Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

واحد نظیر کی نعت گوئی پرچند تاثرات – ڈاکٹر صفدر امام قادری

by adbimiras جنوری 1, 2021
by adbimiras جنوری 1, 2021 0 comment

نعت گوئی کیا ہے، شہرِ علم کا فیضان ہے!

            آج سے پندرہ برس پہلے جب واحد نظیر کی کتاب ’اسلحے ، سکے اور ڈاک ٹکٹ میں اسلامیات: تحقیق و تجزیہ‘ منظر عام پر آئی تھی تو یہ محسوس ہوا تھا کہ ہماری بزم میں ایک ایسا شخص ابھر کر سامنے آرہا ہے جس کے پاس سنجیدہ علم اور تحقیقی فکر موجود ہے، تلاش و تجزیے کا ستھرا ذوق ہے اور قوتِ انشا میں اسے ملکۂ خاص حاصل ہے۔ ۳۵؍برس کی عمر میں ایسی کتاب کا لکھ لینا واقعتاباعثِ حیرت تھا ۔ اب بھی اس موضوع پر اردو، فارسی ، عربی اور تاریخ یا شعبۂ اسلامیات میںکہاں کوئی دوسری قابلِ ذکر کتاب یا تحقیقی متن تیار کرسکا؟ اس کتاب سے پہلے واحد نظیر کی شاعری غزل و نظم اور بالخصوص نعت گوئی کے حوالے سے خاصی مقدار میں سامنے آچکی تھی۔ تنقیدی اور تحقیقی مضامین کے ساتھ ساتھ اردو اور فارسی زبان میں تدوین کے متعدد کاموں میں بھی وہ پہلے سے مصروف تھے۔ آزاد بلگرامی کے مشہورِ زمانہ تذکرے  ’یدِ بیضا‘ کی تحقیقی تدوین بھی انھوں نے اس دوران پایۂ تکمیل تک پہنچا دی تھی جو ایک ہزار صفحات سے زیادہ ضخیم مسودہ کے طور پر محفوظ ہے اور جسے آج تک اشاعت کا انتظار ہے۔ اس کے بعد ’رضا شناسی‘ ، ’عرفانِ امین‘، ’تذکرۂ ملک العلما‘، ’معارفِ قاضی فضل کریم‘، ’فیضانِ حضورِ اشرفی‘اور ’ارمغانِ علامہ ارشد‘ وغیرہ کتابیں جنھیں واحد نظیر نے ترتیب دے کر اشاعت کی منزلوں سے گزارا۔ ان تمام کے موضوعات کا رشتہ اسلامی تحقیق سے تھا۔ ادب و شاعری کے حوالے سے ’رونق اور کلامِ رونق ‘، ’مکارمِ مسیحِ ملت‘ اور ’کلیاتِ مظفر حسین عظیم آبادی‘ کتابیں واحد نظیر کی تدوینی صلاحیت کے نمونے کے طور پر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔اب سے تین چار برس پہلے ’ادب کُشا‘عنوان سے ان کے تنقیدی و تحقیقی مضامین جلد بند ہوکر سامنے آئے اور اس کے بعض مضامین بڑی سنجیدگی سے مطالعے کا حصّہ بنے۔ ابھی تعلیمی اور تدریسی مضامین کی اشاعت کی باری نہیں آئی ورنہ واحد نظیران کی ایسی تحریروں کو کم از کم دو جلدوں میں شایع کیا جاسکتا ہے۔

ایسے اشخاص جو مختلف اصناف میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں، ان کے لیے ہمیشہ یہ مشکل ہوتی ہے کہ وہ کبھی ایک صنف کی طرف توجہ کرتے ہیں تو دوسری صنف کا سرا ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔ تصنیف و تالیف سے لے کر اشاعت کے مرحلوں میں بھی توازن اور عد م توازن کا ایک خلفشار ملے گا۔ سب کے پاس رات دن کے چوبیس گھنٹے ہی ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہوگی کہ واحد نظیر پچاس کی عمر پار کر لینے کے باوجود اپنے شعری سرمایے کو جلد بند کرکے عوام کے سامنے پیش نہیں کرسکے۔ انھوںنے اتنی بڑی تعداد میں قطعاتِ تاریخ کہے ہیں کہ ان کی پوری کتاب سامنے آسکتی ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کامکمل مجموعہ بھی شایع ہوسکتا ہے ۔ اسی طرح شروع کے دور سے ہی وہ نعت گوئی کے کوچے کی سیاحی کا شرف بھی حاصل کرتے رہے اور مذہبی یا ادبی حلقوں میں انھیں نعت گو کی حیثیت سے باضابطہ طور پرپہچانا جاتا رہاہے مگر تین دہائیوں سے زیادہ وقت گزرا ، ان کی نعت گوئی کو جلد بند ہونا نصیب نہ ہوسکا۔ خدا خدا کرکے اب یہ موقع ہاتھ آیا ہے کہ ان کی نعتوں کا مجموعہ ’مدحت‘ کے نام سے اشاعت کی منزلوں تک پہنچ رہا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ آنے والے وقتوں میں تنقیدی و تحقیقی کاوشوں کے ساتھ اپنی شاعری اور تاریخ گوئی کی طرف بھی وہ متوجہ ہوںگے اور اس موضوع سے بھی ان کی علاحدہ کتابیںجلد شایع ہوں گی۔ (یہ بھی پڑھیں اختر وامق کی شعری کائنات ” سچ کے سوا کچھ بھی نہیں "- ضیاء فاروقی)

فن کے اعتبار سے نعت گوئی دو دھاری تلوار پر چلنے کا ہنر ہے۔ موضوع مخصوص ہے مگر غزل اور نظم کے کوچے کا عام مسافر کب راستے سے بھٹک جائے اور راندۂ درگاہ قرار دے دیا جائے، کسے معلوم؟ اگر موضوع کے ارتکاز میں شعر بگڑ گیا یا یوں ہی سا  بن کررہ گیا تو اسے معیاری نعت کہنا مشکل ہے کیوںکہ یہ سوال از خود پیدا ہوتا ہے کہ پہلے وہ نوشتہ شعر تو ہو، نعت یا قصیدہ تو اسے بعد میں سمجھا جائے گا۔ شاید یہی وجہ ہوگی کہ دو چار نعتیں کہنے والے شعرا کی تعداد ہزاروں میں ہوگی اور ہر دور میں رہی ہے مگر باضابطہ نعت گوئی کو اپنی تخلیقی سرگرمیوں میں سرِفہرست رکھنا آسان کام نہیں۔ اسی لیے ادبی تاریخ میں نعت گوئی سے مستقل طور پر متعلق ہونے والے شعرا کی تعداد بہت ہی محدود رہی ہے۔ ایسے شعرا جو اسلامی تاریخ ارتقا سے پورے طور پر واقف ہیںاور نعت گوئی کو بہ طورِ فن کامیابی کے ساتھ آزما رہے ہیں، ان کی تعداد مزید کم ہے۔ واحد نظیر ایسے ہی شعرا میں ہیں جنھوںنے اپنی شعر گوئی کے مرکز میں تخلیقِ نعت کو رکھا اور صرف روایتی موضوعات کے دائرے میں رہ کر اس خدمتِ شعر سے وہ عہدہ بر آنہیں ہوتے بلکہ وہ اپنی تحقیقی اور علمی شان کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اپنی نعتوں کے موضوعات کا دائرہ بے حد وسیع کردیتے ہیں جس کے سبب ان کی نعتیں صرف جذب و مستی اور عقیدت کا مظہر نہیں بلکہ یہاں ان کی عالمِ دین کی حیثیت بھی واضح طور پر اجاگر ہوجاتی ہے۔

