by adbimiras
1 comment

 

تلاشِ حق/گاندھی جی- پروفیسر کوثر مظہری

گاندھی جی نے اپنی زندگی اور زندگی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حادثات کے مابین ایک تجرباتی رشتہ استوار کیا ہے۔ انھوں نے اس دُنیا کو ایک دارالعمل تصور کیا ہے اور خود ایک سائنس داں کی طرح اس دارالعمل میں شب و روز کے لمحوں کو اس طرح خرچ کیا ہے جیسے انھیں کسی خاص پروڈکٹ کی جستجو ہو۔ غورطلب امر یہ ہے کہ اس دارالعمل میں انھوں نے اپنے خلوص، مذہبی رواداری، عالمگیر محبت اور لگن سے سچائی کی کرنوں سے نو بہ نو تجربے کرتے رہنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی زندگی تلاش حق یعنی سچائی کی جستجو میں سرگرداں رہی۔ اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی زندگی کا فلسفہ تلاش حق کے محور پر قائم ہے۔ ان کے اس فلسفے کو رومن رولاں اس طرح پیش کرتے ہیں:

’’گاندھی جی کا فلسفہ دونمایاں عناصر سے مل کر بنا ہے۔ ایک مذہبی اساس، جووسیع اور مستحکم ہے دوسرا سماجی عمل، جس کی تعمیر وہ احوال واقعی اور رائے عامہ جیسی بنیادوں پر کرتے ہیں۔‘‘

تلاش حق مہاتما گاندھی کی خودنوشت سوانح ہے۔ انھوں نے گجراتی زبان میں یہ خودنوشت لکھی تھی جسے ان کے سکریٹری مہادیو دیسائی نے انگریزی زبان میں ’دی اسٹوری آف مائی اکسپریمنٹ وِدٹُرتھ‘ کے نام سے ترجمہ کیا۔ یہ تحریر ’ینگ انڈیا‘ میں پہلے قسط وار شائع ہوئی پھر 1948 میں کتابی صورت میں چھپی۔ انگریزی کے مشہور ادیب جارج آروِل نے اس کتاب پر تبصرہ کیا جو ’پارٹیزن ریویو‘ میں 1949 میں شائع ہوا۔ اپنے تبصرے میں انھوں نے لکھا ہے کہ گاندھی کی زندگی تیرتھ یاترا کی طرح تھی جس کا ہر قدم اہم تھا۔ حالاں کہ جارج آروِل نے گاندھی جی کی شخصیت کو پوری طرح قبول نہیں کیا ہے۔ اس انگریز ادیب نے گاندھی جی کی خودنوشت کے کچھ حصے کسی انگریزی اخبار (غالباً ینگ انڈیا) میں پڑھے تھے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’میں نے اس کے ابتدائی حصوں کو ہندوستان کے کسی سستے چھپے اخباروں کے صفحوں میں ہی پڑھا تھا۔ ان کی ایک تازہ چھاپ مجھ پر پڑی، حالانکہ گاندھی کی شخصیت کا مجھ پر کوئی اثر نہیں پڑسکا۔ گاندھی سے جُڑی چیزیں جیسے گھر کاتا کپڑا، نباتاتی غذا، ان میں کسی کا مجھ پر کوئی اثر نہیں تھا۔ واضح لگتا تھا کہ عہد وسطیٰ کا یہ گاندھی اس پچھڑے، بھوکے غریب دیش کا کتنا کلیان کرسکے گا اور انگریزوں کے ہاتھ تو وہ ایک اچھا کھلونا مل گیاتھا جو ایک طرف دشمن تھا تو دوسری طرف دوست بھی تھا… لیکن گاندھی کا یہ نظریہ تھا کہ دھوکا دینے والے بس اپنے کو ہی دھوکا دیتے ہیں۔‘‘

آگے چل کر گاندھی جی کی شخصیت اور افکار کے ارتقائی ایام کو اس طرح پیش کیا ہے جو دلچسپ بھی ہے اور غور طلب بھی:

’’گاندھی کی زندگی سادہ طور پر شروع ہوئی۔ پڑھ لکھ کر بیرسٹر بنا۔ کچھ دنوں ہیٹ کوٹ پہن کر ناچ سیکھنے جایا کرتا تھا۔ وائلن سیکھنا بھی شروع کیاتھا  اور پیرس کے آئفل ٹاور پر بھی بڑے شوق سے چڑھا تھا۔ گاندھی بچپن سے مسیحا نہیں تھا۔ آغاز کی نفسانی خواہشات یا ان جیسی دوسری بھولوں کو اُس نے کھل کر اپنی خودنوشت میں قبول کیا ہے۔ اس کی ان تھوڑی سی بھولوں کو اکٹھا کیا جائے تو وہ گاندھی کی ان تھوڑی سی ضرورت کی چیزوں کے برابر ہی ہوں گی— چشمہ، گھڑی، قلم، کھڑاؤں، مالا، گیتا، تین بندر— اور بس— میرا دعویٰ ہے گاندھی کے سب سے بڑے دشمن بھی اس کی کثیرالجہات شخصیت کے قائل تھے۔ وہ ایک عجیب آدمی تھا اور اس کی پاکیزہ زندگی دنیا کے لیے ایک امانت ہے۔‘‘

جارج آرول کے اس مختصر بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گاندھی کی شخصیت دنیا کے ہر چھوٹے بڑے آدمی کے دل میں کسی حد تک گھر کرچکی تھی۔ لہٰذا ان کی خودنوشت کا اردو ترجمہ سید عابد حسین نے سلیس اور شگفتہ انداز میں کیا۔

اپنی خودنوشت تحریر کرتے وقت گاندھی جی کا ایک خاص نصب العین بھی تھا۔ کتاب کے آخری باب میں وہ لکھتے ہیں:

’’میرے دل میں ہمیشہ یہ امید رہی کہ شاید یہ کتاب سست اعتقادوں کے دل میں حق اور اہمسا کے عقیدے کو مستحکم کردے۔ اگر اس کا ہر ورق پڑھنے والوںسے پکار پکار کر یہ نہ کہے کہ معرفت کا بجز اہمسا کے کوئی وسیلہ نہیں تو میں سمجھوں گا کہ میری ساری محنت اکارت گئی۔‘‘

’تلاش حق‘ میں گاندھی جی کے ہر شعبۂ حیات پر روشنی پڑتی ہے۔ ان کی پوری زندگی ’ستیہ گرہ‘ اور ’اہمسا‘ پر ٹکی ہوئی تھی۔ اگر یہ کہیں کہ ان کی پوری زندگی حق کی بازیافت کے لیے وقف تھی تو بے جا نہ ہوگا۔ ’حق‘ کے بارے میں وہ کتاب کے آخری باب میں لکھتے ہیں:

’’حق وہ روح کلی ہے جو ساری کائنات میں جاری و ساری ہے۔ انسان اس کے جلوے کی تاب تبھی لاسکتا ہے جب وہ ادنیٰ سے ادنیٰ مخلوق کو اپنی جان کے برابر عزیز رکھتا ہو۔ جسے اس کا حوصلہ ہو وہ زندگی کے کسی شعبے سے بے تعلق نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حق کی جستجو مجھے سیاست کے میدان میں کھینچ لائی ہے۔ میری رائے میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مذہب کو سیاست سے کوئی تعلق نہیں وہ مذہب کے مفہوم سے نا آشنا ہیں۔‘‘

اقبال بھی سیاست اور مذہب کے رشتے کو کچھ اسی طرح پیش کرتے ہیں:

’’جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘

گاندھی جی کے اندر جو ’حق‘ کے عناصر تھے وہ انسانیت کو فروغ دینے کے لیے تھے۔ وہ مذہب کے روایتی اصولوں کو محض زبانی یا رسمی طور پر دہرانا کافی نہیں سمجھتے تھے۔ وہ روایات اور مذہبی امور کی روح کو اپنی زندگی میں اُتار لینا چاہتے تھے اور مذہب کی معنویت کو انسانیت سے جوڑنے کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس  روئے زمین پر انسانوں کے درمیان جو نفرت، تعصب، نسلی تفریق، چھواچھوت اور اونچ نیچ جیسے کریہہ عوامل تھے انھیں گاندھی جی جڑ سے ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس کام کے لیے ان کے نزدیک ستیہ گرہ اور عدم تشدد جیسی دو غالب طاقتیں موثر تھیں۔ گاندھی جی کی تفہیم کے لیے ان کی خودنوشت کے اوراق میں پوشیدہ صداقت اور عدم تشدد کی ظاہری اور باطنی قوتوں اور علامتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کی زندگی جو سیاسی زندگی کہی جاسکتی ہے، ایک ایسا نمونۂ اخلاق پیش کرتی ہے جو آج کے سیاست دانوں کے لیے نشانِ راہ سے کم نہیں۔ ان کی کارکردگی، شب و روز اور تحریروں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انھوں نے صداقت (حق) عدم تشدد اور اخلاقیات کو شعوری طور پر اپنی زندگی میں اتارا ہے۔ اس ضمن میں لوئی فشر کا قول ہے:

’’گاندھی جی نے سیاست کو اخلاقیات سے مالامال کیا۔‘‘

گاندھی جی کے اندر اخلاقیات کی قدریں اس لیے موجزن تھیں کہ ان کے سیاسی افکار کی جڑیں مذہبی افکار کے شانہ بہ شانہ تھیں۔ اپنی خودنوشت ’تلاش حق‘ کی تمہید میں اس کا اعتراف گاندھی نے خود کیا بھی ہے:

’’جن تجربوں کا ذکر میںکرنا چاہتا  ہوں، یہ ایسے نہیں ہیں، مگر ہیں یہ بھی روحانی، بلکہ یوں کہیے کہ اخلاقی تجربے، کیوں کہ اخلاق ہی مذہب کی جان ہے۔‘‘

اسی اخلاقی تجربے اور مذہب کو سیاست سے جوڑ کر گاندھی جی نے ایک لائحہ عمل تیار کیا ہے جو ہندوستان کے روشن مستقبل کا ضامن بن گیا۔ اخلاقیات، مذہبیات اور سیاسیات کے باہمی رشتے پر جب ہم غور کرتے ہیں تو گاندھی جی کی شخصیت میں ان تینوں عوامل کی تثلیث نظر آتی ہے۔ انہی عوامل کی تقویم و توثیق کے لیے انھوں نے ’حق‘ اور عدم تشدد کی پالیسی کو اپنایا۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ عدم تشدد اور حق گوئی کو زندگی میں اُتار لینے کے بعد جو قوت بیدار ہوتی ہے وہ دوسرے تمام ایجاد کردہ آلات سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے، کیوں کہ دونوں قوتیں دنیا کے تمام مذاہب کا مرکزی سبق ہیں۔ گاندھی جی نے گیتا، قرآن، اپنشد، رامائن، بائبل اور دوسری مقدس کتابوں کا بلاواسطہ یا بالواسطہ مطالعہ کیا تھا۔ان کتابوں اور صحیفوں سے انھوں نے اصولِ حیات وضع کیا۔ ایک ایسی پالیسی مرتب کی جس پر عمل پیرا ہوکر انسانیت کی تحفیظ و تقدیم بھی ہوسکتی ہے اور تحریک حرّیت بھی پروان چڑھائی جاسکتی ہے۔ ذرا غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ عدم تشدد اور تلاش حق کے لیے وضع کردہ اصول خود گاندھی جی کے نہیں ہیں، یہ تمام اصول اور عوامل مذہبی اور تاریخی کتابوں میں موجود ہیں۔ مگر گاندھی جی نے انھیں برت کر جنوبی افریقہ اور ہندوستان کی تاریخ میں اپنا نام محفوظ کرالیا۔ عدم تشدد کی مثالیں ان کی زندگی میں بھری پڑی ہیں۔ ایک جگہ انھو ں نے لکھا ہے:

’’جنوبی افریقہ کی ستیہ گرہ کے دوران میر عالم خاں غلطی سے یہ سمجھ بیٹھا کہ میں نے قوم سے دغا کی ہے۔ چنانچہ اس نے مجھ پر اچانک قاتلانہ حملہ کیا اور مجھے مردہ سمجھ کر بھاگ گیا۔ جب وہ گرفتار کرکے عدالت میں لایاگیا تو میں نے بیان دیا کہ میں اُسے گرفتار کرانا نہیں چاہتا کیوں کہ اُس نے جو کچھ کیا غلط فہمی کی وجہ سے کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ میرا دوست بن گیا۔ ایک بڑے مجمع میں اس نے مجھ سے معافی مانگی۔‘‘

گاندھی جی نے یہاں عفو و در گزر کے اصول کو اپنایا۔ یہ مذہب اسلام کا ایک مستحکم اور راسخ اصول ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ گاندھی جی کی فکری اساس کو دوسرے مذاہب کے مطالعے سے تقویت ملی ہے۔ اس ضمن میں ان کی خودنوشت ’تلاش حق ‘ میں اور بھی مثالیں موجود ہیں۔ مگر اس ذیل میں آنے والے اشارے دوسری کتابوں سے بھی اخذ کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ تلاش حق کے فرمودات کو مزید استحکام حاصل ہوسکے۔ یوں بھی اُن کی خودنوشت پر تبصرہ کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ اس کے مرکزی خیال کو نفس مضمون بنانا ہے۔ گاندھی جی نے کہاں کہاں سے اصولِ حیات مستعار لیے ہیں اس ضمن میں یہ اقتباس ملاحظہ کریں:

’’کاٹھیاواڑ کے جلسے میں انھوں نے کہا تھا کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرتؓ عمر کروڑوں روپے بطور لگان وصول کرتے تھے پھر بھی ان کا ذاتی رہن سہن فقیروں جیسا تھا۔ انھوں نے ایک پائی بھی بیت المال سے نہیں لی۔ اُن کا اصول تھا کہ دشمن کے ساتھ بھی برا سلوک نہ ہو۔‘‘

وہ یہ تسلیم کرتے تھے کہ تشدد کے بعد جیل جانا تو تشدد کی سزا ہے۔ جیل تو چور اور لفنگے بھی جاتے ہیں جو ان کے لیے سزا ہوتی ہے کسی گناہ کی، مگر بغیر گناہ کے جیل جانے کی اہلیت پیدا کرنا بڑی بات ہے اور یہ اہلیت تلاش حق اور عدم تشدد کے اصولوں پر قائم رہنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت حکومت کو بھی یہ احساس ہوتاہے کہ بغیر گناہ کیے ایک آدمی جیل میں پڑا ہے۔ یہی وہ فلسفہ تھا جس نے گاندھی جی کو تشدد پر آمادہ ہونے سے ہمیشہ باز رکھا۔ اس عدم تشدد کی سالمیت اور استحکام کے لیے انھوں نے ضمیر، گفتار اور عمل کے باہمی رشتے کو استوار کرنے پر زور دیا۔ چونکہ گفتار سے پہلے ذہن میں خیالات جنم لیتے ہیں۔ پھر قول پر عمل پیرا ہونے کے لیے قدم بڑھایا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ آدمی قول و عمل کے تضاد کو سمجھے اور دل میںپیدا ہونے والے خیالات کو صداقت کی میزان پر رکھ کر تولے۔ مجھے یہ کہنے کی جرأت ہورہی ہے کہ گاندھی جی نے اگر مذہبی کتابوں کے مطالعے سے اپنے فکری نہاں خانے کو منور نہ کیا ہوتا تو اس بحرِ ظلمات میں ان کی نیّا بھی ڈولتی نظر آتی ۔ انھوں نے عیسیٰؑ کے وعظ سے جو انھوں ے زیتون پر دیا تھا، اثر قبول کیا کہ برائی کا بدلہ بھلائی سے دینا چاہیے اور جس مذہب سے جو بھی کام کی چیزیں ملیں، انھیں اخذ کرلیا۔ اسی لیے انھوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ تمام مذاہبِ عالم سچے ہیں اور مجھے یہ سب اسی طرح عزیز ہیں جیسے مجھے میرا ہندومت۔ ان کا عقیدہ اور مذہب دیکھیں:

’’میرا مذہب انتہائی سچائی اور عدم تشدد ہے۔ عدم تشدد میرے ایمان کا پہلا اور آخری رکن ہے۔ ساری انسانیت کے لیے وہی ایک زبردست طاقت ہے۔ عدم تشدد بہادری کی بلند چوٹی ہے۔ عدم تشدد کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا۔‘‘

عدم تشدد کی عظمت کو ’تلاش حق‘ کے حصہ چہارم میں اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’یہی اہمسا تلاشِ حق کی بنیاد ہے۔ مجھ پر روز بروز یہ بات روشن ہوتی جاتی ہے کہ حق تک رسائی کی کوشش بے اہمسا کے زینے کے بالکل فضول ہے۔‘‘

عدم تشدد اور ستیہ گرہ کا بڑا گہرا رشتہ ہے۔ ’ینگ انڈیا‘ کے شمارہ 19مارچ 1925 میں انھوں نے لکھا تھا:

’’عدم تشدد کا اصل جوہر یہ ہے کہ منافرت کو ختم کیا جائے نہ کہ منافرت پیدا کرنے والے کو۔ ستیہ گرہ سچائی کی تلاش ہے اور سچائی تک پہنچنے کا عزم راسخ۔ ستیہ گر ہی کا مقصد ہے غلط کار کے ذہن کو بدلنا نہ کہ اس پر جبر کرنا۔‘‘

ابھی چونکہ ستیہ گرہ کا ذکر آگیا لہٰذا اس کی تشریح اور غرض و غایت پر بھی مختصراً اظہارِ خیال اور امور واقعی کا بیان ضروری ہے۔

آغاز میں گجراتی زبان میں بھی اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے انگریزی الفاظ Passive resistance (مقاومت مجہول) استعمال ہوتے تھے۔ گاندھی جی کو ایک یورپین کے جلسے میں یہ بات معلوم ہوئی کہ اس اصطلاح میں نفرت کا مفہوم بھی پوشیدہ ہے جو تشدد کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ گاندھی جی بہت پریشان ہوئے، مگر کوئی موزوں اصطلاح نہ مل سکی۔ لہٰذا انھوں نے ’انڈین اوپینین ‘ میں اعلان کیا کہ جو شخص سب سے اچھا نام تجویز کرے گا اُسے انعام دیا جائے گا۔ مگن لال گاندھی نے ست آگرہ (ست=حق؛ آگرہ = ثبات) کی اصطلاح وضع کی۔ یہ نام پسند کیا گیا۔ گاندھی جی نے خفیف سی تبدیلی کرکے اسے ’ستیہ گرہ‘ کردیا۔ ستیہ گرہ کے ضمن میں گاندھی جی نے عدم تشدد کو ایک مربوط عمل (سلسلۂ لاینفک) سے جوڑ دیا اور اس کی لافانی قوت کو انقلاب کے لیے استعمال کیا۔ گاندھی جی کے ایک معتقد لوئی سینوں نے اس کی وضاحت ’دی سِوک ڈیمانڈ آف ٹُرتھ‘ کے روپ میں کی ہے۔ اس طرح کئی لوگوں نے اپنے اپنے طور پر گاندھی کی اس تحریک کی تعبیر و تشریح کی ہے۔ پروفیسر محمد مجیب نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے:

’’اسی (ستیہ گرہ) کو اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ یعنی’خدا کی راہ میں جہاد‘ کہا گیا ہے اور یہ دین کی نشانی اور دین داری کی تکمیل ہے… لیکن دل یہ کہتا ہے کہ مہاتما جی نے ’جہاد فی سبیل اللہ‘ کے مطلب کو جس طرح واضح کیا ہے ویسے اب تک کوئی مسلمان عالم یا صوفی نہیں کرسکا ہے۔‘‘

پروفیسر محمد مجیب کی اس رائے سے اختلاف کی پوری گنجائش ہے کیوں کہ ’جہاد فی سبیل اللہ‘ کا جو مفہوم و مقصود ہے وہ بالکل الگ ہے۔ اس کی شرطیں، اس کے عوامل، اس کا پس منظر، اس کے لوازم، اس کی علامتیں، اس کے وقوع پذیر ہونے کا لمحہ— یہ سب اپنی معنوی حیثیت ستیہ گرہ سے جداگانہ رکھتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ تمام صوفیائے کرام اور بزرگانِ دین نے تزکیۂ نفس، ستیہ گرہ، عدم تشدد اور تلاشِ حق کی راہ میں درپیش مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے عملی نمونے پیش کردیے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اصولوں اور مفروضوں سے کام نہیں  چلتا بلکہ ان پر عمل پیرا ہوکر معاشرے اور قوم کے سامنے نادر اور بے مثل کردار پیش کرنا ہوتا ہے۔ جب کسی میں یہ بات پیدا ہوتی ہے تو اس آدمی اور اصولوں اور نظریوں کے درمیان رشتوں کی تلاش کا آغاز ہوجاتا ہے۔ گاندھی جی نے کچھ ایسی ہی تصویر سماج اور قوم کے سامنے پیش کی۔ انھوں نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ وہ جنوبی افریقہ، سیاست کا لطف اٹھانے، کاٹھیاواڑ کی سازشوں سے نجات پانے اور روزی کمانے کی نیت سے آئے تھے، مگر چونکہ وہ معرفتِ الٰہی کا ذریعہ خدمت کو تصور کرتے تھے اس لیے وہ اس کی طرف راغب ہوگئے۔ عیسائیوں سے گہرے تعلقات تھے۔ اس کے علاوہ نرملا شنکر کی کتاب ’دھرم وچار‘ کے دیباچے سے متاثر ہوئے کہ مذہبی کتابوں کے مطالعے سے اس شاعر کی زندگی میں کایا پلٹ ہوگئی تھی۔ میکس مُلر کی کتاب ’ہندوستان ہمیں کیا سکھاتا ہے‘ اور اس کا اُپنشد کا ترجمہ غور سے پڑھا تو ہندو مذہب سے متعلق گاندھی کا عقیدہ اور بھی مضبوط ہوتا گیا مگر ساتھ ہی انھوں نے واشنگٹن ارونگ کی کتاب ’حضرت محمدؐ اور ان کے خلفا کی سیرت‘ اور کارلائل کا مقالہ ’پیغمبرِ اسلامؐ کی مدح‘ کا بھی گہرا مطالعہ کیا جس سے گاندھی جی کی نظر میں پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کی عظمت بڑھ گئی۔ ’تلاش حق‘ کے دوسری تحریروں اور تقریروں میں بھی اس طرح کے حوالے مل جائیں گے۔ اس ضمن میں ایک اقتباس دیکھیں:

’’بہت سے مسلمان مجھے یہ تک نہیں کہنے دیتے کہ اسلام جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے، خالص امن ہے۔ میں نے قرآن کے جو معنی سمجھے ہیں اس سے مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اسلام کی بنیاد تشدد پر نہیں ہے۔‘‘

اس طرح یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ گاندھی جی نے مذاہب عالم کے مطالعے کے بعد سماجی اور سیاسی نظام کے اصول بنائے اور اُن پر عمل کرکے دکھایا اسے تجدد اور اصلاح کا رویہ کہہ سکتے ہیں۔ مذہبی افکار نے ستیہ گرہ، عدم تشدد اور سچائی کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا کام کیا اور یہ سب مل کر انقلاب کا پیش خیمہ تیار کرنے میں معاون ہوئے۔ جی رام چندرن نے اپنے ایک مضمون میںاس کی وضاحت کی ہے کہ عدم تشدد کا نظریہ گاندھی جی سے قدیم تر ہے لیکن  گاندھی جی کا عدم تشدد تاریخ میں ایک نئی جہت کا حامل ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ گاندھی جی نے اسے ستیہ گرہ سے جوڑ کر انقلاب لانے کا آلہ بنا دیا۔ مضمون نگار نے لکھاہے:

’’ستیہ گرہ کی تکنیک میں گاندھی جی نے عدم تشدد کو ایک لامتناہی سلسلے سے جوڑ دیا ہے اور پھر اس کی قوت کو انقلاب کے لیے استعمال کیا۔‘‘

اس کڑی در کڑی ردعمل کو اس طرح بتایا ہے کہ گاندھی جی نے ترک موالات کے ذریعے فرنگیوں کو یہ باور کرایاکہ یہ حکومت تبھی تک قائم ہے جب تک ہندوستانیوں کا تعاون اس کے ساتھ ہے۔ دوسری اہم تحریک نمک ستیہ گرہ تھی جس نے انگریزوں کو یہ احساس دلایا کہ اب ہندوستانیوں کوان کی مرضی کے خلاف ماتحتی میں نہیں رکھا جاسکتا۔ آخری تحریک ’بھارت چھوڑو تحریک‘ تھی جس نے ہندوستانیوں کو آزاد ملک عطا کیا۔

گاندھی جی کی تحریکوں میں ایک تحریک بہار کے چمپارن ضلع کی ستیہ گرہ بھی ہے، جہاں ’نیل کا دھبہ‘ تاریخِ ہند کا تاریک باب کہا جاسکتا ہے۔ وہا ں کے کسان اس کے پابند تھے کہ اپنی زمین کے بیس حصوں میں سے تین حصے میں زمیندار کے لیے نیل کی کھیتی کریں۔ اس نظام کاشت کو ’تِن کٹھیا‘ کہا جاتا تھا۔ گاندھی جی نے وہاں جاکر اس برے نظام کا خاتمہ کیا اور جس صبر و ضبط اور استقلال و شعور و آگہی سے اس باطل نظام کے استیصال کے لیے جدوجہد کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اپنی اس خودنوشت میں انھوں نے تقریباً تیس صفحات پر وہاں کے اپنے تجربات اور طریقۂ کارکو پیش کیا ہے۔ بے شک اگر گاندھی جی کے اندر راسخ اور مستحکم شعور نہ ہوتا تو یہ کام اس درجہ آسان بھی نہ تھا۔ یہ بھی ایک خوبی تھی کہ انھوں نے ہر ایک تحریک کے لیے حالات واقعی کو سامنے رکھ کر رائے عامہ تیار کرنے کو ضروری سمجھا— اور یہی ان کی کامیابی کا راز تھا۔ اس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ گاندھی جی کے اندر استقلال کا جذبہ ہی تھا کہ انھوں نے تلاش حق میں لکھا:

’’دنیا خاک کو پیروں سے کچلتی ہے لیکن طالب حق کو ایسی عاجزی اختیار کرنا چاہیے کہ خاک بھی اُسے کچل سکے… عیسائیت اور اسلام بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔‘‘

گاندھی جی نے تقریباً اپنی زندگی کو اسی اصول پر ڈھالا تھا کہ تلاش حق میں انسان اس قدر نرم اور لطیف ہوجاتا ہے کہ خاک اور گرد راہ سے بھی زیادہ اس میں خاکساری کی صفت پیدا ہوجاتی ہے۔ سماجی عمل میں اس طالب کا کردار منفرد دکھائی دینے لگتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں منٹو کا ناول’بغیر عنوان کے‘ ایک تنقیدی محاسبہ- ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی )

گاندھی جی نے اخلاقی جرأت سے کام لیتے ہوئے  اپنی زندگی کے شب و روز کو اپنی خودنوشت میں کھُل کر بیان کردیا ہے۔ چھپ چھپ کر دریا کے کنارے گوشت کھانے اور ایک سال تک مسلسل ریاست کے مکان میں باورچی کے ساز باز سے سالن کھاتے رہنے سے لے کر اپنے دوست کے ساتھ قحبہ خانے جانے تک، خلوت میں اپنی بیوی کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات سے لے کر اپنی شہوانی خواہشات تک، دھتورے کے بیچ کھاکر خودکشی کرنے کے قصد سے لے کر سگریٹ کے لیے پیسے اور سونے کا ٹکڑا چرانے تک— ان سب باتوں کا ذکر یوں تو کوئی اہمیت نہیں رکھتا، مگر اخلاقی جرأت مندی پر روشنی ضرور ڈالتا ہے۔ ان باتو ںکے بیان کرنے میں کہیں کہیں ڈرامائی عناصر بھی در آئے ہیں۔ انگلینڈ میں گاندھی جی بھی دیکھا دیکھی جھوٹ بولنے لگے تھے:

’’مجھے بھی یہ روگ لگ گیا۔ میں بے تکلف اپنے آپ کو کنوارا کہتا تھا حالانکہ میں بیاہا ا ور ایک بچے کا باپ تھا۔‘‘

اس کے علاوہ ان کی انگریزی مآبی کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ انھیں جس شخص کی دوستی نے گوشت کھانے پر راغب کیا، اسی کی وجہ سے گاندھی جی نے اپنی بیوی سے بے وفائی بھی کی اور اسی دوست نے قحبہ خانے لے جاکر ضروری ہدایتیں دے کر گاندھی جی کو اندر بھیجا۔ وہاں کا یہ ڈرامائی منظر ملاحظہ کریں:

’’روپیہ پہلے ہی ادا کردیا گیا تھا۔میں گناہ کے منہ میں جاچکا تھا… میں پلنگ پر اس عورت کے قریب بیٹھ گیا مگر گم سم۔ ظاہر ہے کہ اُسے غصہ آگیا اور اس نے مجھے گالیاں دے کر گھر سے نکال دیا۔ اس وقت مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ میری مردمی کو بٹّہ لگ گیا اور شرم کے مارے جی چاہتا تھا کہ زمین پھٹے اور میں سما جاؤں۔‘‘

اس کے علاوہ جنوبی افریقہ کے سفر کے دوران پیش آنے والا واقعہ بھی ہے۔ کپتان سے دوستی ہوگئی تھی۔ زنجبار میںا یک ہفتہ جہاز رُکا۔ کپتان گاندھی جی کو لے کر ساحل کی سیر کو نکلے۔ ایک دلّال ان لوگوں کو حبشی عورتوں کے یہاں لے گیا اور الگ الگ کمروں میں پہنچا دیا مگر گاندھی جی دم بخود تھے اور حددرجہ شرمسار۔ کپتان نے انھیں جب پکارا تو جیسے گئے تھے ویسے ہی واپس آگئے۔ گاندھی نے لکھاہے کہ خدا کا شکرہے کہ اس عورت کو دیکھ کر میرے دل میں ذرا بھی بدی نہیں آئی۔ یقینا گاندھی جی کے مزاج نے انھیں برے فعل سے باز رکھا۔ ساتھ ہی حبشی عورتوں کی صورت اور خد و خال نے بھی گاندھی جی کو رغبت نہیں دلایا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اس طرح کی ان کی یہ تیسری آزمائش تھی۔

گاندھی جی نے غذائیت کے تجربے کیے اور ہمیشہ ہر ماحول میں اپنے اصولو ںپر قائم رہے۔ طبی نقطۂ نظر سے ان کی یہ رائے تھی کہ ہر قسم کے مسالے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ نباتاتی مشرب پر لکھی گئیں کتابوں کا مطالعہ کیا اور ان پر علمی، مذہبی اور طبی نقطۂ نظر سے غور کیا۔ انھوں نے انڈا اور دودھ بھی چھوڑ دیا۔ جب کہ عام طور پر نباتاتی مشرب لوگ دودھ کا  استعمال تو کرتے ہی ہیں، مگر گاندھی جی انڈا اور دودھ سے پرہیز کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی خودنوشت میں لکھا ہے کہ جب سے یہ معلوم ہوا کہ گائے بھینسوں کے تھن جلائے جاتے ہیں مجھے دودھ سے نفرت ہوگئی۔ علاوہ اس کے میرا ہمیشہ سے یہ خیال تھا کہ دودھ انسان کی قدرتی غذا نہیں ہے۔

بھینسوں کے تھن جلائے جانے کی بات آفاقی نہیں بلکہ علاقائی ہوسکتی ہے۔ دودھ کے قدرتی غذا ہونے میں کوئی التباس نہیں کیوں کہ بچہ دینے والے تمام Mammals غرض کہ جتنے جاندار ہیں بشمول انسان، سب اپنے نوزائیدہ بچے کو دودھ ہی پلاتے  ہیں اور یہ قدرت کا ایک بیش بہا عطیہ ہے۔ بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کے تھن میں دودھ اترنے لگتا ہے جو قدرتی نظام کی زندہ مثال ہے۔ ہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ صرف گاندھی جی کا اپنا مشرب تھا ورنہ ان کے اس دودھ والے نظریے میں حقیقت کا ذرا بھی شائبہ نہیں۔ انھوں نے اس ضمن میں سالٹ کی کتاب ’نباتاتی مشرب کی حمایت‘ اور ہاورڈ ولیمس کی کتاب ’اخلاقیات غذا‘ کا بغور مطالعہ کیا تھا۔ اس کتاب میں مصنف نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ فیثاغورث اور حضرت عیسیٰ سے لے کر آج تک جتنے فلسفی اور پیغمبر گزرے ہیں، سب کے سب نباتاتی مشرب تھے۔ گاندھی جی نے ڈاکٹر اینا کنکسفورڈ کی کتاب ’غذا کا مکمل دستورالعمل‘ اور صحت اور حفظانِ صحت سے متعلق ڈاکٹر ایکنس کی کتابوں کا مطالعہ بھی یا۔ مذہب اور نباتاتی غذا سے متعلق انھوں نے اپنی زندگی میں کئی ایک تجربے کیے۔ اس ضمن میں غذائیات کے تجربے کے باب میں انھوں نے لکھا ہے:

’’نئی عقیدت کے جوش میں میں نے لندن کے اس حصے میں جہاں میں رہتا تھا، ایک نباتاتی کلب قائم کرنے کا ارادہ کیا۔ سرایڈون آرنلڈ کو جو وہیں رہتے تھے میں نے صدر بنایا اور رسالہ ’نباتاتی‘ کے ایڈیٹر اولڈ فیلڈ کو نائب صدر، میں خود اس کا معتمد بنا۔‘‘

اس اقتباس سے یہ پتہ چلتاہے کہ گاندھی جی نے انتہاپسندانہ حد تک نباتاتی مشرب ہونے کی ترویج و تشہیر میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔  اس سے ایک گوشہ اور کھلتا ہے کہ گاندھی جی کے اندر تنظیمی صلاحیت موجود تھی اور وہ لوگوں کو کسی مرکز پر جمع کرلینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ جو نظریہ پسند کرتے تھے، اپنے تمام احباب اور رشتہ دار بلکہ افرادخانہ کو بھی اسی کی تعلیم دیتے رہتے تھے۔ ہری سبزیاں، کچے پھل اور بادام وغیرہ کھانے کے طور پر استعمال کرنے لگے تھے۔ مسالے دار چیزوں سے پرہیز کرتے اور تزکیۂ نفس (برہمچریہ) کے لیے اسے ضروری سمجھتے تھے۔ برہمچریہ کا خیال جنوبی افریقہ آنے کے بعد ان کے دل میں ابھرا۔ بیوی کے سلسلے میں محض شہوت رانی کو وفاداری کا جذبہ نہیں تصور کرتے تھے۔ شروع شروع میں میاں بیوی الگ الگ کمروں میں سونے لگے۔ گاندھی جی نے لکھا ہے:

’’میں نے یہ التزام کیا کہ بستر پر اُس وقت تک نہ جاؤں گا جب تک دن بھر کے کام سے تھک کر چور نہ ہوجاؤں۔‘‘

آگے چل کر اپنی بیوی سے اس کا ذکر گاندھی جی نے کردیا۔ انھوں نے بلاتامل اس مشورے کو مان لیا۔ 1906 میں انھوں نے پوری طرح برہمچریہ کا عہد کیا۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اسے برتنا گویا تلوار کی دھار پر چلنا ہے اور اس کے تئیں آدمی کو ہر لحظہ ہوشیار رہنا چاہیے کہ کہیں قدم ڈگمگا نہ جائے۔ اوپر جو نباتاتی غذاؤں کا ذکر ہوا دراصل یہ اسی برہمچریہ (تجرد کی زندگی) کا پیش خیمہ تھیں۔ گاندھی جی نے اس سلسلے میں لکھا ہے:

’’چھ سال کے تجربے سے مجھے یہ معلوم ہواہے کہ برہمچاری کے لیے بہترین غذا، تازہ پھل، اخروٹ اور مونگ پھلی وغیرہ ہیں۔‘‘

اس زمانے میں گاندھی جی دودھ کا استعمال بھی کرتے تھے۔ وہ اس کا بدل تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ حالانکہ لندن کے دورانِ قیام ہی وہ انڈا اور دودھ ترک کرچکے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیا کرتے تھے مگر آگے چل کر خود دودھ کا استعمال کرنے لگے۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب انھوں نے ددھ لینا پھر ترک کردیا۔

ان باتوں کا ذکر اس لیے ضروری تھا کہ گاندھی کی زندگی کی جو پرتیں پوشیدہ ہیں، وہ سامنے آجائیں اور یہ بات بھی سمجھ میں آجائے کہ ان کی زندگی کے مظاہر کیا کیا ہیں۔ کبھی خودطبی علاج کرنا، غذائیت کے تجربے کرنا، پانی سے علاج کرنا، اپنے سوجے ہوئے پیروں کا مٹی اور پانی سے علاج کرنا، پھل اور خشک میوے کھاکر زندگی گزارنا، احتساب نفس اور برہمچریہ کی زندگی شروع کرنا،ضبطِ نفس کے لیے فاقہ اور روحانی تربیت کے لیے تزکیۂ نفس کے اصول کو برتنا—  یہ سب گاندھی جی کی زندگی کے ایسے گوشے ہیں جن کا اثر ان کی پوری سماجی اور سیاسی زندگی پر نمایاں طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

حصہ چہارم کے باب 18 میں انھوں نے رسکن کی مشہور کتاب کا ذکر کیا ہے جو ان کے ایک دوست مسٹر پولک نے دی تھی۔ رسکن کی یہ کتاب’ان ٹو دِس لاسٹ‘ تھی۔ گاندھی جی نے اس کتاب کے بارے میں لکھا ہے کہ اس نے میرے دل کو موہ لیا اور میری زندگی میں انقلاب پیدا کردیا۔ وہ اس کتاب سے اس قدر متاثر ہوئے کہ بعد میں چل کر انھوں نے اس کا ترجمہ ’سروودیا‘ (رفاہ عام) کے نام سے گجراتی میں کیا (صفحہ 438)۔ گاندھی جی کی زندگی اور شخصیت کو متاثر کرنے میں کون سے عوامل کارفرما رہے ہیں، اس کا ذکر اپنی کتاب کے حصہ دوم کے صفحہ 145 پر انھوں نے کیا ہے:

’’جدید زمانے کے تین افراد نے مجھے متاثر کیا اور میرے دل کو موہ لیا۔ رائے چندر بھائی نے اپنے فیض صحبت سے، ٹالسٹائی نے اپنی اس کتاب سے ’سلطنت الٰہی تمھارے دل کے اندر ہے۔‘ اور رسکن نے اپنے ’آخری انجام‘ سے۔‘‘

یہاں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ’تلاش حق‘ کی ترتیب پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اسی لیے وہ رسکن کی کتاب کا ذکر صفحہ 145 پر کرنے کے بعد صفحہ 428 پر بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ترتیب میں کہیں کہیں کمی کھٹکتی ہے۔ ابھی سادہ زندگی (صفحہ 314) کا بیان کررہے ہیں، ابھی جنگ بوئر کا ذکر شروع ہوگیا۔ مگر ان کے بکھرے ہوئے تجربات ایک دوسرے سے انسلاک ضرور رکھتے ہیں۔ ان کی خودنوشت سوانح حیات ’تلاش حق‘ میں ایک عجیب و غریب دنیا آباد ہے جس میں ان کی ابتدائی زندگی کے شب و روز سے لے کر حصولِ تعلیم کے مرحلے اور عملی زندگی کے تمام تر تجربات پوری سچائی اور آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ اسی سچائی کے حصول کے لیے انھوں نے غذائیت کے تجربے کیے۔ ستیہ گرہ اور عدم تشدد کے اصولوں کو اپنی زندگی کا ناگزیر حصہ بنایا اور تزکیۂ نفس کے عمل کو اپنایا۔ ان تمام عوامل میں عدم تشدد کے منافی گاندھی جی کا رویہ اپنی بیوی سے متعلق بڑا ہی حیرت ناک ہے۔ یہاں پر تھوڑی دیر کے لیے ایسا لگتا ہے کہ گاندھی جی کے اندر عدم تشدد کا جذبہ ماند پڑگیا تھا۔ اس ڈرامائی منظر کو یہاں بیان کردینا بے جا نہ ہوگا۔ ڈربن میں جب وہ وکالت کرتے تھے تو ایک پنچم عیسائی (نیچی ذات کا نام ہے) اس گھر میں رہتا تھا۔ نوکر نہیں رکھتے تھے۔ گاندھی جی اور ان کی بیوی اس کے فضلات صاف کیا کرتے تھے۔ مگر اُن کی بیوی کے دل پر یہ جبر تھا۔ گاندھی جی اپنی بیوی کو نوکرانی اور شاگردہ تصور کرتے تھے۔ مکالمہ ملاحظہ کریں:

گاندھی:      مجھے اپنے گھر میں یہ بیہودگی پسندنہیں۔

بیوی: تمھیں اپنا گھر مبارک ہو۔

اس کے بعد گاندھی جی غصے میں آگئے اور اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے سیڑھی تک لے گئے اور باہر دھکیل دینے کے لیے دروازہ کھولنے لگے۔ بیوی زار و قطار روتی جاتی تھی مگر گاندھی جی اپنی ہٹ پر قائم تھے۔ گاندھی جی کی بیوی نے جو بات یہاں کہی وہ گاندھی جی کے پورے فلسفے پر بھاری پڑتی ہے:

بیوی: تمھیں ذرا بھی شرم نہیں آتی۔ آدمیت سے گزرے جاتے ہو، آخر میں کہاں جاؤں؟ یہاں نہ میرے ماں باپ ہیں نہ بھائی بند ہیں۔ میں تمھاری بیوی ہوں اس لیے تم چاہتے ہو کہ میں ٹھوکریں کھاؤں اور اُف نہ کروں۔ خدا کے لیے ہوش میںآؤ اور دروازہ بند کرو۔ لوگ ہمیں اس حالت میں دیکھیں گے تو کیا کہیں گے؟

مگر یہ تب کا واقعہ ہے جب گاندھی جی بیوی کو رفیق و مددگار یا رنج و راحت کی شریک نہیں بلکہ خواہشاتِ نفسانی کا کھلونا سمجھتے تھے۔ آگے چل کر ان کے اندر جس قدر تبدیلیاں واقع ہوئیں وہ ’تلاش حق‘ کے صفحات پر بکھری ہوئی ہیں۔

اخیر میں ا ن کے ہی ایک بیان سے ان کی تمام تحریکوں اور فعالیت کا نچوڑ اس طرح پیش کیا جاسکتا ہے:

’’اگر گاندھی ازم غلط ہے تو اسے ختم ہوجانے دیں۔ حق اور عدم تشدد کبھی ختم نہیں ہوسکتے لیکن گاندھی ازم کا مطلب اگر فرقہ پرستی ہو تو اسے ضرور ختم ہوجانا چاہے۔ اپنی وفات کے بعد اگر مجھے معلوم ہوا کہ میں جس کا حامی تھا وہ  گھٹیا فرقہ پرستی میں تبدیل ہوگیا تو مجھے گہرا دکھ ہوگا۔ ہمیں خاموشی سے کام کرتے رہنا ہے۔ کوئی یہ نہ کہے کہ وہ گاندھی کا پیرو ہے۔ یہی کافی ہے کہ میں خود اپنا پیرو ہوں۔ حالانکہ میں جانتاہوں کہ میں اپنا کتنا ناپختہ پیرو ہوں کیونکہ میں اپنی کسوٹی پر خود پورا نہیں اُترتا۔‘‘

 

(رسالہ ’جامعہ‘، نئی دہلی، جنوری فروری، مارچ 1996)

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

1 comment

SAFDAR Quadri فروری 17, 2021 - 4:20 شام

Excellent article by Kausar Mazhari

Reply

Leave a Comment