زندگی جہد مسلسل کا نام ہے۔ٹہر جانا موت کی علامت ہے۔اس جہد مسلسل میں انسان کو نشیب و فراز سے گذرنا پڑتا ہے ۔انسان اس دنیائے گیتی میں پیدائش سے لیکر قبر کی گود تک جہد مسلسل میں لگا رہتا ہے۔چاہے وہ جہد مسلسل شعوری طور پر رہا ہو یا غیر شعوری طور پر،چاہے وہ جہد مسلسل داخلیت کا اظہار رہا ہو یا خارجیت کا لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔انسان اپنی بقا کے لئے چارلس ڈارون کا نظریہsurvival of the fittest کے مصداق انتھک کوشش میں لگا رہتا ہے ۔سوچ چاہے شعوری ہو یا لاشعوری اسے جہد مسلسل پر گامزن رہنے پر مجبور کرتا ہے۔جس طرح موت پر کسی کو اختلاف نہیں اسی طرح جہد مسلسل کے نظرئے پر بھی کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔یہ دنیا ہمارے سامنے مختلف رنگوں میں جلو ہ فگن ہو تی ر ہتی ہے اور اس دنیا کا انسان دنیا کے اس رنگینی میں خود کو Adjust کرنے کے لئے جہد مسلسل میں لگا رہتا ہے تب اسے کچھ کامیا بی ملتی ہے یا نا کامی یا کچھ حدتک کامیا بی سے ہمکنار ہوتا ہے یا کبھی کبھی با لکل ہی نا کام ہو جاتا ہے ۔لیکن نا کامی کے باوجود انسان خود کو حا لات کے سامنے شکست تسلیم کرنے سے گریز کرتا ہے اور نا کا می کو کامیابی کی علامت بناکر دوبارہ جہد شروع کرتا ہے ۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جہدمسلسل نے انسان کو کا میا بی کی منزلوں سے ہمکنار کیا ہے ،چاہے وہ سیاسی جدوجہد ہو ،تعلیمی جدو جہدہو یا ادبی دنیا میں اپنی شناخت بنانے کی جدو جہد رہی ہو ۔ انسان کی زندگی اس سے بعید نہیں رہ سکتی ہے اور انسان نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے خود کو مشتثنی نہیں رکھ سکتا ہے کیونکہ یہ ایک فطری امر ہے اور فطرت کو کبھی بھی تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ کسی کی جدوجہد تیز گام رہتی ہے اور کسی کی جدو جہد سست گام رہتی ہے ،لیکن ہر شخص اپنی شناخت کی خاطر جدوجہد میں لگا رہتا ہے اور اسی نقطے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ادب کے افق کا ایک درخشندہ ستارہ جس نے ابھی اپنی زندگی کے سفر کی شروعات کرنے کا اردہ ہی کررہاتھا کہ ا چانک ہوائوں کے تیز و تند جھونکوں نے اس کی روشنی کو مدھم نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے بجھا دیا اور ادب کا میدان اس ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی روشنی سے محروم ہوگیا ،کیونکہ ادب کے اس سپاہی نے اپنی جوان سالی میں ہی جس طرح ادب کی شمع کوروشن کرنے کا جو بیڑا اٹھایا تھا اس سے ادب کے ایوان میں نئی نسل کی نمائندگی کا شرف حاصل ہو سکتا تھا ۔اس ادبی شمع کو ہم وحید عرشی کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں ۔
وحید عرشی مغربی بنگال میں ۱۹۶۰ء کے بعد کے نمائندہ شعراء میں ایک معتبر نام ہے جن کی ادبی صلا حیت کا اعتراف ان کی کم عمری میں ہی بڑے بڑے شعراء نے کر لیا تھا ۔ان کی پیدائش ۲۷دسمبر ۱۹۴۳ء میں نرائن پور کے بھاٹ پاڑہ علا قے میں ہوئی جو مغربی بنگال کے ۲۴ پرگنہ شمال کاایک حصہ ہے ۔ان کے والدین مولوی محمد حنیف و زبیدہ خاتون تھے۔ ان کا اصل نام خواجہ وحیدالحق تھا لیکن قلمی نام وحید عرشی تھا اور ادبی دنیا میں اسی نا م سے متعارف تھے ۔انہوں نے کلکتہ یو نیور سیٹی سے ایم۔ اے میں فرسٹ کلاس فرسٹ سے پاس کیا اور گولڈ میڈل یو نیور سیٹی سے حا صل کیا ۔وحید عرشی مختلف الصفات کے مالک تھے ۔وہ بیک وقت ایک کامیاب شاعر،افسانہ نگار ،نثرنگار اور معلم ہو نے کیساتھ ایک کامیاب اور بہترین مصور بھی تھے۔
