ہے کہ نذیر احمد افتخار عالم کے حوالہ کیے جائیں ۔یہ بڑی بے دردی ہے ،حقیقت یہ ہے کہ یہ عناصر اربعہ آپ ہی میں ایک دوسرے کے سوانح نگار بنتے تو سوانح نگاری کا حق ادا ہوتا ۔
(مکاتیب شبلی جلد دوم ص:۲۰۰بنام ایم مہدی حسن ۲۵،جنوری ۱۹۴۱ء ۹
شمس الرحمن کی یہ قابل قدر کوشش مکاتیب شبلی کے ابتدائی مطالعوں میں شمار کی جاتی ہے ۔انھوں نے جوکچھ لکھا اس میں ان کا اخلاص اور نیک نیتی کا جذبہ قابل رشک ہے ۔یہ مطالعہ مزید تفصیل اور نظر ثانی کا محتاج تھااس کا اظہار کتاب کے مقدمہ میں سید عابد حسین نے بھی کیا ہے ۔وہ چاہتے تھے کہ اس مطالعہ کو مزید وسعت دی جائے تاکہ خطوط کی روشنی میں صاحب خطوط کی سیرت پوری طرح جلوہ گر ہوسکے ۔
مکاتیب شبلی کا مطالعات میں ایک نام ڈاکٹر شباب الدین صاحب کا ہے ۔انھوں نے اپنی کتاب ’’درالمصنفین کی ادبی خدمات کا تعارف‘‘ (۱۹۸۰تک)میں شبلی کے خطوط کا مطالعہ پیش کیا ہے چونکہ ان کے پیش نظر دارالمصنفین سے شائع کتابیں رہی ہیںاس لیے عطیہ فیضی اور زہرا فیضی کے خطو ط کے مجموعہ ’’خطوط شبلی ‘‘ سے انھوں نے صرف نظر کیا ہے ۔ڈاکٹر شباب الدین نے شبلی کے خطوط کے مطالعہ میں ادبی سروکار سے زیادہ واسطہ رکھا ہے اور ان کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خطوط شبلی کی ادبی شان اور سج دھج غالب سے قریب تر ہے ۔چونکہ غالب کے خطوط کی شہرت بہت زیادہ رہی ہے اوروہ اردو نصابات کا حصہ بھی ہیں اس لیے بالعموم اس حصار سے باہر نکلنادشوار ہے اور اسی لیے جو توجہ خطوط شبلی کے لیے درکار تھی نہیں حاصل ہوسکی ۔خطوط شبلی کی بنیادی خصوصیات کے بارے میں ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں :
شبلی غالب کی آداب و القاب کی پروا نہیں کرتے،سلام و دعا کے فوراً بعد مطلب کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں ،خط مختصر لکھتے ہیں مگر ایجاز واختصار میں مقصد کی وضاحت اور معنی کی وسعت موجود ہوتی ہے ،یہی چیز ان کی مکتوب نگاری کی جان ہے ۔(درالمصنفین کی ادبی خدمات کا تعارف (۱۹۸۰تک ص:۴۲)
ڈاکٹر شباب الدین صاحب نے کثرت سے خطوط کی مثالیں نقل کی ہیں تاکہ قاری متن اساس تنقید سے خود کو قریب رکھ سکے ۔ان مثالوں میں ایک طرف جہاں یہ احساس ہوتا ہے کہ شبلی کے خطوط علمی و ادبی معلومات کا ذخیرہ ہیں تو دوسری طرف ان کے بیان کی دلکشی اور پرقوت اسلوب کی وجہ سے ادب عالیہ کا نمونہ قرار دیے جاسکتے ہیں۔اس مطالعہ کی ایک اور قابل قدر جہت یہ ہے کہ ان سے شبلی کی سرگرم اور فعال زندگی نیز ان کی شگفتہ و شاداب طبیعت کابھی اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ڈاکٹر شباب الدین صاحب بنیادی طور پر ادیب ہیں اور ادب ہی ان کا اوڑھنا اور بچھونا ہے ۔اپنی بھر پور ادبی زندگی میں کسی ادبی تحریک یا گروہ کا حصہ نہیں رہے البتہ ادب کی فعالیت اور سرگرمی سے ضرور واسطہ رکھا اسی لیے ان کے مطالعوں میں یک نوع کی کشادگی اور فعالیت کا عنصر نمایاں ہے۔