دنیا کی ہر زبان اور قوم کے شعری اور ادبی سرمایے کی بنیاد میں تہذیب و ثقافت اور مذہب کی واضح نمائندگی ہوتی ہے۔ یونان ، مصر، روم، عرب، ایران، چین اور ہندستان وغیرہ ممالک کے قدیم ادب کی یہ خاص پہچان ہے کہ اس عہد کے مذہب اور ثقافتی رویوں کی وہاں ترجمانی ملتی ہے۔ اسلام کی آمد کے بعد عرب و ایران میں نئی ثقافت کی بنیادیں قائم ہوئیں مگر ان اقوام میں اسلام سے پہلے کے ادب سے رغبت قائم رہی۔ اہلِ ایران نے ماقبل اسلام کے ادب سے خود کو تہذیبی اور ثقافتی طور پر کچھ اس طرح سے جوڑ کر رکھا ہے جیسے وہ اسے ناقابلِ تقسیم وراثت سمجھتے ہوں۔

اردو کی پیدایش اور نشوونما ہندستان کے اس خطے میں ہوئی جہاں ہندو تہذیب کے علمی زوال اور بودّھوں کے ساتھ ساتھ اہلِ اسلام کی تعلیم و تدریس یا تبلیغ کی سرگرمیاں چل رہی تھیں۔ ادب صرف مذہب کے تابع نہیں رہ گیا تھا بلکہ وہ مقامی اور عمومی انسانی تہذیب کے ساتھ ساتھ انسان کی دیگر ضرورتوں کی پیش کش میں بھی معاون تھا۔ عربی ، فارسی ، سنسکرت اور پالی زبانوں کی تہذیبی فضا میں اردو جیسی ایک نئی زبان کی جو پرورش و پرداخت ہوئی، اس میں ایک کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی رویہ بھی شامل ہوا۔ روایاتِ شعر و ادب میں لین دین اور رموز و علائم یا اصنافِ سخن کی درآمد کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ اردو شعرا نے مثنوی اور غزل کے ساتھ ساتھ حمد و نعت اور منقبت یا عارفانہ کلام کی جو بنیادیں قائم کیں، وہ حقیقت میں فارسی شعرا کی پیروی ہی تھی۔ اسی لیے ابتدا سے اردو شعرا نے ادب کی ثقافتی بنیادوں کی شناخت میں عمومی انسانی رویوں کے ساتھ ساتھ مذہبی موضوعات کی شمولیت کا سلسلہ رکھا۔ قصائد، مثنویات اور مراثی میں تو یہ چیزیں موجود ہیں ہی مگر غزل و نظم اور پھر دوسری ایسی صنفوں میں بھی ان کی سمائی محسوس کی جاسکتی ہے۔

اردو کی روایتی اصنافِ سخن میں قصائد اور مثنویوں میں نعت یا وصفِ نبی کی موجودگی ابتدائی دور سے نظر آتی ہے۔ رباعیات کا بھی ایک اچھا خاصا سرمایہ نعتیہ اور عرفانی موضوعات کے ارد گرد موجود رہا ہے۔ مراثی میں تہذیب و ثقافت اور مذہبی علوم کی پرچھائیاںساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں۔ یہ کلاسیکی اصناف چوں کہ ہندستانی خطے میں نشوونما پا رہی تھیں، اس لیے ان میں عرب و ایران کی فضا پورے طور پر جلوہ گر نہیں ہوئی بلکہ ایک مخصوص ہندستانی تہذیبی فضا میں مذہبی امور داخل ہوتے چلے گئے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ انیس و دبیر کے مراثی اور خاص طور سے محسن کاکوروی اور بیکل اتساہی یا اجمل سلطان پوری کی نعتوں میں جیسی ہندستانی فضا ملتی ہے، وہ اس بات کا اشاریہ ہے کہ ان شعراے کرام نے نعت گوئی یا مرثیہ نگاری کے مرحلے میں ایک امتزاجی ادبی رویے کو فروغ دینے میں کامیابی پائی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مراثی یا نعتوں کو اردو میں بڑی ادبی صنف کے طور پر قبول کرنے والے زیادہ لوگ سامنے نہیں آتے۔ لکھنؤ کے مرثیہ گویوں نے مرثیہ نگاری کے سرمایے میں جی جان سے اضافہ کیا اور اس کا علمی و ادبی اعتبار کچھ اس قدر بڑھایا جس سے مرثیہ گوئی اردو کی کلاسیکی صنفوں میں مقامِ اعتبار حاصل کرنے میں کامیاب رہی مگر یہ صورتِ حال صنفِ نعت کو میسّر نہ ہوسکی۔

اردو کے بڑے شعرا میں ایک بھی ایسا شاعر نظر نہیں آتا جس نے نعت گوئی کو اپنی زندگی کا سامان بنایا ہو اور اسی صنفِ ادب کو ترقی دینے میں اس نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کا استعمال کرلیا ہو۔ بیسویں صدی سے پہلے کے شعرا میں صنفِ قصیدہ میں نعت گوئی کو بہ طورِ موضوع منتخب کرنے کی گنجایشیں پیدا ہوئیں۔ سودا اور آخری دور میں محسن کاکوروی نے اس صنف کے حوالے سے اعلا ادبی سرمایہ یادگار چھوڑا۔ ان شعرا کے علاوہ چند مذہبی اور علمی شخصیات کے نام لیے جاسکتے ہیںجنھوںنے باضابطہ طور پر نعت گوئی کی طرف توجہ کی۔ خاص طور سے اس ضمن میں اعلا حضرت احمد رضا خاں فاضل بریلوی کا ذکر اہمیت کا حامل ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں حالی اور اقبال نے باضابطہ طور پر بعض ایسی نعتیں کہیں یا اپنی منظومات میں حضور اقدسؐ کے ذکر اور اس کے متعلقات پر روشنی ڈالیںجنھیں فکر و فن کے اعتبار سے اعلا مقام عطا کیا جاسکتا ہے مگر معیار اور مقدار کے نمونے ہمیں زیادہ نظر نہیں آتے۔

پوری بیسویں صدی کو سامنے رکھیے تو یہ بات صاف طور پر نظر آتی ہے کہ شعر و ادب میں ممتاز فن کاروں کے بہ مشکل علاحدہ نعتیہ مجموعے شائع ہوئے۔ ایسے شعرا  جنھوں نے صنفِ نعت کو آزادانہ طور پر جلد بند کیا اور اس صنف کی ترقی میں نمایاں کردار اداکیا، ان کی تعداد سیکڑوں میں ہی پہنچتی ہے جب کہ نظم و غزل کے حوالے سے یہ تعداد ہزاروں سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ ہاں! ایسے شعرا بھی ایک مختصرتعداد میں نظر آتے ہیں جنھوں نے صرف نعتیں کہیں یا زیادہ سے زیادہ نعتیں پیش کیں اور خود کو نعت گو کے طور پر پہچانے جانے کے لیے پیش کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسے شعرا کے ادبی مقام و مرتبے کے تئیں ابھی تک زیادہ سنجیدہ کوششیں شروع نہیں ہوئیں۔

