یہ عہد نو کا چلن ہے یا یہ شوق تمھارا ازلی ہے
تم کیلنڈر تاریخوں کو
کسی اور ہی نام سے جانتے ہو
یاں جذبے، رشتے، فکر اور فرد، ایام سے ہیں منسوب سبھی
کبھی درماں کرنا چاہا کچھ امراض کا، دے کر دن کا خراج
جنگیں بھی تمھاری ہی ایجاد
اور یوم امن کا ڈھونگ بھی تم
تم وہ جو صورت قہرگرے
اس روئے زمیں کے شہر وں پر
پھر ان شہروں کے نام سے دن منسوب بھی کرنے والے تم
ہاں بھول گئے اس ہستی کو؟
مخصوص کوئی بھی یوم نہیں ہے اس کے جشن چراغاں کو
ہو جس کی سیہ زلفوں کے اسیر اول دن سے
کیا کیا نہیں حیلے تم نے کیے
میری ہی طلب کی انگلی تھامے، ایٹم بم ایجاد کیا
کبھی زیر زمیں راہ آتش ہموار کیا
کبھی دیکھا چشم فلک نے منظر جب
تم تھام کے باہیں میری تھے مسرور بہت
اک عہد حجر سے مصنوعی فطانت تک
جب بھی کوئی خوں آشام صدا ٹکرائی میرے کانوں سے
میں پیر میں گھنگھرو باندھ اٹھی
انکار کیا تم نے جب میرے جشن چراغاں کا
میں نے اک سال مکمل اپنے نام کیا
لیکن تم نے
حرف غلط کا نام دیا
چاہا کہ کردو محو مجھے اس روئے زمیں کے صفحے سے
سال نو کی اس اجلی تابندہ فضا میں
فیصلہ اپنے ہاتھ میں لو:
یا میری پرستش بند کرو
یا میرے نام اک جام کرو
چیئرز کہو
یہ سال بھی میرے نام کرو
_قمرجہاں


4 comments
ماشا اللہ ڈاکٹر قمر جہاں کو مبارکباد خوبصورت نظم لکھنے اور قارئین کی نظر کرنے کے لئے
ممنون ہوں ڈاکٹر صاحب آپ کی محبتوں پہ۔ بہت شکریہ
سال ٢٠٢٠ کو شاید ہی کوئی آپ سے بہترین لفظوں کا پیرہن پہنا سکے
ممنون ہوں ڈاکٹر صاحب آپ کی محبتوں پہ۔ بہت شکریہ