”سجاد ظہر کی شعری جہات اور پگھلا نیلم“ -ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
سجاد ظہیر کا خمیر ایک ایسے گھرانے اٹھا تھا جہاں کے درودیوار اسلامی تہذیب کی خوشبو سے معطر تھے لیکن وکالت پیشہ والد صوم وصلوٰت کے پابند نہیں تھے۔ایسے گھرانے کا یہ چشم وچراغ باراایٹ لاء کرنے کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی پہنچ کر 1927 سے 1935 تک قیام کرتا ہے۔اس قیام کے دوران مغربی ماحول کے اثرات،اس کے شعور وفکر کو متاثر کرتے ہیں۔اسی قیام کے دوران وہ ترقی پسند تحریک کی بنیاد اپنے چند ہمعصردوستوں کے ساتھ مل کرڈالتا ہے۔جب اس کا مینوفیسٹو ہندوستان پہنچتا ہے اور پریم چند کی صدارت میں پہلی کانفرنس ہوتی ہے تو قلم کا سپاہی منشی پریم چند اس اجلاس میں اس تحریک کے اغراض و مقاصد کو بیان کرتے ہوئے اپنا وہ تاریخی جملہ عوام و خواص کے سامنے پیش کرتے ہیں:
”ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا۔“
”پگھلانیلم“اسی سرگرم نوجوان کے ادبی سفر کا آخری لیکن نثری نظم کا پہلامجموعہ ہے۔عصری حقیقت اور سچائی کی روشنی ذہن کے گوشوں میں عصری ترجمان فن پاروں سے منتقل ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ادب دوسرے قدروں کی طرح بڑے خاموشی کے ساتھ اپنی قبا کو تبدیل کرتارہتا ہے۔قباکی اس تبدیلی کا دارومدار ادیب و شاعر کے قلم کا مرہون منت ہوتا ہے۔ایک کامیاب قلم کار کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ فنی رموز وعلائم کی حرمت کو بحال رکھتے ہوئے اپنے عصر کے نسب و فرازکو اس طرح پیش کر تاہے کہ اس میں قاری کا دم نہ گھٹے بلکہ وہ اس سے جہاں لطف اندوز ہووہیں اس کے دل و دماغ کے گوشے بھی روشن ہوں اور جب یہ گوشے روشن ہوں گے تو روایتی قدروں کی کڑیوں کے ٹوٹنے کا امکان بڑھ جاتا ہے اور جب قدریں بدلتی ہیں تو تہذیب بھی کروٹ لیتی ہے۔جب تہذیب اور قدریں بدل جائیں تو ایک نئے معاشرے اور سماج کی تشکیل نو ہوتی ہے۔جہاں پریم چندجیسے جہاں دیدہ ادیب کو مذکورہ بالا جملہ کہنا پڑتا ہے۔!
سجادظہیر کے ذہن وفکر میں کہیں نہ کہیں یہ بات گردش میں تھی کہ شاعری ایک ایسا فن ہے جس کی بندش و پابندیاں افکار و نظریات کو ظاہر کرنے میں مزاحمت کرتی ہیں جس کے باعث افکار وفکر محدودیت کے دائرے میں قیدو بند ہو تے ہیں۔ جب اس حصار کو توڑنے کا شعور جاگزیں ہوتا ہے اس وقت وسعت بیانی فطری شکل اختیار کرتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فطری تغیر انسانی ذہن کا ایک اہم عنصر ہے جو ہمیشہ بہتر سے بہتر کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔اس کے لیے شعور وادراک بہت ضروری ہے۔ جب یہ بالیدہ ہوتا ہے تو نتائج بہتر آ نے کا امکان روشن ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں صنفی اور ہیتی تجربات کی روایت ملتی ہے۔سجاد ظہیر کا نثری نظموں کا مجموعہ ”پگھلا نیلم“ اسی روایت کی اگلی کڑی ہے جس کا مطالعہ عرق ریزی کے ساتھ ڈاکٹر تسلیم عارف(شعبہ اردو، ویسٹ بنگال اسٹیٹ یونیورسٹی)کرتے ہیں۔موصوف نے”پگھلا نیلم“ میں سمندر منتھن کیا ہے اور جو امرت دستیاب ہوا ہے اس کو ”سجاد ظہیر کی شعر ی جہات اور پگھلا نیلم“کی صورت یکجا کیا ہے اور نہ صرف یکجا کیا ہے بلکہ اس پر موصوف کو کلکتہ یونیورسٹی نے ڈاکٹر آف فلاسفی کی ڈگری بھی تفویض کی ہے۔
