اردو شاعری کا ہندوستانی تہذیب سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ اگر شاعری کا رشتہ تہذیب سے اور تہذیب کارشتہ شاعری سے منقطع کردیا جائے تو دونوں بے معنی ہوکر رہ جائیں گے۔جس طرح تہذیب کسی بھی قوم کی شناخت ہوتی ہے اسی طرح زبان بھی ایک خاص قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ مگر ان دونوں کے ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری رہتا ہے۔ہرعہد میں تہذیب اور زبانوں کے زوال اور ترقی کا معاشرتی عمل دخل رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کس عہد میں اردو زبان وادب کو زیادہ فروغ حاصل ہوا اور کس عہد میں کم ہوا۔ بالخصوص بیسویں صدی اردو شعروادب کے ساتھ تہذیب کی پامالی کاعہد رہا ہے۔ جہاں اس عہد میں شعری مذاق اپنے ماقبل سے زوال آ مادگی کا شکار ہواہے وہیں قدیم تہذیب و تمدن کی جڑیں بھی کمزور ہوئیں ہیں۔ دراصل زبان اور تہذیب وتمدن کے زوال کا یہ عمل غیرفطری نہیں ہے کیوں کہ ہرعہد میں جہاں ہر دس اور بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر زبان بدل جاتی ہے وہیں کچھ فاصلے پر تہذیب وتمدن بھی ایک دوسرے سے جدا نظر آتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ تبدیلی ایک یادو صدی سے جاری نہیں ہے بلکہ جب سے دنیا قائم ہے اور جب تک دنیا باقی رہے گی تغیر و تبدل کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔ تبدیلی کا یہ عمل برسہا برس سے یونہی چل رہاہے اور آج ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہ اچانک ہوگیا۔ جب کہ اندازہ یہ ہے کہ ہر عہد میں تبدیلی اور ٹوٹ پھوٹ کے اس عمل سے لوگوں کایہی ردعمل رہا ہوگا۔جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے کہ تبدیلی کا یہ معاملہ صرف زبان اور تہذیب کے ساتھ ہی ہے، بلکہ یہ تبدیلی دنیا کی ہر شے پر اثر انداز ہورہی ہے۔ یہی سبب ہے کہ کسی زمانے میں لوگ سو سال اور ڈیڑھ سو سال کی عمر پاتے تھے۔ موسم اور آب و ہوا جدا تھے حتی کہ زمین و آسمان کی گردش اور رفتار میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ سائنسی ایجادات واختراعات کے سبب کچھ چیزیں جہاں آسان ہوگئی ہیں وہیں کچھ مشکلات بھی پیدا ہوئی ہیں۔ بہرحال تبدیلی کے اس فطری عمل سے کوئی چیز ماوریٰ نہیں ہے۔ سائنس جتنی تیزی سے ترقی پذیری کے عمل سے گزر رہی ہے تبدیلی بھی اتنی ہی سرعت سے واقع ہورہی ہے جس کی وجہ سے انسانی فکر متاثر بھی ہورہی ہے۔ کل کا انسان جس طور پر سوچتا تھا آج کا انسان اس بات کو کسی اور اعتبار سے سوچتا ہے۔ کل کی ذہانت اور آج کی ذہانت میں یکسر فرق نظرآتا ہے۔ بالخصوص بیسویں صدی کو سائنسی صدی اور ایجادات واختراعات کی صدی قرار دیا جاتا ہے اور اسی ترقی پذیر صدی میں چار اکتوبر ۱۹۰۸ء میں ضلع سلطانپور کے موضع ایسولی میں نیر سلطانپوری پیداہوئے۔ آپ کا اصل نام سید توکل حسین تھا نیر سلطانپوری تخلص کیا کرتے تھے۔ ۱۵؍اگست ۱۹۸۵ء کو ۷۷ سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔
آپ فارسی، انگریزی اور اردو زبان وادب پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ آپ بیک وقت ادیب و شاعر بھی تھے اور صحافی بھی، آپ نے لکھنؤ سے نکلنے والا ادبی رسالہ ’’فردوس‘‘ کی کئی برسوں تک ادارت کا کام انجام دیا اورایک سال تک ماہنامہ ’’شمع ادب‘‘ کی ادارت کے فرائض انجام دیے۔ آپ بنیادی طور پر صوفی منش انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ نیرسلطان پوری نے شعر وادب کے ذریعہ صرف گل وبلبل اور عشق وعاشقی کی باتیں نہیں کیں بلکہ اس کے توسط سے بندگان خدا کی راہ یابی کا کام بھی کیا۔ بندگان خدا کو اپنی شاعری کے ذریعہ خود شناس اورخدا شناسی کی ترغیب بھی دی اور پوری عمر بندوں کی خدمت میں لگے رہے۔ اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے اپنا خاندانی مکان اپنی حیات ہی میں ابتدائی صحت کے مرکز کے لیے وقف کردیاتھا۔ ظاہر ہے یہ کام وہی کرسکتا ہے جس نے خدا کی عظمت کے ساتھ عظمت انسانی کو بھی پہچانا ہو۔ اگر ہم صوفی شعرا کی زندگی کا غائر مطالعہ کریں اور ان کی شاعری کوبغور پڑھیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ انھوں نے کس طرح خدا کے ساتھ بندوں سے بھی محبت کی اور اپنی پوری زندگی انسانوں کی خدمت کے لیے وقف کردی۔نیز اپنی ادبی تخلیقات کے ذریعہ بندوں کی راہ یابی کا سامان کیا۔ نیر سلطانپوری نے بھی بحیثیت صوفی شاعر کے اپنی زندگی کو خدا کے ساتھ بندوں سے بھی وابستہ رکھا اور اپنی شاعری کو اپنی روایت سے مربوط رکھتے ہوئے فنی تقاضوں کو پورا کیا جس کی وجہ سے جا بجا انسانوں کو انسانیت پر ابھارا گیا ہے اور اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ اپنے تہذیبی تشخص کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ اگر ہم ان کی شاعری کاغائر مطالعہ کریں توشعروں کے حوالے سے ان کی کئی تصویر ہمارے سامنے ابھر کر آتی ہے۔ کہیں وہ صوفی شاعر کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں، تو کہیں مصلح قوم بن جاتے ہیں، تو کہیں ناصحِ خوش گفتار کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اور کہیں محض ایک سادہ لوح شاعر نظر آتے ہیں۔یہ ان کی شاعری کے خاص عکس ہیں جن میں وہ ایک مکمل صوفی اور تہذیبی قدروں کے امین نظرآتے ہیں۔
نمونے کے چند ایسے اشعار ملاحظہ کیجئے جن سے نیر سلطانپوری کی نہ صرف تصویر ابھر کر سامنے آئے گی بلکہ ان کی نیرنگی ِ فکر اور روئیدگیِ خیال کا بخوبی اندازہ بھی لگایا جاسکے گا ۔
ہے جس سراپا خود بینی اور عشق ہمہ تن خودداری
وہ میری طرف آنے سے رہے میں ان کی طرف جانے سے رہا
٭٭٭
خارِ صحرا نے تو چاہا تھا کہ آئے نہ پڑھوں
آبلے ٹوٹ گئے دل نہ ہمارا ٹوٹا
٭٭٭
شعورِ ربط باہم بھی ستاروں سے اگر لے لے
بدل سکتا ہے تقدیر جہاں ہر آدمی تنہا
٭٭٭
ارتقائے معرفت پر ختم سب افسانہ تھا
شمع کے سائے میں نیرؔ کشتہ پروانہ تھا
٭٭٭
ہر نفس ہے غبارِ راہِ حیات
زندگی ہے سبک خرام بہت
٭٭٭
بڑی مشکل ہے یہ آہِ رسا کس پر یقیں کرلے
اثر کچھ اور کہتا ہے دعا کچھ اورکہتی ہے
٭٭٭
کہنے بھی نہ پائے غم ہستی کا فسانہ
رستے ہی میں نیند آگئی راہوں کی تھکن سے
٭٭٭
ہے قطرہ شبنم بھی کسی دردؔ کا حاصل
لیکن وہ مرے عشق کا پیغام نہیں ہے
٭٭٭
چاک دامانی ہے نیرؔ عشق کی معراج ہے
آپ چاہیں اس کو میرا حوصلہ کہہ لیجئے
٭٭٭
کیا گزرتی ہے مرے دل پہ کوئی کیا جانے
میری رودادِ الم سب سے نہ پوچھا کیجئے
محولہ بالا اشعار کی اگر ہم فکری ، فنی اور لسانی سطحوں پر تفہیم کرنا چاہیں تو اندازہ ہوگا کہ وہ ہرسطح پر ایک خاص معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی فکر کی تر سیل میںکام یاب ہیں۔ ان اشعار سے ہم ان کی فکری پرواز، موضوعات کی ترجیحات اور لفظ وبیان کے ساتھ لہجے اوربرتائو کی عمدگی اور پختگی کا بھی بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں ۔ ان کی شاعری کے مخاطب انسان ہیں، وہ انسانوں کے ہمدرد، خیرخواہ او راہ نما کی حیثیت سے ان کے مسائل کے مداوا کے خواہاں ہیں۔ وہ دنیا اور مافیہا کی بے ربطی ، درپیش مسائل اور مختلف النوع چیلنجز کوقریب سے دیکھ کر سر سری گزرنہیں جاتے بلکہ چند لمحے ٹھہر کر، رک کر اس کا حل تلاش کرتے ہیں وہ شعر کی زبان میں پیغامبری کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی مسائل ومعاملات کے ایک ایک پہلو پر برسوں غور وفکر کرتے ہیں اور ایک نباض کی طرح بے حد باریک بینی سے اس پر نظر رکھتے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ ان سب کے باوجود انھوں نے اپنا رشتہ اپنی روایت سے اسی قدر مربوط رکھا ہے جیسے کہ پہلے تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی شاعری کلاسیکی رنگ و آہنگ سے مملو نظرآتی ہے۔ جابجا کلاسیکی طرز وانداز، پیرایہ بیان ، فکری وفنی میلان اور زبان وبیان کا دروبسط کلاسیکی رچائو سے مالا مال ہے جس کے نتیجے میں ان کے کلام زبان کی چاشنی وشیرینی اور لطافت بیان کا خوبصورت نمونہ معلوم ہوتے ہیں۔ نیرسلطانپوری کے شعری کمالات کے تعلق سے ڈاکٹر سید محمد عقیل لکھتے ہیں:
’’نیرؔسلطانپوری دراصل فطری شاعر ہیں۔ وہ جذبات کی باز آفرینی ہی کو اصل شاعری سمجھتے ہیں جو ان کے تجربات عشق کے بیخ وبن میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ عشقیہ شاعری میں منطقی تعمیر اورتعبیر کی تلاش احساسات کی ان روؤں کو اسیر کرسکتی ہے جس سے شاعر گزرتا ہے۔ اس لیے شاعر کے محسوسات ہی کو عشقیہ شاعری میں اہمیت ہوتی ہے۔ نیرؔ صاحب کے محسوسات قاری کے ساتھ متحرک رہتے ہیں اوران کی شاعری کاکلاسیکی انداز قاری کو اپنی گرفت میں لیے رہتا ہے۔ وہ ایک پختہ کار شاعر ہیں اس لیے ان کی شاعری ان تمام فنی اسقام سے دورہے، جن پر گرفت مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے آج کا شاعر اکثر اپنا شعری اعتبار کھودیتا ہے۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ نیر سلطانپوری فطرت زبان بولتے ہیں اور وہ جذبہ اور احساس کے شاعر ہیں۔ ان کے نزدیک
