by adbimiras
0 comment

نقش قدم/ نیاز انصاری – ڈاکٹر داؤد احمد

زیر نظر مجموعہ ”نقش قدم“ نیاز انصاری کے غزلوں کا مجموعہ ہے۔ ابتدا میں روایت کے مطابق نعت پاک بعد از غزلیں اورآخر میں چند نظمیں بھی شامل ہیں جو ان کی نظم گوئی کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہیں۔ ’ اپنی بات‘ کے زیر عنوان مصنف کی سات ورقی تحریر اور ابتداً نمؔ اعظمی اور ڈاکٹر محمد قاسم انصاری کے قلم سے تعارفی اور تاثراتی سطور نے جگہ پایا ہے۔اپنے مجموعہ ’نقش قدم‘کی ابتدا نعت پاک سے کرتے ہیں اور حضور سرور کائنات سے اپنی بے پناہ محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش انکے گہرے مذہبی شعور کی ترجمانی کرتی ہے۔ کچھ نعتیہ اشعار ملاحظہ کیجئے:
ہے ہرسو اندھیرا اسیر الم ہیں
کرم یا نبی دور منزل سے ہم ہیں
جہاں مصطفےٰ کے نقوش قدم ہیں
وہ گلیاں مدینے کی رشک ارم ہیں
شہنشاہیت ان کے قدموں کی ٹھوکر
غلام غلامان خیر الامم ہیں

چشمہئ فیضان جاری کل بھی تھا
آج بھی دریائے رحمت ہے رواں
سرور کونین کے صدقے نیازؔ
ہم سے دنیا ہو گئی جنت نشاں
غزل ایک ایسی صنف سخن ہے جس کا نام لیتے ہی تصور میں حسن و عشق کی وہ روایتی دنیا رقص کرنے لگتی ہے جس سے غزل معمور ہے۔ غزل میں مضامین کا تنوع اور اس کی تکثیر اہمیت کی حامل تصور کی جاتی ہے جس سے موصوف نے فائدہ بھی اٹھایا ہے اور بیشتر اشعار ایسے کہے ہیں جن میں ان کے سماجی شعور اور عمل پسند طبیعت کو بظاہر دیکھا جا سکتا ہے۔ان کے اشعار کے مطالعے سے ان کے ادبی و تہذیبی وقار کا اندازہ تو ہوتا ہی ہے ساتھ ہی ان کی تعمیر پسند شخصیت کا خاکہ بھی نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔ وہ شعربرائے زندگی کے شاعر ہیں۔زبان بیان کے انوکھے اور نئے تجربے سے بے پرواہ شعری مضامین پر ان کی خاص نظر ہے۔ ان کی غزلیں جوش فکری اور سنجیدگی سے سرشارنظر آتی ہیں۔وہ غزل کے ایک عام مضمون کو بھی اس دلکش انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ایک قاری ان کی فکری گہرائی و گیرائی کو محسوس کرسکتاہے۔
نیاز انصاری کی شعری نگارش دیکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر صنف سخن پر قدرت رکھتے ہیں،لیکن غزل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور ہر شعر میں کچھ نئی بات کہنے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں۔ اپنے اس شعری مجموعے کے آخر میں انھوں نے مختلف عنوانات کے تحت کچھ نظمیں بھی کہی ہیں جس میں ’دیش پریم‘’یوم ہندی‘’پیار بسے ذرے ذرے میں‘’ استاد محترم ساغرؔ انصاری کی رحلت پر‘ اور’محترمہ اندرا گاندھی کی شہادت پر‘ شامل ہے۔ نیاز انصاری دور جدید میں جو نئی نسل ابھر کر سامنے آئی ہے اس کے مطابق غزل کے احیاء کے ذمہ دار ہیں۔نئے دور کے شعرا میں نیاز انصاری ایک نئی تحریک پیدا کرتے نظر آرہے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ کریں :
قدم قدم پہ اندھیرا ہے کیا کیا جائے
چراغ کا شیہ سر بھی جلا دیا جائے
وہ جن کی شاخوں پہ نفرت کے پھول کھلتے ہوں
چمن کے ایسے شجر کو جلا دیا جائے

