Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیمنصابی مواد

قرۃالعین حیدر کے افسانوں کی اسطوری جہتیں – ڈاکٹر شہناز رحمن

by adbimiras اگست 17, 2021
by adbimiras اگست 17, 2021 0 comment

قرۃ العین حیدر کی تحریروں میں تاریخی عناصر کی کارفرمائی کو کسی ادبی و فنی جستجو کے بغیر محض ان کے گہرے تاریخی شعور سے وابستہ کر کے خشک اوربوجھل قرار دیا جاتا رہا ہے۔ جب کہ اگر غور کیا جائے تواندازہ ہوتاہے کہ انھوں نے اپنے فکشن میں تاریخی واقعات کو تخلیقی انداز میں ایک خا ص نظم و ضبط کے ساتھ پیش کیا ہے ۔اپنے اس مخصوص انداز کو توانا رکھنے کے لیے اظہار کے مختلف طریقے استعما ل کرتی ہیں جن میں اساطیر کا استعمال بھی ان کے گہرے شعور کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

اساطیر انسانی زندگی اور اس کی سائیکی کا  ایک حصہ ہے۔کیوں کہ قدیم قصے اور عہد نامہ عتیق کے حقائق ہی ابتدائی تربیت کی تما م ترمشقوں ،زندگی گزارنے کے طریقوں، سماجی و اخلاقی قدروں اور زندگی و موت کی حقیقت وغیرہ کے معلو مات کا سر چشمہ ہیں۔ ان اسطوری قصوں اور قیاسات میں بیشتر کی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں ۔اس کے باوجود انسان ان پر یقین کرتا ہے ۔اس ضمن میں کیرن آرم اسٹرانگ لکھتی ہیں:۔

’’اساطیر نے اس حقیقت کو ایک قطعی شکل اور ہیئت دی ہے ،جسے لوگوں نے وہبی طور پر محسوس کیا ،اساطیر نے لوگوں کو سمجھایا کہ یوتاؤں کا رنگ ڈھنگ کیا ہے۔تاہم واضح رہے کہ یہ نہ تو بے کار تجسس کی پیداوار ہیں نہ یہ تفریحی کہانیا ں ہیں ۔بلکہ یہ مردوں اور عورتوں کو ان طاقتور ہستیوں کے نقش قدم پر چلنا اور الوہیت کا خود تجربہ کرنا سکھاتی ہیں۔‘‘

اساطیر اس لیے وضع کی گئیں کہ وہ غیر یقینی انسانی صورتحال سے نپٹنے میں ہماری مدد کریں۔اساطیر نے دنیا میں ۔۔۔اور اپنی حقیقی منزل متعین کرنے میں لوگوں کی مدد کی ۔ہم سب جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کہاں سے آئے ،مگر چونکہ ہماری انتہائی شروعات قبل تاریخ کی دھند میں گم ہو چکی ہیں ،اس لیے ہم نے اپنے آباو اجداد کے بارے میں دیو مالائیں تخلیق کیں جو ہر چند تاریخی نہیں ہیں پر وہ اپنے ماحول، ہمسایوں اور رواجوں سے متعلق ہمارے موجودہ رویوں کو سمجھنے میں ہماری دست گیری کرتی ہیں۔‘‘1

کیرن آرم کے اس مطالعہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اردو افسانہ نگاروں میں قرۃ العین حیدر نے اخلاقیت،روحانیت ، مفا پرستی ،تہذیبی اقدار کی شکست وریخت اور دوسرے انسانی جذبات وخیالات کو بیان کرنے کے لیے مناسب اسطوروں کو استعمال کیا جس کی وجہ سے انھیں اپنی تحریروں میں فکری و جمالیاتی گہرائیاں برقرار رکھنے میں کافی مدد ملی۔ (یہ بھی پڑھیں  پانچ لفظی ایک سطر پر اعتراض کے جواب میں – ڈاکٹر شہناز رحمن )

