اخلاص و مودت ہو اور صبر کا پیکر ہو
انساں سے محبت ہو اور فکر کا جوہر ہو
پھر دور کدورت ہو اور صبح معطر ہو
پھر جاں میں حرارت ہو اور پھول بھی عنبر ہو
اور دل میں اخوت ہو کردار بھی برتر ہو
اور آیت قرآں بھی قلب میں ازبر ہو
پھر آؤ گلے مل لیں اور دور کریں شکوے
پیغام خدا سن لیں، غمخواری کے ہوں جذبے
جو رب نے دیا ہے یہ انعام یہ امت کو
پہنچے یہ ہر اک ایک کو، اسلام کے ہوں جلوے
پر نور یہ عالم ہو اور امن کا رہبر ہو
یارب یہ ہلال عید تاباں و منور ہو
چھٹ جائیں اندھیرے سب قرآن کی برکت سے
امت یہ محمد کی اب فاتح خیبر ہو
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ ، اعظم گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

