سنو اے اجنبی لڑکے
جو تم مجھ سے محبت کے دعوے کر رہے ہو نا
کیا تم جانتے بھی ہو
کہ میں تم سے کہیں زیادہ،،
فقط زیادہ۔۔؟؟
نہیں زیادہ …!!
بہت زیادہ ،،،،محبت اس سے کرتی ہوں
سنو اے اجنبی لڑکے
وہ بحر بیکراں ،موج شفق، اک آب جو کی طرح سے
رگوں میں میری بہتا ہے
مری سانسوں میں رہتا ہے
مرے دل کا شاید ہی کوئی ایسا کونا ہو
جہاں پر اس کی الفت کی ترنگوں نے چھوا نہ ہو
وہ ہے اک ایسا پروانہ
جو شمع پر فدا ہوکر
اسی کی روشنی میں جل کے مر جانے کا خواہاں ہے
سنو اے اجنبی لڑکے
ادھر آؤ ! دکھاؤں میں تمہیں الفت کا پیمانہ
جہاں پر آسمانوں اور زمینوں کے
کنارے مل رہے ہوں نا
وہاں تک تم چلے جانا
جہاں دریا سمندر میں اترتی ہو
وہیں پر
اس سے کچھ آگے
ذرا سا اور آگے تک ،،،
اگر مٹھی میں آ جائے تو بھر لینا
مگر اے اجنبی لڑکے
محبت مٹھیوں میں کب سماتی ہے
یہ وہ بحر بیکراں ہے جو
ساحل تک لا کر کے ڈباتی ہے
سو اے لڑکے
زمینوں آسمانوں اور سمندر کے کناروں کی طرح پھیلی
یہ جو میری بے پایاں محبت ہے
فقط وہ ہی
اکیلا اس کا وارث ہے
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

