ناز قادری شعر وادب کی دنیا میں ایک معتبر نقاد، محقق اور شاعر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ درجنوں تحقیقی، تنقیدی اور شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ حالیہ شعری مجموعہ ’صحرا میں ایک بوند‘ کے مطالعے سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس صحرا نوردی میں ان کا اپنا وجود کتنا لہو لہان ہوا ہے۔ ٹوٹنے اور بکھرنے کا یہ سلسلہ دو ایک روز کی کہانی نہیں، بلکہ نصف صدی کی داستان ہے۔ اس صحرا میں وہ خود کو جھلساتے رہے ہیں، جہاں سر پہ کوئی سایۂ ابرِ بہار نہیں، سفر میں کوئی شجرِ سایہ دار نہیں، چلنا مدام چلنا گِر گِر کے سنبھلتے رہنا جیسے زندگی کا معمول بن گیا ہو۔
زندگی کے انھیں دیگر گوں حالات وحادثات سے انہوں نے جو تجربے حاصل کئے۔ وہ تجربہ ان کی شاعری میں ایک عجیب قسم کی وجدانی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ ان کی شاعری میں بے چینی اور انتشار کی جو کیفیت ہے اور اس کیفیت کو جس ہنرمندی اور مشّاقی کے ساتھ انہوںنے پیش کیا ہے وہ نہ صرف ان کے تخلیقی قوتِ اظہار کو سامنے لاتی ہے، بلکہ ہمیں وہ ایسی چشمِ بصیرت بھی عطا کرجاتی ہے۔ جس سے ہم ذات وکائنات کا عرفان حاصل کرسکتے ہیں اور زندگی کے مسلّمات کو بہت قریب سے محسوس بھی کرسکتے ہیں۔
افکار واظہار کے درمیان تخلیقیت جس دانشوری اور حساسیت کا تقاضا کرتی ہے اس پر اگر شاعر کی گرفت مضبوط نہ ہو، یا اس کے اندر وہ فنکارانہ صلاحیت نہ ہو تو وہ شعری تخلیقات بے اثر اور بے جان ثابت ہوگی، لفظوں کا محض گورکھ دھندہ ہوگا۔ فکر وفن کے مابین توازن قائم رکھنا اسلوب ومعنی کے پُرخار وادیوں سے گزر جانا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں، لیکن ناز قادری کے بیش تر اشعار یہ باور کراتے ہیں کہ نازؔ قادری کے اندر وہ فنکارانہ صلاحیت موجود ہے۔ وہ اپنے احساسات وکیفیات کو، اپنے افکار وتخئیلات کو ایک جمالیاتی سج دھج کے ساتھ اس پُرخار وادی سے نکال لانے میں بے حد کامیاب نظر آتے ہیں۔ پوری شاعری کا آپ جائزہ لیں تو ایک قسم کی خود اعتمادی آپ محسوس کریں گے جس کا احساس خود شاعر کو بھی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ’صحرا میں ایک بوند‘ کے عنوان سے انہوں نے اپنے مجموعے کو قارئین کے حوالے کیا، وہ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ محض ایک بوند سے صحرا سیراب نہیں ہوسکتا، لیکن اس کے وجود سے صحرا کی صحرائی میں ایک ہلچل ضرور پیدا کی جاسکتی ہے۔ جس طرح جگنو بھر اجالا اندھیرے کا سینہ چیر دیتا ہے، اسی طرح بوند اور بوند کی نمی سے صحرے کی تشنگی اور اس کی حدّت کا کلیجہ بھی شق ہوسکتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو اس بوندکا وجود کتنا مستحکم اور پائیدار ہوگیا ہے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مجموعے کے پہلے صفحہ پر جو شعر درج ہے وہ ان کی خود اعتمادی کو جلا بخشتا ہے:
جامِ غزل سے ٹپکی ہے صحرا میں ایک بوند
طوفاں بہ کف ہے دشتِ تمنا میں ایک بوند
