by adbimiras
0 comment

’’مرگِ انبوہ ایک مطالعہ” پر ایک قاری کا نوٹ – عرشیہ انجم

 

کتابیں ہمیشہ سے میرے لیے مسرت،طمانیت،تجسّس اور سکون و عافیت کا محور رہی ہیں۔ میں نے شناخت ذات سے لیکر خیالات کی پختگی کا سفر کتاب کے وسیلے سے ہی طے کیا ہے۔حرفِ اوّل سے تحریر کی گنجلک وادیوں میں، معنی کے بحر بیکراں میں کتاب کے ذریعے سے ہی غوطے لگائے ہیں۔افسانوں، ناولوں نے جہاں تصوّرات کے جہاں  آباد کیے ، وہیں تخیل کی ایک نئی دنیا سے روشناس کرایا۔عالمِ  ادب کی بے پایاں شخصیات کے نادر خیالات و افکار نے زندگی کو نیا  زاویہ دیا۔ ذہن کے قفل کو توڑا۔دقیانوسی زنجیروں سے آزاد کیا ۔محدودیت کے حصار سے نکال کر امکانات کی وسیع و عریض کائنات سے متعارف کیا ۔ کوئی روشنی کا مینارہ روشن ہوا جس کے ذریعے سے زندگی کے اُن مسائل پہ بھی نگاہ گئی جو آنکھوں سے اوجھل تھے۔ کائنات کے ایسے راز افشاں ہوئے جو چشمِ عیاں سے مخفی تھے۔

کتاب ہی میری رفیق بھی ہے اور غم گسار بھی ہے۔اس کی صحبت میں،  میں نے خوابوں کا نیا جہاں آباد کیا۔

آنکھوں نے یہ جسارت کی کہ کوئی خواب دیکھیں اور حقیقت میں تبدیلی کا ارادہ بھی کریں۔یہی خواہش لیے میں نے لرزتے ہاتھوں سے قلم تھاما۔۔خوف اور ناکامی سے وہ ہاتھوں سے گرنے والا تھا کہ بہت ہی محترم، پُرخلوص اور عظیم ادیب ہی نہیں انسان بھی سر مشرف عالم ذوقی صاحب نے اپنے حوصلے اور تعریفی جملوں سے میرے قلم کو نئی طاقت دی ۔  یقین و عزم سے پر کر دیا کہ "تُم بہت اچھا لکھ سکتی ہو”

میں نے ان کے شہرہ آفاق ناول ” مرگِ انبوہ” پر مختصر سا تبصرہ لکھا۔۔

ایک عظیم ادیب کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ ادنٰی سے طالبِ علم کی  بھی اس قدر حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ  بہترین کارگردگی کہ مظاہرہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے   نئی طاقت اور نئے عزم کے ساتھ محنت مشقت کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ذوقی صاحب کے توصیفی کلمات نے مجھے ایسے ہی متحرک کیا۔

یوں تو یہ میرا پہلا با ضابطہ کوئی تبصرہ تھا، مگر ذوقی صاحب نے اسے اتنی زیادہ اہمیت دی اور اپنی فیس بک وال پر شیئر کر کے مجھے  ایک نئی شناخت  اور پہچان دی۔ابھی تک میں صرف ایک پرائمری اُستاد کی حیثیت ہی رکھتی تھی۔۔

یہ سلسلہ مسلسل جاری و ساری ہے۔ادب کو ایسے ہی عظیم ادیب درکار ہیں جو ادب کے مستقبل کی فکر کریں اپنے بعد ادب کو روشن کرنے والے چراغ جلا جائیں۔ذوقی سر نے بہت سے چراغ روشن کیے ہیں جو اُن کی راہنمائی میں ترقی کی طرف گامزن ہیں۔۔ اس سلسلے کی ہی کڑی ہیں جناب جاوید زکی اختر خان صاحب، جو پیشے سے انجینئر ہیں  مگر ذوقی صاحب کی تحریروں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ قلم اٹھانے کو مجبور ہو گئے۔ ادب کی خدمت کا آغاز کر دیا۔

"مرگِ انبوہ” پر تحریر کیے گئے تمام تبصرے کو جمع کیا  اور ایک کتاب "مرگِ انبوہ ایک مطالعہ” کے نام سے مرتب کی۔۔ بہت ہی مشقت اور  عرق ریزی سے اُنہوں نے  یہ کارنامہ انجام دیا کیوں کہ اس میں ہندوستان سمیت پاکستان کے ادیبوں کی بھی تحریریں ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اُنہوں نے عام قاری یعنی میری بھی تحریر کو جگہ دی ۔۔

تمام اُردو محبت کرنے والوں کے لیے یہ خوشی کا مقام ہے کہ اتنے کم عرصے میں کِسی ناول پہ اتنی شاندار کتاب منظرِ عام پر آئی۔ یہ کتاب ذوقی صاحب کو ایک شاگرد کی طرف سے نایاب تحفہ ہے۔ تنقید اور تحقیقی ادب  سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے بیش قیمتی خزانہ ہے۔

آخر میں میں پھر سے زکی صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کہ مجھ ادنٰی سی طالبِ علم کی تحریروں کو یہ مقام عطا کیا کہ وہ اب کتاب میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہیں گی۔ شکریہ ذوقی صاحب آپ نے  اُردو ادب کو اتنا عمدہ ناول دیا۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment