Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

سرسیّد کے تعلیمی تحفّظات : عورتوں کی تعلیم کے خصوصی حوالے سے – ڈاکٹر صفدرا مام قادری

by adbimiras اکتوبر 21, 2021
by adbimiras اکتوبر 21, 2021 0 comment

صدیوں پہلے تاریخ کے ابتدائی مراحل میں بھی تعلیم کی توسیع کا تصّور انسانی ترجیحات میں اوّلین حیثیت رکھتا تھا لیکن تہذیب، ثقافت اور مذہب کے ترقّی یا فتہ نصب العین تک رسائی اور ایک مہذّب سماج کی تشکیل کے عمل میں ایسا ہوا کہ حصولِ علم کے پیدایشی اور عمومی حق سے بعضوں کو محروم رکھاگیا۔ برہمنی سماج نے پس ماندہ طبقات اور عورتوں کو ’’اکھثر گیان‘‘ سے الگ کر نے کے لیے ایک باقاعدہ منصوبہ اور لائحۂ عمل تیّار کیا اور اس پر مذہب کی مہرثبت کردی ۔ صدیاں گزرتی جارہی ہیں لیکن ’منوسمرتی‘ کے احکام کا سایہ کسی نہ کسی شکل میں ہر عہدپر مسلّط ہے اور ہمارا اجتماعی نظام شعوری یا لاشعوری اعتبار سے انھی سفارشات پر قائم ہے۔ وقت کے ساتھ ہماری منطق اور دلیل کے مرکزی نکات ضروربدل جا تے ہیں لیکن نتیجے میں فرق نہیں آتا۔

یہ صورتِ حال دراصل سماجی اقتدار میں چند لوگوں کی اجارہ داری کو قائم رکھنے اور ایک بڑے حصّے کو اُس سے الگ کردینے کی سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔ دنیا نے ارتقا کے مختلف مراحل میں اپنی نجات کی کوششیں جاری رکھیں لیکن یہ کوششیں پوری طرح بارآور نہیں ہوسکیں۔ اس طرح کبھی تہذیب وثقافت، کبھی مذہب وروایت اور کبھی خاندانی اور نسلی حقوق کے نام پر یہ بندشیں برقرار رہیں۔

ہندستانی معاشرے کی تاریخ پر نظرڈالی جائے تو اندازہ ہوگا کہ اُنیسویں صدی کے نصف اوّل میں جدید تعلیم کے فیض سے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی بہرہ ور ہونے لگی تھیں۔ عورتیں ایک علاحدہ سماجی اکائی اور الگ سے اپنی پہچان قائم کرنے والے گروہ کی حیثیت سے راجا رام موہن راے کی تحریک کے زیرِ اثر نئی تعلیم کے دروازوں پر دستک دے رہی ہیں۔ برطانوی سیّاح اور ماہرِتعلیم(؟) ولیم ایڈن نے ۱۸۳۵ میں بہار اور بنگال کے علاقے کا ایک تعلیمی سروے کیا تھا۔اُس نے بتایا تھا کہ یہاں اس وہم میں لوگ یقین رکھتے ہیں کہ اگر کوئی لڑکی یا عورت پڑھنا لکھنا سیکھ لیتی ہے تو اُس کے شوہر کی موت ہوجائے گی۔ (اُس سیّاح نے اس مفروضے کے اسباب پر روشنی نہیں ڈالی لیکن ’منوسمرتی‘ کے احکامات اور اُس کی مجوّزہ سزاؤں کے آئینے میں اس واقعے کو سمجھاجا سکتا ہے)۔ حکومتِ برطانیہ نے ۱۸۵۰ سے لڑکیوں کی تعلیم کا بندوبست کردیاتھا اور مرَدوں سے بیس برس بعد ہی سہی ، تاہم ۱۸۸۳ میں ہندستانی یونی ورسٹیوں کی پہلی خاتون گریجویٹ بھی پیدا ہوگئی تھی۔۱؎ مہاراشٹر میں عورتوں کی تعلیم سے متعلّق ایک بڑی تحریک شروع کی جا چکی تھی۔

اس پس منظر میں ہندستان کے سماجی اور تعلیمی نقشے پر سرسیّد کا ظہور ایک اہم واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندستان میں جدید تعلیم کے لیے فضاہموار کرنے اور عوام وخواص میں اس سے رغبت پیدا کرنے کی جدّوجہد ان کا تاریخی کا رنامہ ہے۔ سرسیّد کے ایک مضمون کا عنوان ہے: ’’انسان میں تمام خوبیاں تعلیم سے پیدا ہوتی ہیں‘‘۔ یہ سرسیّد کا ایمان تھا۔ اُنیسویں صدی میں سرسیّد کے مرتبے کی کوئی دوسری شخصّیت ایسی نہیں دکھائی دیتی جس نے توسیعِ علم کے لیے اس طرح دیوانہ وارتگ ودَو کی ہو اور اپنی جدوجہد میں اُسے ایسی کا میابی حاصل ہوئی ہو۔ سرسیّد کی اس ہمہ وقتی جستجو اور اُن کے عزائم نے ایک نئے ہندستان کی تعمیر میں بے شک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ۔

اُنیسویں صدی کے نصف دوم میں رونماہونے والی ’’نئی بیداری‘‘ نے اس ملک کو حقیقت کی مختلف سطحوں اور مسٔلوں سے متعارف کرایا۔ نئے خوابوں اور نئی آرزومندیوں کے سہارے ایک نئے سماج کی تعمیر وتشکیل کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہندستانی عوام نے ہرچند کہ اپنے قائدین اور مصلحین کے ساتھ بیش تر مراحل میں تعاون کیا لیکن بعض معاملات میں اختلاف راے کے اظہار اور انحراف کی صورتوں سے بھی گریزاں نہیں ہوئے۔ راجا رام موہن راے اور سرسیّد احمد خاں کی شخصیّات اس اعتبار سے بہت دل چسپ ہیں کہ ان کے ردوقبول سے اس عہد میں عوامی بیداری کا ایک گراف تیار کیا جا سکتا ہے۔ انھیں قبول کرنے اور ان سے انکار کرنے کے عمل میں عوامی بیداری کی تصویریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس عہد کے کئی دوسرے مصلحین کی طرح سرسیّد ایک مفکّر بھی تھے اور ایک قومی معمار بھی۔اپنے افکار کی ترتیب وتسوید اور اُن پر اجتماعی عمل آوری کی مہم سرسیّد کا مقصدِ حیات بنی رہی۔ اسی لیے انھیں ریفار مربھی مانا گیا اور آج اُن کے اُٹھ جانے کے سوا سوسال ہونے کو آئے لیکن اس کے باوجود یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ ان کی ذات سے فیضان کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، وہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔ ایک مفکّر کے طور پر کسی شخص کو آزادیِ خیال کی جو  دولت ملتی ہے، نفاذ کے مرحلے میں اسے تحریف و  تبدّل کی آزمایشوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی تو اس کا پورا خاکہ ہی بدل کر رہ جاتا ہے۔ افکارو نظریات کے ارتقا کی تاریخ کے طالب علموں کے لیے یہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔

برہمنی سماج کی بندشوں کے پس منظر میں ایک سماجی مفکّر کی حیثیت سے سرسیّد کے تعلیمی منصوبوں کی اطّلاقی صورت کا جائزہ ہمیں کچھ دل چسپ نتائج سے روشناس کراتا ہے۔ چنانچہ سرسیّد کی تعلیمی فکر کے بعض پہلوؤں پر آج ازسرِ نوغور کرنے کی ضرورت ہے۔ انگریزی اقتدار میں اضافے اور بہ تدریج مغلیہ اقتدار میں تخفیف کے مابین سرسیّد کی تعلیمی جدوجہد کا نقشہ سامنے آتا ہے۔ اُن کا دائرۂ کار رفتہ رفتہ متعیّن ہوتا گیا اور ’’ وہ فرقہ پرست ہوئے بغیر آہستہ آہستہ صرف مسلمانوں کی بہبودی، ترقّی اور اصلاح کی طرف زیادہ متوجّہ ہوتے جاتے تھے۔،،۲؎  انھوں نے ازسرِ نواپنی قوم کی آباد کاری کے لیے تعلیم کو ایک بنیادی حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہا۔ سرسیّد کے یہاں مسلمانوں کی ہزیمت کا احساس بہت شدید تھا اور اس نقصان کی تلافی کے لیے انھوں نے حصولِ معاش کے نئے وسائل پیدا کرنے پر زور دیا۔ حالاں کہ وہ تعلیم کو صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنے کے نقصانات سے آگاہ تھے تاہم ۱۸۵۷ کے صدمات سے سنبھلنے کے لیے مُسلمانوں کو اچھّی اچھّی نوکریوں میں جلد ازجلد کامیابی مل جائے، اس کے لیے اُن کی عملی کوششیں جاری رہیں۔

تعلیم کو قومی اور سماجی زندگی میں انقلاب آفریں تبدیلیوں کا ذریعہ سمجھنے کے بجاے اگر صرف ملازمت حاصل کرنے کا وسیلہ تصوّر کرلیا جائے تو نتائج میں محدوویت اور یک رُخے پن کا پیدا ہوجانا تقریباً یقینی ہے۔ ’انسان میں تمام خوبیاں تعلیم سے آتی ہیں‘ سے محض حصولِ ملاز مت تک سمٹ جانا ایک ’مفکّر‘ کے مقاصد اور موقف میں تبدیلی کابھی اشارہ کرتا ہے۔ اس تبدیلی میں کچھ حصّہ اُن کی Educational Activism کا ہے لیکن اس کی وجوہات اور بھی ہیں۔ بہ قولِ سید احتشام حسین ’’انھوں نے عوامی زندگی اور اس کی معاشی ناہم واریوں پر بالکل دھیان نہیں دیا بلکہ اصلاح اور ترقّی کی دُھن میں صرف اعلا اور متوسّط طبقے کو پیشِ نظر رکھا‘‘۔۳؎  موقف کی اس تبدیلی کے اسباب وعَلل کی بنیاد میں تہذیبی، روایتی، نسلی اور برہمنی تحفظّات تلاش کیے جاسکتے ہیں۔