سجاد ظہیر کی شخصیت اور ان کا نثری شعری مجموعہ ”پگھلا نیلم“ کی عرق ریزی کے دوران تسلیم عارف نے اپنے ذہن کے گوشے میں اس نکتے کو جاگزیں رکھا ہے کہ سجاد ظہیر اعلانیہ ترقی پسند ہی نہیں بلکہ اس کے بنیاد گذاروں میں سے ایک تھے۔ اس کتاب میں سجادظہیرکی نظموں کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے جس سے تسلیم عارف کے شعور کی پختگی کا اشارہ ملتا ہے۔اس تجزیاتی عمل کے دوران تسلیم عارف معترف ہیں کہ سجادظہیر کی نظموں میں شاعرانہ ہنر مندی،تخلیقیت زور بیان اور فنی پختگی ہے۔
اس کتاب کی حیثیت تدوین کی بھی ہوگئی ہے جس میں سجاد ظہیر کی کل 38 نظمیں شامل ہیں۔اس کے علاوہ نظم ویتنام،یک غزل اور ایک گیت بھی شامل ہے جس کے باعث اس کتاب کو پاکستانی ایڈیشن (2005)پر سبقت حاصل ہوگئی ہے جس میں سجاد ظہیر کی کل ۵۳نظمیں شامل ہیں۔متعدید ناقدین ادب اس پر متفق ہیں کہ سجاد ظہیر کا ”پگھلا نیلم“ پہلا نثری نظموں کا مجموعہ ہے۔جب یہ مجموعہ منظر عام پر آیا اس وقت غیروں کے علاوہ ان کے قبیل کے لوگ مثلاً فیض، علی سردار جعفری اور راہی معصوم رضا نے اس نئی صنف پر اعتراض کیا۔جب ان کے رفقاء نثری نظم کے حوالے سے ان پر تجربے کرنے کی بات کہی تو انہوں نے اپنارد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
”شاعری انسانیت کا لطیف ترین جوہر ہے،اس کے اظہار کو تجربہ کہنا بڑا ظلم ہے“ص:۴۶
لیکن آگے چل کر یہی رفقا ء اپنی غلطی سے رجوع ہوئے اور خود فیض نے بھی نثری نظم لکھی۔اس کتاب میں چند ایسے گوشے اور اقتباس شامل ہیں جس کو پڑھ کر سجاد ظہیر کی نہ صرف فکری پرت کھلتی ہے بلکہ ان کے اندر موجزن جذباتیت کا بھی اندازہ لگتا ہے۔ مذکورہ سادہ جملے سے سجاد ظہیر کے دماغی تہہ خانوں میں پنپے تین نکتے قاری کے سامنے آتے ہیں۔پہلا یہ کہ شاعری فن کی جکڑ بندیوں سے مشتسنٰی ہوکر لطیف ترین جذبے کا اظہار تجربہ کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔دوسرا یہ کہ شاعری کا سیدھا تعلق انسانیت سے ہے۔تیسرا یہ کہ لطیف ترین جوہر ہی شاعری کی اصل بنیاد ہے۔اس کتاب میں چند اقتباس ایسے بھی شامل ہوئے ہیں جس سے سجاد ظہیر کے معتدل مزاج کے پہلو روشن ہوتے ہیں۔تسلیم عارف کے اس تحقیقی مقالے سے یہ انکشاف بھی ہوتا ہے کہ سجاد ظہیر کو شعریات پر بھی عبور حاصل تھا۔ انہوں نے”پگھلا نیلم“ سے قبل وژن،ردیف اور قافیہ کی پابندی کے سا تھ اسیری کے زمانے میں چند غزلیں کہی ہیں۔
انقلاب دہر کے قدموں کی آہٹ جوسنے
وہ ہے زندہ،ہم اسے دیتے ہیں فرزانے کا نام
ساز آزادی کے نغمے تیز ہوتے ہیں یہاں
کون کہتا ہے کہ یہ زنداں ہے غم خانے کا نام
سجاد ظہیر کے مذکورہ اشعار میں لہو کی گرمی ہے جو سامراجی نظام کو تہہ بالا کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔اپنےLogic کی حمایت میں تسلیم نے سجاد ظہیر کی متعد دنظموں کا حوالہ دیا ہے اور پوسٹ مارٹم کرکے یہ جگ ظاہر کیا ہے کہ سجاد ظہیر کی غزلوں میں شعریات،وجودیات اور آہنگ نمایاں ہیں۔اس ضمن میں عارف نے صرف ہوا میں تیر نہیں چھوڑا ہے بلکہ ان کے شعری فن پارے کی مثال بھی دی ہے۔جس کے باعث قاری ان کے اٹھائے نکتے سے مطمین ہوجاتا ہے۔سجاد ظہیر کی آخری تصنیف ”پگھلانیلم“ کی روشنی میں تسلیم عارف یہ اعادہ کرتے ہیں کہ ان کے شعری تخیل میں دانشوری کے عنصر شامل تھے۔