ان کی شاعری کا ابتدائی زمانہ نہایت ہنگامہ خیز رہا ہے، چوں کہ وہ زمانہ ترقی پسندوں کے زوال کا اور جدید رجحان کے آغاز کا زمانہ تھا، ایک جانب ترقی پسند حضرات اپنے وجود کی بقا کے لیے جد وجہد کررہے تھے تو دوسری جانب جدید شعرا اپنی حیثیت منوانے اور اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں مصروف تھے، ایسے ہنگامی ماحول میں کسی شاعر کے لیے ایک متوازن اور معتدل راہ اختیار کرنا بہت مشکل تھا۔ نازؔ قادری کی شاعری میں اعتدال کی یہ راہ صاف طور پر محسوس کرسکتے ہیں، انہوں نے کبھی کسی نظریئے اور تھیوری سے بندھ کر شاعری نہیں کی۔ ان کی شاعری میں زندگی کو کئی زاوئیے سے دیکھنے اور پرکھنے کا تجربہ ملتا ہے، وہ زاویۂ نگاہ کسی مخصوص نظریئے سے کمیٹیڈ نہیں ہے۔ ان کا کمٹ منٹ زندگی سے ہے اور زندگی کے صالح اقدار سے ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں درخت [راشد انور را شد کا شاعرانہ اجتہاد]- ڈاکٹر صفدر امام قادری)
ان کی شاعری میں جو کرب ابھر کر سامنے آتا ہے یا یوں کہیں کہ افکار کے جو کلیدی عناصر ہیں یعنی وقت کی ستم ظریفی، زمانے کی سفاکی، انسان کی بے چہرگی، انسانی عظمت کا زوال، اذیت ناک لمحوں کا کرب اور فکری انتشار کی کئی جہتیں، کئی پرتیں اور کئی صورتیں سامنے آتی ہیں۔ آئیے چند اشعار ملاحظہ کرتے چلیں تاکہ مذکورہ باتوں کی صداقت سامنے آسکے:
زوالِ عظمت انسان کا مرثیہ ہوں میں
سرِ کشیدہ پہ دستارِ بے انا ہوں میں
نواحِ ذہن میں ہر سو دھندلکا ہی دھندلکا ہے
یہ کیسا ابر چھایا ہے خیالاتِ پریشاں پر
اذیت کی کہانی نقش ہے آنکھوں کے داماں پر
لہو کا عکس روشن ہے ابھی تک بابِ زنداں پر
نہ کوئی عکس منوّر نہ منظرِ خوش رنگ
یہ کیسے خواب کے بستر پہ سورہا ہوں میں
یہ پاش پاش تمنا یہ ریزہ ریزہ حیات
لٹا لٹا سا کوئی قافلہ لگے ہے مجھے
جو کچھ تھا سب سراب تھا جو کچھ ہے سب فریب
یہ زندگی تو خواب کا منظر دکھائی دے
روز و شب سہتے رہے ٹوٹتے لمحوں کا عتاب
کوئی خنجر سا قریب رگِ جاں تھا پہلے
ہزار دفتر معنٰی کھنگال ڈالے نازؔ
مگر کہیں بھی کوئی حرفِ اعتبار نہ تھا
میں نے زندگی کے حوالے سے جن کلیدی عناصر کی طرف اشارہ کیا ہے مرقوم اشعار میں آپ ان کی سچائیاں تلاش کرسکتے ہیں۔ آج کے انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ ایقان کے کسی منزل پر کھڑا نظرنہیں آتا، ہر طرف بے یقینی اور لا اعتباری کا ایک ایسا دھند چھایا ہواہے، جہاں خود اس کا اپنا چہرہ بھی دھندلا کر رہ گیا ہے۔ اس کے سامنے نہ کوئی عکس منور ہے اور نہ ہی کوئی خوش رنگ منظر ہے جو اس کی آنکھوں کا یا اس کے دل کا بھرم قائم رکھ سکے، جہاں اس قدر غیر یقینی صورتحال ہو وہاں ہمارے ایقان اور اعتبار کا پاش پاش ہوکر بکھر جانا غیر فطری نہیں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انسانی حیات ریزہ ریزہ ہوکر کچھ اس طرح بکھر چکی ہے کہ اس کا سمٹنا بھی ابر محال لگتا ہے۔ انسانی اذہان میں بے یقینی کا ابر ایسا چھایا ہوا ہے کہ اسے کوئی معتبر نظر نہیں آتا۔ آج کا انسان ایسے ہی ٹوٹتے بکھرتے لمحوں کا عذاب جھیلنے کو مجبور ہے۔ شاعر اپنے گرد وپیش کے ماحول سے اور خود اپنی ذات سے برسرِ پیکار نظر آتا ہے کہ کسی بھی طور ہمارا کھویا ہوا اعتبار دوبارہ بحال ہوجائے۔ اس لیے شاعر ایک عزم نو کے ساتھ اپنے پائے شوق بڑھانا چاہتا ہے اور ایقان کی منزل پر پہنچ کر ثابت قدم رہنا چاہتا ہے۔ شاعر ایسے حالات سے، سیاہ رات سے اور مہیب سناٹے سے گھبراتا نہیں بلکہ اس سیاہ رات کے سناٹے میں وہ روشن قدروں کا چہرہ تلاش کرنا چاہتا ہے جو اس کی اصل پہچان ہے۔