قرۃ العین حیدر نے اپنے افسانے’’ ملفوظات حاجی گل بابا بیکتاشی ‘‘’’سینٹ فلورا آف جارجیا کے اعترافات‘‘ اور’’روشنی کی رفتار ‘‘وغیرہ میں ایسی فضا خلق کی ہے جس سے ماورائی تجربے کا احساس ہوتا ہے ۔قاری ان فضاوں میں کھو کر لمحاتی طورپر خو د کو اپنی ذات سے الگ محسو س کر نے لگتا ہے ۔ ’’روشنی کی رفتار ‘‘میں جدید زمانے کی ایک لڑکی پدما ٹائم راکٹ کے ذریعہ کئی سال پیچھے قبل مسیح کے زمانے میں چلی جاتی ہے ۔ماقبل مسیح کے ایک کردار ثوث سے اس کی ملاقات ہوتی ہے وہ پدما کو قدیم مصری تہذیب،مذہب ،اخلاقیات اور دوسرے تمام اساطیری واقعات سے آگاہ کراتا ہے ۔ پدما ایک ایسے زمانے کی لڑکی ہے جس میں تعقل پسندی نے فکر کے وجدانی اور اساطیری نتائج کو ابتدائی دور کے ناپختہ نظریات کہہ کر رد کر دیا ہے لیکن پدما کو انھیں قدیم قصے ،کہانیوں کی واقفیت کی وجہ سے عبرانیوں کے درمیان بڑی عزت ملتی ہے ۔وہ لوگ پدماکی علمیت سے متحیر ہو کر اسے کاہنہ تصور کرنے لگتے ہیں۔تب پدما انھیں سائنسی دور کی تیز رفتاری کے بارے میں اور اس ٹائم مشین کی کا ر کردگی کے بارے میں بتاتی ہے ۔وہ لوگ پدما سے التجا کرتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنے دور میں لے چلو۔پدما کہتی ہے :

’’یہ ممکن نہیں ۔ہم اپنے اپنے وقت سے آگے یا پیچھے نہیں جا سکتے۔ اپنے اپنے دور کی آزمائش سہنا ہمارا مقدر ہے ہم تاریخ کو آگے یا پیچھے نہیں سر کا سکتے ۔کاش۔۔ وہ سب ہوتا جو نا ہونا چاہیے تھا ۔میں اسرا ئیل کی نبیہ دیورہ کی طرح تم کو یہ سب بتا رہی ہوں ۔دیورہ چند صدیوں بعد تمہارے یہاں پیدا ہوگی مگر جس زمانے سے میں آئی ہوں ،وہ انبیاء کے بجائے سائنس دانوں کا دور ہے ۔‘‘2

جیساکہ مندرجہ بالا اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ تاریخ کا واقعاتی ترتیب اٹل ہے لیکن مصنفہ نے سائنسی ایجادات،مصری اور ایرانی اساطیر سے فائدہ اٹھا کرانتہائی پر اثر اور آ رکی ٹائپل بیان سے قدیم عہد کی صورتحال کو جدید دور کی مکاریوں سے وابستہ کردیا ہے۔دوسرے یہ کہ اساطیر ی واقعات اور کرداروں کی وجہ سے بیانیہ میں حقیقت کا پرتو نظرآتاہے جو قاری کو انسانی وجود کے لا زمانی تصور کی طرف لے جا تے ہیں ۔اور اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ اسطور گرچہ واہمہ ہی سہی مگر اس دنیا کو ایک مثالی صورت میں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے ۔آسمان کو الوہیت سے وابستہ کرنے کا تصور ۲۰۰۰ قبل مسیح کا اسطورہ ہے جو اب تک مختلف تہذیبوں میں موجود ہے ۔ اس کا استعمال افسانے میں بھی کیا گیا ہے۔ جب عبرانی سپاہی پدما کو اشوری جاسوس سمجھ کر اسے گرفتار کرنے کے لیے تلاش کر رہے ہوتے ہیں اسی دوران دو پہریدار اپنی سادہ لوحی کے باعث اسے دوشیزہ فلک سمجھ کر بڑی عزت و احترام سے دربار میں لے جاتے ہیں اور ان کا بادشاہ طلائی تاج و لباس فاخرہ زیب تن کر کے مودبانہ لہجہ میں کہتاہے :

’’زہرہ جبیں دختر افلاک !یہ مصر کی عین خوش نصیبی ہے کہ اشوریہ سے جنگ کے دنوں میں مادر خداوند نے تم کو یہاں بھیجا اور فتح کی بشارت دی ۔مابدولت چونکہ خود رع دیوتا کے فرزند ارجمند ہیں ،ہمارا فرض ہے کہ بطور مہمان نوازی و سپاس گزاری کل شام میں پانچ بجے تم سے شادی کر لیں ۔‘‘

’’دوشیزہ فلک مراقبے میں چلی گئیں ـ‘‘چیفکاہن نے آہستہ سےکہا۔کمرے میں بڑی مودبانہ خاموشی طاری تھی ۔اس وقت پدما کے ذہن میں ایک خیال کوندا ۔ایک موہوم سی امید ۔۔چند لمحوں کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور کمزور آواز میں کہا ۔‘‘تخلیہ تخلیہ ۔۔۔میں دیبی سے رابطہ قائم کرنا چاہتی ہوں ۔‘‘3

سماوی خدا کے تصور کے تحت اس قوم نے پدما کو دوشیزہ فلک تسلیم کر کے اس کی عبادت اور احکام کی تعمیل شروع کردی جو کہ پدماکے لیے مضحکہ خیز تھا۔لیکن اس پورے سحر انگیز ماحول کی وجہ سے وہ ان کی گرفت سے نکل کر ٹائم راکٹ کے ذریعہ واپس لوٹنے میں کامیاب ہو جاتی ہے ۔لیکن اس کے ساتھ ثوث بھی غلطی سے چلا آتا ہے۔ چند سالوں قیام کے بعد اس دنیا کی عیاریوں سے اس کی طبیعت گھبرا جاتی ہے اور وہ اپنے پچھلے وقت میں جانے کی منتیں کرتا ہے ۔پدما اسے خبر دار کرتی ہے کہ یہ راکٹ روشنی کی رفتار کے آگے صرف چار بار سفر کر سکتی ہے اب یہاں سے جانے کے بعد تم دوبارہ نہ آسکو گے ۔بالآخر وہ دونوں جب راکٹ سے وہاں پہنچتے ہیں ،میخائیل نام کا شخص ایک خط چھوڑ کر راکٹ لے کر غائب ہو جاتا ہے اور پدما ہمیشہ کے لیے ۱۳۰۶ ق۔م میں واپس چلی جاتی ہے ۔اس افسانے کی اساطیری جہتیں یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ روحانی اور وہبی دنیا انسانی نفسیات کا ایک حصہ ہے اسی لیے بعض دفعہ خسارہ آمیز چیزوں کو بھی وہ معقو ل سمجھ لیتا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں مرزا حامد بیگ کے افسانوں میں روایت کی بازیافت – ڈاکٹر شہناز رحمن )

اسی طرح’’ملفوظات حاجی گل بابا بیکتاشی ‘‘میں صوفیاء کے اقوال ،پند و نصائح کو بیانیہ میں شامل کر نے کی وجہ سے اساطیری رنگ پیدا ہو گیا ہے۔انسان ہمیشہ کراماتی اشیاء کی طرف ملتفت ہوتا ہے تاکہ وہ اسے ماورائی اقدار کا تجربہ کرنے کے قابل بنائیں اور اس کی فوری ضرورتوں کی تکمیل کر سکیں۔لہٰذا اس افسانے میں بھی افسانے کا واحد متکلم جو مرکزی کردار بھی ہے ایک عورت کے گم شدہ شو ہر کی تلاش میں نکلتی ہے اور بیکتاشی فقیر کے پاس جاتی ہے۔لیکن وہ خود کسی مؤکل کی اختیار میں ہیں اور اس کی موت کے بعد کا انجام سوچ کر گریہ کرنے لگتے ہیں :

’’درویش نے سر جھکایا اور رونے لگے پھر آ نسو آستین سے پونچھے اور خود بھی ایک قطعی غیر متعلق بات کہی ۔’’حانم ‘‘حاجی سلیم نے فرمایا۔ ’’میں اس لیے روتا ہوں کہ قانون خدا وندی کے مطابق میرا ہمزاد جو اندر بیٹھا ہے ۔میرے مرنے سے ٹھیک چالیس دن قبل مر جائے گا۔ان چالیس دنوں میں،میں کیا کروں گا؟ کیوں کہ وہ مجھے خبردار کرتا رہتا ہے ۔‘‘

دفعتاً حاجی سلیم پھر چلائے ۔’’مولائے کائنات شاہ نجف نے فرمایا ہے ۔ جو کچھ لکھا گیا ہے ہمیشہ موجود رہے گا  ۔‘‘4

مصنفہ نے اس افسانے میں حانم اور حاجی سلیم بیکتاشی کے ذریعہ دو نسلوں کے تہذیبی تشخص اور ذہنی و فکری رویوں کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔حاجی سلیم ایسے صوفیانہ حکایات بیان کرتے ہیں جن کی وابستگی روحانیت کے دوام اور فطری یا الوہی قانون مکافات کی پیچیدگیوں سے ہے ۔مثلاً جب وہ کہتے ہیں :

’’ہم بیکتاشی محض دعا نہیں کرتے ۔حانم تم نماز پڑھتی ہو ؟سیدھی سادی نماز ؟ہم نماز کو دار منصور پر چڑھنا کہتے ہیں ۔میں روز دار منصور پر چڑھتا ہوں اور فنا ہوتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں ۔چوںکہ تم ایسا کبھی نہیں کروگی تمہیں کچھ معلوم نہ ہوگا ۔میں روزانہ خواہشات کو باندھتا اور قناعت کو کھولتا ہوں ۔خدا صابر ہے کیوں کہ حی و قیوم ہے۔ بندہ بے صبر ہے کیوں کہ اس کی زندگی چند روزہ ہے اور وقت تیزی سے گزرتا جاتا ہے ۔

تب میں نے ذرا بے ادبی سے کہا ۔آفندم آپ کو ہسپانیہ کے حاجی یوسف بیکتاشی کا نام یاد ہے ؟پندرہویں صدی عیسوی میں وہ علیہ الرحمہ اندلس میں موجود تھے ۔جب مسلمانوں پر قہر ٹو ٹا ،ان کا اور ان کے مریدوں کا صبر و رضا کام نہ آیا ۔‘‘5

حانم کے بیان کردہ قصے کی اسطوری جہتیں اس سحر کو توڑ دیتی ہیں ان کی تہہ داری سے یہ نتائج سامنے آتے ہیں کہ موت اور زوال زندگی کی ناگزیر حقیقت ہیں۔ بے معنویت گم شدگی و بیگانگی یہا ں بھی ہے اور وہا ں بھی ۔قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں بعض دفعہ اشیاء اور انسان ،مظہری کائنات اور داخلی حسیت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش میں واہمہ اور خواب کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ایسی صورتوں میں وہ اساطیری عناصر کے ذریعہ اعتدال و توازن قائم کرتی ہیں کیوں کہ قرۃالعین حیدر کی ذہنی تربیت میں ان چیزوں کا بہت رول ہے جس سے انسان کا جمالیاتی ذووق بیدار اور ذہن بالیدہ ہوتا ہے۔مثلاً رقص ،موسیقی ،مصوری اور باغبانی وغیرہ کی طرف ان کا رجحان عہد طفلی سے ہی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے افسانے میں بامعنی اور تہہ دار اسطوروں سے استفادہ کیا ہے۔ کیوں کہ اساطیری علامتوں کے انتخاب میں انسان کی نفسیات کا عمل دخل ضرور ہوتا ہے ۔جو بہت حد تک جمالیاتی کیفیتوں اور گہری رومانیت کی تخلیق ہوتے ہیں۔شکیل الرحمن اس ضمن میں لکھتے ہیں:۔

’’اکثر بڑے فن کاروں کے لاشعور میں اساطیر کا تحرک موجود ہے۔ اکثر تخلیقی جمالیاتی وژن نے سائیکو اسطور سازی کے عمدہ نمونے پیش کئے ہیں ۔بڑی تخلیقات میں ’’متھ ‘‘(Myth)کا عمل نفسیاتی ہے۔ اپنے عہد کی سائیکی کا مطالعہ کیا جائے تو (Images)استعاروں اور تشبیہوں میں قدیم اساطیر اور ’’متھ ‘‘کی جھلکیاں دکھائی دیں گی۔ نسلی یا اجتماعی شعور کے تحرک کی پہچان ہوجاتی ہے ۔ماحول اور فضا کی تخلیق میں آرچ ٹائپ(Archetype)کا دبائو موجود رہتا ہے۔ اساطیر اور اساطیری قصوں کہانیوں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سچائی بھی سامنے آجاتی ہے کہ تمام اسطوری قصے صرف دیوی دیوتاوں سے تعلق نہیں رکھتے ۔۔۔۔بڑی تخلیقات میں اسطوری تجربے (Mythic experience)اس طرح پگھل جاتے ہیں کہ ان کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے ۔نئے فنی یا شعری تجربے ان سے رشتہ قائم کرتے ہیں تو اکثر اس طرح کی لذت آمیز کیفیت طاری ہو جاتی ہے ‘‘۔6

مندرجہ بالا سطور میں جو بات کہی گئی ہے اس کا اطلاق قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں جا بجا نظر آتا ہے ۔اول تو یہ کہ ان کے افسانوں میں دیوی دیوتاؤں کے اسطورہ سے مواد اخذ کرنے کے بجائے مصری ،یونانی ،اور انجیلی روایات کے اساطیری پہلوؤں کو  بنیاد بنایا گیا ہے ۔اسی لیے ان کے کرداروں کے حرکات و عوامل اور مکالموں کی تہہ تک رسائی کے لیے مختلف اقوام و مذاہب کے اساطیری قصوں سے گہری واقفیت ضروری ہو جاتی ہے ۔ان کا افسانہ ’’سینٹ فلورا آف جارجیا کے اعترافات ‘‘مختلف النوع پیچید ہ تجربات کا مجموعہ معلوم ہوتاہے ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی خیالی کردار محو خواب اول فول بک رہا ہے اس کے ارد گرد کی فضا عجب واہموں سے بھری ہوئی ہے ،جس میں زمان و مکاں کی حد بندیاں ٹو ٹتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔لیکن اس افسانے میں مستعمل اساطیری گرہوں کا سرا گرفت میں آنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں ہر شئے کی مقدس اور گہری معنویت ہے اور سارے واقعات معنی خیز کرشموں سے معمور ہیں۔اس میں بعض ایسے جملے ہیں جن کی شمولیت سے افسانہ انتہائی پراثر اساطیری حد انتہا سے متعلق نظر آتا ہے ۔مصنفہ نے اس میں عیسٰی علیہ السلام کے معجزہ کا اسطورہ استعمال کر کے ایک مری ہوئی لڑکی سینٹ فلورا کو ایک فرشتے کی کرامات سے زندہ ہوتے ہوئے دکھا یا ہے ۔انیس برس کی عمر میں اس کا باپ عشق کرنے کی جرم میں اسے ایک خانقاہ میں بند کروا دیتا ہے ۔وہاں پر مختلف راہباؤں کے ساتھ رہ کر فلورا بھی عبادت گزار بن جاتی ہے اور گرجستان کی شہزادی کی کرم فرمائی پر جارجیا کے ایک نئے خانقاہ میں راہبہ کے طور پر مقیم ہوجاتی ہے ۔رفتہ رفتہ فلورا کی وجہ سے یہ خانقاہ عقیدت مندوں ،حاجت مندوں اور حرماں نصیبوں کا معبد بن جاتا ہے ۔اس کی دعاوں کی تاثیر سے لوگ فیضیاب ہونے لگتے ہیں ۔اور پھر ایک مریض کی تیماداری کرتے کرتے اس کی بیماری فلورا میں منتقل ہو جاتی ہے جو اسے موت کے منھ میں دھکیل دیتی ہے۔زندہ ہونے کے بعد فلوراپنے لیے ا چھے کپڑے اور ایک دلچسپ مردکی خواہش ظاہر کرتی ہے ۔اس واقعہ میںروز اول کے انسانی تخلیق کا اسطورہ موجود ہے جس کو اس  علامت کے طور پر لایا گیا ہے کہ بنی نوع انسان اپنی خواہشات ،ذہنی آسودگی کے ذرائع اور مادی حالات کا قیدی ہے ۔فلورا کئی سال تک تنہا بے دست و پائی اورنفسیاتی شکست وریخت کے تجربے سے گزرنے کے بعد حیات آفریں بصیرت سے ہمکنار ہونے کے باوجود اپنی جبلی خواہشات پر قابو نہیں رکھ پاتی ۔لہٰذا فلورا کی منت پر ایک سال کی مدت کے لیے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے مرے ہوئے شخص فادر گر یگری کو زندہ کیا جاتا ہے ۔فادر گریگری بھی فلورا کی طرح ہی اپنی فطرت کا تابع ہے سگریٹ نوشی عیاری،مکاری جیسی برائیاں دوبارہ زندہ ہونے کے بعد بھی کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں   شہناز رحمن کا ’’نیرنگ جنوں‘‘ – پروفیسرقدوس جاوید )

خلاصہ یہ کہ قرۃ العین حیدر کی خلاقانہ صلاحیت کا یہ ایک بڑا کارنامہ ہے کہ انھوں نے ایسے تاریخی واقعات کو  افسانے کے قالب میں ڈھال دیا جو عقلی ثبوتوں اور شہادتوں کے بنا پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔انھوں نے پر اسرار ، رومان پرور اساطیری پیکروں اور علامتوں کے استعمال سے ناقابل یقین باتوں کو اپنے وسیع تخیل کے ذریعہ نئے تجربوں سے اس طرح ہم آہنگ کر دیا کہ وہ قدروں کی تلاش کا ذریعہ بن گئے ۔

 

٭٭

حواشی و حوالے:

1۔      اسطو ر کی تاریخ ،مصنف :کیرن آرم اسڑانگ ،ترجمہ ناصر عباس نیر ،مشعل بکس، لاہور پاکستان،۲۰۱۳،ص۱۷۔۱۸

2۔      روشنی کی رفتار ،قرۃ العین حیدر ،ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ ،۱۹۹۲،ص۱۱

3۔      ایضاً،ص۲۰۶

4۔      ایضا ً ،ص۲۰

5۔      ایضاً،ص۲۳

6۔      اساطیر کی جمالیات ،ڈاکٹر شکیل الرحمن ،ص۷

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

شہناز رحمنقرۃ العین حیدر
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
امام محمد غزالیؒ   اور اُن کے مزار  کی حالتِ زار  – یعقوب محمد  براہوی  بلتستانی
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں