شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں ’’ انتظار حسین کا فکشن‘‘ پرآن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ8؍نومبر2021
انتظار حسین کی علمی و ادبی فتوحات کی فہرست بہت طویل ہے۔وہ داستان سے چل کر ایک دبستان کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ انتظار حسین اپنی انسان دوستی اور اپنے ادبی کارناموں سے ایک طویل عرصے تک دلوں میں زندہ رہیں گے۔ یہ الفاظ تھے پروفیسر قدوس جاوید کے جوبین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن اور شعبۂ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ کے مشترکہ اہتمام میں منعقد بعنوان ’’انتظار حسین کا فکشن‘‘پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے ۔انہوں نے مزید کہاکہ پرو فیسر گو پی چند نارنگ نے انتظار حسین کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے افسانوں اور ناولوں کے ہر ایک نکتے پر قارئین کو متوجہ کیا ہے۔ انتظار حسین کے ناولوں اور افسانوں میں ہمیں انسانیت کا درس، سماجی کربناکی اور عام انسانوں کا درد نظر آتا ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی نے ،شکریہ ڈاکٹر شاداب علیم اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے انجام دیے۔
اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر شہاب ظفر اعظمی نے کہا کہ انتظار حسین کے فکشن میں آج کے مسائل نظر آتے ہیں۔ انتظار حسین کے اسلوب کی خاصیت یہی ہے کہ آج کے سماجی،سیاسی مسائل کو ان کے اسلوب میں آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ان کا اسلوب دیگر فکشن نگاروں سے منفرد ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تخلیقات سے تحریک اور جذبہ پیدا ہو تا ہے۔ سماجی شعور ان کی تحریروں میں جلوہ گر ہے اور شخصیت بھی دیگر فکشن نگاروں سے منفرد ہے۔انتظار حسین بھی اس نئے ادبی رویے کے پروردہ ہیں جس نے انسان اور اس کی کھوئی ہو ئی تہذیبی اقدار کے سرمائے کو حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ انتظار حسین کے یہاں ہجرت کا تصور ایک سر حد سے دوسری سر حد یا ایک بستی سے دوسری بستی میں چلے جانے کا نام نہیں ہے بلکہ ان سب سے پید ا ہونے وا لی اور ان سے نکلنے وا لی یادیں ہیں۔ ان کے لیے یہ یا دیں ہی اس کے ماضی تک پہنچ پانے کا وسیلہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتظار حسین کی تخلیقا ت میں ذا تی، ملکی ،قومی، اجتما عی یادوں کی زبر دست کار فر مائی نظر آ تی ہے۔
اس ہفتہ واری آن لائن پرو گرام میں آیو سا کے سر پرست عارف نقوی،جرمنی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے فکشن نگاروں کے فکشن میں یہ بات دیکھنے کو ملتی ہے کہ انہوں نے اپنی جڑوں کو ختم کردیا ہے مگر انتظار حسین واحد ایسے فکشن نگار گزرے ہیں جو ہمیشہ اپنی جڑوں سے جڑے رہے ہیں۔آپ نے بڑی تعداد میں نئے ناقدین کو اپنی تخلیقات سے متاثر کیا ہے۔اس موقع پر جے این یو کے ڈاکٹر عمران عاکف نے بھی انتظار حسین کا فکشن پر اپنا پُر مغز مقالہ پیش کیا۔ اس مو قع پر، محمد شمشاد، فیضان ظفر، مدیحہ اسلم،سیدہ مریم الٰہی وغیرہ موجود رہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

