برصغیر کی مشہور و معروف دانش گاہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر اردو تنقید نگار اور ادیب مولا بخش کا انتقال ہوگیا۔ان کی عمر تقریباً 58 سال کی تھی ادھر وہ چند دنوں سے سخت علیل تھے۔پروفیسر مولا بخش کا شمار اہم تنقید نگاروں میں کیا جاتا رہا ہے اور وہ اپنی منفرد تخلیقات کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔انھوں نے متعدد کتابیں لکھیں،جن میں خواجہ میر محمد اثر، جدید ادبی تھیوری اور گوپی چند نارنگ،خواجہ حسن نظامی کی نثر ثقافتی لائحہ عمل،خواجہ حسن نظامی، گراں خواب چینی سنبھلنے لگے اور اس کے علاوہ آپ کے سینکڑوں مقالات اور مضامین شائع ہو چکے ہیں پروفیسر مولا بخش 13/جنوری 1963 کو صوبہ بہار کے مشہور و معروف اور گاندھی جی کے مبارک قدم کی تاریخی دھرتی ضلع مشرقی چمپارن کے مجھریا نامی گاؤں میں پیدا ہوئے
آپ نے بی ایس ای بورڈ پٹنہ سے ہائی اسکول 1979کیا،بہار یونیورسٹی مظفر پور سے انٹر میڈیٹ 1981 میں کیا،بی اے آنرس رانچی یونیورسٹی رانچی سے 1984میں کیا پھر آپ نے ایم اے بھی رانچی یونیورسٹی رانچی سے 1987 میں کیا ایم فل جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی سے 1981 میں کیا،اور پی ایچ ڈی جواہر لعل یونیورسٹی دہلی سے 1999 میں مکمل کیا اور اسی کے ساتھ انہوں نے ماس میڈیا بھی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے 1991 میں کیا
آپ کے تدریسی ملازمت کا آغاز دہلی یونیورسٹی کے معیاری کالج،دیال سنگھ نامی کالج سے ہوا اور بحیثیت صدر شعبہ اردو تیرہ سال تک یہاں آپ نے اپنی خدمات کو انجام دی،پھر اس کے بعد آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے اور وہاں بحیثیت پروفیسر خدمات انجام دینے لگے اور تدریسی ملازمت کے دوران آپ کئی عہدوں پر بحیثیت ممبر فائز بھی رہے جس میں ساہتیہ اکیڈمی دہلی،منسٹری آف کلچر گورنمنٹ آف انڈیا،اردو لنگویج نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا،ممبر بورڈ آف اسٹڈی خواجہ معین الدین پاشا یونیورسٹی،ممبر بورڈ آف اسٹڈی دین دیال اپادھیائے گورکھپور یونیورسٹی گورکھپور،این آئی،اوایس منسٹری آف ہیومن ریسورس اینڈ ڈیولپمنٹ گورنمنٹ آف انڈیا کے رکن ہونے کے ساتھ اردونصاب کے اہم ممبر بھی رہے۔
اور یہی نہیں پروفیسر مولا بخش کو کئ ادارے نے تخلیقی اور تنقیدی صلاحیت کی بنیاد اور ان کے علمی اور فکری کمالات کی وجہ سے کئی سارے ادارے نے ایوارڈ سے نوازا، جن میں لیٹریری اچیبھمنٹ ایوارڈ ہمنشیں بہار نے 2008 میں دیا، اور اسی طرح سے اندرا گاندھی ایوارڈ،فری ڈم فائٹر میموریل دہلی نے 2009 میں دیا اور کلیم الدین احمد ایوارڈ 2009 میں سادت پبلک اسکول شکچھا سمیتی فیروز آباد یوپی کے ذریعہ آپ کو ملا اور آل احمد سرور ایوارڈ 2020 میں گلشن رضا ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام دیا گیا اور اس پر سے انتظامی تجربات اور امور میں بھی رب العالمین نے انہیں خوش فکر ذہن دے رکھا تھا اور وہ ہرکام کو بڑی نفاست پسندی اور سلیقے اور خوش اسلوبی سے کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد نے اپنے یہاں بطور مبصر کی حیثیت سے کام لیا اور اسی طرح سے گریجویٹ سطح کی نصابی سرگرمیوں میں بھی اردو کی کتابیں بھی ان سے لکھوائی،اور وہ تین سالوں تک حمد،نعت اکیڈمی،دہلی کے ممبر اور پریس سکریٹری بھی رہے اور این سی ای آرٹی برائے کمیٹی درسی کتاب اردو کور کے اہم اراکین میں سرفہرت تھے۔ (یہ بھی پڑھیں قرأت اور مکالمہ -پروفیسر کوثر مظہری )
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اردو ادب کی نامور شخصیات اور ایک سے بڑھ کر ایک،نایاب گوہر، علمی اور ادبی مفکر،تاش کے پتے کی طرح،وقفے وقفے سے،ایک کے بعد ایک بکھرتی چلی گئی جن میں برصغیر کے ممتاز فکشن نگار ناول نویس،نیلام گھر کے خالق مشرف عالم ذوقی اور ان کی اہلیہ بیباک قلم کار تبسم فاطمہ اور مناظر عاشق ہرگانوی ایک اچھے حمد اور نعت نگار ہونے کے ساتھ ایک اچھے تنقید نگار کی حیثیت سے ادبی دنیا میں اپنی پہچان بنانے کے ساتھ شہرت کمائی جس کے بابت شین مظفر پوری نے مناظر عاشق ہرگانوی کو ادب کا جنگل کہا اور اسی پر بس نہیں مناظر نے سینکڑوں کتابیں لکھ کر اردو زبان وادب کی امامت اور قیادت کی ہے اور اسی قبیل سے تعلق رکھنے والے،اور غزل کی آبرو کہے جانے والے سلطان اختر،اور عظیم صحافی،ریاض عظیم آبادی،اور معروف افسانہ نویس،ٹیلی ویژن چینل،دور درشن چینل سے وابستہ انجم عثمانی اور ماہر شبلی شناس پروفیسر ظفر احمد صدیقی کے ساتھ گورنمنٹ اردو لائبریری کے لائبریرین فیاض احمد اور اسی کے ساتھ اردو افسانہ نویس،گنبد کے کبوتر کے خالق شوکت حیات صاحب وغیرہ کے انتقال پر ملال نے یکے بعد دیگرے اردو زبان وادب پر صف ماتم بچھا دی ہے جس کی وجہ سے پورا اردو حلقہ سوگوار ہے حیف صد حیف کی بات یہ ہے کہ یہ ادیب اور صحافی موقع بہ موقع اور اپنی اپنی انفرادی نوعیت سے برابر کام کرتے رہے اور اردو زبان وادب کی ترویج اشاعت اور اس کی ارتقاء کے واسطے درجہ بدرجہ آبیاری کرتے رہے، اور گئے تو ایسے گئے کہ گلشن ہستی سوگوار ہوچلی،چمن میں اداسی چھا گئی،بزم اردو ادب سکتے میں ہوچلا،فکر و شعور ماتم کدہ میں تبدیل ہوچلا صنف افسانہ اور ناول کی بستی پر بجلی سی گر گئی،اہل علم اور اہل سخن کا آشیانہ اجڑ گیاجیتے جی اتنا گہرا زخم ملا کہ،یہ شائستہ اور خوبصورت زندگی بے نور اور کرکری سی ہوگئی،اور کورونا کی تباہی اور قہر نے ہم سے چن چن کر ایسے انمول اور قیمتی ہیرے کو چھینا ہے جس کا نعم البدل ناممکن ہے اور اب ایسی شخصیات صدیوں بعد ہی جنم لے گی اور اب میں تمام مرحومین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے درجہ ذیل شعر کی مدد سے اپنی بات پوری کرتا ہوں
یہ کیا دستِ اجل کو کام سونپا ہے مشیّت نے
چمن سے پھول چننا اور ویرانے میں رکھ دینا
شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی دہلی
8287122631
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