واحد نظیر اپنی تنقید، تحقیق اور غزل گوئی یا تاریخ گوئی کے مقابل خود کو نعت گو کے بہ طور پیش کرتے ہیں۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ غزل گو ئی یا تاریخ گوئی سے پہلے وہ نعتوں کا مجموعہ لے کر حاضر ہیں۔ اس سے غالباً وہ کھلے بندوں اصرار کرتے ہیں کہ انھیں باضابطہ طور پر نعت گو سمجھا جائے۔ ان کی ایک سو نعتوں سے گزرتے ہوئے یہ بات قبول کی جانی چاہیے کہ وہ اس صنف کے فی زمانہ نئے معیار و مراتب متعیّن کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ کس طرح اپنی شاعرانہ صلاحیتوں اور جذب و کیف پر ایسی قدرت کا ثبوت دے پاتے۔ جس سنجیدگی سے انھوں نے اس مجموعۂ کلام کو پیش کیا ہے، اسی انداز میں اس کے مشمولات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

گذشتہ صفحات میں واحد نظیر کی عالمانہ حیثیت پر گفتگو ہوچکی ہے۔ وہ محقق بھی ہیں اور خدا کے فضل سے ان کے سینے میں کلام اللہ بھی محفوظ ہے۔ اس وجہ سے ان کی نعتوں میں مضمون کی سطح پر ایک ایسی علمی گہرائی نظر آتی ہے جس کی داد دینے کے لیے اُسی قدر اسلامی علم درکار ہے۔ مصرعوں میں جس روانی سے قرآن اور احادیث سے استفادہ کیا گیا ہے، وہ حیرت انگیز ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس پہلو سے ان کی ایماندارانہ قدر شناسی میں راقم الحروف کی کم مائیگی حائل ہے۔ اس بے بضاعتی کے لیے ابتداً معذرت طلب کرتا ہوں۔ ممکن ہے، آنے والے وقت میں کوئی ایسا اہل نقاد واحد نظیر کو نصیب ہوجائے جو  اُن کی نعتوں کی علمی حیثیت کی داد دے سکے اور اس پہلو سے ان کے اعتبار کو واضح کرسکے۔

صنفِ نعت ہر دوسری صنف کی طرح کچھ روایتوں سے گھری ہوئی ہے اور بعض جدتوں کا بھی تقاضہ لیے ہمیں میسر آتی ہے۔ ایک نعت گو کے سامنے ایسے دونوں پہلو آواز لگاتے رہتے ہیں۔ کیا نعت گو مشہور مضامین کی گردان کرکے مطمئن ہوجائے یا نعت گو فکر و فن کے نئے جہانِ معنی تک آزادانہ طور پر اڑان بھرے؟ کیا نعت گو غزل گو کی طرح ہی چلتا پھرے؟ کیا ہر نعت گو کو بڑے شاعر کی طرح اپنی ایک نئی بساط بچھا کر آگے بڑھنا چاہیے؟ ایسے متعدد حقائق اور سوالوں کے بیچ واحد نظیر کی ان نعتوں کے مطالعے سے ایک خوشگوار کیفیت کا احساس ہوتا ہے کیوں کہ انھوں نے ہر پہلو سے ایک امتزاجی رُخ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے نعتیں کہیں اور غزل کی ہئیت کو افضلیت دی مگر ان نعتوں کو غزل نہیں بننے دیا۔ انھوں نے نعتیں کہیں اور انھیں قرآن و احادیث سے مستند بنا یا مگر شعر گوئی اور مضمون نویسی کے علمی تقاضوں کے فرق کو بھی سمجھا ۔ انھوں نے اپنے بزرگوں کے آزمائے ہوئے مضامین میں سے بہت سارے بنیادی امور کو اپنی نعت گوئی کا حصہ بنایا مگر نئے مضامین کی تلاش میں خوب خوب مشقت کی اور کوشش کی کہ کل جب تاریخ لکھی جائے تو بعض نئے مضامین کی شمولیت کے لیے ان کے کلام کو بھی بہ طورِ مثال لوگ پیش کر سکیں۔ انھوں نے صنف نعت کی مقررہ حدود میں رہتے ہوئے ایک طرف روایت کے بہترین خدمت گار ہونے کا فریضہ ادا کیا مگر دوسری طرف انھیں یہ یاد رہا کہ وہ اردو شاعری کے ایک بہترین طالب علم بھی ہیں اور انھیں یہ بات بھی معلوم تھی کہ کسی صنف کی حدود میں اپنے حصے کی اختراعی شان کو نہ شامل کیا جائے تو فکر و فن کے بعض نئے دریچے کیسے وا ہوں گے۔ اس بات کے ملحوظِ نظر ہم بجا طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ بے شک واحد نظیر نے اپنی نعتوں میں ان نئے مضامین، نئے اسالیب اور نئی جہتیں قائم کی ہیں۔

ایک عام فن کار اور ایک نعت گو کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے اورکوئی نعت گوئی کے کوچے میں کیوں کر چلا آتا ہے، واحد نظیر کے یہاں یہ موضوع توجہ کے ساتھ زیرِ بحث رہا ہے۔ وہ اس بات کو اپنے ایمان کا حصہ مانتے ہیں کہ نعت گوئی توفیقِ خداوندی ہے۔ یہ رتبۂ بلندملا جس کو مل گیا مگر یہ توفیق عام شعر گوئی سے مختلف سلیقے کے ساتھ قرطاس پر اپنا وجود متعین کرتی ہے۔ واحد نظیر کے چند ایسے اشعار ملاحظہ کیجیے جہاں از خود یہ بات واضح ہوجائے گی کہ وہ نعت گوئی کے کوچے میں کس طرح اور کس جذبے سے حاضر ہوئے ہیں:

بشرسے مدحتِ محبوب جیسا کا م لینا تھا

شرف اللہ نے یوں ہی نہیں بخشا نیابت کا

بادِ صبا بھی نعت کا موضوع بن گئی

چومے جو اس نے گیسوِ خم دارِ مصطفٰے

نعت گوئی کے لیے پہلے نبی کے نا م پر

ارضِ دل، قسطِ تخیل کا قبالہ چاہیے

نعت گوئی تو نظیر اللہ کا احسان ہے

جب ہو ا اس کا کرم ذہنِ سخن ور جاگ اٹھا

نعت گوئی کیا ہے،شہرِ علم کا فیضان ہے

ورنہ کس کا سوچنا ہے اور کس کا بولنا

واحد نظیر !مشقِ سخن ،شعر و شاعری

کارِ عبث ہے مدحتِ سرکار کے بغیر

یہ حرف ،یہ نوا ،یہ صدا ،آپ کا کرم

ورنہ ہنر کسے یہاں شیشہ گری کا ہے

یہ کہہ کے ’واصفِ شاہِ ہدیٰ نظیر ہو‘

فرشتے اپنوں میں کرتے ہیں اشتہار مرا

نظیر انسان کے بس میں نہیں مدح و ثنا ان کی

خدا توفیق دے تو نعتیہ اشعار ہو تے ہیں

نقشِ قدم پہ ہم بھی حسان کے ہیں شاہا

اک دن نواز دیتے دربار میں بلا کے

ہنر زبان و بیاں کا نظیر اپنی جگہ

تجھے سلیقۂ مدحت نہیں تو کچھ بھی نہیں

کاغذ پہ رقم ہو تے رہے شعر نعت کے

برونِ زمیں ہو تا رہا آسماں قلم

وجہہ واحد نظیر مدحت ہے

یہ جو رشکِ ملا ئکہ ہیں آپ

غلامی ہے یہ شاہِ انبیا کی

نہ یو ں ہی بادشاہت لگ رہی ہے

پہنچ کر بارگاہِ مصطفٰے میں

ثنا سر تا پالُکنت لگ رہی ہے

میرِ مجلس ہوا ملائک میں

کیا تھا واحد نظیر ،کیا ہے آج

نعت گو کے لیے موضوع کے اعتبارسے ارضِ مدینہ کی بنیادی حیثیت ہے۔ ایک عام شاعر اور ایک شاعرِ ذہنِ رسا میں کیا فرق ہوتا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے واحد نظیر کے اس مجموعے پر ایک سرسری نگاہ ڈالناکافی ہے۔ اس حصے میں شاعر نے کیسے کیسے مضامین اور عقیدت، جذب و مستی کے کیسے کیسے پھول نچھاور کیے ہیں، اس کا اندازہ شاعر کے ایسے اشعار سے ہی لگایا جاسکتا ہے جہاں ایک بھرپور والہانہ کیفیت موجود ہو۔ ذیل کے اشعار یک نظر ملاحظہ کریں:

لمس پاے نبی سے تو معمور ہے

کوے طیبہ ترے پیچ و خم محترم

مجھے یہ لگتا ہے ،جنت ہے دیکھی بھالی سی

مدینہ جب سے میں تیری گلی سے واقف ہو ں

بے کار ہی تو میرے مقابل ہے ماہتاب

چہرے پہ خاکِ کو ے نبی پہلے مَل کے آ

واحد نظیر کعبے کا کعبہ ہے سامنے

سانسوں کو اعتدال میں کر لے ،سنبھل کے آ

بات خاکِ درِ نبی کی ہے

دارو،درماں،دوا، شفا کی بات

خاکِ درِ رسول ملے اور نہ مَل سکے

ایسی جبیں پہ خاک،رہے یا نہیں رہے

دیکھا دیارِ پاک تو بے ساختہ کہا

مولا کرے نظیر کی جنت یہیں رہے

مدینے سے آیا مرا جسم لیکن

بہ شکلِ دل و جاں وہیں مَیں ابھی ہوں

اسیر کر کے مدینے میں ڈال دے مجھ کو

کہ طے ہو میری جزا یا سزا مدینے میں

نظیر کعبے میں جاکے دعا یہ کر پا تا

کہ میرے مولا ہو میری قضا مدینے میں

آپ نے دیکھی ہے جبریل ِ امیں  جنت بھی

کیسی لگتی ہے وہ طیبہ کی گلی کے آگے

اپنی پلکوں سے چومتا جاؤں

میں جو پہنچوں کبھی گلی ان کی

مجھے ہے رشک مقدر پہ اور تاسف بھی

وہاں پہنچنا لکھا تھا، اجل لکھا نہ گیا

جہاں کی گرد سے گردوں بھی اپنی مانگ بھرے

خوشا نصیب! ملی ایسی بارگاہ مجھے

خدا کا ،خود کا،خودی کا پتا یہیں سے ملا

بہت عزیز ہے ان کی قیام گاہ مجھے

اب نظر میں غبارِ طیبہ ہے

کہکشاں سے یہ کہہ دیا ہے آج

سلیقہ دیکھ کے کوے نبی کے ذرّوں کا

فلک ستاروں کو ترتیب دیتا رہتاہے

جہاں کی گرد سے گردوں اپنی  مانگ بھرے، آسماں ستاروںکو کوے نبی کے ذرّوں کے مماثل ترتیب دیتا ہے، خاکِ درِ نبی جسن افزابھی ہے اور شفا بخش بھی۔ ان منطقوں کے ساتھ شاعر کی آخری منطق واضح ہے ’کہ طے ہو میری جزا یا سزا مدینے میں‘۔ غرض ارضِ مدینہ اس مجموعۂ نعت میں مضامین اور منطق کی اتنی کیفیتوں کا حامل ہے جس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ از اوّل تا آخر یہاں زندگی بہ دامانی ہے۔

وہ کون شخص ہے جس کی یہ آرزو نہ ہو کہ وہ دیارِ طیبہ تک پہنچے، مدینہ جانے کی خواہش اسلامی دنیا کے ہر فرد کی ایک لازمی خواہش ہے۔ ایک نعت گو کے لیے یہ پہلا سوال ہوتا ہے۔ واحد نظیر کے اس مجموعے میں یہ موضوع بڑے انوکھے مناطق کے ساتھ شعر کا حصہ بنا ہے۔ انھی کے لفظوں میں موضوعِ زیرِ بحث ملاحظہ کریں:

مجھے یقیں ہے ابھی موت آنہیں سکتی

ابھی خدا نے مدینہ کہاں دکھایا ہے

 

فرشتے میری میّت کو مدینے منتقل کر دیں

مرا دل ہے مدینے میں، ہوں باشندہ مَیں بھارت کا

 

مجھے آنکھوں کی ویرانی سے اب وحشت سی ہوتی ہے

شرف حاصل ہو مجھ کو بھی مدینے کی زیارت کا

ایک نعت گو کے لیے یہ مرحلہ بنیادی نوعیت کا ہے کہ وہ حضورؐ کی زندگی کے کن پہلوؤں کو شعر میں پیوست کرے کہ نعت کا مضمون کھل اٹھے۔ پہلے سے بھی شعراے کرام کے کلام اور دیگر مذہبی کتابوں کے صفحات بھرے پڑے ہیں جہاں حضورؐ  کی زندگی آئینے کی طرح روشن ہے۔ ایک نعت گو کے طور پر واحد نظیر نے اپنی فکر کے واقعتاً نئے دریچے روشن کیے ہیں۔ یہاں وہ صرف شاعر نہیں، صرف عالِم نہیں، صرف ناعت نہیں، صرف عاشق نہیں؛ بلکہ ان سب کی ایک ملی جلی کیفیت سامنے آتی ہے۔ چند اشعار اس ذیل میں ملاحظہ کریں:

