سلام بن رزاق نے سماج کے ہر طبقے کے مسائل کو خوبصورتی سے افسانہ بنایا ہے: پروفیسر اسلم جمشید پوری
شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں ادب نما کے تحت ’’سلام بن رزاق سے ایک ملاقات‘‘ آن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ15؍ستمبر2022ء
سلام بن رزاق بہت ہی عمدہ افسانہ نگار ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے اور خصوصاً اس محفل میں آپ کی جو کہانی(دہشت) پڑھی گئی ہے وہ بہت ہی عمدہ کہانی ہے۔ اس کہانی میں انہوں نے ایک غیر جانب دارانسان کو پیش کیا ہے۔ یہ الفاظ تھے جرمنی سے معروف ادیب عارف نقوی کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجو ان اردو اسکالرز انجمن (آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد’’سلام بن رزاق سے ایک ملاقات‘‘میں اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہانی دہشت میں آپ نے سائے کے دہشت کو منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔ اس افسانے میں پورے سماج کے حالات کو بیان کیا گیا ہے اور یہی ایک اچھے افسانہ نگار کی خوبی ہو تی ہے۔ سلام بن رزاق نے بے تحا شا نہیں لکھا لیکن جو لکھا وہ لا جواب اور اردو ادب کا قیمتی سر مایہ ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیۂ نعت عظمیٰ پروین اورپروگرام کی سرپرستی صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی ۔مہمانِ خصوصی کے بطور معروف اور منفرد افسانہ نگار سلام بن رزاق نے آن لائن شرکت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی،تعارف ڈاکٹر شاداب علیم ،نظا مت کے فرائض ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور شکریے کی رسم ڈاکٹر شبستاں آس محمد نے انجام دی۔
مہمان کا تعارف پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شاداب علیم نے کہا کہ ہر عہد میں خدا ئی تخلیق کردہ انسانی بستیوں میں علم و ادب کی ایسی شخصیات ضرور نظر آ تی ہیں جنہوں نے اپنی فضیلتوں اور صلا حیتوں سے عوام کے دلوں میں اپنی حکمرا نی قائم کی ہے۔ ان ہی میں ایک نام سلام بن رزاق کا ہے۔سلام بن رزاق کا شمار عہد حاضر کے قد آ ور افسا نہ نگاروں میں ہو تا ہے۔ انہوں نے اردو فکشن کو کئی شاہکار افسا نے دیے ہیں جن کے لیے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ سلام بن رزاق نے اپنا افسانوی سفر جدیدیت کے عہد میں شروع کیا تھا اس لیے ان کے یہاں استعاراتی اور علامتی افسا نے بھی ملتے ہیں اور وہ بیانیہ افسانے لکھنے پر بھی پو ری قدرت رکھتے ہیں۔ سلام بن رزاق کے اب تک چار افسانوی مجمو عے منظر عام پر آکر داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔اس مو قع پر ڈاکٹر آصف علی نے ان کی کہانی’’دہشت‘‘ کی قرأت کی جسے سامعین نے خوب پسند کیا۔
اس موقع پر صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہاکہ سلام بن رزاق کا تعلق اس نسل سے ہے جو70ء کے بعد منظر عام پر آئی۔اس نسل نے افسا نوں کو زمین سے جوڑ نے کا کام کیا۔ سلام بن رزاق نے نئی نسل کو آگے بڑھا نے کے لیے بزم افسانہ بنائی بہت سے مشوروں سے بھی نوازا ۔ سلام بن رزاق نے سماج کے ہر طبقے کے مسائل کو خوبصورتی سے افسانہ بنایا ہے۔پروگرام کے آخر میں آیو ساکی صدر لکھنؤ سے ڈاکٹر ریشما پروین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام میںڈاکٹر الکا وششٹھ،ارشد اکرام سعودی عرب، سعید احمد سہارنپوری، ،سیدہ مریم الٰہی،محمد شمشاد،شاہا نہ پروین، فیضان ظفر وغیرہ آن لائن موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

