پیگاسس نام سے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کہ ایپی کورس کا بھائی یا فیثاغورث کا بھتیجا ہو یا کم از کم کسی یونانی فلسفی کا لاطینی نام تو لگتا ہی ہے۔ لیکن آج کل اس نام سے سفید پوش دنیا لرزہ بر اندام اور سیاہ دل ابن عزازیل اپنی عفریتی کمیں گاہوں میں قہقہ لگاتے، شادیانے بجاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ بھی ہمارے ہی ہوش کی بات ہے، اور ہمارے ہی عہد کے انقلابات میں سے ایک ہے کہ جس وائرس کا تصور اور تعلق امراض بدنی سے تھا، اس نے مجاز کا روپ دھار مجازی دنیا پر اپنے دجل و فریب کا ایسا سایہ پھیلا رکھا ہے، کہ ہوش و خرد حیران اور عقل و آگہی انگشت بہ دندان ہیں۔ ہمیں یاد ہے جب ہماری طالب علمی کے زمانے میں پروفیسر نسیم فاروقی معروف ادارہ آئی آئی ٹی، کھڑگ پور سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بحیث شیخ الجامعہ وارد ہوئے۔ وہ خود ایک ماہر سائنسداں تھے، چنانچہ یہ چاہا کہ وہاں کے نونہالوں کو بھی اس ایجاد جہاں گشا سے آشنا کردیں۔ جیسا کہ تاریخ شاہد ہے، ملت اسلامیہ ہر ایجادِ نو کو بدعت قبیحہ سمجھتی ہے، اگرچہ بعد میں اسی کی اسیر و پرستار ہوجاتی ہے، سو وہی ہوا اور ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ بہرحال کمپیوٹر سے آشنائی، پھر فلاپی کا استعمال اور اسی کے ساتھ پہلی بار وائرس کے فتنہ سے سماعت آشنا ہوئی۔ اور پھر انٹی وائرس اور نہ جانے جانے کیا جگاڑ وجود میں آئے۔
بہرحال، یہ بھی قابل توجہ ہے کہ فلسفہ ایپی کورس جتنا دلکش ہے اتنا بھی جہاں فریب بھی رہا ہے۔ چنانچہ نودولتیے انگریزوں کو رباعیات خیام میں ایپی کورس مل گیا، اور پھر اتنا زیادہ کہ اس انکشاف بے پایہ کی افراط سے ایران و ہند کے مضامین و مقالات پٹ گئے اور بعض نے تو جبر و قدر اور ایپی کورین رویوں پر خوب خوب قلم بھانجے اور صفحات سیاہ کئے۔ اس فتنہ پیگاسس نے نہ جانے کیا کیا یاد دلا دئے۔ (یہ بھی پڑھیں داستان چائے – پروفیسر اخلاق آہن )
آج کل اس دور وحشت میں ہمارا یونیورسٹی کیمپس (جے این یو) ویرانی کا شکار ہے اور یہ ویرانی مجازی و معنوی دونوں اعتبار سے قائم ہے۔ ورنہ دنیا کے سامنے اس قضیہ کے تمام ابعادِ پیچیدہ کے ناآشنا پہلووں اور نزاکتوں کی گرہ کشائی ہوچکی ہوتی اور اس کے سیاسی، معاشی، تہذیبی، ثقافتی، قومی، بین الاقوامی، مارکسی، فسطائی، فلسفیانہ، عمرانی، تاریخی، جغرافیائی اور نہ جانے کن کن نکات کی گیرائی و گہرائی کی پیمائش ، تحلیل و تجزیہ، جلسے جلوس اور سیمینار سمپوزیم اس قدر ہوچکے ہوتے کہ عقل کے چار طبق روشن اور دل پریشان و حیران ہوتے۔ یہ ننھی سی بستی اپنی اسی تکوینی زندہ دلی اور جرات رندانہ کے لیے بقول اقبال "میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح”، بنی اور بدنام و خوش نام رہتی ہے۔ بہرحال۔۔۔۔ایسی خاموشی کہ خاموشی بھی حیرت سے تکے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