فاضل مصنف نے خطوط شبلی کی بے ساختگی ،برجستگی اور اسی تناظر میں بعض ایسے خطوط کا تذکرہ جن کی قرآت سے غالب کے بعض مشہور خطوط کی یاد تازہ ہوجاتی ہے نہایت سلیقہ سے ذکر کیا ہے ۔اس مطالعہ میں انھوں نے یہ نکتہ بھی پیش کیا ہے کہ شبلی کی طبیعت کا اصل رنگ ان کے خطوط میں ہی کھلتا ہے کیونکہ ان کی تصنیفات میں اس کی گنجائش کم تھی ۔وہ لوگوں کو ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہیں لیکن اس ہنسی مذاق میں عامیانہ پن نہیں آنے دیتے ۔نیز خطوط میں شبلی کا طنزیہ لب و لہجہ بہت دلآویز ہے اس میں بلا کی نشتریت اور تیزی ہوتی ہے ۔بہ طور مثال شبلی کے اس خط کا حوالہ دیا گیا ہے جو انھوں نے اپنے دوست مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی کو لکھا تھا۔
’’باوجود اس کے میں اس کمیٹی سے خارج رکھا گیا ہوں ،رسالہ میں مجھ کو دخل نہیں تو کیا مجھ سے دعا گوئی اور طبل نوازی کا کام لینا مقصود ہے ‘‘
ڈاکٹر شباب الدین صاحب نے ان خطوط کو ادبی شہ پاروں کے طور پر دیکھنے او ردکھانے کی کوشش کی ہے اور غیر افسانوی نثر کی خصوصیات کو بہ باطن نمایاں کیا ہے ۔یعنی ان کے زمانی رابطوں اور واقعات کی ترتیب و تصدیق میں مدد لی جاسکتی ہے ۔ چونکہ یہ مطالعہ خالص ادبی بنیادوں پر کیا گیا ہے ۔
اردو مکتوبات پر خواجہ احمد فاروقی کی کتاب’’مکتوبات اردو کا ادبی و تاریخی ارتقا‘‘(اشاعت:۲۰۱۳)بلاشبہ ایک اہم کتاب ہے ۔مرزا رجب علی بیگ سرور سے مولانا آزاد تک کے اہم مکتوباتی رجحانات کا مطالعہ اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے ۔ پانچویں باب میں شبلی کے خطوط پر بحث کی گئی ہے ۔خواجہ احمد فاروقی کا خیال ہے کہ :
وہ الفاروق اور سیرت النبی کے مصنف ضرور تھے لیکن شاعربھی تھے،۔مولویوں میں ضرور رہے لیکن زاہد خشک نہیں تھے ۔مومن کی طرح ان کی زندگی خانوں میں بٹی ہوئی تھی۔…اور حدیث و فقہ کی درس و تدریس اور فرشتوں سے سرگوشیوں کے باوصف آشوب گاہ بمبئی میں اپنے زہد کو عاشقی سے آشنا کردیا ہے ۔
(مکتوبات اردو کا ادبی و تاریخی ارتقا،خواجہ احمد فاروقی ۔ص :۳۸۳۔۳۸۴)
خواجہ احمد فاروقی کے ان جملوں سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ انھوں نے آگے کیالکھاہوگا ۔وہی پوری داستان ’’عطیہ تم کو یاد لکھنؤ ہوگی تو کیوں ہوگی ۔انھوں نے عطیہ فیضی اور زہرا بیگم فیضی کے تناظر میں مہدی افادی،وحید قریشی،مولوی عبدالحق کی آرا سے شبلی کی جو تصویر بنائی ہے وہ کوئی نئی نہیں ہے ۔اس کے بعد ان خواتین کے خطوط کے وہ حصے نقل کیے گئے ہیں جن سے ظاہرہوتاہے کہ شبلی عورتوں میں کس قسم کی قابلیت دیکھنا چاہتے تھے اور ان بہنوں میں ادب و شعر اور تعلیم و سیاست کی کیا کیا خوبیاں پیدا کرناچاہتے تھے ۔واقعتاان خطوط سے ایک روشن خیال شبلی کی تصویر سامنے آتی ہے ۔آزادی کی نصف صدی گزرنے کے بعد وومن امپاور منٹ کا خیال ارباب اقتدار کے ذہنوں میں آیا جبکہ شبلی ایک صدی پہلے عطیہ کو لکھ چکے تھے :
عورتوں کے متعلق تمہاری رائے ہے کہ وہ دنیوی اور معاشی علوم کم پڑھیں اور تم اس کو پسند نہیں کرتیں کہ عورتیں خود کمائیں اور کھائیں لیکن یاد رکھومردوںنے جتنے ظلم عورتوں پر کیے اس بل پر کیے کہ عورتیں ان کی دست نگر تھیں ۔ تم عورتوں کا بہادر اور دیوپیکر ہونا اچھا نہیں سمجھتی ہو لیکن یہ تو پرانا خیال تھا کہ عورتوں کو دھان پان ،چھوئی موئی اور روئی کا گالا ہونا چاہیے ۔جمال اور حسن،نزاکت پر موقوف نہیں تنومندی ،دلیری اور دیوپیکر ی اور شجاعت میں بھی حسن و جمال قائم رہ سکتا ہے ۔مرد نما عورت زنانہ نزاکت سے زیادہ محبوب ہوسکتی ہے ۔(خطوط شبلی ص :۶۶)
یہ خط خواجہ احمد فاروقی نے بھی نقل کیا ہے ۔ان کا خیال ہے کہ شبلی کے سامنے عطیہ فیضی کی حیثیت ایک آئیڈیل خاتون کی ہے ۔اور اسی وجہ سے وہ ہر بات ان کو نہ صرف لکھتے ہیں بلکہ سمجھاتے ہیں ۔پوچھتے ہیں کہ تم نے اپنی زندگی کا مقصد کیا متعین کیا ہے اور اس خواہش کا اظہار بھی کہ تم مشہور عورتوں کی طرح اسپیکر یا لیکچرار بن جاؤ ۔یہ بھی لکھا ہے کہ موقع ملتا تو تمہیں فارسی زبان کی باریکیاں سمجھا دیتا وغیرہ وغیرہ ۔عطیہ فیضی،زہرا بیگم اور بمبئی سے شبلی کی دلچسپی نے ہی لوگوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ ’’شبلی کی حیات معاشقہ‘‘ ترتیب دیں ۔لیکن ان خطوط میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ یک طرفہ کچھ لکھا جاسکے ۔خواجہ احمد فاروقی کے بقول :
ان خطوں کودیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ندوہ کو بمبئی کی دلچسپیوں سے زیادہ اہم سمجھتے تھے ۔اور قومی کاموں کے لیے ہر آرام کو قربان کرنے کے لیے موجود تھے ان کے دل میں اگر چور ہوتا تو وہ ان خطوں کو فاطمہ اور صغری کو نہ سناتے ۔شبلی کی یہ محبت اردو کے مکتوباتی لٹریچرمیں نایاب ہے ۔یہ صحت مند اور فطری ہے ۔اس سے جینے کاحوصلہ بڑھ جاتا ہے ۔(مکتوبات اردو کا ادبی و تاریخی ارتقا،خواجہ احمد فاروقی ۔ص :۴۰۴)
ّٓاس کی تائید شبلی کے مختلف خطوط سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔شبلی عطیہ بیگم کو ایک خط میں لکھتے ہیں :
میں وطن ،احباب،آرام سب چھوڑسکتا ہوں لیکن ایک مذہبی اور قومی کام کیوں کر چھوڑدووں ورنہ بمبئی یا جزیر ہ دوقدم پر تھے ۔
(خطوط شبلی ص:۵۰ ۔۲۸،اپریل ۱۹۰۹ء )
عطیہ فیضی کو ایک اور خط میں لکھتے ہیں :
میں جنجیرہ کے ارادہ سے لکھنؤ سے روانہ ہوچکا ہوں اور دلی آگیاہوں ۔لیکن عبدالکریم جمال (رنگون)۸،ستمبر کو ندوہ دیکھنے کے لیے لکھنؤ آتے ہیں ۔یہیں دلی میں ان کا خط ملا ۔اس ضرورت سے غالباً لکھنؤ واپس جانا پڑے۔وہاں سے سیدھا بمبئی آوں گا(بشرطیکہ اورکوئی اتفاق پیش نہ آیا)۔(خطوط شبلی ص:۸۱ ۔یکم ستمبر، ۱۹۰۹ء)
ایک دوسرے خط میں زہرا فیضی بیگم کو لکھتے ہیں:
اس اثنا میں ،میں نے بہت چاہا کہ بمبئی آؤں لیکن ندوہ کی ضرورتیں ہلنے نہیں دیتیں۔
(خطوط شبلی ص:۱۱۰۔۱۰مئی، ۱۹۰۸ء )
شبلی اور سرسید کی تحریک نیز شخصیت کی ذیلی سرخیوں کے تحت شبلی کے فخریہ انداز کو زیادہ نمایاں کیا گیا ہے ۔خواجہ صاحب نے یہ لکھا ہے کہ ’’شبلی کی یہ انفرادیت تھی کہ وہ علی گڑھ سے مرعوب نہیں ہوئے وہ علی گڑھ اور مغرب کی سطحیت سے نالا ں تھے‘‘ (ص:۴۰۷)شبلی علی گڑھ کی اسلامی شان اور مذہبی جوش کی اپنی کوششوں پر فخر کرتے تھے ۔خواجہ احمد فاروقی نے اس خط کا بھی ذکر کیا ہے جو شبلی نے مولوی محمد سمیع کو علی گڑھ سے لکھا تھا ۔اس خط کا کلیدی جملہ یہی تھا کہ ’’بس خالی کوٹ پتلون کی نمائش گاہ ہے ‘‘۔اس سے انکار نہیں کہ سرسید جب تک حیات تھے شبلی علی گڑھ سے وابستہ رہے ۔ شبلی اور سرسید کے باہمی تعلقات پر بہت کچھ لکھا گیا لیکن اس میں بہت سی باتیں محض زیب داستاں کے لیے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے مخلص تھے اور فکر ونظر کے اختلاف کے باوجود ایک عرصہ تک نہ صرف ساتھ رہے بلکہ باہمی جذبات و احساسات کی قدر بھی کرتے رہے۔ شبلی نے بہت واضح انداز میں لکھا ہے کہ علی گڑھ میں رہنے کے بعد بھی بہت سے معاملات میں میری اپنی رائے تھی اور اس کو کبھی پوشیدہ نہیں رکھا ۔شاکر میرٹھی کے نام ۲۳ستمبر ۱۹۱۲ کو لکھا کہـ:
رائے میں ہمیشہ آزاد رہا ۔سرسید کے ساتھ ۱۶ برس رہا لیکن پولیٹکل مسائل میں ہمیشہ ان سے مخالف رہا اور کانگریس کو پسند کرتارہا اور سرسید سے بارہا بحثیں رہیں ۔
(مکتوبات شبلی ،مرتبہ الیاس الاعظمی ص ۱۸۵)
فاضل مصنف نے لکھا ہے کہ’’ شبلی کے خطوط ان کی سیرت کاآئینہ ہیں ،انھیں اپنی اہلیت کا صحیح احساس تھا ،ان میں عزم و استقلال تھا وہ مصیبتوں میں مسکرا سکتے تھے‘‘ ۔اس ضمن میں حادثہ گزند پا کی مثال پیش کی گئی ہے ۔خواجہ احمد فاروقی نے یہ بھی لکھا ہے کہ شبلی کی سیرت کا اندازہ ان خطوط سے بھی ہوتا ہے جو انھوں نے اپنے معاصرین کولکھا ہے ۔’’یہ شبلی کی شخصیت کے پیچ و خم کو سمجھنے میں کافی مدد گار ہیں‘‘ ۔عیاں رہے کہ اس سلسلے میں بیشتر انھیں خطوط سے استفادہ کیا گیا ہے جن کو شمس الرحمن نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔بہت سی باتوں کو انھوں نے دہرایا بھی ہے جن کا ذکر شمس الرحمن صاحب نے اپنی کتاب میں کیا ہے ۔اضافہ صرف ان خطوط کا ہے جس میں شبلی نے اپنی تصنیفات اور فارسی شاعری کا ذکر کیا ہے ۔خواجہ احمد فاروقی کے مطالعہ کا اہم حصہ ’’شبلی کا اسلوب نگارش‘‘ہے ۔خواجہ احمد فاروقی نے تلمیح،زبان اور محاورے کی چاشنی ،شوخی و شگفتگی اور ظرافت میں متانت کی مثالیں خطوط سے دی ہیں ۔ان خطوط کے مطالعہ سے خواجہ احمد فاروقی اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ :
غالب کا ڈرامائی اندازان کی گردو پیش کی عکاسی اور ان کی ذہنی شگفتگی کی ایک جھلک شبلی کے یہاں بھی ملتی ہے لیکن غالب کی حیثیت مہرنیم روز کی ہے ۔ان کے سامنے بڑے ستارے بھی بے نور ہوجاتے ہیں ۔پھر بھی شبلی کے ترشے ہوئے جملے اور نگینے کی طرح جڑے ہوئے الفاظ اور گفتگو کا مسکراتا ہوا انداز مکتوباتی ادب میں ایک خاص امتیاز رکھتا ہے جو ان کے حسن نظر اور ذوق سلیم کا ثبوت ہے ۔ (مکتوبات اردو کا ادبی و تاریخی ارتقا،خواجہ احمد فاروقی ۔ص :۴۲۱)
مکتوباتی ادب میں شبلی کی ادبی حیثیت سے کسی کو انکار نہیں مگر جس قدر کام ہونا چاہیے تھا نہیں ہوسکا ۔’’مکاتیب شبلی‘‘ کے مرتب مولانا سید سلیمان ندوی نے شبلی کے خطوط کوجمع کرنے کا جو غیر معمولی کارنامہ انجام دیا اس کی جس قدر پذیرائی کی جائے کم ہے ۔وہ خطوط جو کسی وجہ سے ان میں شامل نہیں ہوسکے تھے بعد کے مرتبین نے تلاش و جستجو کے بعد انھیں جمع کیا ۔سید محمد حسنین کا کارنامہ اس لیے اہم ہے کہ انھوں نے مولانا آزاد کے نام شبلی کے تمام خطوط کو نہ صرف جمع کیا بلکہ اشاعت میں یہ اہتمام بھی رکھا کہ کمپوز شدہ صفحات کے بالمقابل شبلی کے خط کا عکس بھی شائع کردیا ۔اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ متن کی وہ کوتاہیاں جو کسی وجہ سے’’ مکاتیب شبلی ‘‘میں راہ پا گئی تھیں از خود درست ہوگئیں ۔ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے ’’مکتوبات شبلی‘‘ میں حواشی کا غیر معمولی اہتمام کیا ہے ۔اس سے نہ صرف مکاتیب کی گمشدہ کڑیاں مربوط ہوگئیں ہیں بلکہ تحقیق و جستجو کا ایک معیار بھی قائم کیا ہے۔ مکاتیب پر کام کرنے والوں کے لیے اس کتاب سے خاصی رہنمائی مل سکتی ہے ۔خطوط شبلی کے کسی بھی مجموعے میں اس طرح کے حواشی کا اہتمام نہیں کیا گیا ہے ۔
ڈاکٹرمحمد الیاس الاعظمی کی کتاب’’آثار شبلی ‘‘(۲۰۱۳)دراصل علامہ شبلی کی نگارشات کامطالعہ و تجزیہ ہے ۔کتاب کے ساتویں باب میں مکاتیب کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے ۔الیاس الاعظمی نے مکاتیب شبلی سے متعلق ضروری معمولات اور اعداد و شمار کے علاوہ ان کا جو تجزیہ کیا ہے اور جس گہرائی سے مکاتیب شبلی کے موضوعات طے کیے ہیں وہ مطالعہ شبلی کا ایک روشن باب ہے ۔اس مطالعہ کی اہمیت یوں بھی دوچند ہوجاتی ہے کہ اس میں خطوط کی تحقیق کے ساتھ ساتھ تنقید کا فریضہ ادا کیا گیاہے ۔انھوں نے سید صاحب کے جمع کردہ خطوط’’مکاتیب شبلی ‘‘کے دونوں حصوں کے مطالعہ کے بعد درج ذیل موضوعات میں تقسیم کیا ہے ۔احوال شبلی،قوم و ملت،تعلیم ،علمی وادبی مسائل،انجمن اور ادارے، حکومتیں، احباب و معاصرین،علمی منصوبے،ادب و انشا،کتابیں،تاریخ وسنہ ۔الیاس الاعظمی نے اس مطالعہ سے یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ:
ان موضوعات و مباحث سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ مکاتیب شبلی واقعی قومی اعمال نامہ ہیںان کے مطالعہ و جائزہ کے بغیرہم عہد شبلی کی تاریخ سے پوری طرح واقف نہیں ہوسکتے۔مستقبل کی تعمیر میں بھی یہ خطوط معاون ہوسکتے ہیں ۔افسوس کہ اس قدر اہم ذخیرے کے مطالعہ کی مثبت انداز میں کوشش نہیں کی گئی اور جن لوگوں نے اس کا مطالعہ کیا وہ ان باتوں کو نظر انداز کرکے علم نفسیات کے زعم میں شبلی کی کردار کشی کے مرتکب ہوئے اس کابڑانقصان یہ ہوا کہ شبلی کے خطوط کا جس قدر مطالعہ اور استفادہ ہونا چاہیے تھا نہ ہوسکا ۔(آثار شبلی ،ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی ص:۶۰۸)
فیضی بہنو ں کے نام شبلی کے خطوط کا ذکر الیاس الاعظمی نے الگ سے کیا اور ان غلط فہمیوں کا تدارک بھی کیا گیا ہے جو مولوی عبدالحق کے مقدمے سے پیدا ہوئی تھیں ۔ان خطو ط کے مطالعہ سے حسن و عشق کے تصور کے بجاے خواتین کی بیداری کا تصور سامنے آتا ہے ۔رفقائے سرسید میں شبلی واحد رفیق تھے جو عورتوں کی تعلیم کے خواہاں تھا ۔شبلی کی سیمابیت اور بے چین رہنے والی طبیعت کو ’’علم نفسیات‘‘ کے ماہرین نے نہ جانے کیا سمجھ لیا۔الیاس صاحب نے درست تجزیہ کیاہے :
لیکن اس میں (خطوط )جوسب سے اہم چیز شبلی کے قلم سے نکلی ہے وہ تعلیم نسواں اور اس کے مسائل ہیں ۔عورتوںکی علمی وتعلیمی ترقی کے سلسلے میں علامہ شبلی جو انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے اور جن بنیادوں پر چاہتے تھے وہ تمام خیالات تقریباً اس میں موجود ہیں ۔(آثار شبلی ص:۶۱۱)
آثار شبلی میں ’’خطوط شبلی ‘‘کے جن موضوعات کا ذکر کیا گیا ہے ان میں املا اور صحت زبان،خواتین کے مسائل ،تذکرہ کتب، ذکر ندوہ ،عطیہ و زہرا کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل،فارسی زبان و ادب ،موسیقی ،مصوری ،خطابت،دیگر موضوعات ۔اس سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ شبلی کے مکاتیب کے مطالعہ میں کس قدر بے راہ روی اور سہل انگاری سے کام لیا گیا ہے ۔الیاس الاعظمی نے موضوعات کے تعین کے ساتھ ساتھ خطوط سے مثالیں بھی نقل کردی ہیں ۔مولوی عبدالحق کا وہ مقدمہ کابھی تجزیہ اسی بنیاد پر کیاگیاہے کہ انھوں نے ان خطوط میں صرف خلوص و محبت کی نشاندہی کی ہے اور طویل مقدمہ میں ان اہم موضوعات کو نظر انداز کردیا جس کا ذکر ضروری تھا ۔ادب و انشا اور تذکرہ کتب کا ذکر تو ضروری تھا متعدد خطوط میں یہ چیزیں موجود ہیں لیکن بابائے اردو کی نگاہ میں یہ چیزیں اس قابل نہیں تھیں کہ انھیں بیان کیا جاتا ۔الیاس الاعظمی نے مولوی صاحب کے بارے میں لکھا ہے :
خطوط کی دریافت،املا اور طرز تحریر پر کسی قسم کی اطلاع فراہم نہیں کی ۔مقدمہ میں خطوط کے اقتباسات نقل کرنے میں بھی ترتیب زمانی کا لحاظ نہیں رکھا اور جو افسانہ سنایا اس کے دلائل میں تقدیم و تاخیرکا بھی خیال نہیں کیا ۔درمیان سے اقتباسات نقل کرکے کچھ کا کچھ مفہوم نکالا۔دوسرے لفظوں میں ایمانداری اور دیانت سے کام نہیں لیااور اگر وہ ایسا کرتے تو یقینا وہ فرضی داستان نہ سنا پاتے جو انھوں نے سنائی ۔(آثار شبلی ص:۶۲۷)
ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی خطوط کے پورے سرماے بطور خاص مولوی عبدالحق کے مقدمہ کا علمی بنیادوں پر جائزہ لیا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے ڈاکٹر ابن فرید اور ڈاکٹر محمد یامین عثمان کی تحریروں کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ڈاکٹر ابن فرید نے فکر و نظر علی گڑھ کے شبلی نمبر میں اس پورے قضیے پر نہایت عالمانہ اورمحققانہ مضمون لکھا تھا ۔انھوں نے لکھا تھا کہ مولوی عبدالحق کے مقدمہ نے سب سے غلط جو تاثرپیدا کیا وہ یہ کہ’’ شبلی کی پبلک لائف اور پرائیویٹ لائف کے سلسلے میں متجسسانہ کوششیں شروع ہوگئیں ‘‘اس سے کس کو انکار ہے کہ شبلی کے یہ خطوط مکتوباتی ادب میں صرف نظر نہیں کیے جاسکتے ۔غالباً اسی لیے الیاس صاحب نے انھیں لازوال ادب پاروں میں شمار کیا ہے ۔
شبلی کے خطوط کو جمع کرنے کا سب سے پہلے خیال سیدسلیمان ندوی کے ذہن میں آیا ۔انھوں نے مکاتیب شبلی کے حصہ اول میں ایک مختصر سا دیباچہ لکھا ہے :
میں نے صرف ان خطوط کا انتخاب کیا ہے ،جن میں یا تو مولانا کے ذاتی سوانح کا کوئی واقعہ ظاہر ہوتا ہے ،یا ان میں کسی علمی،اصلاحی اور قومی مسئلہ کا ذکر ہے ،یا انشاپردازی کا ان میں کوئی نمونہ موجود ہے ،ان ہی اصول ہائے ثلاثہ کی رہبری سے ہزاروں خطوط کے انبار سے یہ چند دانے چھانٹ کر الگ کیے گئے ہیں ،ورنہ ایک سچے مومن کے نزدیک تو قرآن کی سب سورتیں برابر ہی ہیں ۔(مکاتیب شبلی حصہ اول ص:۱۲)
