مغربی اتّر پردیش کے اضلاع میں ضلع بجنور کی سرزمین ادب اور دوسرے علوم و فنون کے تعلّق سے کافی زر خیز رہی ہے۔ پہاڑی (ہمالیائی) سلسلے سے ملحق اس ضلع کی نرم و سرد اور گرم آب و ہوا اور یہاں کے خوشگوار موسموں اور دلکش نظاروں نے جہاں مہا بھارت کے وِدُرْ جی کو اپنی طرف کھینچا وہیں قدیم تاریخی اور مذہبی کردارشکنتلا کی زندگی کا ایک اہم باب بھی نانگل قصبہ سے جُڑ کر تاریخ کا ایک اہم باب بن گیا۔ تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ ہندوستان میں انگریزوں سے قبل اور پھر انگریزوں کی غلامی سے لے کر آزاد ہندوستان کی تعمیر تک اہالیانِ بجنور نے اپنے جان و مال کی قربا نیاں دیکر ہندوستان اور دیگر ممالک میں اپنے کارناموں سے ضلع کا نام روشن کیا ہے۔ ادب و آگہی اور فکرو دانش کی کئی بڑی بڑی ہستیاں اس سرزمین میں پیدا ہوئیں جن پر ضلع کو ہمیشہ ناز رہے گا۔
آئیے حضرات نظر ڈالتے ہیں بجنور کی چند ایسی شخصیات پر جن کی ادبی کاوشوں اور خدمات کی نہ صرف ملک بھر میں پزیرائی ہوئی بلکہ تمام ادبی دنیا میں جنھوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور بجنور کا نام روشن کیا۔ ضلع کے چاندپور جیسے چھوٹے سے قصبہ میں اردو ادب کی ایسی معیاری شخصیات پیدا ہوئی جن پر بجنور بجا طور پر فخر کر سکتا ہے۔ قائم چاند پوری، حکیم کوثر چاند پوری، راہی حمیدی چاند پوری، اور دورِ حاضر میں شکیل جمالی چاند پوری، اطہر اعظمی، پرویز اختر ایسے ہی ادبی نام ہیں جن کی ادبی خدمات سے دنیائے ادب اچھی طرح واقف ہے۔ سوداؔ، میرؔ اور دردؔ کے زمانے کے قائم چاند پوری کی ادبی خدمات سے کون واقف نہیں ہے۔ حالانکہ آج بھی ان کے نام پر سمینار اور سمپوزیم ہوتے رہتے ہیں اور ان حضرات کی ادبی کاوشوں کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ مگر جتنی پزیرائی ہونی چاہئے تھی وہ نہیں ہوئی۔
اردو ادب کا ایک اور روشن ستارہ شمس العلما ڈپٹی نزیر احمد ریہڑ، ضلع بجنور میں ۱۸۳۱ میں پیدا ہوئے تھے۔ ۱۸۹۷ میں انھیں شمس العلماء کا خطاب ملا ۔مگر یہ بھی کیا کم ہے کہ مولوی نذر احمد اردو کے پہلے ناول نگار تسلیم کئے جاتے ہیں ۔ انھوں نے اردو ناول کو نئے رنگ و آہنگ میں پیش کیا۔ ان کا ایک اور عظیم کارنامہ قرآن کریم کا ترجمہ ہے۔ تعلیم نسواں کے تعلّق سے بھی ڈپٹی نزیر احمد نے نہایت سبق آموز اور دلچسپ کتابیں لکھیں۔
ضلع بجنور کے قصبہ سیوہارہ کی اگر بات کریں تو شنبھو سنگھ دانش ؔ، پرکاش چند جین، پروفیسر گیان چند، غالب کے نقاّدوں میں ایک بڑا نام پروفیسر خورشید الاسلام،طنزومزاحیہ شاعری کا ایک در خشندہ ستارہ ہلال ؔسیوہاروی جس نے ملک و بیرون ملک اپنی طنز و مزاح کی شاعری سے سیوہارہ اور ضلع کا نام روشن کیا ۔ کہتے ہیں جب جب غالب کو یاد کیا جائیگا سیوہارہ کے ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کو بھی یاد کیا جائیگا۔ ان حضرات کی علم شناسی اور ادبی کار ناموں کی وجہ سے دنیا ئے ادب میں ان لوگوں کے نام روشن ہیں۔
