گم صم تھی دوجہاں کی حقیقت میرے بغیر
میں. آگیا. تو ارض و سماء بولنے لگے
حضورﷺ نے دعوت کردار ہی سے کی پتہ نہیں ہم یہ کیوں سمجھتے ہے کہ دعوت کردار کے ذریعہ سےالگ ہےدعوت کے اصل معنی و مقصد کردار ہی ہے-اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایا
"اے ایمان والو!کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیـــــں اللہ کے نزدیک بڑی ناپسندبات ہےجو کہو اس کو کرو نہیـــــں ". ( سورة الصف آیت نمبر 2تا3)
اسلام آغاز ہی سے ایک تبلیغی دین رہاہےجس کا مقصدتھا لوگوں کے دلوں کو مسخر کرکے ان کو اپنا حلقہ بگوش بنایا جائے اور اسلامی برادری میـں شامل کیا جاۓ اسلام کا جو طریقۂ کار شروع میں تھا اسی طریقۂ کار پر وہ اب تک اس لیے کاربند ہے کیونکہ آپﷺ نے کردار کے ذریعہ تبلیغ کی جو کہا اور سکھایا وہ عملا کرکے دکھایا-
حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم صاحب عمل تھے اسی لیے ان کی ہر ہر بات آج بھی پر تاثیر ہے- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے سے پہلے کی زندگی کو دیکھا جائے تو وہ پیکر اخلاق اور حسن سلوک سے ماورا ہے آپﷺ خوب سیرت اس قدر کے مکہ کے لوگ آپﷺ کو نام کے بجائے الصادق و الامین کہہ کر پکارتے تھے –
آپﷺ کو آج بھی وہی عزت و مقام حاصل ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آپﷺ کی صفات کے گن گاتے ہیـں-
مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب ‘ سو عظیم آدمی’ میں لکھا ہے
"حضرت محمدﷺنے عاجزانہ طور پر اپنی مساعی کا آغاز کیااور دنیا کے عظیم مذاہب میں سے ایک مذہب کی بنیاد رکھی اور اسے پھیلایا وہ ایک انتہائی موثر سیاسی رہنما بھی ثابت ہوئے آج چودہ سو برس گزرنے کے باوجود ان کے اثرات انسانوں پر ہنوز مسلم اور گہرے ہیں-”
اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ تبلیغ کا حکم ان الفاظ میں دیا
اے نبیﷺ!اپنے راستے کی طرف دعوت و حکمت عمدہ نصیحت کے ساتھ کیجیے –
سورة نمبر16 آیت نمبر 125
حضورﷺ نے اللہ کے حکم کےمطابق تبلیغ کا آغاز بڑی دانائی ,پر تاثیرلہجے کے ساتھ موقع محل اور زمینی حقائق کے مطابق کی آپﷺ کی نصیحت میں عمدگی ,دل سوزی اور خیر خواہی ہوتی تھی آپﷺ کے انداز سے ظاہر ہوتا تھا کہ آپﷺ پورے خلوص اور تڑپ کے ساتھ لوگوں کو اسلام کی دعوت دے رہے ہیں۔ جس کا مقصد لوگوں کی بھلائی ہے آپﷺ نے دعوت کے دوران نرم مزاجی اور اعلی اخلاق کا بہترین نمونہ پیش کیا آپﷺ کے مثالی انداز تبلیغ سے لوگ اسلام کی جانب زیادہ مائل ہوئے اسلام کی اشاعت تشدد یا انتہا پسندی نہیں بلکہ اخلاق و نرمی سے ہوئی –
بقول گاندھی جی:”میـں کسی ایسی ہستی کی تلاش میں تھا جس نے بنی نوع انسان کے کروڑوں دلوں پر غیر متنازعہ مشفقانہ قبضہ کر رکھا ہو بلآخر میـں اس حقیقـــت کا قائل ہوگیا کہ یہ تلوار نہـیں تھی جس نے اس زمانہ کارزار حیات میں اسلام کے لیے جگہ بنائی ہو بلکہ پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کی انتہائی سادگی ,جانثاری,ایثار ,معاہدوں کی پابندی آپﷺ کی امانت ,دیانت ,خدا خوفی ,بے باکی اور اپنے خدا پر مکمل یقین اور اپنے مشن کی صداقت پر یقین جیسی حقیقتیں تھیں -انھیں تابندہ حقیقتوں نے اپنے سامنے ہر روکاوٹ کو تسخیر کرلیا نہ کہ تلوار نے-”
” اے پیغبر صلى اللہ علیہ وسلم! یہ بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے نرم مزاج واقع ہوۓ ہو وگرنہ اگر تم کہیں تندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردوپیش سے چھٹ جاتے ”
سورة نمبر:3 ,آیت نمبر:156
حضرت محمدﷺکےاخلاقی,معاشرتی,معاشی,سیاسی اور گھریلوعملات زندگی ہی تبلیغ کے امور ہے آپﷺ کی امانت و صداقت ہی وہ طاقتور بنیادیں تھیں جن پر اسلام کی عمارت اٹھائی گئی -حضرت محمدﷺ کے طائف,بڑھیا کا کچرا پھینکنے والا واقعہ اور فتح مکہ کے معملات اور بہت سارے ایسے واقعات ہیں جن سے متاثر ہو کر لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئےجن میں سے ایک یہ بھی ہے –
مکہ میں ایک رکانہ نامی پہلوان اس قدر طاقتور تھا کہ چمڑے پر کھڑا ہوتا اور لوگ چمڑا کھینچتے تو چمڑا. پھٹ جاتا مگر اس کے قدموں کے نیچے سے نہیں نکلتا اس نے اسلام لانے کے لیے حضورﷺ سے کُشتی لڑنے کی دعوت دی اور کہا اگر وہ کُشتی ہار گیا تو اسلام قبول کرلے گا اوراپنی ایک تہائی بکریاں بھی دے گا حضورﷺ نے اسے تین بار زمین پر پٹخ دیا اور اس کی بکریاں بھی لیں تو رکانہ رونے لگا آپﷺ نے اس کی بکریاں واپس کردیں اس سے وہ بہت متاثر ہواصدق دل سے اسلام قبول کیا حضورﷺ نے تبلیغ کے لیے ہر طریقہ اختیار کیا –
وآخردعوانا ان الحمدوللہ رب العالمین
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