دیباچے میں انھوں نے علامہ شبلی کی خطوط نویسی کی چھ (۶)اہم خصوصیات کا ذکر کیا ہے ۔ دیباچے کی جامعیت سے کسی کو انکار نہیں اور جو خط سید صاحب نے جمع کیے ہیں وہ بھی نہایت اہم ہیں بلکہ ’’حیات شبلی ‘‘کی تالیف میں ان کی حیثیت بنیادی مآخذ کی ہے لیکن علامہ کے خط سے ہی لوگوں نے کردار کشی کا جو محل تعمیر کیا تھا اس سے صرف نظر کیوں کر کیا گیا ۔ضرورت تھی کہ سید صاحب تفصیل سے ان خطوط کے تناظر میں مکاتیب کا دیباچہ لکھتے تاکہ وہ غلط فہمیاں جو بعد میں پیدا کی گئیں یا ہوئیں نہ ہوتیں ۔خطوط شبلی کو صرف دو بہنوں تک محدود کرنا بہت بڑی زیادتی ہے ۔جیسا کہ شروع میں عرض کیا جاچکا ہے ان خطوط میں اپنے عہد اور زمانے پر مکالمہ ہے ۔جدید و قدیم تعلیمی نصاب کی صورت گری اور شبلی کے موقف کا اندازہ انھیں خطوط سے ہوتاہے ۔شبلی ندوہ کو کیا بنانا چاہتے تھے اور کن خطوط پر وہ کام کرنے کے آرزو مند تھے خطوط ہی بتاتے ہیں ۔اعظم گڑھ اور اپنے شاگردوں کو وہ تعلیمی ترقی کی کن منازل سے ہمکنار کرنا چاہتے تھے اس کی تفصیل ان خطوط میں دیکھی جاسکتی یہ ۔سیرت النبی اور شعرالعجم کی تالیف کے دوران کون کون سی کتابیں ان کے پیش نظر رہیں اور کن کتابوں کی تلاش کے لیے اپنے احباب کو خط لکھتے ہیں مکاتیب سے پتاچلتا ہے ۔علوم اسلامیہ کے باب میں مستشرقین کی خدمات اور ان کے کارنامے کو شبلی کس نگاہ سے دیکھتے تھے اس کی ایک جھلک ان خطوط میں دیکھی جاسکتی ہے ۔شبلی کے خطوط سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ندوہ میں الدروس الاولیہ کو نصاب میں شامل کرناچاہتے ہیں پھر اس کی تدریس کے لیے مولانا حمید الدین فراہی کو راضی کررہے ہیں ۔ان کے لیت و لعل اور عدم دلچسپی پر ان سے سخت برہمی کا اظہار خطوط میں ہی کرتے ہیں ۔۱۹۰۴ء میں جب شبلی کو ندوۃ العلماء میں نصاب کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا تو اس نصاب میں جہاں انگریزی زبان ضروری قرار دی گئی وہیں دروس الاولیہ بھی شامل نصاب کی گئی ۔اس کتاب کی تدریس کے لیے شبلی نے متعدد خطوط مولانا حمید الدین فراہی کو لکھے ۔اس کے باوجود فراہی صاحب ندوہ نہیں آسکے بلکہ وہ اعظم گڑھ چلے گئے۔اس پر شبلی ان کو لکھتے ہیں :
یہاں مدت سے غلغلہ تھا کہ تم رخصت لے کر آتے ہو اور دروس الاولیہ پڑھادو گے ،تمہارے بھی متعدد وعدہ ہوچکے تھے سب کو انتظار تھا بلکہ مستقبل قیام کی توقع تھی ،اب تم نے اپنے وعدے پر میری ضمانت و اعتبار پر،طلبہ کی امید پر ،قومی کام پر،ان سب باتوں پر ،بچوں کی طرح گھر کے قیام کو مقدم رکھا اور کہا کہ وہیں کوئی لڑکا چلے اور تم پڑھا دو افسوس صد افسوس ۔ …کوئی کام اٹکا نہیں رہتا،خدا مسب الاسباب ہے ،لیکن تم سے جو امیدیں تھیںان کاخاتمہ ہوچکا،میرے بست سالہ حقوق کے مقابلہ میں تم ایک مہینہ نہ دے سکے ۔(مکاتیب شبلی،جلد دوم،ص:۲۰۔۲۱ اشاعت۲۰۱۲)
کتاب کا پورا نام الدرس الاولیہ فی لفلسفہ الطبیعہ ہے ۔یہ کتاب عیسائی مصنفہ الن جیکسن کی عربی تصنیف ہے۱۸۸۲ میں اس کا دوسرا اڈیشن شائع ہوا ۔ہندستان میں بالعموم یہی دوسرا ایڈیشن لائبریریوں میں دستیاب ہے ۔کتاب کا موضوع سائنسی علوم اور ایجادات ہے ۔یہ زمانہ سائنسی علوم کی ابتدا کا ہے ،شبلی کی اس کتاب سے واقفیت اور ندوۃالعلماء کے نصاب میں اس کی شمولیت دراصل ان کی ذہنی بلند پروازی کی غماز ہے ۔مگر بوجوہ یہ کتاب ندوہ میں رائج نہ ہوسکی ۔
خطوط سے شبلی کی نئی علوم پر دسترس اور زمانے سے بہت آگے غور و فکر کا اندازہ ہوتاہے ۔مختلف علوم و فنون سے ان کی دلچسپی کی غمازی یہی خطوط کرتے ہیں مگر اس طرح کے خطوط اکثر نظر انداز کردیے گئے ۔اور بالعموم ایک خاص دائرے میں ہی شبلی کے خطوط کا مطالعہ کیا جاتا رہا ہے ۔اس دائرہ کی سربراہی کا سہرا مولوی عبدالحق کے سر جاتا ہے ۔بعد کے زمانے میں شبلی کے سوانح نگاروں نے شبلی کی سوانح اور سیرت کے لیے ان کو اصل مآخذ قرار دے کر شبلی کی دلچپ تصویر بنائی ۔اور ایک صدی کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہم اسی دائروں میں شبلی کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
یہ شبلی کی بد قسمتی کہی جائے یا اس معاشرہ کی جو اپنی شخصیات کے جو ہر سے آشنا نہیں ہوپاتا ۔مکاتیب شبلی کی بو قلمونی اور ان کی حیرت انگیز جہات پر ابھی تک غور و فکر کا باقاعدہ سلسلہ ہی نہیں شروع ہوسکا ہے ۔ضرورت ہے کہ شبلی کے خطوط کا متعینہ دائروں سے نکل کر مطالعہ کیا جائے ادر عربی و فارسی کے مصادر کتب اور علمی شخصیات کے ساتھ کے ساتھ ساتھ ان خطوط کی ادبی اور علمی حیثیت کو واضح کیا جائے ۔ شبلی نہ صرف اپنے عہد بلکہ ماقبل و مابعد کی کئی صدیوںپر نگاہ رکھتے تھے ۔ایسے دور بیں کے مطالعہ کے لیے صرف کتابوں اور ظاہری رسومیات پر نظر رکھنے سے کچھ حاصل نہیں کیاجاسکتا بلکہ یہ اپنے ہی خول میں چکر لگانے کے مترادف ہوگا ۔ان خطوط کے مطالعہ کے لیے وسعت فکر ونظردرکار ہے ۔
آثار شبلی محمد الیاس الاعظمی دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ ۲۰۱۳
اردو خطو ط ادبی حیثیت ،تاریخ ،تنقید اور تبصرہ ،شمس الرحمن (بی اے جامعہ ) کتابی دنیا لمٹیڈ ۔دہلی جولائی ۱۹۴۷
خطوط شبلی بنام آزاد سید محمد حسنین بہار اردو اکادمی پٹنہ ۱۹۸۸
خطوط شبلی (بنام عطیہ بیگم صاحب فیضی وزہرابیگم صاحب فیضی) مولوی محمد امین صاحب زبیری (مرتب) ۱۹۲۶
مکتوبات شبلی ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی (مرتب)ادبی دائرہ اعظم گڑھ دسمبر ۲۰۱۲
مکاتیب شبلی ،سید سلیمان ندوی (مرتب)حصہ اول ،دوم ۔دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ
حیات شبلی ،سید سلیمان ندوی دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ
مکتوبات اردو کا ادبی و تاریخی ارتقا،خواجہ احمد فاروقی ۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان
ماہنامہ نقوش محمد طفیل (مرتب )لاہور نومبر ۱۹۵۷
ڈاکٹر عمیر منظر
اسسٹنٹ پروفیسر ،شعبۂ اردو
مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی۔لکھنؤ کیمپس
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

