” نیر مسعود ۔ہمہ رنگ ہمہ داں "/ پروفیسر انیس اشفاق -ضیا فاروقی
پروفیسر انیس اشفاق اودھ کی روائیتی قدروں کے نہ صرف پاسدار اور امانتدار ہیں بلکہ انھوں نے تہذیب و تمدن کے اس سورج کوبھی ڈوبتے دیکھا ہے جس کی روپہلی سنہری دھوپ نے لکھنؤ کی فضا کو سحر آگئیں بنا رکھا تھا ۔ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ شعر و ادب کے مختلف جہتوں میں وہ ایک طویل عرصہ سے سرگرم سفر ہیں ۔ ان کی اب تک تقریبا٘ دو درجن کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں ناول ،افسانہ اور شعری مجموعے بھی ہیں اور تحقیق و تنقید سے متعلق کتابیں بھی ۔اسی فہرست میں ان کی تازہ کتاب ” نیر مسعود ، ہمہ رنگ ہمہ داں” ایک خوبصورت اضافہ ہے جو بظاہر تو نیر مسعود کے احوال و ادبی آثار پر مبنی ہے مگر جس کے ورق وررق پر بیسویں صدی کے نصف آخر کی شام لکھنؤ پوری آب و تاب سے روشن ہے ۔یہاں کی تہذیبی روائتیں ادبی مجلسیں، شہر اور بیرون شہر کی اہم ادبی شخصیتیں، نئی نسل کا ادبی ذوق و شوق، اور ان میں نمایاں نیر مسعود کی ذات سب کی جھلک ہمیں یہاں دیکھنے کو ملتی ہے ۔ پروفیسر انیس اشفاق کی متزکرہ کتاب سے ہمیں جہاں نیر مسعود کے خاندانی کوائف ، ان کے بچپن کے احوال ان کی تعلیمی اور تدریسی مصروفیات ، ان کے علمی ادبی مشاغل اور ان کی روز مرہ کی عادات و اطوار سے آگاہی ہوتی ہے وہیں ان بہت سی شخصیات سے ادبستان کے اس اورنگ نشین کے مراسم کا پتہ بھی چلتا ہے جن کے ذکر کے بغیر بیسویں صدی کےنصف آخر کی کوئ ادبی تاریخ مکمل نہیں کی جا سکتی جیسے حیات اللہ انصاری ۔آنند نرائن ملا، صبا الدین عمر ، رام لال،عمیق حنفی نورالحسن ہاشمی، شبیہ الحسن نونہروی ،احتشام حسین عمیق حنفی ۔منظور الامین اقبال مجید ،انوار محمد خاں وغیرہ۔ ان کے علاوہ مسیح الحسن رضوی ۔شمس الرحمن فاروقی،عرفان صدیقی، عابد سہیل ، زیب غوری رام لال، کاظم علی خاں ، رشید حسن خان، اسلم محمود ۔ڈاکٹر کیسری کشور ، باقر مہدی جیسے کتنے ہی اہم چہرے جو عقیدت و احترام کے ساتھ ادبستان کے اس گل سرسبز کے ارد گرد منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہاں نوجوانوں کی ادبی تنظیم ” مجلس حملہ آوراں ” کا ذکر بھی ہے جس کے ممبران اپنے مطالعہ اور اپنے ذوق سے ماحول کو صد رنگ بنائے ہوئے تھے اس کے علاوہ طالب علموں کی ایک تازہ دم نسل سے بھی ہمارا تعارف اسی کتاب کے حوالے سے ہوتاہے جو شعیب نظام ،شائع قدوائی اور محسن خاں جیسے طالب علموں پر مشتمل ہے
بہرحال متذکرہ کتاب بیسویں صدی کی آخری دہائیوں پر مشتمل لکھنؤ کی ایسی تاریخ ہے جس کی قدر و قیمت وقت کے ساتھ بڑھتی جائے گی۔ ایک سو بیس صفحات پر مشتمل متذکرہ کتاب کے لئے ڈاکٹر انیس اشفاق قابل مبارکبادہیں کہ انھوں نے ایک اہم شخصی تاریخ مرتب کر کے جہاں نیر مسعود سے اپنے مراسم اور اپنی عقیدت کا ثبوت پیش کیا وہیں نیر شناسی کے باب میں ایک اہم معتبر حوالہ بھی درج کر دیا

