1970 کے بعد کے شعراء کی بات کریں تو شاہد کلیم کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے . شاہد کلیم جدید غزل کی وہ آواز ہے جو دور سے ہی پہچان لی جاتی ہے.. شاہد کلیم کا شمار ان شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی اردو شاعری کے لئے وقف کر دی… شاہد کلیم بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے مگر انہوں نے اپنی غزلوں میں بھی اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا…. شمس الرحمن فاروقی نے ان کی نظم کے حوالے سے بڑی اچھی بات کہی ہے….
"انہوں نے مختصر نظم کے صحرا میں بڑی حد تک ایک نئی راہ نکالی ہے. دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہد کلیم کی نظمیں ہر طبقے اور مختلف نقطہ نظر کے پڑھنے والوں کو متاثر کیا ہے. یہ ان کے کلام کی جامعیت کی دلیل ہے..”
شمس الرحمن فاروقی کی یہ دلیل صرف نظم ہی نہیں بلکہ ان کی غزل پر بھی پوری اترتی ہے..” اندر کی آواز ” شاہد کلیم کی غزلوں کا مجموعہ ہے جو ان کے انتقال کے تین سال بعد نئی نسل کے مشہور و معروف شاعر عالم خورشید کی ایما پر پروفیسر ہمایوں اشرف کی زیر نگرانی میں بہار اردو اکیڈمی کے جزوی مالی تعاون سے 2009 میں شائع ہوا… اس سے پہلے شاہد کلیم کے تین شعری مجموعے زیر بار (1979)،موسم موسم روپ(1990)، پھول جب کھلتے ہیں (1996) اور ایک تنقیدی مضامین کا مجموعہ محرک (1986) میں منظر عام پر آ چکے تھے.. ان کے پہلے شعری مجموعے "زیر بار” کے حوالے سے بشر نواز لکھتے ہیں کہ…..
"زیر بار کا شاعر اپنے محسوسات اور تجربات کو اپنے طور پر شعری روپ دینے میں سرگرداں دکھائی دیتا ہے اور اکثر اوقات جدید اور قدیم ہر دو قسم کی خانہ بندی کو توڑ کر تجربے کی حقیقی روح کو چھوتا ہوا نظر آتا ہے. شاہد کلیم کے نزدیک شاعری اور جدید شاعری محض حرف محاورہ و زبان یا تلاش پیکر و علامت نہیں ہے.. یہی وجہ ہے کہ اپنے بہت سارے ہم عصروں کے بر خلاف ان کا شعر ذہن و دل پر اثر انداز ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ ان کی معنوی سطحیں اجاگر ہوتی ہیں… ”
شاہد کلیم خاموش طبیعت کے مالک تھے اس لئے گوشہ نشین رہے.. وہ بہار کے ایک چھوٹے سے شہر آرہ کے محلہ دودھ کٹورا میں پیدا ہوئے اور یہی سے شعر و ادب کی شمع کو روشن کرتے رہے… شاہد کلیم نے اپنے شعری سفر کا آغاز پروفیسر علیم اللہ حالی کی سر پوستی میں کیا.. شاہد کلیم کی طرح علیم اللہ حالی کا تعلق بھی دبستان آرہ سے ہے.. اس دبستان سے تعلق رکھنے والے شعراء کی ایک لمبی فہرست ہے جو سفیر بلگرامی سے شروع ہو کر آج بھی جاری ہے.. دبستان آرہ سے تعلق رکھنے والے شعراء میں جدید لب و لہجے کے شاعر شاہد کلیم کا نام بھی نمایاں طور پر سامنے آتا ہے اور جب تک ان کی زندگی رہی انہوں نے اس دبستان کی بھر پور نمائندگی کی مگر دبستان آرہ کے دوسرے شعراء کی طرح شاہد کلیم بھی ادب کے ناقد کی بے توجہی کا شکار ہوئے… شاہد کلیم کی نظم ہو یا غزل ان کا مشاہدہ بہت وسیع تھا وہ اپنی غزلوں میں الفاظ کا بر محل استعمال کرنا جانتے تھے.. ان کے اشعار میں اظہار ذات اور داخلی کرب کا احساس جا بجا دکھائی دیتا ہے.. اس حوالے سے چند اشعار پیش خدمت ہیں……