مُسلمانوں میں جدید تعلیم کی توسیع کے حوالے سے سرسیّد کی خدمات بلاشبہ غیر معمولی اور بیش قیمت ہیں لیکن یہ سوچنا دُرست نہیں کہ صرف سرسیّد کے اثر سے مسلمانوں میں جدید تعلیم کوفروغ حاصل ہوا۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ اہمیت اس عہد کے تاریخی دباو کی ہے۔ کیوں کہ ایک ساتھ سیکڑوں طرح کی کوششیں اُس زمانے میں یہاں وہاں ہورہی تھیں اور اُن کے اثرات زندگی کے ہرشعبے پر پڑرہے تھے۔ اسی لیے حفیظ ملک نے اعدادد شمار کی مدد سے بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں میں سرسیّد کے بغیر بھی جدید تعلیم کو بہرطور پھیلنا تھا۔۴؎    سرسیّد نے تعلیم کے لیے صلاے عام میں اگرچہ حدیں قائم نہیں کیں لیکن اُن کی ترغیب اور ترجیح بالعموم اعلا اور متوسّط طبقے کے لیے رہی۔ نئے مواقع کے حصول میں ان طبقوں کی سوجھ بوجھ برحق لیکن یہ دیکھنے کی ضرورت بھی ہے کہ سرسیّد کہیں خود بھی بعض تحفّظات کے اسیر تو نہیں ہوگئے تھے؟ خود کو ڈی کلاس کرنے کے مرحلے میں ابھی بہت سی منزلیں اور پڑاؤ باقی تو نہیں تھے؟ ان سوالوں کا تجزیہ سرسیّد کے فیضان کو سمجھنے میں ہماری مدد کرے گا۔

سماج میں ترقّی، خوش حالی، مساوات اور مواقع کے حصول جیسے معاملات میں آج بھی عورتوں کا شمار محروم اور پس ماندہ طبقات میں کیا جائے گا۔ مردوں کے مقابلے وہ اب بھی کافی پیچھے ہیں۔ ہمارے ملک میں عورتوں کی تعلیم، ملازمت، سماجی زندگی میں ان کی شرکت پرغور کریں تو مردوں کے مقابلے میں وہ اب بھی ایک محکوم و محروم اور مشکل زندگی گزاررہی ہیں۔ آج بھی وہ بہت سی زنجیروں میں قید ہیں۔ راجا رام موہن راے نے اُنیسویں صدی کے اوائل میں عورتوں کے مسائل کو ملکی ایجنڈے کا حصّہ بنادیا۔ سرسیّد راجا رام موہن راے کے انتقال کی چاردہائیوں کے بعد مدرستہ العلوم قائم کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ ایک بڑی تعلیمی تحریک ان کے واسطے سے زور پکڑلیتی ہے۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ سماج کے سب سے بڑے غیر تعلیم یافتہ اور ترقّی کے مواقع سے محروم طبقے یعنی خواتین کی تعلیم کے تعلّق سے سرسیّد کیا سوچتے تھے اور اس معاملے میں اُن کا مجموعی رول کیا ہے۔

۱۸۸۲ میں ایجوکیشن کمیشن کے سامنے ہندستان میں تعلیم کے مسائل اور اس کے مختلف گوشوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سرسیّد نے عورتوں کی تعلیم کے بارے میں کہا تھا:

’’گورنمنٹ عملاً کوئی تدبیر ایسی اختیار نہیں کرسکتی جس سے اشراف خاندانوں کے مُسلمان اپنی بیٹیوں کے واسطے گورنمنٹ اسکولوں میں بھیجنے پر مائل ہوں۔۔۔۔۔۔۔جن شخصوں کی یہ راے ہے کہ َمردوں کی تعلیم سے پہلے عورتوں کی تعلیم ہونی چاہیے، وہ غلطی پر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مُسلمان عورتوں کی پوری تعلیم اُس وقت تک نہ ہوگی جب تک کہ اس قوم کے اکثرمردپورے تعلیم یافتہ نہ ہوجائیں۔۔۔۔۔۔ اس وقت تک جو حالت مسلمان عورتوں کی ہے، وہ میری راے میں خانگی خوشی کے واسطے کافی ہے۔۔۔۔۔۔۔ اگر گورنمنٹ مُسلمان شریف خاندانوں میں تعلیمِ نسواں کے جاری کرنے کی کوشش کرے گی تو حالتِ موجودہ میں محض ناکامی ہوگی اور میری راے  ناقص میں اس سے مضرنتیجے پیدا ہوں گے‘‘۔۵؎