آوارہ پھر رہا تھا جو گلیوں میں شہر کی
وہ شخص آج وقت کا تیور بدل گیا
کفر ہے مایوسیاں راہ طلب میں اے نیازؔ
عزم ہے محکم تو منزل آشنا ہوجائے ہے
نیازؔ انصاری کا شعری مجموعہ’نقش قدم‘ اپنے موضوع اور مواد دونوں اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔وہ خود بھی غزل کی شہرت اور مقبولیت سے پوری طرح واقف ہیں۔انھوں نے اپنی فکر،اسلوب اور لب ولہجہ کو غزل کے پیکر میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے جس سے ان کے سیاسی و سماجی شعور کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔چونکہ وہ شاعری کے ساتھ ساتھ صحافت کے پیشہ سے بھی وابستہ ہیں اس لئے ان کی شاعری میں سیاسی و سماجی شعور کا رنگ اور بھی گہرا ہے۔ نمونہئ کلام ملاحظہ کیجئے :
سچ جو بولو گے چڑھا دے گا زمانہ دار پر
لکھ گیا تھا کوئی یہ مصرعہ مری دیوار پر
خون کی پھر ہولیاں کھیلی گئیں اک شہر میں
پھر نمایاں سرخیاں ہیں ملک کے اخبار پر
غزل اردو کی شعری اصناف میں ممتاز اور نمایاں ہے۔اس صنف میں رمز و ایما اور ایجاز و اختصار کے ہنر کا کمال ہے اور اس سے اس کی جمالیات کا تعین ہوتا ہے۔ غزل میں شائستگی،سنجیدگی و پاکیزگی کی جو فضا ہے اور جلوہ خیزی و سحر آفرینی کی جو کیفیت ہے یہ اس کا طرہئ امتیاز ہے۔نیازؔ انصاری کی غزلیں ان کے مقام اور شاعرانہ معیار کا آئینہ دار ہیں۔شاعر جس ماحول میں رہتا ہے اسی سے متاثر ہوکر اس کی فکری سمتیں بھی متعین ہوتی ہیں۔وہ جو کچھ محسوس کرتا ہے بحسن و خوبی اپنے اشعار میں ڈھال دیتا ہے۔
نیازؔ انصاری کے کلام میں عشقیہ واردات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے اور فراق و وصل کی لذتوں سے بھی آشنائی کا پتہ چلتا ہے۔ ان کی شاعری میں سلاست و روانی کے ساتھ جدید حسیت کی جادو گری دکھائی دیتی ہے۔فکری تضادات اور خارجیت کی المناکی نے ان کے کلام میں ایک خاص قسم کا تنوع پیدا کر دیا ہے جو پرکشش بھی ہے اور فکر کی تازگی کا احساس بھی دلاتا ہے۔شعر ملاحظہ فرمائیں :
ہمیشہ کرتا تھا جس پر میں اعتبار بہت
کیا ہے اس نے مرے دل کو بے قرار بہت
اے دوست پیا ر کا رشتہ کسی سے مت رکھنا
یہ ایک لفظ محبت ہے داغدار بہت
نیازؔ انصاری کی غزل کا آہنگ جدید اور قدیم لہجوں کے سنگم سے بنا ہے جو پر کشش ہونے کے ساتھ ساتھ کلام کی تازگی کا احساس دلاتا ہے۔ان کی زبان شگفتہ و سریع الفہم ہے۔موضوعات و مسائل بھی اہم اور اسلوب بھی دلکش و جاذب نظر۔ شعر ملاحظہ فرمائیں :
صبح سویرے گاؤں کا میرے منظر اچھا لگتا ہے
شام کے ڈھلتے شہر کا جگ مگ پیکر اچھا لگتا ہے
عیش کی جنت میں نہ بلاؤ ہم مفلس خود داروں کو
شیش محل سے پھوس کا اپنا چھپر اچھا لگتا ہے
جو لوگ نیا طرز بیاں ڈھونڈ رہے ہیں
پتھر پہ محبت کے نشاں ڈھونڈ رہے ہیں
بس پیار کے نغمے ہوں محبت کی فضا ہو
ہم لوگ اب ایسا ہی جہاں ڈھونڈ رہے ہیں
کوئی بھی فنکار جب اپنے فن کو منظر عام پر لاتا ہے تو اس کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام و خواص میں اپنی پہچان بنا لے۔چنانچہ نیازؔ انصاری نے بھی اپنی عام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے تجربات و مشاہدات کو اشعار میں سمو کر منظر عام تک پہنچا دیا ہے۔ اس طرح وہ اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔مستقبل قریب میں ان کی ذات سے بہتر توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں۔
نئے دور اور نئے رجحانات کی نمائندگی نیازؔ انصاری نے اتنے معتبر انداز میں کیا ہے کہ بے اختیار ان کی شخصیت کے عظیم ہونے کا گمان ہی نہیں یقین ہونے لگتا ہے۔ ان کی غزل کا مطلع اور ایک شعر ملاحظہ ہو :
بہار ہو کہ خزاں ہو ملول ہیں ہم لوگ
نہ جانے کون سے موسم کے پھول ہیں ہم لوگ
ہمارے نقش قدم پر چلو جہاں والو
تمھارے دور سیہ کے رسول ہیں ہم لوگ
نیازؔ انصاری غزل کی صحیح طور پر ترجمانی کرنے کے ساتھ ساتھ شاعری کے بدلے ہوئے مزاج کا ہمہ وقت خیال رکھتے ہیں۔128صفحات پر مشتمل شعری مجموعہ ’نقش قدم‘ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ کتاب کے ابتدائی چند اوراق میں شامل ناقدین ادب کے تاثرات بھی نیازؔ انصاری کے فکر و فن کی تفہیم و تحسین میں بہت حد تک معاون ہیں۔ٍیہ کتاب دیدہ زیب سر ورق کے ساتھ حالی پبلشنگ ہاؤس،دہلی سے شائع ہوئی ہے۔ کہیں کہیں پروف کی خامیاں زیر نظر ہیں۔شاعر کی کاوش قابل ستائش ہے۔ امید ہے کہ ادبی حلقے میں اس کی خاطر خواہ پذیرائی ہوگی۔

تبصرہ نگار : داؤد احمد،

اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اردو،

فخرالدین علی احمدگورنمنٹ پی جی کالج محمودآباد،سیتاپور

Email: daudahmad786.gdc@gmail.com
Mobile: 8423961475

You may also like

Leave a Comment