نازؔ قادری کے یہاں جو خلش ہے، جو تڑپ ہے وہ ان کی دردمندی اور اخلاص کی وجہ سے ہے، وہ ایک حساس فنکار ہیں ان کے پاس چشم بصارت بھی ہے اور چشمِ بصیرت بھی ہے۔ لہٰذا ان کا ضمیر انھیں جھنجھوڑتا ہے، بے چین رکھتا ہے جس کا اظہار وہ یوں کرتے ہیں۔
فصیل وقت سے آواز دے رہا تھا کوئی
کہ ریزہ ریزہ فضا میں بکھر گیا وہ شخص
زندگی تو نے ہمیں اور بھی مقروض کیا
جب بھی ہم لوگ ترا قرض چکانے نکلے
ہماری ذات کا رشتہ پرائے درد سے تھا
کبھی کسی کے لئے اشک بار ہم بھی تھے
ہم اہلِ فن کے لئے ذات و کائنات کا ربط
طلسم رشتۂ لوح و قلم سے کیا کم ہے
میں اپنے آپ سے آگے نکل سکا نہ کبھی
مرا وجود میرے راستے کا پتھر تھا
شاعر زندگی کے آئینے میں اعلیٰ قدروں کا چہرہ مسخ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے جس کا اظہار ان کی شاعری میں نہایت سنجیدگی کے ساتھ ہوا ہے۔ ایک حساس فنکار اپنے عہد کی سچائیوں کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ہی عصری تقاضوں سے منہ پھیر سکتا ہے۔ آپ یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ نہایت دیانت داری اور ذمے داری سے اپنی بات کہتے ہیں اور اشعار کے ذریعہ ہمارے دل ودماغ کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ فکر اور فن دونوں اعتبار سے ان کی شاعری میں یہ دم کھم ضرور ہے کہ آپ متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ان کی شاعری سے دعوتِ فکر وعمل کا احساس جگتا ہے ایسی شاعری محض لطف اندوزی اور تفنن طبع کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اس کا ایک واضح مقصد ہوتا ہے، صالح اقدار وافکار کا تحفظ ہی ان کے مقصد کا نصب العین ہے۔ ان کی شاعری میں مقصدیت تو ہے مگر کہیں بھی مقصدیت پر فن کو قربان نہیں کیاگیا، کہیں واعظانہ اور خطیبانہ لہجہ سامنے نہیں آتا، انہوں نے اپنی پوری شاعری میں فنی لوازمات اور فنی محاسن کا خاص خیال رکھا ہے۔ ان کے یہاں لفظوں کے ذریعہ جو مصوری یا پیکر تراشی ہوئی اس کی امیجری یعنی ایک حرکی پیکر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ تشبیہات اور استعارات کے اندر جو تخلیقی تخیّل ہے اور اس تخیّل کی جو بلند پروازی ہے اس سے اشعار کے اندر ایک قسم کی معنوی تہہ داری پیدا ہوگئی ہے۔ بے تکلفی اور سادگی نے ان کی شاعری کا حسن دوبالا کردیا ہے، کہیں ژولیدگی، پیچیدگی اور گاڑھی علامت کا کوئی گزر پوری شاعری میں نہیں ہے اور شاید یہی ان کی شاعری کا اختصاص بھی ہے۔ لب ولہجے کے سوز وگداز سے ان کی شاعری کے اندر ایک قسم کی وجدانی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر جس خیال کو چاہتا ہے اپنی گرفت میں لے کر شعر کے قالب میں ڈھالتا چلا جاتا ہے۔ الفاظ کے رکھ رکھائو میں وہ بہت محتاط نظر آتے ہیں، ان کے یہاں ایک قسم کی نرمیت اور ملائمیت کا احساس ہوتا ہے اس لیے ان کے یہاں لہجے کا سُر کہیں بھی بلند یا کرخت نہیں ہوتا، جس سے ان کی شاعری میں ایک رومانوی فضا قائم ہوجاتی ہے۔
المختصر موجودہ عہد یا موجودہ صورتحال میں ان کی شاعری یقینا ’صحرا میں ایک بوند‘ کی حیثیت رکھتی ہے ، مگر اس بوند کے وجود کو کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ایسے حالات میں ہمیں تو ’صحرا میں ایک بوند‘ ہی کافی ہے سیرابی کے لیے۔
٭٭٭
شعبۂ اردو، ڈی ایس کالج، کٹیہار
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