لکھ بہ صد تفصیل شرحِ نعل و پا پوشِ نبی

اور جلی عنوان اس کا تاج لکھ ، دستار لکھ

یہ صبح و شا م ہو تی ہے یا کاینات پر

پڑتا ہے عکسِ گیسو و رخسار ِ مصطفٰے

یہ شمس و قمر اور یہ ستاروں کی انجمن

در اصل سب ہیں پر توِ رخسارِ مصطفٰے

چاند، سورج، ستارے، مشک، گلاب

مصطفٰے کی اک اک ادا کی بات

تاج، دستار، طرّہ، کلغی، کلاہ

بخششِ نعلِ مصطفٰے کی بات

اک بار دیکھتا جو مرے چاند کی طرف

کوئی نہ جا تا مصر کے بازار کی طرف

ان کے نقشِ پا کے بدلے نعمتیں سب تول دوں

جسم بھی پتھّر بنے ،آنکھیں تو پتھّر ہو گئیں

کوئی شعبہ، کوئی گوشہ سب ہے ممنونِ کرم

زندگی لکھ، بندگی لکھ، دین لکھ، ایمان لکھ

اُمّی لقب وہی ہے، وہی شہرِ علم بھی

اک روشنی ہے پھوٹ رہی ہے حجاب میں

ہے یہی قرآنِ ناطق، صفحہ صفحہ بولنا

پیارے پیارے مصطفی کا چلنا پھرنا بولنا

تاریخ کے اوراق سے نئے مضامین کی تلاش و جستجو ہر نعت گو کا خاص طور رہا ہے۔ واحد نظیر حضورؐ  کی سیرت پیش کرتے ہوئے ان واقعات اور تاریخی حوالوں سے کیوں کرگریزاں ہوں۔ انھوں نے خاص انتخاب سے کام لیا ہے اور کوشش کی ہے کہ ہزاروں واقعات میں سے محض چند ایسے واقعات پیش کرکے حضورؐ  کی زندگی کو روشن کرنے میں کامیابی پائیں۔ یہ مرحلہ آسان نہیں تھا مگر انھوں نے مضامین کی گردان کے مقابلے شاعری اور فکر و فن کے اس اصول کو اولیت دی ہے جہاں مضامین کی گردان کی اہمیت تو ہے مگر انتخاب اور نمایندہ باتیں پیش کرنے کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسے چند اشعار ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں:

عدو کی مٹھی میں محصور کنکروں نے بھی

خدا گواہ کہ نعتِ نبی سنایا ہے

کفر کی آغوش میں بوجہل خود سوتا رہا

اور گواہی کے لیے بے جان کنکر جاگ اٹھا

نقشِ قدم کو دل میں بسانے کے واسطے

تاریخ جانتی ہے کہ پتھر پگھل گیا

ان کی خاطر تو خدا قبلہ بدل دیتا ہے

جان کیا چیز ہے ناموسِ نبی کے آگے

تری آمد سے ظلمت نور میں بدلی تو حیرت کیا

تری خواہش پہ مولا بندوں کا قبلہ بدلتا ہے

دستِ دشمن کی بند مُٹھی میں

نعت پڑھتی ہے کنکری ان کی

مکّے میں دشمنانِ نبی ہیں تو کیا ہوا

ہیں منتظر مدینے میں انصارِ مصطفی

لکھ کہ بادل دھوپ میں ہے سائبانی کے لیے

کنکری مشتِ عدو میں تابعِ فرمان لکھ

صلح جو فتحِ مکّہ کی تمہید بنی

جیت سے پہلے مات سمجھ میں آئی ہے

رُک گئے جبریل بھی یہ کہہ کے سدرہ کے قریب

رب ہی جانے کیا حقیقت ہے رسول اللہ کی

آج رفتار ہر اک شَے کی ہوئی کیوں منسوخ

وقت حیراں ہے، کہاں کون چلا آج کی رات

نہ کوئی پردہ، نہ دیوار اور نہ دوری ہے

ہے آج سکتے میں حدّ تعیّنات کی روح

سیرت کی پیش کش میںواحد نظیر اپنی شعر گوئی کے ایک نئے پڑاو کی طرف بہ صد شوق آتے ہیں۔صنفِ نعت کا دائرۂ کارصرف عہدِ رسالت ہے یا آج کی زندگی بھی موضوعِ بحث بن سکتی ہے، یہ ایک بنیادی سوال ہے۔ جوش ملیح آبادی نے اپنے مرثیے میں جب ہندستان کی قومی تحریک اور سرمایہ دارانہ نظام کے جبر کو موضوع بنایا تھا، خود ایک بڑے حلقے میں یہ بات بحث کا باعث رہی ۔ اسے رواجِ عام تو نصیب نہیں ہوا مگر تسلیم کیا گیا کہ جوش نے مرثیہ گوئی کے نئے راستے تلاش کیے۔ واحد نظیر نے ہماری نعتوں میں ان نئے راستوں کی تلاش کو شامل کیا ہے۔ ان کی غزلوں میں بھی بعض مخصوص موضوعات کی تکرار موجود ہے۔ خاص طور سے سماجی عدم مساوات کی طرف وہ بار بار توجہ کرتے ہیں۔ جبر اور ناانصافی کے خلاف ان کا ذہن ہمیشہ بیدار رہتاہے۔ وہ شعر گوئی کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف کے راستے کے مسافر بھی معلوم پڑتے ہیں۔ برابری اور انصاف کی اس طلب میں جب وہ آقاے کائنات کے دربار میں پہنچتے ہیں تو نئی فضا اور نئی کیفیتوں کا سامان ہمارے روبرو ہوتا ہے۔ اگر اس بات پر خاص توجہ دی جائے تو واحد نظیر کی نعت گوئی کا ایک ایسا نیا دریچہ کھلتا ہے جسے زیادہ شعرا نے ابھی تک آزمایا نہیں ہے۔ یہاں تاریخِ اسلام کے وہ ایک ایسے طالب علم کے طور پرہمیں نظر آتے ہیں جسے اپنے عہد کے مسئلوں کے تناظر میں حضورؐ  کی زندگی کے مطالعے کی توفیق اور توجہ حاصل ہے۔ ایسے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

