اسلام کے بعد جو چند اصطلاحات بہت زیادہ رائج ہوگئی ہیں ان میں سے ایک ‘نفاق’ ہے _ اس اصطلاح کا موجودہ دور میں بہت غلط استعمال ہونے لگا ہے ، اس لیے اس کی تھوڑی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے _
نفاق’ کا لفظ ایک دوسرے لفظ ‘نافقاء’ سے ماخوذ ہے ۔ نافقاء چوہے ، گوہ یا لومڑی کے بِل / بھٹ کو کہتے ہیں ہے ۔ یہ جانور اس میں دو منھ رکھتے ہیں _ انہیں جب ایک طرف سے پکڑے جانے کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو دوسری طرف سے نکل بھاگتے ہیں ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لفظ ‘نفاق’ دوسرے لفظ ‘نَفَق’ سے ماخوذ ہے ، جس کا مطلب ہے سرنگ ، جس میں انسان وقتِ ضرورت چھپ جاتا ہے ۔ شرعی اصطلاح میں نفاق کا مطلب ہے زبان سے اسلام کا اظہار و اقرار کرنا اور دل میں کفر و شرک چھپائے رکھنا ۔ اس عمل کو نفاق اس لیے کہا گیا ہے ، کیوں کہ ایسا کرنے والا شخص ایک دروازے سے اسلام میں داخل ہوتا ہے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتا ہے ، یا یہ کہ وہ اپنی حقیقت چھپا کر رکھتا ہے _ یہ نفاق کی اعتقادی قسم ہے _ نفاق کی دو قسمیں کی گئی ہیں : اعتقادی اور عملی _ اعتقادی نفاق کو بدترین نفاق قرار دیا گیا ہے _ اس میں مبتلا لوگوں کو جہنم میں بدترین سزا کی وعید سنائی گئی ہے _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
اِنَّ الْمُنٰٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (النساء : 145)
” یقیناً منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے ۔ “
ایسے لوگوں کو اللہ کے ساتھ دھوکہ کرنے والا کہا گیا ہے _ قرآن مجید میں ہے :
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ ھُوَ خَادِعُھُمْ) (النساء : 142)
” یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ، حالاں کہ درحقیقت اللہ ہی نے انھیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔“
نفاق کی دوسری قسم عملی نفاق کی ہے _ اللہ کے رسول ﷺ نے بعض بُری خصلتوں کو منافقانہ خصلتیں قرار دیا ہے اور اہلِ ایمان کو ان سے بچنے کی تاکید کی ہے _آپ نے فرمایا ہے :
”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں وہ پکّا منافق ہوگا اور جس میں ان چار میں سے ایک خصلت ہو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی ، یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے ۔ وہ چار خصلتیں یہ ہیں : (۱) جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے ۔ (۲) جب بات کرے تو جھوٹ بولے ۔ (۳) جب کوئی عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے (۴) اور جب کسی معاملے میں جھگڑا کرے تو گالم گلوچ پر اتر آئے ۔ “ ( بخاری : 34 ، مسلم: 58)
نفاق کے بارے میں دینی نقطۂ نظر سے درست رویّہ کیا ہے؟ اس کی وضاحت بعض احادیث سے ہوتی ہے _ اس سلسلے میں دو احادیث پیش کی جاتی ہیں :
(1) اللہ کے رسول ﷺ کا معمول تھا کہ جب آپ کسی غزوہ کے لیے نکلنا چاہتے تو پہلے سے صحابہ کو اس کی اطلاع دے دیتے تھے ، تاکہ انہیں تیّاری کا موقع مل جائے _ لیکن جب صلحِ حدیبیہ کے بعد مشرکینِ مکہ کی بدعہدی کی وجہ سے آپ نے مکہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے اس منصوبہ کو انتہائی خفیہ رکھا _ ایک صحابی (حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ ، جو غزوۂ بدر میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے _ ) نے اپنی بعض ذاتی مصلحتوں سے مشرکینِ مکہ کو اس کی خبر کردینے کے ارادے سے ایک خاتون ہرکارہ کو اپنے خط کے ساتھ بھیجا _ اللہ کے رسول ﷺ کو وحیِ الٰہی سے اس کی خبر ہوگئی _ آپ نے بعض صحابہ کو بھیج کر اس خط کو برآمد کروالیا _ حضرت حاطب خدمتِ نبوی میں بلائے گئے _ ان کا یہ عمل ، ظاہر ہے ، اسلامی کاز کو نقصان پہنچانے والا اور اسلامی ریاست سے بغاوت کے مترادف تھا _ چنانچہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ طیش میں آگئے _ انھوں نے غصّے سے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ ! اجازت دیجیے ، میں اس منافق کی گردن اُڑادوں _ اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا :
وما يدريكَ لعلَّ اللهَ اطَّلَعَ على هذِهِ العصابَةِ مِنْ أهْلِ بدْرٍ فقال : اعملُوا ما شِئْتُمْ فقد غفَرْتُ لَكُم( بخاري :3007 مسلم : 2494)
” تمہیں کیا خبر _ اللہ تعالیٰ کو غزوۂ بدر میں حصہ لینے والوں کے دلوں کا حال خوب معلوم ہے _ اس نے ان کے بارے میں کہہ دیا ہے کہ جو چاہو کرو ، میں نے تمہیں معاف کردیا ہے _”
(2) حضرت حنظلہ بن ربیع الاُسیدی رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ احساس ہوا کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کی مجلس میں رہتے ہیں تو ان کے دل نرم رہتے ہیں _ آپ جنت و جہنم کا تذکرہ کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، لیکن جب اپنے بیوی بچوں کے درمیان میں ہوتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں _ دل کی کیفیت کبھی کچھ ہوتی ہے ، کبھی کچھ _ یہ تو نفاق کی علامت ہے _ گھبرا گئے _ فوراً خدمتِ نبوی کی طرف چل پڑے _ زور زور سے بولتے جاتے تھے : حنظلہ منافق ہوگیا ، حنظلہ منافق ہوگیا _ راستے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی _ انھوں نے دریافت کیا : کیا ماجرا ہے ؟ حضرت حنظلہ نے تفصیل بتائی تو انھوں نے کہا : یہ کیفیت تو میری بھی رہتی ہے _ دونوں اللہ کے رسول ﷺ سے ملنے کے لیے چل پڑے _ خدمت میں حاضر ہوکر حضرت حنظلہ نے اپنی کیفیت بیان کی تو آپ نے انہیں تسلی دی اور فرمایا :
وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ إنْ لو تَدُومُونَ علَى ما تَكُونُونَ عِندِي ، و في الذِّكْرِ ، لَصَافَحَتْكُمُ المَلَائِكَةُ علَى فُرُشِكُمْ و في طُرُقِكُمْ ، وَلَكِنْ يا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ (مسلم : 2750)
” اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے _ اگر تمھاری جو کیفیت میرے پاس رہتے ہوئے ہوتی ہے وہی یہاں سے جانے کے بعد بھی رہے اور تم ہر وقت ذکر کرتے رہو تو فرشتے تمھارے بستروں پر اور تمھارے راستوں میں آکر تم سے مصافحہ کریں ، لیکن اے حنظلہ ! انسان کے دل کی کیفیت بدلتی رہتی ہے _ کبھی کچھ ہوتی ہے ، کبھی کچھ _ ( یہ جملہ آپ نے تین بار دہرایا _)
مذکورہ بالا دونوں احادیث سے ایک اہم دینی اصول مستنبط ہوتا ہے _ وہ یہ کہ نفاق کے معاملے میں ہمیں بہت حسّاس ہونا چاہیے اور خوب چوکنّا رہنا چاہیے ، لیکن اس حسّاسیت کا رخ دوسروں کے بجائے ہماری اپنی ذات کی طرف ہونا چاہیے _ دوسروں کی جانب سے کسی غیر اسلامی حرکت کا ارتکاب ہو تو نظر انداز کرنا چاہیے اور ان پر نفاق کا فتویٰ جاری نہیں کرنا چاہیے _ لیکن ہمیں ہر وقت متفکّر رہنا چاہیے کہ کہیں ہماری ذات سے کسی ایسے عمل کا صدور تو نہیں ہورہا ہے جس کا شمار اللہ کے رسول ﷺ نے منافقانہ خصلتوں میں کیا ہے _
ہمارا رویّہ عموماً اس کے برعکس رہتا ہے _ ہمارے اپنے معاملات چاہے جتنے غلط اور ہمارے اپنے اعمال چاہے جتنے غیر شرعی ہوں ، لیکن ہم آسانی سے ان کی تاویل کرلیتے ہیں ، لیکن دوسروں کا نامناسب رویّہ ہم سے ذرا بھی برداشت نہیں ہوتا اور ہم ان کو منافق قرار دینے میں کچھ بھی تاخیر نہیں کرتے _
اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں اس رویّے کو درست نہیں قرار دیا جاسکتا _ ہمیں اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے _
[ تذکیر بالحديث ، مشاورتی و تنظیمی اجتماع ، سکریٹریز شعبۂ تربیت حلقہ جات، جماعت اسلامی ہند ، 28 نومبر 2021 ]
٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