اس سے پہلے ۱۸۶۹ میں برطانیہ کے سفر کے دوران مسِ کار پنٹر کی کتاب کے مسوّدے پر سرسیّد اپنی راے درج کرتے ہیں اور اس مسئلے کے خلاف ایک اصولی نکتہ اُٹھادیتے ہیں:

’’نیک کام پر کوشش کرنے والوں کی کوششیں کبھی کبھی اس لیے کہ وہ ان لوگوں کی عادات ورسم ورواج کے مخالف طریقے پر جن کی بھلائی کے لیے کوشش کی جاتی ہے، قائم کی گئی ہیں، برباد ہوگئی ہیں۔ حقیقت میں ایساکرنا گویا نیچر کا مقابلہ کرنا ہے اور خود اس نیکی کی رکاوٹ کا آلہ بننا ہے۔۔۔۔۔۔۔ پس اگر اب ہم کسی نیک بات کے پھیلا نے میں عام رواج کی رعایت نہ کریں گے تو خود خدا کی اُس حکمت کو توڑدیں گے اور خود اپنے لیے نقصان کا سبب ہوں گے۔‘‘۶؎

مسلم ایجو کیشنل کانفرنس کے تیسرے اجلاس منعقدہ لاہور (۱۸۸۸) میں تعلیمِ نسواں کے بارے میں خواجہ غلام الثقلین کی تجویز پر ہوئی بحث میں حصّہ لیتے ہوئے سرسیّد اپنی دلیلیں اس طرح پیش کرتے ہیں:

’’مجھ کو افسوس ہے کہ اس رزولیوشن کی نسبت جو ایک نہایت سادہ طور پر تھا، ضرورت سے زیادہ بحث ہوئی۔۔۔۔ جو جدید انتظام عورتوں کی تعلیم کا اس زمانے میں کیا جاتا ہے، خواہ وہ انتظام گورنمنٹ کا ہو، اور خواہ اسی طرز کا انتظام کوئی مسلمان یا کوئی انجمنِ اسلامی اختیار کرے، اس کو میں پسند نہیں کرسکتا۔ عورتوں کی تعلیم کے لیے مدرسوں کا قائم کرنا اور یورپ کے زنانہ مدرسوں کی تقلید کرنا ہندستان کی موجودہ حالت کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہے اور میں اس کا سخت مخالف ہوں‘‘۔۷؎

سرسیّدکے مقدّمات اور اختلاف راے کے باوجود کانفرنس نے یہ تجویز منظور کرلی۔ طے پایا کہ ’’مُسلمان لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مکتب قائم کریں جو مذہبِ اسلام اور طریقۂ شرفاے اسلام کے مطابق اور اس کے مناسب ہوں۔‘‘۱۸؎   ایجو کیشنل کانفرنس میں سرسیّد کی راے کا بالعموم ا حترام کیا جاتا تھا اگر چہ تعلیمِ نسواں کے حامیوں کی طاقت اور تعداد بھی روزافزوں تھی۔ اس لیے۱۸۹۱ئ کی علی گڑھ کانفرنس میں یہ مسئلہ پھرسے اُٹھایاگیا۔ سرسیّد نے اس باربھی اپنی وہی دلیلیں سامنے رکھیں۔ اُن کی نوعیت میں کوئی قابلِ ذکر تبدیلی نہیں آئی۔ غالباً سرسیّد ہی کا اثر رہا ہوگا کہ کانفرنس نے عورتوں کی تعلیم کا دائرۂ کارطے کرتے وقت روایتی نظریے سے آگے بڑھنا ضروری نہیں سمجھا۔ کانفرنس نے یہ طے کیا  : ’تعلیم ایسی ہونی چاہیے کہ عورتوں کی  مذہبی، علمی اور اخلاقی زندگی میں ترقّی ہو  تاکہ ان کی مبارک تربیت سے آیندہ نسلیں فائدہ اُٹھائیں۔‘۹؎   سرسیّد نے وہاں اپنی تقریر کے دوران مندرجہ ذیل نکات پیش کیے :

’’کوئی دنیا کی تاریخ اس وقت تک نہیں مل سکتی کہ جن خاندانوں کے مَردوں نے تعلیم پائی ہو، مَردوں کے اخلاق درست ہوگئے ہوں، مَردوں نے علم وفضل حاصل کرلیے ہوں اور عورتیں تعلیم سے محروم رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک نہایت اچھّی مثال ہے کہ خدا کی برکت زمین سے نہیں بلکہ آسمان پر سے اُترتی ہے۔ سورج کی روشنی بھی نیچے سے نہیں آتی بلکہ اوپر سے آتی ہے۔ اسی طرح مَردوں کی تعلیم سے عورتوں کی تعلیم ہوتی ہے‘‘۔۱۰؎

راج موہن گاندھی نے سرسیّد کے قائم کردہ ادارے اور ان کی خدمات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے :

"…..MAO was not as reformist or modern as his journal "The Reformer”. He saw the College was not as a vehicle for his ideas but simply as a place where Mussalmans may acquire an English education without prejudice to their religion. There was no question, for instance, of women being considered for admission. Though Muir spoken in Aligarh, even before the College got going, of ” the necessity of education of your girls”, Sayyid Ahmad argued that ” no satisfactory education can be provided for Mohammedan females until a large number of Mohammedan males received a sound education.”۱۱؎

          عورتوں کی تعلیم کے تعلّق سے گذشتہ صفحات میں سرسیّد کے نظریات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ سرسیّد کے رفیقِ خاص اور سوانح نگار الطاف حسین حالی کے مشاہدات پربھی غور کرلینا ضروری ہے۔ حالی نے سرسیّد کے خاندانی پس منظر اور ان کے ذاتی احوال سے ان کے نظریات کی تشکیل کے جواز فراہم کیے ہیں۔ لکھتے ہیں:

’’ہمارے نزدیک اصل سبب تعلیمِ نسواں کی طرف (سرسیّد کے) توجّہ نہ کرنے کا یہ تھا کہ اوّل توجب سے اُن کو مسلمانوں کی سوشل ریفارم کا خیال پیدا ہوا، اُس وقت سے اخیردم تک وہ فیملی سوسائٹی سے بالکل علاحدہ رہے۔ غدر سے چند روز بعد اُن کی والدہ اور بی بی کا انتقال ہوگیا اور دہلی کی آمدورفت بالکل موقوف ہوگئی ۔ اگر چہ زنانہ سوسائٹی کی حالت سے وہ بے خبر نہ تھے مگر جو فیلنگ خوداس سوسائٹی میں رہ کر اور ہر وقت آنکھ سے اُن کی حالت دیکھ کر ایک ذکی الحس آدمی کے دل میں پیدا ہوسکتی ہے، وہ صرف سُنی سُنائی یا کبھی کی دیکھی ہوئی باتوں سے ہرگز پیدا نہیں ہوسکتی۔ـ‘‘۱۲؎

حالی نے سرسیّد کے گھرانے کی عورتوں کی تعلیمی استعداد اور علمی لیاقت کے متعلّق اطّلاع دیتے ہوئے اُن کی ذہنی اور فکری ساخت پر بھی کچھ اس طرح روشنی ڈالی ہے :

’’اُن کے خاندان کی فیملی سوسائٹی کی حالت بہ نسبت اکثر مسلمان خاندانوں کے بہت عمدہ تھی۔ اُن کے خاندان کی عورتوں سے میری اکثررشے دارعورتوں کو ملنے کا اتّفاق ہوا ہے جو اُن کے اخلاق دعا دات اور لیاقت اور سنجید گی کی حد سے زیادہ تعریف کرتی ہیں۔ خود سرسیّد نے ایجوکیشن کمیشن میں اور اپنی متعدّد اسپیچوں میں اپنے خاندان کی عورتوں کے لکھے پڑھے ہونے کا حال بیان کر کے اس خیال کی تردید کی ہے کہ مسلمان عورتیں عموماً جاہل ہوتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب’ مراۃ العروس‘ پہلی ہی بار چھپ کر شایع ہوئی تو جونقشہ اس میں عورتوں کی اخلاقی حالت کا کھینچا گیا تھا، اس کو دیکھ کر سرسیّد کو نہایت رنج ہوا تھا اور وہ اس کو مُسلمان شرفاکی زنانہ سوسایٹی پر ایک قسم کا اتّہام خیال کرتے تھے‘‘۔۱۳؎

حالی کی محولہ بالا دلیلوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرسیّد کو غالباً اس بات کا موقع نہیں مل سکا کہ وہ مسلمان عورتوں کی حالتِ زار اور تعلیمی پستی کا براہِ راست مطالعہ اور مشاہدہ کرتے۔ اپنے خاندان کی عورتوں کے تعلیمی رویّے اور استعداد کو غیر شعوری طور پر انھوں نے عام مسلم عورتوں پر منطبق کردیا تھا۔ اسی لیے بہ قولِ حالی سرسیّد نے ’’لڑکیوں کی تعلیم پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا یہاں تک کہ ان کو تعلیمِ نسواں کا مخالف تصّور کیا (گیا)‘‘۔۱۴؎حالی نے سرسیّد کے بچاو میں جو دلیلیں دی ہیں، وہ پہلی نظر میں دُرست معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کا تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دلیلیں مستحکم بنیادوں پر نہیں قائم کی گئی تھیں۔

ہمارا خیال ہے کہ سرسیّد کے متعلّقہ افکار کافی غوروفکر کے بعد، دنیوی مصلحتوں اور مجبوریوں کو پیشِ نظر رکھ کر مرتّب کیے گئے تھے۔ تعلیمِ نسواں پر سرسیّدکے اعتراضات اور ان کی منطق کا گوشوارہ تیار کیا جائے تو اس نتیجے تک پہنچنا دشوار نہیں ہوگا کہ وہ کیوں اور کن بنیادو ں پر عورتوں کی تعلیم اور علاحدہ شناخت کے تصّور سے متفق نہیں تھے:

٭                سرسیّد حکومت کو باربار خبردار کرتے ہیں کہ وہ مسلمان عورتوں کو تعلیم دینے کی غرض سے مدرسے اور اسکولوں میں انھیں بھیجنے کا کوئی طریقہ اختیار نہیں کرے۔ اس سے نقصان ہوگا اور گورنمنٹ کا پیسہ ضائع ہوگا۔

٭                سرسیّد یہ مانتے تھے کہ ’اس وقت تک جوحالت مسلمان عورتوں کی تھی، وہ خانگی خوشی کے واسطے کافی تھی۔‘

٭                عورتوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا دراصل اُن کی فطرت، رسوم اور رو ا یات سے غیر آہنگ کرناتھا اور اسے سرسیّد خدا کی حکمت سے انکار قراردیتے تھے۔

٭                سرسیّد کا خیال تھا کہ تعلیم سے بہرہ ور ہونے کے بعد مَردوں کا طبقہ اپنی عورتوں کے لیے مناسب تعلیم کا بندوبست خود ہی کرلے گا۔ اس لیے سارازورصرف مَردوں کی تعلیم پر صَرف کیا جانا چاہیے۔

٭                سرسیّد اس بات سے بہت ناخوش تھے کہ تعلیمِ نسواں پر اس قدربحث و تمحیص کیوں ہورہی ہے؟ ایجوکیشنل کانفرنس کے لاہور اجلاس میں انھوں نے اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا : ’’مجھ کو افسوس ہے کہ اس رزولیوشن کی نسبت جو  ایک نہایت سادہ طورپر تھا، ضرورت سے زیادہ بحث ہوئی۔‘‘

بہت سے پُرانے ذہنی تحفّظات کی پرچھائیں سرسیّد کی ان تاویلات میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ بات محّلِ نظر ہے کہ وہ کس طرح معاملات کو سامنے سے ہٹا کر پیچھے کی طرف ڈھکیل دیتے ہیں اور عورتوں کی حالت کو اطمینان بخش تصوّر کرلیتے ہیں۔ عورتوں کی تعلیم پر اعتراضات بالعموم اصولی نوعیت کے ہیں لیکن ان کے اطلاقی پہلو پر ان کی راے اور زیادہ سخت اور شدید ہے۔ سرسیّد یہ تو نہیں کہتے کہ عورتوں کو اَن پڑھ رہنے دیا جائے کیوں کہ یہ ان کے مجموعی مزاج اور اس عہد کی ذہنی نشاۃ الثانیہ کے خلاف ہوتا۔کچھ لوگ شاید اس کے مخالف بھی ہوجاتے۔ چناںچہ اپنے اعتراضات میں بھی ایک توازن کا انداز قائم رکھتے ہوئے انھوں نے تعلیمِ نسواں کی مخالفت کابیڑا اُٹھایا۔ عورتوں کو کیا پڑھایاجائے یعنی کہ کون سے مضامین اور موضوعات کا انتخاب کیا جائے، اس پروہ وضاحت کے ساتھ اپنے زاویۂ نظر پیش کر تے ہیں۔ یہاں ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اُس وقت سرسیّد مُسلمانوں میں مغربی تعلیم کے سب سے بڑے وکیل تسلیم کیے جاچکے تھے تاہم وہ عورتوں کو کیسی تعلیم دینا چاہتے تھے، اس سوال کا جواب انھی کے لفظوں میں ملاحظہ کیجیے :

’’اے میری بہنو! میں اپنی قوم کی خاتونوں کی تعلیم سے بے پروا نہیں ہوں۔ میں دل سے اُن کی ترقّیِ تعلیم کا خواہاں ہوں۔ مجھ کو جہاں تک مخالفت ہے، اس طریقۂ تعلیم سے ہے جس کے اختیار کرنے پر اس زمانے کے کوتاہ اندیش مائل ہیں۔ میں تمھیں نصیحت کرتاہوں کہ تم اپنا پُرا ناطریقۂ تعلیم اختیار کرنے پر کوشش کرو۔۔۔۔۔۔۔ میری یہ خواہش نہیں ہے کہ تم اُن مقدّس کتابوں کے بدلے جو تمھاری دادیاں نانیاں پڑھتی آئی ہیں، اس زمانے کی مروّجہ نامبارک کتابوں کا پڑھنا اختیار کرو جو اس زمانے میں پھیلتی جا تی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ پس اس زمانے کی نامفید اور نامبارک کتابوں کی تم کو کیا ضرورت ہے؟‘‘۱۵؎

ساتھ ساتھ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ فی الوقت کون کون سی چیزیں پڑھا نے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ ایجوکیشنل کانفرنس (۱۸۸۸) میں وہ فرماتے ہیں:

’’عورتوں کو جس قسم کے علوم پڑھائے جانے کا خیال پیدا ہوا ہے، اُس کو بھی میں پسند نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔ میں نہیں سمجھتا کہ عورتوں کو افریقہ اور امریکہ کا جغرافیہ سکھا نے اور الجبرا  اور ٹرگنامٹری کے قواعد بتانے اور احمدشاہ اور محمد شاہ اور مرہٹوں اور روہیلوں کی لڑائیوں کے قصّے پڑھا نے سے کیا نتیجہ ہے۔‘‘۱۶؎

سرسیّد یورپ میں عورتوں کی ترقّی اور بیداری نیزمردوں کے شانہ بہ شانہ جینے کے اطوار اور حقوق پر اصرار سے واقف تھے۔ مغربی طرزِزندگی میں عورتوں کے رول کو بھی وہ تحسین کی نظر سے دیکھتے تھے اور ہرمرحلے میں ہندستانی حالات سے ان کا موازنہ کرتے تھے۔ شاہدحسین رزّاقی نے مستوراتِ مغرب کے احوال واطوار پر سرسیّد کے افکار کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’ترقّی یافتہ ملکوں میں عورتوں کی بے پردگی کی جوآزادی ہے، اس سے سرسیّد متّفق نہیں لیکن وہاں مَردوں کے عورتوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور حُسنِ معاشرت اور تواضع اور خاطر داری اور محبّت اور پاسِ خاطر اور اُن کی آسایش وآرام کی طرف متوجّہ ہونا اور اُن کو ہرطرح خوش رکھنا اور بہ عوض اس کے کہ عورتوں کو اپنا خدمت گزار تصوّر کیا جائے، ان کو اپنا انیس اور جلیس اور رنج وراحت کا شریک اور اپنے کو اُن کی اور ان کو اپنی مسرّت اور تقویت کا باعث سمجھنا قابلِ تقلید خوبیاں تصوّر کرتے ہیں‘‘۔۱۷؎

گویا کہ سرسیّدایک انتہائی باریک بیں نگاہ رکھتے تھے۔ پھر بھی وہ ہندستانی عورتوں بالخصوص مسلمان عورتوں کو تعلیم کے نام پر دینیات میں شُدبُد سے زیادہ کچھ اور دینے پر رضامند نہیں تھے۔ انھوں نے یورپ اور امریکہ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا تھا:

’’یورپ کی اور امریکہ کی حالتِ معاشرت کے خیال سے شاید وہ علوم لڑکیوں کو سکھا نے ضرور ہوں کیوں کہ ممکن ہے کہ وہاں عورتیں پوسٹ ماسٹرز اورٹیلی گراف ماسٹرز یا پارلیامنٹ کی ممبر ہوسکیں لیکن ہندستان میں نہ وہ زمانہ ہے اور نہ سیکڑوں برس بعد بھی آنے والا ہے‘‘۔۱۸؎

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرسیّد جیسے بیدار مغز اور روشن خیال تعلیمی مفکّر نے عورتوں کی آیندہ ترقّیوں اور امکانات کی طرف سے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہندستان میں دوسری اقوام کی طرح مُسلمان عورتوں نے بھی تعلیم اور ترقّی کے شعبوں میں کچھ کم کامیابی حاصل نہیں کی۔ سرسیّد کے انتقال کے سَو سَوا سوبرس بعد اب کوئی دن کی بات ہے کہ ہندستانی پارلیمنٹ میں ایک تہائی جگہیں عورتوں کے لیے مخصوص ہونے ہی والی ہیں۔ سرسیّد وقت کے تقاضوں کا شعور رکھتے تھے لیکن اپنی روایات اور معاشرتی تحفّظات کے ہاتھوں شاید وہ کسی قدر مجبور بھی تھے۔ ایجو کیشن کمیشن کو انھوں نے یہ صلاح بھی دی تھی کہ اسے مزدوری پیشہ افراد کی تعلیم پر غور کرنے کی یکسر ضرورت نہیں۱۹؎۔ آج اُن کا یہ قول بھی ہمیں نئے سرے سے اُن کے تصوّرّات کے جائزے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ضرورہوا کہ سرسیّد کے بتائے راستوں سے ان کے بہت سارے رفقا نے خود کو الگ کرلیا اور علی گڑھ میں تعلیم ِنسواں کی تحریک شروع ہوگئی۔ سرسیّد کی رحلت کے اگلے سال ہی مسلم ایجو کیشنل کانفرنس نے ’’تعلیمِ نسواں‘‘ کا ایک مکمّل شعبہ قائم کرلیا اور شیخ عبداﷲ کو اس کا سکریٹری بنایاگیا۔ اسی سال (۱۸۹۹) یہ فیصلہ بھی ہوا کہ ہر صوبے کے صدرمقام میں لڑکیوں کے لیے ایک درس گاہ قائم کی جائے۔ سرسیّد کے اعتراضات کو پس ِپشت ڈال کر آخرکار مُسلم ایجوکیشنل کانفرنس نے ۱۹۰۰ میں یہ انقلاب آفریں تجویز منظور کرلی کہ ’’مسلمان لڑکیوں کی توسیعِ معلومات وترقّی تہذیب کے لیے ایسا سہل نصاب تیار کیا جائے جس میں دینیات کے علاوہ ابتدائی حساب، تاریخ، جغرافیہ، طبیعیات اور اخلاق کی تعلیم ہوں۔‘‘۲۰؎

غرضیکہ، سرسیّد کی عظیم الشان خدمات اور ان کے تصوّرات کی قدروقیمت کے اعتراف کے باوجود، ہمارا خیال ہے کہ تاریخ کے عمل اور انقلاب کی روشنی میں آج بھی ان کے محاسبے کی ضرورت ہے۔ سرسیّد کے بعد آنے والوں نے اُن کی روشن خیالی، دوربینی اور حقیقت شناسی سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس عرفان کا تقاضہ ہے کہ ان کی فکر کی حدود کو بھی سمجھاجائے۔ بالفرض مُسلم ایجوکیشنل کا نفرنس نے سرسیّد کے بعد بعض معاملات میں اُن سے الگ ایک راہ نکالنے کی جسارت نہ کی ہوتی تو آج ہندستان میں مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی حالت کیا ہوتی؟ مسلمان عورتوں کی تعلیم کا نقشہ کیا ہوتا؟ یہ سوالات ہمیں اپنے ماضی کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں۔

حوالہ جات

1.President Zakir Husain Speeches, Publications

Division, New Delhi 1974, P-56-1

۲-۳- اُردو ادب کی تنقیدی تاریخ ، سیّد احتشام حسین، ترقی اُردو بیورو، نئی دہلی ، ۱۹۸۸ئ ص: ۱۸۷۔

4.Sir Sayyid Ahmad Khan and Muslim Modernization, Hafeez Malik, Columbia, 1980, P-214

۵- حیاتِ جاوید، الطاف حسین حالی، ترقی اُردو بیورو، نئی دہلی، ۱۹۹۰ ، ص: ۲۴۰

۶- ایضاً ، ص: ۶۱۳

۷- مکمّل مجموعہ لکچرزواسپیچز (آف) سرسیّد ، مرتّبہ : مولوی امام الدین فضل الدین تاجرانِ کتب، لاہور ۹۰۰، ص: ۳۲۹

۸-۹- سرسیّد کی تعلیمی تحریک ، اخترالواسع، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی، ۱۹۸۵ ، ص: ۳۶

۱۰- مکّمل مجموعہ لکچرز ، ص: ۴۱۰

۱۱- Eight Lives : Raj Mohan Gandhi, Roli Books, Inter, New Delhi, 1986, pp 32-33

۱۲- حیات جادید ، ص: ۶۱۱

۱۳- ایضاً، ص: ۱۲-۶۱۱

۱۴- ایضاً ، ص: ۶۱۱

۱۵- ایضاً، ص: ۱۶-۶۱۴

۱۶- مکّمل مجموعہ لکچرز، ص: ۳۰- ۳۲۹

۱۷-  سرسیّد اور اصلاحِ معاشرہ، شاہدحسین رزاقی ، ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ، لاہور، طبعِ اوّل، ۱۹۶۳، ص ۱۷۵

۱۸- مکمّل مجموعہ لکچرز، ص: ۳۰- ۳۲۹

۱۹-  حیاتِ جاوید، ص: ۴۱-۲۴۰

۲۰-  سرسیّد کی تعلیمی تحریک ، ص:۶۶

[مطبوعہ جامعہ، نئی دہلی(سرسیّد نمبر) جولائی-دسمبر ۱۹۹۸]

 


 (مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگار کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

سرسیدصفدر امام قادری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مضامینِ سرسید کی معنوی آفاقیت -ڈاکٹر یوسف رامپوری
اگلی پوسٹ
شعبۂ اردو میں سر سید ڈے تقریبات کا آغاز

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں