"امی…..!بہت تکلیف ہورہی”۔احمد اپنا پیٹ پکڑکر کراہتے ہوئے بولا۔
"بس ہم دواخانہ جا ہی رہیں ۔ان شاء اللہ ٹھیک ہوجائے گا-”
امی نے احمد کو تسلی دیتے ہوئے کہا –
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی احمد کو لےکر دواخانہ پہنچی۔ دواخانہ پہنچ کر احمد اورامی اپنی باری کا انتظار کر نے لگے۔
یہ دواخانہ بچوں کے لئے خاص تھا۔احمد ادھر ادھر دیکھنے لگا بہت سارے بچے نظر آرہے تھے،کچھ بچے رو رہے تھے تو کچھ بچے کھیل کر شور مچا رہے تھے۔
احمد کو امی کی باتیں یاد تھیں ۔امی نے کہا تھا کہ اچھے بچے دواخانے میں شور نہیں مچاتے اور نہ زور زور سے روتے ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر سے ڈرتے ہیں کیونکہ ڈاکٹر بہت اچھے ہوتے ہیں وہ سب کی تکلیف دور کرنے کے لئے معائنہ کرکے دوا دیتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ اس دوا سے ٹھیک کردیتے ہیں۔اس لیے احمد بھی دواخانے میں خاموشی سے بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔
"احمد خان!”……. جیسے ہی استقبالیہ سے نام پکارا گیا احمد اپنی امی کا ہاتھ پکڑے معائنہ روم میں داخل ہوگیا۔ ڈاکٹر صاحب پر نظر پڑتے ہی احمد نے انہیں سلام کیا۔
ڈاکٹر صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیااور کہا۔
"احمد بیٹے ….! کیا ہوا؟”
انکل!پیٹ میں بہت درد ہے۔؟ احمد نے جواب دیا۔
آئیے بتائیں تو۔۔۔ڈاکٹر صاحب اپنا اسکتھوپ اٹھاتے ہوئے بولے۔
احمد معائنے کے لیے بستر پر لیٹ گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے تفصیلی معائنہ کر کے امی کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگے۔
پریشانی کی کوئی بات نہیں ہلکی سی فوڈ پوائزنگ ہوگئ دوا سے ٹھیک ہوجائے گی۔
فوڈ پوائزنگ!” امی نے حیرت و اچنبھے سے دوہرایا۔
جی شاید احمد کے کھانے کچھ ایسا آگیا جو جراثیم آلود ہو۔ جراثیم آلود غذا بچوں پر جلد اثر کرتی ہیں۔اللہ کا شکر ہے!کہ اس کا اثر احمد پر کم ہوا ،ورنہ یہ مزید نقصان دہ ہوسکتی تھی۔
ان باتوں کے درمیان احمد کو بھی یاد آگیا تھا اس نے کہا۔
“ہاں مجھے یاد آیا اسکول سے واپسی پر میں نے اور فہد نے چنا چاٹ کھایا تھا۔”.
“ہو سکتا ہے اسی سے فوڈ پوائزنگ ہوئی ہو۔ڈاکٹر صاحب نے پیار سے سمجھاتے ہوۓ احمد سے کہا۔
“بیٹے باہر کی چیزیں کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے خصوصاً کھلی اور گندگی میں بننے والی چیزوں سے بچنا چاہیے۔پتہ ہے کیوں؟؟
احمد جو ڈاکٹر صاحب کی باتیں بغور سن رہا تھا اس نے اپنی گردن ہلا کر” نہیں "کہا۔
ڈاکٹر صاحب بولے”کیونکہ ان چیزوں کو پکاتے ہوۓ احتیاط نہیں کیا جاتا اور یہ کبھی پرانی اور خراب بھی ہوجاتی ہیں ۔اور جراثیم آلود ہوکر ہمارے پیٹ کو خراب کر کے ہمیں بیمار کر دیتی ہے۔”.
احمد کو ڈاکٹر صاحب کی باتیں سمجھ آگئی اس نے وعدہ کیا کہ وہ اب ایسی چیزیں نہیں کھاۓ گا۔”
گھر آکر احمد نے دوا لی اللہ تعالیٰ نے اسے شفاء دی اور وہ ٹھیک ہوگیا۔اس کے بعد احمد نے اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے کبھی دوبارہ ایسی چیزیں نہیں کھائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالیہ فردوس متین اللہ خان اکولہ مہارشٹرا
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

