قطعات- یاور حبیب ڈار

by adbimiras
0 comment

ہجومِ زندگی سے شاد ہو کر

چلا ہوں گھر کو  میں برباد ہو کر

حقیقت آنی اور فانی ہماری

ہوئے برباد ہم آباد ہو کر

°°°°°°°°°

مری تقدیر کو کر دے تُو روشن

تخیل میں مرے بھر دے تُو روشن

ترے شمس و قمر اور چاند سُورج

مری رگ و پے کو اب در دے تُو روشن

°°°°°°°°°°

نہ سوچو کتنے ہیں عیب میرے

بھروسہ تُجھ پہ ہے اے غیب میرے

مدینے سے کوئی پیغام لائے

مٹا کے آئیں ہیں لاریب میرے

°°°°°°°°°°

ابھی سے گردشِ پیہم پڑا ہوں

کہ بھٹکے راہ میں جیسے کھڑا ہوں

کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہے

یہی حالت ہے، افسردہ پڑا ہوں

««««««»»»»»»

یاور حبیب ڈار بڈکوٹ ہندوارہ

طالبِ علم:- شعبۂ اردو

کشمیر یونی ورسٹی سری نگر

موبائل؛ 6005929160

 

You may also like

Leave a Comment