گرچہ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا ، ان کی شاعری کا خزینہ بھی بہت زیادہ نہیں ہے تاہم جو بھی ہے وہ قیمتی سرمائے سے کم نہیں ہے ان کی غزلوں اور نظموں کی تعداد کم ہونے کے باوجود اپنے اندر گہری معنویت رکھتی ہیں ۔وحید عرشی کی شاعری میں افہام و تفہیم ،ربط و تسلسل ، شگفتگی اور سلیقگی کا بھر پور عکس نظر آتا ہے، اس کے علاوہ ان کے اشعار میں ندرت و حسن بیان بھی ملتا ہے ساتھ ہی ساتھ سلاست و روانی کا بھی احساس ہوتا ہے ۔اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ غزل کے اسرار و رموز سے وہ پوری طرح واقف تھے۔
وحید عرشی ایک اچھے شاعر کے علاوہ ایک کامیاب نثر نگار بھی تھے ان کی نثر کی تعداد بھی کم ہے لیکن جتنا بھی ہے اس سے ان کی نثری وجدان کا عکس بھر پور نظر آتا ہے ۔ان کے مضامین میں سلاست و روانی کیساتھ برجستگی ، شگفتگی اور ندرت کے ساتھ غنائیت بھی ہے ۔کسی نے انہیں غم حیا ت کا شاعر قرار دیا تو کسی نے انہیں بحیثیت نثر نگار تجزیہ کیا ،تو کسی نے انہیں جستجوئے آشنا کا شاعر کے نام سے منسو ب کیاتو کسی نے انہیں ایک ہشت پہل ہیرا قرار دیا ۔ اس طرح وحید عرشی کو مختلف القاب سے نواز۔شاعری اور مضمون نگاری کے علاوہ وحید عرشی ایک اچھے افسانہ نگار بھی تھے۔ وحید عرشی اپنی تمام ہمہ گیریت کے ساتھ وہ عمر کی آخری پڑائو تک جہد مسلسل کے مسافر بنے رہے۔ انہوں نے حالات کے آگے سر نگوں ہونا نہیں سیکھا تھا ۔ان کی غیرت مندی نے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے نہیں دیا ،بلکہ غم حیات کو مرکز مان کر اپنے سفر پر گامزن رہے ا ور اسی سفر پر چلتے چلتے ۳ فروری کو تھک کر ہمیشہ کے لئے سو گئے لیکن ان کی شاعری آج بھی ہمارے درمیان زندہ ہے اور ان کی موجودگی کا احساس دلاتی ہے ۔
وحید عرشی کی شاعری میں غم حیات ہے تو غم دوراں بھی ہے ۔ زمانے کی بے ثباتی ہے تو بدلتی زندگی کی تصویر بھی، بدلے سماج کا روپ ہے تو غموں کے زنداں میں رہنے کا اظہار بھی ہوتا ہے ، اور وہ اس زنداں سے نکل آنے کی کوشش تا عمر کرتے ر ہے لیکن وقت نے اپنی کیل اتنی مضبوطی سے گاڑ دیا تھا کہ بھا گ نکلنے کی تمام کوششں بیکار ہوگئیں اور جب تک وہ با حیات رہے صلیب پر لٹکے رہے اور رہائی انہیں موت کے بعد ملی ۔
وحید عرشی کی شاعری کے تعلق سے مظہر امام عرض کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ وحید عرشی ایک جواں مرگ شاعر کا نام ہے جو تمام عمر صلیب پر لٹکا رہا کیونکہ غم حیات کی کیلیں اس کے دست وپا میں جڑی ہوئی تھیں ۔وہ یادو کے زنداں سے نکل بھاگنے کے ارادے کرتا رہا لیکن اس کے گردایک اونچی دیوار ایستادہ کھڑی تھی اور وہاں سے باہر آنے کا کوئی راستہ نہ تھا ‘‘
( یادوں کا زنداں ، مرتب : کمال جعفری، پیچھے فلیپ پر )
مظہر امام نے وحید عرشی کے حوالے سے یہ بات نہایت ہی بے باکی سے کہہ دیا ہے اور ان کے اس بیا ن میں کسی طرح کا تصنع نظر نہیں آتا ہے ۔ وحید عرشی نے اپنے ایک شعر میں خود عرض کیا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھاگ چلوں میں یادوں کے زنداں سے اکثر سوچا لیکن
جب بھی قصد کیاتو دیکھا اونچی ہے دیوار بہت
ان کا یہ شعر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ پریشانیوں کی دنیا سے نکل کر ایک خوشحال دنیا کی تعمیر کرنا چاہتے تھے تاکہ اطمینان و سکون کے ساتھ زندگی کے با قی ایام گذار پائیں اور اپنے پھول سے بچوں کی اور بھتیجے بھتیجیوں کی دیکھ بھال کر سکیں ، ایسا نہیں تھا کہ وہ پریشانیوں سے راہ فرار تلاش کرتے تھے بلکہ وہ ان پریشانیوں پر ایک تسلط جمانا چاہتے تھے اور ان پریشانیوں کو شکست سے دو چار کرنا چاہتے تھے لیکن فی رفتار زمانہ وہ بہت پریشان تھے تا ہم ان کی شاعری میں رومان پسندی کا عکس نمایاں نظرآتا ہے۔ ان کی رومان پسند شاعری میں بھی فکر کی گہرائی نظر آتی ہے ۔ ان کے رومان پسند اشعار دہرے پن کا لبادہ اوڑھے رہتے ہیں ۔ ملا حظہ کیجئے ان کا یہ شعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تنہائی تھی وہ بھی نہ ہوئی مجھ کو نصیب
کیوں تری یاد کی پرچھائیاں مرے ساتھ چلے
انسان جب دنیا کی رنگینی سے دور ہوجاتاہے ، غم دوراں کی بے لذت زندگی جب اسے قنوطی بنا دیتی ہے اور دنیا کی بے ثباتی جب شاعری پر ظا ہر ہوتی ہے تو اس کے ساتھ اگر کچھ بچی رہ جاتی ہے تو وہ اس کی تنہائی ہوتی ہے جس کے سہارے زندگی کے باقی ایام وہ گذارتا ہے ۔لیکن یہاں موصوف کو تنہائی بھی نصیب نہیں ہوئی کیونکہ جب وہ زمانے سے دلبرداشتہ ہوکر تنہا بیٹھنے کے بارے میں سوچتے ہے تو کسی کی پرچھائیاں ان کی تنہائیوں کیساتھ جڑ جاتی ہیں اور وہ اپنے غموں سے بھی گفتگو نہیں کرپاتے ہیں ۔یہاں ’تیری یا د کی پر چھائیاں ‘‘ دہرا مفہوم لئے ہوئے ہے ۔ ایک طرف محبوب کی بے رخی سے دلبرداشتہ ہو کر تنہا زندگی گذارنے کے فیصلے کا احساس ہوتا ہے تو دوسری طرف موت کی آمد کا احساس بھی اس مصرعے میں نظر آتا ہے ۔وحید عرشی کے اور بھی بہت سے اشعار ایسے ہیں جس میں دہرے مفہوم کا احساس ہوتا ہے۔
در اصل وحید عرشی کی زندگی غموں کا بحر بیکراں تھی ۔وہ اس بحر بیکراں میں ہچکولے کھاتے رہے ، تلاطم سے الجھتے رہے ،اور اس سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ کہیں کچھ حد تک انہیں کامیابی نظر آئی تو وہیں فورا معدوم بھی ہو جاتی تھیں ۔ان کی زندگی میں غموں کا انبار تھا ۔ایک ایک سانس ان پر بھاری تھی ،لیکن زمانہ حال ان کی پریشانیوں کو ماننے سے سرے سے انکار کر دیتا تھا ،جبکہ زمانہ ماضی انہیں ان پریشانیوں کو ظاہر کردینے کی تلقین کرتا تھا ۔وہ حال اور ماضی کے کشمکش میں اس طرح الجھے ہوئے تھے کہ اظہار کرنا چاہتے ہوئے بھی ان کی زبان اظہار کرنے سے قاصر ہو جاتی تھی ۔در اصل ان کے اندر ضبط کا مادہ اتنا زیادہ ہوگیا تھا کہ وہ پریشانیوں کو جام سمجھ کر پی جا تے تھے ۔ پریشانیاں ان کے مسکراتے ہوئے ہونٹ کے پیچھے سے جھانکتی رہتی تھیں ۔ شاید زمانے کو اس بات کا پتہ نہیں تھا کہ حما یت ا لغر با ہائی اسکول کی ۱۵۰۰ روپئے کی نوکری چھوڑ کر بھوانی پور ایجوکیشنل سوسائٹی کالج میں ۶۰۰ روپئے کی نوکری کرنے جاتے تھے۔ زمانہ حا ل تو یہ دیکھتا تھا کہ وہ کالج کی نوکری کررہے ہیں لیکن آمدنی با لکل آدھی تھی بلکہ آدھی سے بھی کم تھی۔اس لئے وہ عرض کرتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔
کیسے سنائوں غم کی کہانی سانسوں پر ہے بار بہت
ماضی کہتا ہے کہہ جائو، حال کو ہے انکار بہت
وحید عرشی قنوطی شاعر نہیں تھے انہیں خود پر بھر وسہ تھا۔بظاہر ان کی شاعری میں قنوطیت نظر آتی ہے لیکن ان کے اندر عزم مستحکم نظر آتا ہے ۔ وہ عزم مستحکم کا اظہار کھلے طور پر نہیں کرتے لیکن حالات کے آگے سرنگوں ہونا بھی نہیں جانتے تھے۔ ان کے اندر کا عزم مستحکم آگ میں دبی چنگاری کی مانند تھا ۔اسی لئے عرض کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
راہ منز ل چھوڑڑ دیتا ہوں ہمیشہ اس لئے
مل گئی منزل تو جہد زندگی مر جائے گی
جہد مسلسل کا اظہار ان کے اندر عزم مستحکم کو ظاہر کرتا ہے ۔ انہوں نے چالس ڈارون کے نظرئے کو بہت گہرائی سے مطالعہ کیا تھا اسی لئے تو جہد مسلسل پر یقین رکھتے تھے جب ہی تو عرض کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے سنائوں غم کیکہانی سانسوں پر ہے بار بہے
ما ضی کہتا ہے کہہ جائو ، حال کو ہے انکار بہت
یہ شعر ما ضی اور حال کی جو تکرار پیش کرتا ہے اس میں جہد مسلسل کی داخلی کیفیت کا اظہار واضح طور پر ملتا ہے ۔وہ یادوں کے زنداں سے نکل بھا گنے کی جہد مسلسل کرتے رہے لیکن اونچی دیوار ان کے سامنے آکر کھڑی ہو جاتی تھی لیکن اس کے باو جود وہ ہزیمت خوردہ انسان کی طرح کھڑے دیکھائی نہیں دیتے بلکہ اس سے نکل بھاگنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔
وہ اپنے اشعار میں حالات کی ستم ظریفی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ ادب کی فصیل میں کسی طرح کی آنچ نہ آئے۔ان کا یہ شعر دیکھیں ۔۔۔۔۔۔
بھا گ چلوں میں یادوں کے زنداں سے اکثرسوچا لیکن
جب بھی قصد کیا تو دیکھا اونچی ہے دیوار بہت
میر کی شاعری کی طرح وحید عرشی کی شاعری میں بھی قنوطیت کا احساس ملتا ہے لیکن وہ حالات کی ستم ظریفی کو مورد الزم ٹہراکر خود شکست خوردہ انسان کی طرح نظر نہیں آتے ہیں ۔ بہر حال وحید عرشی کی شناخت اردو ادب میں ایک ایسے شاعر کی حیثیت سے ہوتی ہے جو جہد مسلسل کے فلسفے پر یقین رکھتے تھے اور یہی جہد مسلسل کا فلسفہ تھا کہ دشوار کن حالات میں بھی کا سئہ گدائی کا سہارا نہیں لیا بلکہ اپنی خوداری کو آخر دم تک سینے سے لگائے رکھا اور ۳ فروری ۱۹۸۶ء کو ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے کنارہ کشی اختیا کرلی جس کے لئے کہنا پڑتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
ایسے کھوئے کہ پھر نہ پائے گئے
دور تک جستجو کے سائے گئے
آخرمیں یہ کہہ دینا ضروری ہو گا کہ وحید عرشی کی شاعری زمانے کی بے ثباتی ، اخلاقی قدروں کی پامالی ،خود غرضی کا نوحہ،انسانیت کے نا م پر حٰیوانیت کا اظہارکا نام ہے ۔انہوں نے اپنی شاعری میں جہد مسلسل کا ایک انفرادی فلسفہ پیش کر دیا ہے جس سے ان کی شاعر انہ فکر کی اڑان کا احساس ہوتا ہے ۔
ڈاکٹر محمد علی حسین شائق
کاشانۂ مصطفے
بلاک نمبر ۳ ، کمرہ نمبر۱؍۲
تھانہ روڈ ، جگتدل ، ۲۴ پرگنہ (شمال) مغربی بنگال ۷۴۳۱۲۵
Mobile no. 9831530259
email :mahshaiq @gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

