تمہیں خبر ہے کہ اب
ترقی کے سارے رستے کھلے رہیں گے
وہ کل تلک جو تمہارا ماضی غلط سی راہوں سے ہوکر آیا
اس سے مٹا کر کے سانس لیں گے
تمہاری ساری روایتیں جو حسین پیکر کے زعم میں تھیں
غرور تھا جو تمہارا اپنا وہ اس کے جتنے بھی لمحے گزرے
تم ایسے لمحوں کے سب اصولوں کو ڈھونڈ کر کے یہاں پہ لاؤ
ہم ضابطوں کے امین ہیں اور ضابطوں میں عطا کریں گے
اور دیکھو !
کھنگال رکھنا تم اپنے مذہب کے سب صحیفے .
وہ اس سے ملتےترانے سارے جو طاقچوں میں سنبھال رکھے۔
انہیں بھی لاؤ کے بانٹ دیں گے ، سب کے ساتھی بنے ہوئے ہیں۔
تمہیں خبر ہو کہ سب ترقی کے سارے رستے کھلے ہوئے ہیں
اور سمجھو پنپ رہا ہے یہ عہد نامہ نئے عہد کا
تمہارے خوابوں پہ حق تمہارا محض نہیں ہے۔
تم ٹھوکروں میں طوفان ہونے کے خواب لے کر نکل رہے ہو
غلط ہے یہ بھی سنبھال رکھنا
تمہارے سارے حسین لمحے امانتیں ہیں نئے عہد کی
ہماری شرطیں قبول کر لو وہ سب امانت یہیں پہ رکھو
تمہیں خبر ہو کہ دور بدلا ہوا ہے کب سے
بدلتے سورج کی سب شعائیں تمہاری ہوں گی
مگر ضمانت میں جان رکھو گے شرط یہ ہے
سنہری دنیا نہیں نا دیکھی !!
یہی تو مشکل رہی تمہاری
تم ایک وادی کی تنہا صورت ، اورایک دنیا کے فرد واحد
سمجھ نہ پاؤ گے یہ ترقی کہاں سے لائے ہیں کیونکر آئی
یہ یاد رکھو ہماری دنیا کا سارا نقشہ نیا نیا ہے
ہماری عہدے جو مرکزی ہیں اور ان کی پالش ہے زعفرانی
ہمارے عہدوں سے خوف کھاؤتمہارا نسلیں بدل رے ہیں۔
سنہری دنیا کے دیوتا یہ مہیب ہو کر کے دیوتا ہیں
یہ دیوتا ہیں انہیں نہ سمجھو تو جان پاؤ گے جان کیا ۔
انہی کی الفت کے گیت گاؤ بدل کے رکھ دو سب اپنے رشتے
تمہارا ماضی تمہارا ہو کر کے بھی تمہارا نہیں رہا ہے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے یہ بھی کہ دور سارا بدل رہا ہے۔
یہ وادیاں یہ تمہارے جھرنے یہ نیلگوں یہ تمہارے سایے
سبھی اصولوں کے دائروں میں ہماری نظروں کے سامنے ہیں
جو تم نے ڈھوئیں وہ ساری قدریں پرانی ہوکر کے بے سبب ہیں
تمہاری دنیا پہ ایک سایہ ہماری دنیا سے آرہاہے
اسی کو پوجو ، اسی کو جانو اسی سے رغبت کی لو لگاؤ
تمہیں خبر ہی نہیں ہے اب تک تمہارے رستے تو کھل چکے ہیں ۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