ناول نگاری کو نقطہ عروج پر پہنچانے والی ایک اور خاتون قرۃ العین حیدر کی پیدائش قصبہ نہٹور میں ہوئی تھی۔ جنھوں نے صرف ۲۲ سال کی عمر میں ۱۹۴۹ء میں اپنا پہلا ناول ’’میرے بھی صنم خانے‘‘ لکھ کر ناول نگاری میں اپنی برتری درج کروا دی تھی۔ سادات کے مشہور خاندان میں معروف ادیب افسانہ نگار اور شاعر سجّاد حیدر یلدرم اور افسانہ نگارنذر سجّاد کے گھر تولّد ہوئیں ۔ادب کی اس عظیم ہستی نے اردو افسانہ نگاری میں اپنا منفرد مقام پیدا کیا۔ مزدوروں اور کسانوں کی زندگی کومو ضوعات بنا کر ناول نگاری کا اعلی مقام حاصل کیا۔ ۱۹۸۹ میں ان کوادبی خدمات کے اعتراف میں’’ گیان پیٹھ ‘‘ایوارڈ دیا گیا۔ یہ دوسرا موقع تھا جب کسی اردو ادیب کو اس کی ادبی خدمات کے سلسلے میں گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا ان کے فراقؔ گورکھپوری کو اور بعد میں شہر یارؔ کو بھی یہ ایوارڈ حاصل ہو چکا ہے۔’ سفینۂ غمِ دل‘ کے بعد ۱۹۵۸ میں اردو ادب کا وہ سب سے بڑا ناول بھی منظرِ عام پر آیا جس کو لوگ’’ آگ کا دریا‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کے علاوہ اسی خطّہ سے عزیر ؔنہٹوری، بینا ؔنہٹوری اور امیرؔ نہٹوری بھی ہیں جنھوں نے اپنی ادبی و علمی خدمات کے ذریعہ دنیا ئے ادب میں نام کمایا اور ضلع کا نام روشن کیا ہے۔
قصبہ کرت پور کے قاضی سجّاد حسین کرت پوری، مراثی و نوحہ خوانی میں حیدر کرتپوری جاسوسی اور فکشن ادب کو فروغ دینے اور ایک ہزار سے زیادہ ناولوں کے مصنّف اظہار اثرؔ کرت پوری اور عصرِ حاضر کے شاعروں میں شناور کرت پوری، واحد جمال کرت پوری کے علاوہ ابرارؔ کرت پوری، عشرت ؔکرت پوری، ارشد ؔکرت پوری ایسے نام ہیں جن کا شمار ہندوستان کے نامور شعراء میں ہوتا ہے۔
اردو ادب کو پروان چڑھانے اور عصر حاضر میں اردو کے ارتقاء میں بھر پور تعاون کے لئے انجینئر سمیع الدّین کا نام آتا ہے۔ حبیب والا (دھام پور) کے رہنے والے اس انجینئر نے اپنی تصانیف سے اہلِ علم اور اہلِ ادب سے داد و تحسین حاصل کی ہے۔ آپ کی مختلف موضوعات پر کم و بیش ۲۰ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ پروفیسر عرفان صدیقی ،ڈاکٹر وسیم اقبال، پرویز عادل، ڈاکٹر شیخ نگینوی اردو کے حوالے سے اہم خدمات انجام دے رہے ہیں، جن کے تذکرے علم و ادب کی محافل میں خوب ہو رہے ہیں یہ حضرات اردو زبان کو فروغ دینے میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔
آئیے حضرات ایک نظر ڈالتے ہیں اس سر زمین پر جس کو لوگ نجیب آباد کے نام سے جانتے ہیں۔ماضی کے شعری اور ادبی منظر نامے پر ایسے کئی نام رو شن ہیں جن کی آب و تاب سے دنیائے اردو ادب مینارء نور بنی ہوئی ہے۔ علاّمہ تاجور نجیب آبادی، اکبر شاہ خاں نجیب آبادی، اختر الایمان جیسے دنیائے ادب کے آبگینے اسی سر زمین سے تعلّق رکھتے تھے۔
تاریخ اسلام کے مرتّب اکبر شاہ خان جن کی تصنیف تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور یہ ان کا مستند کار نامہ ہے جو ان کو محقّق، موّرخ اور اردو اسکالر کی حیثیت عطا کرتا ہے۔ اسی طرح رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر ؔجو ہندوستان کی جنگِ آذادی کے عظیم مجاہد، عظیم مفکّر و شاعر اور مشہور صحافی بھی سرزمین نجیب آباد میں پیدا ہوئے تھے۔
اختر الایمان، نجیب آباد کے قریب راہو کھیڑی میں ۱۹۱۶ء میں پیدا ہوئے تھے۔ آپکا شمار ادبی دنیا کے عظیم نظم گو شعراء میں کیا جاتا ہے۔ ن-م-راشد اور میرا جی کے ساتھ اختر الایمان کا نام بھی ادبی دنیا میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ یہ وہ نام ہے جس کی شاعری نے اردو شاعری کو بین الاقوامی شاعری کے مقابل کھڑے ہونے کی ہمّت عطا کی ہے۔ ان کی ادبی خدمات پر ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ عطا کیا گیا ہے۔ ان شخصیات کے علاوہ جلیسؔ نجیب آبادی، مرغوب علی،ظنزو مزاح کے مشہور شاعر عزیز ؔنجیب آبادی، سوز ؔنجیب آبادی عصرِ حاضر میں اپنی اردونوازی اور ارتقائے اردو میں فعال ہیں۔
اردو زبان کی ترقّی و فلاح و معاونت میں اہالیانِ بجنور کی خدمات کا جائزہ لینا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ یہاں ان کی اردو سے متعلق کو ششوں اور کاوشوں کا مختصراً جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عصر حاضر میں ادب و شاعری اور صحافت کی نگاہ سے اگر دیکھیں تو سہارا (اردو ڈیلی) اخبار کے ایڈیٹر سیّد اسد رضا نقوی، محترمہ ذہین فاطمہ گلؔ، شفقؔ بجنوری،انورؔ بجنوری، ولیؔ بجنوری، و قار عالم وقارؔ، وطن پرستی کے گیتوں کے لئے مشہور شاعر فاروق ؔبجنوری، ظفر ایوبیؔ امیرؔ نہٹوری، اثر ؔایوبی، مرغوب ؔرحمانی، امینؔ بجنوری، ڈاکٹر عتیق دانش ؔ، شاہ نواز عالم ٹی۔وی۔اینکر، فاخرؔ ادیب ایسی ادب شناس شخصیات ہیں ،جو آج اردو زبان کی آبیاری میں مصروف ہیں۔ انھیں تذکروں میں ایک نام ایسا بھی جس کو دنیائے ادب شکیل احمد خاں شکیلؔ کے نام سے جانتی ہے۔ تاریخ اردو ادب ضلع بجنور کے مؤلف ہیں ، مشہور شاعراور ادب نواز ہیں۔ جنھوں نے ۱۰۰ سالہ اردو صحافت ضلع بجنور حال ہی میں مرتبّ کی ہے۔
ماضی پر نظر ڈالی جائے تو شاعری اور صحافت کے حوالے سے نشترؔ خانقاہی، مشہور اردو میگزین ’’روبی‘‘ کے ایڈیٹر رہے افسر جمشیدؔ، صوفی شاعر زم زم بجنوری، حکیم اخترؔ زیدی، مشہور و معروف شاعر یامین خاں شوق ؔبجنوری، پاکستان چلے جانے والے شاعر و ادیب نورؔ بجنوری اور اختر ؔبجنوری کے علاوہ ڈاکٹر شرافت حسین مرزا، اردو ہندی روزناموں کے مالک و ایڈیٹر بابو سنگھ چوہان، عالمی شہرت یافتہ شاعر چندر پرکاش جوہرؔ بجنوری، رام کمار و رماغم بجنوری جیسے لوگ یہاں پیدا ہوئے اور اردو کی ترویج اور ارتقاء کے لئے زندگی بھر کو شاں رہے یہا ں پر فرد اً فرد اً سب کی تفصیل میں جانا ممکن نہیں ہے۔ ہاں ایک نام ایسا ضرور میری نگاہ میں ہے جس کی ادبی و شعری خدمات کا میں معترف بھی ہوں اور یہاں میں ان کی تصانیف کا مفصّل جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ اس شخص کو لوگ نشترؔ خانقاہی کے نام سے جانتے ہیں۔ اگر ان کے بارے میں اختصار سے کام لوں تو بے جا ہو گا جب تک ان کے فن اور شخصیت کا مختصر جائزہ نہ لیا جائے۔
دنیائے اردو ادب میں جہاں جہاں بھی یہ خوبصورت زبان بولی، پڑھی اور سمجھی جاتی ہے وہاں وہاں نشترؔ خانقاہی کا نامِ نامی بڑے احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ سیّد انوار حسین نام اور نشترؔ خانقاہی تخلّص رکھنے والا یہ شخص ۱۹۳۰ء میں بجنور کے نزدیک جہان آباد میں سیّد محمد حسین کے گھر عالمِ وجود میں آیا۔ فارسی اپنی والدہ سے پڑھی باقی تعلیم بجنور میں مکمل کرنے کے بعدتلاش ِمعاش میں دہلی چلے گئے۔ اپنی زمینداری کا گھرانہ ان کو کبھی راس نہ آیا۔ کچھ دن گزارنے کے بعد ممبئی چلے گئے پھر دو بارہ لوٹے تودہلی میں مشہور ادبی رسالہ ’’بیسویں صدی‘‘ میں کام کیا۔ دہلی ہی سے ایک ادبی میگزین ’’سو برس‘‘ کی دارت کی۔ پھر بجنور کی طرف کو چ کیا تو بابو سنگھ چوہان جو خود اردو داں اور اردو دوست تھے ، کے اخبار ’’روزانہ خبر جدید‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے۔ بعد میں بجنور ٹائمز میں ہی آخر تک ادارت بھی کی۔
آپ کو شاعری کا شوق بچپن ہی سے تھا اس لیے کم عمر ی ہی سے شعر کہتے تھے۔ وہ شاعری کو اندرونی کیفیات کے اظہار کا وسیلہ سمجھتے تھے اور شاعری کے نئے رجہانات سے اچّھی طرح واقف تھے اردو میں ان کے کئی شعری مجموعے منظر عام پر آکر اردو علم و ادب کی دنیا سے خراج حاصل کر چکے ہیں۔
آپ کاپہلا مجموعہ ’’میرے لہوں کی آگ‘‘ جو غالباً ۱۹۷۳ میں منظر عام پر آیا او ر جس کی بدولت یہ شاعر ملک کے صفِ اوّل کے شاعروں میں شمار کیا جانے لگا ۔اس کے ذریعہ نشترؔ خانقاہی کے کلام کی خوب پزیرائی ہوئی۔ دانشوروں اور علم و ادب پر نظر رکھنے والوں نے ان کی شعری صلاحیت، اصلوب و اظہار کی جدّت طرازی کا بھر پور اعتراف کیا ۔ دنیا ئے اردو ادب کے مشہور ناقد اور نشترؔ خانقاہی کے ہم عصر ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی نے اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کیا :
’’نشتر خانقاہی کے کلام کا نمایا پہلو یہی ہے کہ وہ اس آواز میں گفتگو کرتے ہیں جس کو ایلیٹؔ نے شاعری کی پہلی آواز کہا ہے اور جس کا مخاطب کو ئی نہیں ہوتا صرف شاعر ہوتا ہے۔نشتر ؔخانقاہی کی شاعری خود کلامی نہیں جسے قاری اچانک کہیں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
نقّادوں نے نشترؔ خانقاہی کی شاعری کو عالمی شاعری کے حوالوں میں رکھا ہے۔ کسی بھی ادبی تخلیق میں تین عناصربنیادی حیثیت رکھتے ہیں یعنی شاعر یا ادیب کا ماحول اس کا ذہن اور زبان انہی تینوں عناصر کے زیر اثر شعری یا نشری ادب تخلیق ہوتا ہے۔ ایک بات یہاں میں بڑی مضبوطی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ شاعر و ادیب عظیم تب ہی بنتا ہے جب وہ اپنے زمانے سے آگے کا ادب تخلیق کرتا ہے۔ اس میں غالب ؔکی مثال دی جا سکتی ہے کہ غالب نے بھی ایک دو صدی آگے کی شاعری کی تھی۔ نشتر خانقاہی کی شاعری کے بارے میں بھی دانشوروں اور نقّادوں کی رائے ہے کہ انھوں نے آنے والی صدی کی شاعری کی ہے۔
کسی شاعر کو جدید کہنا بھی ایک روایت جیسی چیز ہوگئی ہے ۔لیکن نشتر خانقاہی کے ساتھ ایسا نہیں ہے ان کو صرف جدید کہہ دینے سے کام نہیں بنتا۔ ان کی اندرونی ذات میں جو اُتھل پُتھل ہوتی تھی۔ وہ ان کی شاعری میں نمایا ںطور پر نظر آ جاتی تھی۔نشترؔ خانقاہی کی شاعری میں جتنا کرب، جتنا درد، جتنی تنہائی ملتی ہے۔ وہ سب انکا جھیلا ہوا ہوتا تھا، بھُگتا ہوا ہوتا تھا ۔اور اسی کے سہارے وہ مستقبل کا پیشگی تجربہ کر کے شاعری کو ایک نئی سمت کی طرف لے جاتے تھے۔ ان کے شعر فکر انگیز بھی ہوتے ہیں اور دردناک بھی ۔مثال کے طور پر ان کے یہ اشعار ؎؎
قہقہوں کے پسِ پردہ دیکھے کوئی مجھ میں شہر خموشاں تمناؤں کا
ہر وہ خواہش کہ جو تشنہ لب رہ گئی میرے سینے کا ناسور کر دی گئی
یا
کٹی پھٹی سی زمیں اور جھکے جھکے سے شجر
قریب جاکے جو دیکھا جہان مجھ سا تھا
یا
انجانے حادثات کا کھٹکا لگا رہا
نیند آ رہی تھی رات مگر جاگتا رہا
اور اسی طرح کے کئی اشعار ، کئی نظمیں ان کے مختلف مجموعوں میں ملتے ہیں۔ تجربات نے ان کے ذہن کو شعری منظر نامہ تخلیق کرنے کاک جو شعور عطا کیا ہے۔ وہ ان کے ہم عصر شاعروںاور ادیبوں میں کہیں کہیں ملتا ہے عموماً نہیں۔ میں نے نشترؔ صاحب کی شاعری میں گُتھّیاں بھی پائی ہیں اور شعروں میں فلسفہ بھی ۔ نشترؔ صاحب کی شاعری کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے یہاں اظہار و بیان مقدّم اور شعری موضوع یا خیال ثانوی حیثیت میں پایا جاتا ہے۔ ایسا میرا خیال ہے۔پاکستان کے مشہور شاعر اور ادیب امجد اسلام امجد ؔنے ان کی شاعری کا جائزہ اس طرح لیا ہے :
’’نشتر خانقاہی کا سفّاکانہ حدتک حقیقت پسندانہ اندازِ فکر اردو غزل کے لئے بالکل نئی چیز ہے۔ انصاف سے دیکھئے تو نشتر خانقاہی نے زندگی، وقت، معاشرتی استحصال اور احساسِ محرومی کے مختلف رنگوں کو بڑے تواتر اور عام طور پر بڑی عمدگی سے استعمال کیا ہے۔۔۔۔۔‘‘
نشتر خانقاہی کے اشعار ہمیں ان کی زندگی کے ایسے احوال و کوائف تک پہنچاتے ہیں جہاں سے شاعر اپنی شاعری کا مواد حاصل کرتا ہے۔ وہ اسی معنیٰ میں اوروں سے مختلف شاعر ہیں کہ ان کی شاعری کسی خاص نظریہ کے تابع نہیں ہے۔جدیدیت کے طوفان سے بھی انھوں نے خود کی حفاظت کی ہے۔ اپنی شاعری میں نیا اسلوب ضرور اختیار کیا مگر محمد علوی اور عادل منصور کی طرح افراط و تفریط کا شکار نہیں ہوئے اور ہر حال میں شاعری کی حرمت کا خیال رکھا۔
نشتر خانقاہی کے شروع کے دو تین مجموعے ’’میرے لہو کی آگ‘‘ سرائے میں شام‘‘ ’’دسترس‘‘ کی شاعری میں ایک نادیدہ خوف چھپا ہوا ملتا ہے۔ ان کی شاعری پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ خیالات کے اظہار پر تو وہ پوری دسترس رکھتے ہیں ۔مارچ ۲۰۰۶ کو شام چھ بجے ایک چھوٹے سے آپریشن کیبعد آپکا انتقال ہو گیا۔ اور دنیائے شعر و ادب جدید لب و لہجے کے ایک اچھے شاعر سے محروم ہو گئی، انھیں کا ایک شعر ؎
میں کہ سر جن کی ٹیبل پہ رکھا ہوا صرف اک جسم ہوں تجربہ گاہ میں
آج کی رات گزری تو یہ چارہ گر کل لگا دینگے فائل میں لکھکر مجھے
شاعری اور نثری تخلیقات کے علاوہ بجنور سے نکلنے والے اردو کے کئی اخبارات نے بھی اردو ادب کی ترقی میں اہم رول ادا کیا۔ ’مدینہ‘ جن میں سر فہرست ہے اس زمانے کے عالمی شہرت یافتہ صحافیوں نے مدینہ اخبار میں خدمات انجام دی ہیں۔ خود مدینہ اخبار کے مالک مولوی مجید حسن بے باک صحافی و ادیب تھے۔ اس کے علاوہ بجنور میں اور بجنور سے ملحق تحصیلوں میں کئی فعال اردو انجمنیں موجود ہیں ۔جو گاہے بگاہے شعری نشستیں، مشاعرے، سمینار اور سمپوزیم کراتی رہتی ہیں جو ارتقائے اردو میں معاون ہوتے ہیں۔
اردو کے حوالے سے بجنور میں ایسی کئی فعال شخصیات پہلے بھی تھیں اور آج بھی موجود ہیں جو اپنی محنت اور لگن سے اردو کے نازک پودھے کی آبیاری میں لگے ہوئے ہیں جیسے چاند پور میں جناب الیاس انجم ،سیوہارہ میں جناب قمر سیوہاروی، نگینہ میںحسن جاوید ، ڈاکٹرشیخ نگینوی، پرویزعادل ۔ نجیب آباد میں شاداب ظفر شاداب، بجنور میں راقم الحروف کے علاوہ فاروق بجنوری، حسنین نقوی، مرزا طالب بیگ، ڈاکٹر عتیق دانش، مرغوب رحمانی وغیرہ وغیرہ۔
آخر میں اس مضمون کے حوالے سے میں ان سبھی محبّانِ اردو اور عاشقان ادب کو سلام پیش کرتا ہوں اور اردو نوازی کے لیے تحسین پیش کرتا ہوں۔
رابطہ:09760512256
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