ایک ہی غم مجھے برباد کئے جاتا ہے
تیرے حصے میں نہ آ جائے سمندر اپنا
جو نہ لفظوں میں سمایا نہ ڈھلا رنگوں میں
میری آنکھوں میں عجب سادہ نظارہ بھی ہے
کریں تو کیسے کریں دور اپنی تنہائی
ہمارے گھر میں پرانی کتاب بھی ہے کہاں
اداس دشت میں راتیں گزارتا ہوں میں
کوئی نہیں ہے تو کس کو پکارتا ہوں میں
وہ سلطنت مری واپس تو کر گیا لیکن
مجھے شکست کا احساس کب نہیں ہوتا
شاہد کلیم کی شاعری میں نئے تجربات اور احساسات کے ساتھ ساتھ نیا فکری رجحان بھی ملتا ہے. نظم کی طرح ان کی غزلوں میں بھی ان کی اپنی خاص انفرادیت جھلکتی ہے.. ان کی غزلوں کے بعض اشعار فکری اور تخلیقی سطح پر اپنا اعتبار رکھتے ہیں.. ان کی غزل کے چند اشعار دیکھیں……
خالی میز آنکھوں کو کیا خوشنما لگے
آئینہ ہو، کتاب ہو، گلدان کچھ تو ہے
ہر ایک چیز کو دیکھے گا شک کی نظروں سے
زمانہ وہ ہے کہ اپنا خدا بدل دے گا
رات کے نام سے منسوب ہیں ساری خوشیاں
اب کوئی ہنستا نہیں نور سحر ملنے پر
نئے معنی کی مجھکو جستجو ہے
انوکھے استعارے رقص میں ہیں
نہ جس کا نام ہے کوئی نہ جس کی کیفیت
سیاہ رات میں دیکھا وہ انتظار کا رنگ
شاہد کلیم کی شاعری میں بھی زندگی کی کربناکی، تنہائی اور بے یقینی جا بجا دکھائی دیتے ہیں. وہ گھر، شہر، دشت، جنگل، صحرا، سمندر وغیرہ جیسے الفاظ کو استعاراتی انداز میں غزل کے اشعار میں ڈھالا ہے… چند اشعار ملاحظہ فرمائیں
ہوتا نہیں ہے کوئی بھی اب حادثہ یہاں
سب لوگ میرے شہر کے پتھر کے ہو گئے
آبادیوں سے دور کہیں اور جائیے
اس شہر میں ملے گا کہاں گھر سکوت کا
کسی نے ایڑیاں رگڑی نہیں ہے بالو پر
پتہ نہیں یہ سمندر کہاں سے آئے ہیں
ہمارا شہر تو مقتل نہیں ہے صحرا ہے
یہ قتل و خون کے منظر کہاں سے آئے ہیں
اب تو اک اینٹ بھی باقی نہیں اس کی شاید
صرف نقشے میں نظر آتا ہے گھر اپنا
شہر نو بھی دشت ویراں بن گیا ہے اے کلیم
سایہ دیوار کوئی سائباں کچھ بھی نہیں
ان اشعار کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاہد کلیم نے اپنی نظموں کی طرح اپنی غزلوں میں بھی اپنی انفرادیت کا مظاہرہ کیا ہے.. ان کی غزلوں میں ایسے بے شمار اشعار ہیں جو سیدھے دل پر اثر کرتے ہیں.. اب ضرورت ہے کہ اس جدید لب و لہجے کے شاعر شاہد کلیم کی شاعری کے حوالے سے گفتگو کے دروازے کھولے جائیں….
اصغر شمیم، کولکاتا
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

