روشن کے لمبے لمبے بال جب اس کے سرخ نازک گال سے ٹکراتے تو یوں معلوم ہوتا جیسے سورج کی پہلی کرنیں ہمالہ کی برف پر پڑ رہی ہوں ، نازک سےلب سے وہ کم ہی بولتی بس مسکرا کر مدھم آواز میں "جی” کہتی—-
وہ اکثر دنیاوی رسومات سے انجان تنہائی میں خود سے باتیں کرتی ۔ اس کے خیال میں زندگی بھاگ دوڑ کاہی نام تھا۔ ایک نقطے سے شروع ہوکر پھر وہیں آٹھہرنا شاید زندگی اسی گردش کا نام ہے وہ سوچتی اور نہ چاہتے ہوئے بھی اسی محور پر سفر زندگی پہ گامزن رہتی۔ ظاہری طور پر روشن اس قدر حسین تھی گویا حور ہو ۔ وہ یونیورسٹی کی ٹاپرتونہیں تھی پرکافی محنتی تھی روشن کے خیال میں ڈگری محض ایک کاغذ کا ٹکڑا تھا جو یہ طے نہیں کر سکتا کہ ہم مستقبل میں کتنے کامیاب ہوں گےیا ہم کتنی صلاحیتوں کے مالک ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اکثر ٹاپرس کی لڑائیوں میں بالکل نہیں الجھتی تھی ۔
روشن کا کہنا تھاکہ سب کی اپنی اپنی زندگی ہے اور سب اپنی اپنی جنگیں لڑ رہے ہیں سو راہیں بھی الگ ہیں اور سوچ بھی مختلف لیکن اصل میں ہارے ہوئے تو وہ لوگ ہیں جو خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں ۔
تنہائ میں وہ اکثر یہ گنگنا لیا کرتی تھی ،،،،،
"سب کی طرح آسمانوں میں اڑنا کیوں ہے
کیوں نہ اپنی پہچان تم سب سے الگ لکھو”
اور پھر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ علم تو ایک دریا ہے بس ڈوبتے ہی جائیں خواہ وہ چین ہو یا کوچین علم کا سفر جاری رکھیں ۔ یہی وہ وجہ تھی کہ جس کے سبب اس نے خود کو سب سے الگ رکھا اور اپنا موازنہ خود اپنی ذات کو ماضی اور حال میں رکھ کر کیا ۔ ہمیشہ کی طرح ایک شام روشن اپنی یونیورسٹی سے واپس آ رہی تھی ، راستے میں کچھ دیر ہوگئی، سردی کا موسم تھا اور لوگ اپنے اپنے گھروں میں خود کو سرد ہواؤں سے محفوظ رکھنے کے لئے بہت جلد بند ہو چکے تھے ، راستے پہ سناٹا پسرا تھا ، کچھ دور کی گلی سے چند کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔ اس وقت ایسی تاریکی محسوس ہورہی تھی جیسے وہ اپنی راہ سےبھٹک کر کہیں دور جا چکی ہو ۔اس وقت روشن سڑک پہ تنہا کھڑی تھی آسمان کو کالی رات نے اپنی چادر میں لپیٹ رکھا تھا ستارے بھی اپنی خوبصورت رنگ برنگی روشنی دکھانے میں ناکام تھےکیونکہ ان کا راستہ سیاہ بادلوں نے روک رکھا تھا۔ وہ دس منٹ سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی ۔اسے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔اس کے پاؤں بھی اب کانپنے لگے تھے ۔چہرے پر مایوسی چھائی تھی۔ وہ پرامید نگاہوں سے سڑک کو دیکھ رہی تھی۔ ماتھے پہ آیا پسینہ اس نے اپنی چادر سے پوچھا جو اس نے اپنے پورے جسم پہ لپیٹ رکھا تھا۔ آہستہ آہستہ گھر کی جانب بڑھتے ہوئے قدم اس دہشت انگیز ماحول سے جلد باہر نکلنے کے لئے تیز تیز اٹھنے لگے تھے کہ اچانک پیچھے سے آرہی ایک کار روشن سے جا ٹکرائی ،وہ بری طرح زخمی ہو گئی اوراس حادثے میں وہ اپنی دونوں ٹانگیں کھو بیٹھی ، اس دوران روشن کے ذہن میں اپنے مرحوم والد سے کیے گئے وعدے مسلسل گردش کرتے اور آنکھوں کے سامنے بکھرتے ہوئے نظر آ رہے تھےوہ سوچ رہی تھی کہ کیسے اس کے والد اسے ڈاکٹر بنتے دیکھنا چاہتے تھے جو خود اس کا بھی سپنا تھا کہ وہ ڈاکٹر بن کر غریبوں کی مدد کر سکے مگر یہ حادثہ۔۔۔ابھی وہ اس کرب سے گزر ہی رہی تھی کہ
اچانک سے اسے اپنی امی کی آواز سنائی دی "روشن بیٹا اٹھ جاؤ کلینک نہیں جانا” اور وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اٹھ کر کھڑی ہو گئی
شہناز پروین
رانی گنج ،عیدگاہ محلہ،مدینہ مسجد
ریاست : مغربی بنگال
ایم اے تھرڈ سیم
موبائل نمبر _7864091976
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