عقل وہوش سے زیادہ جذبہ وجنون کی اہمیت ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ جو جذبہ واحساس کا شاعر ہوگا وہ حساس طبیعت بھی ہوگا اور جس کی حسّی کیفیات متحرک ہوںگی وہ ہوش و خرد اور مصلحت اندیشی سے کوسوں دور ہوگا۔ اس لیے کہ مصلحت پسندی اور عقلی حربے فطرت سے دور اوردنیا سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ عقل وہوش نفع اور نقصان سے انسان کو آگاہ کرتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں انسان نقصان کے خوف سے اپنے جذبہ وجنون کا خون کردیتا ہے یعنی اسے دبادیتا ہے جو فطرت کے عین منافی عمل ہے۔ اسی لیے اقبال نے عقل و خرد پر جذبہ وجنون کو فوقیت اور افضلیت دی ہے۔ جذبہ کے اسی رویے کے برتائو کے نتیجے میں نیر کی شاعری میں جذبات کی باز آفرینی اور سحر انگیزی کی صورت میں نظر آتی ہے۔
دراصل نیر سلطان پوری نے اساتذہ فن سے فنی اور فکری اکتساب کیاہے۔ جسے ہم ان کے فکری اور فنی حوالوں میں نمایاں طور پر محسوس کرسکتے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں انھوں نے تادم آخر اپنی قدیم روایات اور قدیم تہذیب وثقافت سے کبھی رو گردانی نہیں کی بلکہ اسے ہی اپنے شعری رویے کا مطمح نظر بنالیا۔ ڈاکٹر سید عبدالباری نے اس حوالے سے ایک جگہ لکھا ہے کہ:
’’نیرؔ صاحب اردو شعرا کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو ایک رچی ہوئی تہذیب، ایک بالیدہ ثقافت اور اقدار وروایات کے ایک مستحکم نظام کے آغوش میں پروان چڑھی تھی۔ ان کے یہاں ایک کلاسیکی مزاج موجود ہے۔
وہ اپنے تغزل کو زمانے کے لیے تفریح طبع کا
سامان نہیں بنانا چاہتے۔ وہ فکر انگیز شاعری کے قائل ہیں۔ اعلیٰ ادب کی تخلیق کے لیے اعلیٰ درجہ کی متانت اور خلوص درکار ہوتا ہے۔‘‘
بالااقتباس اور اشعار کی روشنی میں نیرسلطانپوری کی شاعری محاسبہ کیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ ان کے یہاں شاعرانہ بانک پن کے ساتھ وارفتگی عشق کا خوبصورت اظہار بھی ہے۔ ساتھ ہی ماضی کی داستانِ غم اور حال کا کرب بھی پوشیدہ ہے۔ وہ ایک حوصلہ مند شاعر ہیں ،نابرابری حالات،ناموافق اور نامساعد حالات کے باوجود کبھی حوصلہ نہیں کھوتے، ہمیشہ حوصلہ مندی سے کام لیتے ہیں جس کے نتیجے میں درد وغم اور اضطراب کی کیفیت کو سرمستی اورسرشاری میں بدل دیتے ہیں۔ ان کی شاعری کو پڑھ کر ہمیں کہیں بھی لایعنیت اور بے مقصدیت کا احساس نہیں ہوتا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے اپنے شعری سفر میں اساتذہ فن سے روشنی حاصل کی ہے جس کی وجہ سے فکری اور فنی رچاؤ کے ساتھ اظہار و بیان کی سطح پر بھی یہ احساس ابھرتا ہے۔ یہاں ہم علامہ اقبال اور جگر کا ایک شعر نقل کرتے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ نیرسلطانپوری نے کس حد تک استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اقبال کے جواب شکوہ کا پہلا شعرہے۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پر واز مگر رکھتی ہے
جگر مرادآبادی کا ایک شعر دیکھئے:
ان کاجو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
مذکورہ بالا دونوں اشعارکو بغور دیکھئے اور ذیل میں نیرؔسلطانپوری کے اس شعر کو دیکھئے:
جوبات نکلتی ہے دل سے رکھی ہے اثر بھی اے نیرؔ
پیغام محبت دو توسہی یارانِ وطن سے کیا ڈرنا
جب آپ ان کا تطابق کریں گے تو احساس ہوگا کہ نیر نے اقبال کے دونوں مصرعوں کے مفہوم کواپنے ایک مصرعہ میں سمو دیا ہے۔ اسی طرح جگر مرادآبادی کے دونوں مصرعوں کے مفہوم کو انھوں نے اپنے شعر کے ایک مصرعہ میں پرودیا ہے۔ یہ ان کا شعری اور فنی کمال بھی ہے۔
ذیل میں ہم نیر ؔ سلطانپوری کے چند مزید ایسے اشعار نقل کررہے ہیں جن کو پڑھ کر پوری طرح ان کا شعری امتیاز واضح ہوجائے گا ساتھ ہی ان کاشعری افق بھی روشن ہوگا۔ اشعار ملاحظہ کریں:
٭٭٭
رکھ لی جبینِ شوق نے خود آستاں کی لاج
ورنہ گزر گئے تھے حدِ بندگی سے ہم
٭٭٭
دیوان گانِ شوق نے ورثے میں دے دیا
تاعمر اہل ہوش گریباں سیا کریں
٭٭٭
کیجئے تعمیر پھر اک نیا صحرا کوئی
خاک کے ذرّوں نے بھی چاک کیے پیرہن
٭٭٭
جہاں میں دار و رسن کا جو اہتمام نہ ہو
وفا کے رنگ میں پیدا کبھی دوام نہ ہو
٭٭٭
جی چاہتا ہے قصہ غم مختصر نہ ہو
ایسی بھی ایک رات ہو جس کی سحر نہ ہو
٭٭٭
لازم ہے کہ پیدا ہوجائے کچھ قول و عمل میں ہم رنگی
پہلے تو گریباں چاک کرو پھر ہم سے جنوں کی بات کرو
٭٭٭
جنوں کے حوصلوںپر یہ خرد کی بندشیں کیسی
بڑے ناداں ہیں جو رنجیر کو بارِ گراں سمجھے
٭٭٭
صحبت ہمیں راس آہی گئی اہل جنوں کی
اب ہاتھ بھی دامن کا طلب گار ہےجیسے
٭٭٭
بندشوں میں گھر کے بھی تعمیر کر دینا نئی
اک زمانہ ہوگیا دیوار زنداں دیکھتے
٭٭٭
بحثیں تو چلیں خوب خرد اور جنوں کی
آگے نہ بڑھی بات مگر دار و رسن کی
٭٭٭
کیوں اہل نظر کے شکوئوں سے دل تھام کے بیٹھے جاتے ہو
ہم کو تو خود اپنی گردن پر ہی خونِ تمنا رکھتا ہے
مندرجہ بالا اشعار نیرؔسلطانپوری کے تخلیقی نمونے ہیں ، جن میں ان کی صلابت ِفکر کا عکس جا بجا جھلکتاہوا محسوس ہوتا ہے۔ اور ان کے متنوع فکری کینوس کا ادراک بھی کیاجاسکتاہے۔ وہ عزم وارادہ کے پختہ شاعر تھے۔انھوں نے ابتذال فکر کوکبھی بھی جگہ نہ دی اورنہ کبھی اپنے پایہ فن کومتزلزل ہونے دیا۔انہوں نے شاعری کو اپنی فکر، اپنے احساسات اور تجربات کے برتاؤ کا وسیلہ بنایا ۔ انھوں نے جو کچھ بھی سوچا، محسوس کیا اور تجربات ومشاہدات میں آنے والے معاملات و مسائل کو بے حد خوبصورتی اورفنی کاری کے ساتھ پیش کیا ۔ان کے یہاں کہیں داستان کادلکش بیان ملتا ہے، تو کہیں عاملات ومسائل کا تلخ اظہار ، توکہیں احساسات کی نیرنگی کا محیرالعقول بیان بھی ملتا ہے، اور کہیں مختلف النوع تجربات ومشاہدات کا المیہ پیش کیا گیاہے۔ اسی طرح جگہ جگہ جذبہ و جنون اورجذبہ شوق کا نیرنگ اظہار بھی پایاجاتا ہے۔ ان سب کے ساتھ جوان کی شاعری کا سب سے ابھرا ہوا اورخاص پہلو ہے وہ ہے مستحکم ارادہ اور مصمم یقین جو ہمیشہ دلوں کو گرماتا بھی رہتاہے اورفکر و خیال کوتازگی بھی بخشتا رہتاہے۔ ان کے یہاں صفحہ در صفحہ حوصلہ مندی کااظہار ملتا ہے اور امید کی شمعیں ضوفشاں رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے مستقبل کی تابناکی اور روشن مستقبل کایقین پختہ ہوتارہتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مایوسی اور بذلی ایمان کے منافی افکار ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی زندگی اور شاعری میں کبھی بھی مایوس نہیں نظر آتے ۔ہمیشہ امید کا دامن ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اوریہی خصوصیت ان کی شاعری میں امتیازی شان کی حیثیت رکھتی ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