ان کی شاعری میں شاعرانہ ہنر مندی،تخلیقیت،زور بیان اور شاعری کے دیگر لوازم موجود ہیں۔نیز نظموں کے عنوان کا انتخاب ان کے یہاں بڑی ہنرمندی سے ہوتا ہے جہاں مواد کے ساتھ اس کے گہرے ربط ہوتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر شہناز نبی نے بھی”روح ادب“ کے سجاد نمبر کے صفحہ نمبر ۷ پر ا س کا اعتراف کیا تھا کہ ترقی پسند شعراء نظریے کی طرفداری میں اپنا آہنگ گنوا بیٹھتے ہیں لیکن سجاد ظہیر ان میں سے نہیں ہیں۔تسلیم عارف نے سجاد ظہیر کی نظموں میں واردات قلبی،رومان کا امتزاج اورغم گیتی کا سراغ لگایاہے۔ تسلیم نے اس بات کو بھی اپنے تحقیقی مقالے میں تسلیم کیا ہے کہ اشاروں کی زبان کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے۔ چند لفظوں کے مضراب سے احساس کے تاروں کو بر انگیختہ کرنا ہنر مندی ہے۔ اس خوبی کا احساس سجادظہیر کی نظم ”ہونٹوں سے کم“ میں ہوتا ہے۔اس کتاب میں شامل سید مظہر جمیل کی آراء سے اس کا علم ہوتا ہے کہ سجاد ظہیر کے نزدیک ا حساس کی موت جسمانی موت سے زیادہ سفاک ہوتی ہے۔سجاد ظہیرا حساس کو تازہ دم و زندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔یاد رفتگاں میں آبدیدہ ہوجانا اور پھر مایوسیت کے اس حصار میں زندگی جینے کے لیے نئی امید کی جوت دیکھنا سجاد ظہیر جیسے حوصلہ مند شاعر کا خاصہ ہے جس نے جیل کی صعبتوں کو جھیلا لیکن انسانیت کی سر بلندی کی حمایت میں سرمایہ داروں سے مصالحت نہیں کی اور نہ ہی سر تسلیم خم کیا۔ اس کتاب سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سجادظہیر کی نظمیں محاکاتی حسن سے مزین ہیں جہاں کیف اور کیفیت کو کہنے سے زیادہ محسوس کرنے کا اشارہ ملتا ہے۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ سجاد ظہیر کی نظموں کا عاشق ہجر و وصال کے موسم میں بھی انقلاب کا راگ الاپتا ہے۔ ایسا اس لیے کہ ان نظموں کا خالق اشتراکیت کا علمبردار ہے۔نہ صرف علم بردار ہے بلکہ اپنے وطن میں اس تحریک کا بنیاد گذار ہے۔تسلیم عارف سجاد ظہیر کی کتابوں اور فن پاروں کے مطالعے کے دوان یہ گوہر تلاش کرلانے میں کامیاب ہیں کہ یاد ماضی کی واردات،قلبی غم گیتی،آرزوں کی لپک،امیجری اور ڈرافٹنگ،محبت،اخوت اور انسانیت کی بقاء کی جدوجہد،شامیہ واد سے زندگی کی نشانی کی تابندگی حاصل کرنے کا حوصلہ جیسے خیالات سجاد ظہیر کے یہاں ”پگھلانیلم“ میں مزین ہے۔جس کے پنہائیوں میں رہ رہ کر انقلاب آفرین جذبے کی بُن کری بھی ہوتی رہتی ہے۔ایسا اس لیے کہ سجاد ظہیر ایک خالص ترقی پسند ذہن و دل کے انسان تھے جن کی کوششوں سے ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کے تخم نموپزیر ہوئے جو آگے چل کر شجرسایہ دار کی صورت اختیار کرلی جس کی چھاؤں میں انسان اور انسانیت بے بس ولاچارمزدورو مجبور،سماج کا کمزورطبقہ آفیت کی سانس لی اوراس کی پتیوں سے نکلنے والے آکسیجن گیس کو اپنے پھیپھڑے میں داخل کرکے تازہ دم ہونے لگے۔!تین سو روپیہ قیمت والی اس کتاب کی پشت پر نورظہیر نے یہ کہہ کر پروفیسر ڈاکٹر تسلیم عارف کا پیٹھ تھپتھپایا ہے۔
”تسلیم عارف کی ذاتی ریسرچ اور کوشش سے یہ نایاب مجموعہ پھر سے شائع ہورہا ہے،یہ میرے لئے خوشی اور اطمینان دونو ں کا باعث ہے“
٭٭٭