ابرِ سیہہ نے پھر سے سورج کو ڈھک لیا ہے

باطل کا سر ہے اونچا،اے مالک حقیقی

شہنشا ہا! اس امّت کو ہدا یت کی ضرورت ہے

کہ خیر و شر ہوئے شیر و شکر آہستہ آہستہ

واسطہ محبوب کا فاروقِ ثانی بھیج دے

ہے مسلّط سر پہ مو لا پھر سے دورِ آزری

ہم غلامانِ محمدسے الجھنا چھوڑدے

فکر کچھ اپنی بھی تو اے گردشِ ایّام کر

پھر  اسے فاروق وحید ر کی ضرورت آپڑی

حالتیں دنیا کی آقا ،بدسے بد تر ہو گئیں

وردِ جاں نام نبی ہے تو سکوں حاصل ہے

ورنہ تیور میں اِدھر موجِ بلا آتی تھی

حضرت عمر کی پھر سے ضرورت ہے دین کو

بو جہل ِ وقت پھر سے شہا تاج ور ہوئے

نخوت ،انا ،غرور ،رعونت ،ریا، خودی

اس بارگاہِ ناز میں سب کو کچل کے آ

اے غمِ رسیدہ خلقِ خدا،مسئلوں کا حل

کوئی نہیں حضورہیں ،ہاں ہاں حضور ہیں

اہلِ دول سے کہہ دو واحد نظیر ہم ہیں

ٹکڑوں پہ پلنے والے سلطانِ دوسرا کے

سُنا ہے میلہ لگا ہے حسین چہروں کا

چلو تو دیکھیں نبی کا بلال ہے کہ نہیں

نظام دنیا میں آیا رسولِ رحمت کا

زمانہ تیرا اب اے طرزِ آمرانہ گیا

عبث ہی لوگ ترازو اٹھا ئے بیٹھے ہیں

عطا کیا ہے انھیں رب نے اختیار بہت

ذات وہ ایسی جس کے کرم کی چھانو میں دنیا پلتی ہے

پیڑ گھنا وہ ایسا جس کی سارے جہاں میں پھیلی شاخ

آپ کے قدموں میں تھا تو ٹھوکروں میں تاج تھا

آپ نے پھیریں نگاہیں، لوگ ٹھکرانے لگے

ایسے موضوعات اس مجموعۂ نعت میں بار بار سامنے آتے ہیں جہاں انصاف اور ایمان کو بنیاد کا پتھر مانا گیا ہے۔ واحد نظیر مذہب اسلام اور آقاے نامدار کو کمزوروں کے طرف دار اور مظلوموں کے والی کے طور پر پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ مذہب اسلام کی اس خاص جہت سے تعبیر و تشریح آج کے وقت میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ واحد نظیر نے اپنی نعتوں میں ایسے موضوعات کی طرف ہماری خاص توجہ دلائی ہے۔ یہاں شاعر صرف نعت خواں نہیں بلکہ وہ سماجی مفکر اور روحِ عصر کا نباض بھی معلوم ہوتا ہے۔ چند اشعار اس نوعیت کے ملاحظہ کیجیے تاکہ نعت گوئی کے باب میں واحد نظیر کے اجتہادی رخ کو سمجھا جاسکے:

اونچے دربار سے نسبت کا شرف اونچوں کو

چاہے وہ حبشی ہو یا ہو عجمی اونچا ہے

اے آسمان اگر تو بہ ضد ہے گردش پر

نبی کی یاد ہمارا بھی سائباں ٹھہری

جو غلامِ مصطفی ہیں، ان کی نظروں میں نظیر

ہیچ ہیں سب شان و شوکت، کرّ و فر، نام و نمود

بحرِ رحمت سے نبی کے ایک قطرہ چاہیے

ہم ہیں چھوٹے لوگ؛ اور چھوٹوں کو کتنا چاہیے

ان کی چوکھٹ پہ سلاطینِ جہاں کہتے ہیں

شاہی سے منصبِ جاروب کشی اونچا ہے

چراغِ عشقِ احمد سے اسے آباد رکھنا ہے

محل دل کا نہ ہو جائے کھنڈر آہستہ آہستہ

زمانہ، سلطنت، سرحد، ہیں سب الفاظ بے معنی

نبی کے نام کا سکّہ جو چلتا ہے تو چلتا ہے

شہا تیری غلامی کی سند مل جائے کافی ہے

نہ میں حوروں کا شیدائی، نہ میں دیوانہ جنت کا

واحد نظیر مزاج کے اعتبار سے نعت خواں اصحاب کے اُس حلقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے یہاں خلوص، سپردگی اور مروّت کے وسائل بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس وجہ سے بعض نعت گو شعرا کی طرح وہ طنز، پھبتی یا مناظرانہ رُخ اختیار نہیں کرتے۔ اختلافی اور مسلکی امور میں بھی ایک خاص رکھ رکھاو کا عالم ہے۔ تاریخِ اسلام کے وہ بہترین طالب علم ہیں، اس لیے وہ خدا اور حبیبِ خدا یا توحید و رسالت کے باب میں سرسری نہیں گزرتے بلکہ انھیں اپنی منطق پیش کرتے ہوئے ہر امر کا پتا ہوتاہے کہ انھیں کون سی بات کہنی ہے اور کون سی نہیں۔ اقبال نے کبھی یہ کہا تھا: نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر۔ واحد نظیر کی زبان سے یہ موضوع ملاحظہ کریں:

میانِ طالب و مطلوب کیا ترا  واعظ

بساطِ عشق اگر ان کا آستاں ٹھہری

نظیر! جو ہے نبی کا، وہ ہے خدا کا بھی

نہ التباس ہے اس میں، نہ اشتباہ مجھے

وہ عبادت تھی خدا کی، رخ تھا کعبے کی طرف

یہ نمازِ عشق ہے، دل جانبِ طیبہ کریں

توحید، عشقِ احمد مختار کے بغیر

چھت کا گماں بھی جہل ہے دیوار کے بغیر

لفظ، آیت، سورہ، پارہ، صفحہ صفحہ پنکھڑی

الغرض قرآن سر تا سر ہے سیرت کا گلاب

ڈھونڈنا ہے سیرت و قرآن میں ہی حل نظیر

وہ نبیِ آخری ہیں، یہ کلامِ آخری

قولِ رحماں علّم القرآن

علم و حکمت کی انتہا ہیں آپ

محبت اور عشق و عاشقی نعت کی روح ہیں۔ واحد نظیر کے یہاں اس کی متعدد شکلیں ملتی ہیں۔ کہتے ہیں، ہر شخص نعت نہیں کہہ سکتا۔ نعت کہتے ہوئے بیان کے آداب تو مقرر ہیں ہی مگرآپ کے تخلیقی جلال کا بھی امتحان سامنے آجاتا ہے۔ واحد نظیر ان نزاکتوں کو بہر طور سمجھتے ہیں اور اپنی نعتوں میں بار بار بصد عجز اس کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔ ذیل کے چند اشعار خصوصی توجہ چاہتے ہیں جہاں واحد نظیر ایک نعت گو کی حیثیت سے آدابِ محفل اور اپنی استعداد یا توفیقِ ہنر مندی کے نتائج پیش کرتے ہیں:

اے نظیر آقا کی باتیں  باادب با ہوشیار

ہو نہ جائے، ہو نہ ہو، یہ بولنے کا بولنا

بعدِ ربِّ زیبا، انھیں تعریف سب

نعت لکھنا اس طرح آسان ہے

وہاں سانسوں کے زیر و بم پہ بھی آداب لازم ہیں

فرشتے بھی جہاں پھیلائیں پَر آہستہ آہستہ

نعتِ نبی کے باب میں لوح و قلم کے ہوش گم

لفظوں کے پیرہن ہوئے تبدیل تار تار میں

نبی کی نعت میں پڑتا ہے سابقہ اکثر

میں علم و فضل کی بے مایگی سے واقف ہوں

واحد نظیر خلفاے راشدین، صحابۂ کرام اور اہلِ بیت کی تاریخ سے بھی حسبِ ضرورت اپنی نعتوں کو وزن و وقار عطا کرتے ہیں۔ یہ باتیں ان کی نعتوں میں کچھ اس طرح سے شامل ہوجاتی ہیں جیسے ہمیں یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ مضامینِ نعت کے دائرۂ کار کو وسعت دے کر واحد نظیر ہمیں کیسے نئی زندگی اور روشنی عطا کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایسے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

نبی کا شیر تھا، کوفے میں خسروانہ گیا

سرِ حسین گیا، قولِ مصطفی نہ گیا

غم نہ کر، اے نظیر روشن ہے

ہر طرف مصطفی کے گھر کا چراغ

کوفیو! کیا مٹ گیا باغِ رسالت کا گلاب

دیکھ ہر شاخِ لہو پرہے امامت کا گلاب

یزید جیت کی بھی روح سرنگوں تم سے

نبی کی آل سے ہے سر بلند مات کی روح

واحد نظیر کی نعتیں اردو کی عارفانہ شاعری میں اپنا خصوصی اعتبار اس وجہ سے بھی قائم کریں گی کیوں کہ یہاں ایک عجیب و غریب زندگی سے ہمارا سابقہ پڑتا ہے۔ عشق و عاشقی کے مرحلے میں ایک ایسی گھڑی آتی ہے جب حواس قائم نہیں رہتے۔ جہاں خواب اور حقیقت کب اور کیسے مل گئے، پتا ہی نہیں چلتا۔ نعتیہ شاعری میں شوقِ فراواں نہ ہو تو کوئی شخص کیوں اس میدان میں آئے۔ واحد نظیر اپنی نعتوں میں ایک ایسے عاشقِ رسول کے طور پر نظر آتے ہیں جہاں سب کچھ مختلف طرح سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ کون سی دنیا ہے، اسے پہچاننا اور نام دینا مشکل تر ہے۔ ذیل کے اشعار ملاحظہ کریں جہاں شاعر ایک دوسرے ہی عالم میں نظر آتا ہے اور غمِ ہستی سے بے پروا اپنی معراجِ عشق پر پہنچا ہوا نظر آتا ہے:

یہ دید کی گھڑی ہے ،نکیر ین جائیے

ضائع نہ کیجیے وقت سوال و جواب میں

آرزو دل میں ،تڑپ سینے میں ، آنکھوں میں امید

مصطفٰے کے نور سے مٹّی کا یہ گھر جاگ اٹھا

قسمت سے میں ابھی ہو ں دیارِ رسول میں

احسان ہوگا مجھ پہ فرشتے اجل کے آ

قبر کے ،حشر کے وعدے پہ ہوں قانع لیکن

جب وہاں ہو نا ہے ،دیدار یہیں ہو جائے

تو جب کھلاتا پلاتا ہی ہے مرے مولا

کھلا مدینے میں ،مجھ کو پِلا مدینے میں

کبھی یہ ٹمٹمائے اور کبھی یکسر بھبھک اٹھّے

چراغِ زندگی شاہانہ بجھتا ہے نہ جلتا ہے

درِ اقدس پہ جا کے لوٹ آنے کی بھی مجبوری

نظیر ،اپنے مقدّر پر کفِ افسوس ملتا ہے

سرخ رو ہو لے یہی ہے وقت اے ذوقِ جبیں

عقل کے کہنے میں مت آ،دل کا کہنا چھوڑ کر

ثنا تھی زیبِ زباں ،بام و در تھے آنکھوں میں

مَیں ایسے حال میں تھا ،حالِ دل کہا نہ گیا

آج کیوں پانو زمیں پر نہیں پڑتے تیرے

تو نہ اس طور سے پہلے اے صبا آتی تھی

کہاں وہ روضے کے جلؤوں کی شانِ آقائی

کہا ں یہ دید کی خواہش غلام آنکھوں میں

کبھی میں پلکیں ،کبھی نظمِ  کہکشاں دیکھوں

فراقِ طیبہ میں دونوں کا ایک حلیہ ہے

کہنے کو تو عام طور پر یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ نعت گوئی کی دنیا موضوعاتی اعتبار سے محدود ہے۔ باتیں طے شدہ اور مقرر ہیں ۔ قرآن اور احادیث کے دفتر سے باہر نکل کر بساطِ شعر بچھانا ممکن نہیں۔ اسی لیے عام شعرا کے یہاں تکرارِ بیان اور واقعات کی گردان کا ہونا لازم ہے۔ اپنے حصے کی نئی منطقیں، بیان کے دو چار ڈھب ایجاد کرکے شعر گو قناعت کرلیتا ہے اور بالآخر حصولِ ثواب اور روایتِ شعر کی پاس داری کرکے اپنا فرض پورا کرتا ہے مگر یہ حقیقی نعت گوئی نہیں۔ واحد نظیر اس قبیلے کے فرد نہیں ہیں۔ وہ اپنے علم اور فنی صلاحیت کی بنیاد پر نعت گوئی کے دوران نئے مضامین کی تلاش و جستجو میں ہمہ وقت سرگرداں رہے۔ اسی صفت نے انھیں نئے موضوعات اور نئے انداز میں باتوں کو کہنے کا سلیقہ بخشا۔ ذیل کے اشعار اس بات کا ثبوت ہیں کہ آخر کس طرح واحد نظیر نے ہماری زبان کی نعت گوئی میں نئے شاعرانہ نشانات متعین کیے ہیں۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

ہاتھ کے پنجوں کو دیکھو تو ترا نام ملے

آئینہ دیکھوں تو چہر اہے بنا نام ترا

ایسے انداز سے اللہ لکھا کاتب نے

مَے عرفاں کی صراحی سا لگا نام ترا

جب بھی احمد اور احد ،اے کلکِ خوش رفتار لکھ

میم لکھ، واوین میں ،قوسین میں اسرار لکھ

ظلمت نبی سے پہلے ،اجالانبی کے بعد

تاریخ کاینات ہے بس دو ہی باب میں

چاندسورج کے بنانے کا سبب اک یہ بھی تھا

آمنہ کے لال کو کوئی کھلونا چاہیے

دیارِ سیّد کو نین تاج ہے اِس کا

یہی سبب ہے زمیں رشکِ آسماں ٹھہری

جا تا ہے سوے مرکزِ انوار ،روز کیوں

مقدور ہو تو پوچھے کوئی آفتاب سے

لوگ چاہے جو بھی بولیں ،چاند کے ٹکڑوں کو تم

آمنہ کے لال کا ٹوٹا کھلونا بولنا

یہ چاند، تارے ،یہ سورج ہیں بس دکھانے کو

نبی کے نور سے کُل کاینات روشن ہے

سورج ہر ایک شام کو دیتا ہے حاضری

بے نور ہے وہ منبع ِ انوار کے بغیر

خونِ جگر ! ہے نذر کہاں ہونا،دیکھ لے

موتی کی طرح آنکھ کی سیپی میں پَل کے آ

نعت کے شعر میں ڈھلتے نہیں یوں ہی الفاظ

روشنی حرف کے سینے میں اُتر جاتی ہے

قدم رنجہ کسی دن ہوں ہمارے دیدہ و دل میں

لحد میں ،حشر میں ،دیدار کی تمہید ہو جائے

جب کہا ناعت نے نعت ِ سرورِ دیں پیش ہے

انس و جاں ،حور و مَلَک سب نے کہا :ارشاد ہو

اس لیے اوٹ میں بادل کی چھپا رہتا تھا

رو برو ہونے میں سورج کو حیا آتی تھی

لٹائے چاند ستاروں میں روشنی کی زکات

یہ کس کے صدقے میں سورج ہے مال دار بہت

ہیں دونوں ایک ہی چوکھٹ کے ریزہ چینوں میں

اے آسمان،نہیں تجھ سے کوئی ڈاہ مجھے

نسبتیں پانے کو ہو تا ہے مہین اور لطیف

ماہ،ہر ماہ ترے ناخن ِ پا کی صورت

اک اشارے کا فیض ہے اب تک

چاند کی ہے جو چاندنی اچھّی

بخشا مرے رسول نے وہ طرزِ زندگی

صحرا کے گائوں شہر کا معیار ہو گئے

واحد نظیر کے اس مجموعے میں صرف دو نعتیں غزل کی ہیئت میں نہیں ہیں۔ ایک نعت کا آہنگ گیت کا ہے۔ باقی سارا کلام غزل کی ہیئت میں ہے۔ غزل کی ہزار شیوگی سے کون انکار کرسکتا ہے مگر معاملہ جب نعت گوئی کا ہو تو یہاں جبریل کے پَر جلتے ہیں۔ اقبال کی بعض غزلوں میں جس طرح نعتیہ مضامین علاحدہ رنگ و آہنگ سے ڈھل کر ایک نئے لہجے کی تخلیق کرتے ہیں، واحد نظیر نے بھی اپنی نعتوں میں بیان کا ایک ایسا طرز ایجاد کیا جہاں ہماری غزل کی بہترین روایت اور انداز و اسلوب یا مزاج پورے طور پر نعت کا حصہ ہیں۔ یہ شاعر کی حیثیت سے بہت مشکل مرحلہ تھا اور راستوں میں کانٹے بچھے ہوئے تھے۔ کسی ایک پہلو سے شاعر سے کوتاہی ہوئی اور وہ خاک کا پتلا بن گیا۔ واحد نظیر انفرادی رنگ کے موجد ہیں۔ اس لیے اس خطرے کو انھوں نے آزمانے میں ہمت دکھائی۔ ذیل کے اشعار میں غزل اور نعت کس طرح شیر و شکر ہیں اور کیسے غزلوں اور نعت دونوں کی فضا یکجا ہوگئی ہے، اسے ملاحظہ کرنا چاہیے:

پتھروں کی خموشیاں تیری

قمر یوں کا بیاں ہے تیرے نام

مصحفِ شب کا منوّر ہوا صفحہ صفحہ

ایسا مہتاب کی کرنوں نے لکھا نام ترا

جب نظرجانبِ دربارِ دگر جاتی ہے

دل کی تسکین بغاوت پہ اتر آتی ہے

یوں سمیٹے ہوئے گلہائے جہاں کی خوشبو

حسبِ معمول صبا روز کدھر جاتی ہے

چشمِ تر ہے کہ نظیر اور فزوں تر دایم

ورنہ چڑھتی ہو ئی ندی بھی اُتر جاتی ہے

آنکھ بنجر ہو ئی نظیر اب کے

دل بچا ہے اسے لہو کر لے

آئینہ پھر دکھا گئے پتّھر

پھر چلی ان کے نقشِ پا کی بات

چاند ،سورج پر تصّرف اور کس کا ہے بتا

تو مشاہد روزِ اوّل سے ہے اے چرخِ کبود

موم بن کر قدم کو چوما ہے

کوئی دیکھے سلیقہ پتھّر کا

کوئی مو جِ شمیم اٹھے تیری یا دوں کے گلشن سے

خیالوں نے اسی امید پر یہ دامن پسارا ہے

ریت پر ایوان کی تعمیر کے مصداق ہے

سر بلندی کی تمنّا ،ان کا اسوہ چھو ڑ کر

بچایا ابر نے سورج کو شرم ساری سے

جدھر نبی گئے ،بن کر وہ شامیانہ گیا

نبی کا نام کوئی بھی اگر لے کیف و مستی میں

حیا سے پانی پانی غیرتِ ناہید ہو جائے

یاد جب بھی آئی ہے ہم کو مدینے کی نظیر

شمع کے مانندپلکیں اپنی اکثر ہو گئیں

روے زینب پہ نہ پڑ جائے نظر غیروں کی

مستقل چہرے پہ کرنوں کی ردا آتی تھی

ہجر طیبہ ہے اور شبِ تیرہ

طاقِ مژگاں ہے اور گہر کا چراغ

خاکِ پا ان کی منزلِ عشّاق

نقشِ پا ان کا رہ گزر کا چراغ

دل درِ نور سے ہے وابستہ

جلتا رہتا ہے چشم تر کا چراغ

آئے گلشن میں پھول زہرا کے

منہہ تکیں ،منہہ چھپا چھپا کے گلاب

میرے سرکار کا اندازِ کرم کیا کہنا

یہ وہ بارش ہے جو ہوتی ہے گھٹا سے پہلے

واحد نظیر کے اس پہلے نعتیہ مجموعے میں نپے تلے اشعار اور بیان کے سلیقہ مند اسالیب ہمیں متاثر کرتے ہیں۔ بحر کے تنوع کوبھی ہمیں توجہ میں رکھنا چاہیے۔ شاعر کی طبیعت ہر جگہ رواں نظر آتی ہے۔ مختصر مصرعے بھی الگ کیف میں ہمیں مبتلا کرتے ہیں اور بحر طویل کا لطف بھی نئے ذائقے سے آشنا کراتا ہے۔ شاعر ٹھہر ٹھہر کر، ایک ایک مرحلے میں ناپ تول کر اور اپنی تخلیقی قوت کو پہچان کر اس میدان میں اترا ہے۔ اپنے علم اور شعر گوئی پر اُسے اعتماد ہے مگر اتنا بھی بھروسہ نہیں کہ وہ احتیاط کا دامن چھوڑدے۔ تیس برس کی مشق کے بعد شاعر اپنا پہلا مجموعہ پیش کررہا ہے۔ یہ صنف شاعر کو یوں بھی سر جھکا کے حاضری کی مشق کراتی ہے۔ اس لیے واحد نظیر نے بھی کوئی دعوا پیش نہ کیا۔دعوا ہے تو صرف غلامِ نبی ہونے کا۔ شوق ہے تو صرف مدّاحِ رسول ہونے کا اور عمر فاروق یا بلالِ حبشی یا حضرت حسین جیسے جاں نثارانِ نبی جیسا بننے کا خواب۔ شاعری اگرچہ کسی نعت گو کا بنیادی مقصد نہیں ہوتی مگر واحد نظیر نے فنّی اعتبار سے اس سرمایے کو صحیفۂ ادب بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ ’’مدحت‘‘ کی اشاعت کے بعد واحد نظیر کو اردو کے معتبر شعرا میں پہچان ملے گی اور انھیں اردو کی نعتیہ شاعری میں اپنی اختراعی خصوصیات کی وجہ سے اعلا مقام حاصل ہوگا۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

DR. SAFDAR IMAM QUADRI

Head, Deptt. of Urdu, College of Commerce, Arts & Science, Patna-800020

202, Abu Plaza, Ashok Rajpath, NIT More, Patna- 800006

Email: safdarimamquadri@gmail.com

Mob. No. : 9430466321

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثشاعرینعت گوئی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
موت کا سال- ڈاکٹر قمرجہاں
اگلی پوسٹ
قرأت اور مکالمہ – پروفیسر کوثر مظہری

یہ بھی پڑھیں

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

صبیحہ سنبل کا شعری نگارخانہ – حقانی القاسمی

نومبر 7, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں