علی گڑھ. مورخہ 16 اکتوبر کو شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سر سید تقریبات کا اہتمام کیا گیا جس میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف آرٹس( سابق صدر شعبہ اردو) پروفیسر سید محمد ہاشم نے سرسید احمد خاں کی حیات و خدمات اور ان کے افکار و نظریات کی عصری معنویت پر روشنی ڈالی. انہوں نے کہا کہ سرسید جیسی شخصیتیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں جن کی زندگی کی ہر سانس قوم اور ملک و ملت کے لیے ہوتی ہے. پروفیسر سید محمد ہاشم نے کہا کہ گزشتہ دو صدیوں میں ہندستان بالخصوص مسلمانوں میں سر سید جیسی عبقری کسی دوسری شخصیت نے جنم نہیں لیا. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ان کا لگایا ہوا ایک ایسا شجر سایہ دار ہے جس سے قومیں اور نسلیں فیضیاب ہورہی ہیں اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی. صدر شعبہ اردو پروفیسر محمد علی جوہر نے سر سید ڈے کی تقریبات کی اہمیت و روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء کے لیے صرف ایک خوشی کا موقع نہیں ہے بلکہ یہ تقریبات ہماری راویت کا ایک حصہ ہیں جن کے توسط سے ہم سر سید کے مشن اور ان کے ویزن سے نہ صرف خود واقف ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی واقف کراتے ہیں. انہوں نے کہا کہ سر سید تقریبات کا مقصد صرف ڈنر نہیں ہوتاہے بلکہ یہ وہ موقع ہوتاہے جب ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیے اور آئندہ ایک برس کے لیے اپنا لائحہ عمل طے کرنا چاہیے تاکہ سرسید کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے. مہمان خصوصی سابق صدر شعبہ پروفیسر طارق چھتاری نے اس موقع پر اپنے زمانۂ طالب علمی تقریبات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح جوش وخروش کے ساتھ ان تقریبات کا اہتمام کیا جاتا تھا اور طلبا ان میں شریک ہوتے تھے مگر اب کرونا کی عالمی وبا کی وجہ سے ان تقریبات کی شکل ہی بدل گئی ہے لیکن ان شاء اللہ حالات درست ہوں گے اور پھر وہی رونق لوٹے گی لیکن یہ یاد رہے کہ ہمیں کسی بھی حالت میں سرسید کے مشن کو پس پشت نہیں ڈالنا ہے.انہوں نے اس جلسہ میں حصہ لینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جس طرح کے مضا مین کا انتخاب کیا وہ لائق ستائش ہے. پروفیسر سید سراج الدین اجملی نے اپنی آن لائن میں کہا کہ سرسید احمد خاں نے اپنے عملی اقدام سے ایک زمانے کو متاثر کیاہے. ہمیں اپنی زندگی میں ان کے اس طریقے کو لانا چاہیے اور کوئی بھی کام صرف تحریر یا تقریر تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اس کو عملی شکل دینا چاہیے کیونکہ اسی میں کامیابی کا راز مضمر ہے. پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے شعبہ اردو کے استاد ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی نے سر سید احمد خاں کی ادبی و سماجی خدمات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ سر سید ڈے کی تقریبات علیگ برادری کے لیے کسی تیوہار سے کم نہیں، انہوں نے کہا کہ ایک علیگ خواہ کہیں بھی ہو مگر اس موقع پر وہاں تقریب کا اہتمام ضرور کرتا ہے. انہوں نے بتایا کہ سرسید تقریبات کا آغاز شعبہ اردو میں ہونے والے اس پروگرام سے ہوتاہے. جس کا آج با ضابطہ آغاز ہوگیا ہے. اس موقع پر ڈاکٹر محمد خلیق الزماں نے سرسید کی ادبی خدمات پر مضمون پیش کیا جس میں سرسید کی علمی،ادبی اور صحافتی خدمات کے حوالے سے کفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو نثر آج جن علمی مباحث، دقیق فلسفیانہ مسائل اور دیگر علوم کے اظہار پر قادر ہے وہ سر سید کی رہین منت ہے. اس سے قبل پروگرام کا آغاز گریجویشن کے طالب علم ارشد معین کی تلاوت کلام پاک اور پروگرام کے انچارج ڈاکٹر خالد سیف اللہ کے تمہیدی کلمات سے ہوا. اپنے تمہیدی کلمات میں انہوں نے بزم شہریار کے تحت سرسید ڈے کے موقع پر ہونے والے اس جلسے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی. بی اے کے طالب علم نوشاد احمد نے سرسید احمد خاں کے حوالے سے اپنی نظم پیش کی. متین اشرف نے مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے حوالے سے تقریر کی جبکہ ابو حامد ضیاء نے مضمون مخلص مصلح، غلام اشرف نے سرسید احمد خاں کا مضمون خوشامد اور ہاشم عباس جان نے حیات جاوید سے اقتباس پیش کیا. آن لائن پروگرام میں کثیر تعداد میں شعبے کے طلبا شریک ہوئے.
(پروفیسر محمد علی جوہر)
صدر، شعبۂ اردو
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

