Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقاتنصابی مواد

مضامینِ سرسید کی معنوی آفاقیت -ڈاکٹر یوسف رامپوری

by adbimiras اکتوبر 21, 2021
by adbimiras اکتوبر 21, 2021 1 comment

یوں تو بے شمار انسانوں کا ہجوم روئے زمین پر مختلف ادوار میں گردش کرتارہا ، لیکن جو ہستیاں لاتعداد انسانوں کے درمیان الگ ہی دکھائی دیتی اور پہچانی جاتی رہیں ، وہ ہرزمانے میں معدودے چند ہی رہی ہیں۔ایسی عظیم شخصیات میں ایک نام سرسید احمد خاں کا بھی ہے۔ جو انیسویں صدی کے افق پر مثل آفتاب وماہتاب نظرآئے۔ سرسید احمد خاں کا ایک امتیاز یہ ہے کہ ان کی ایک شخصیت میں متعدد جہات مجتمع تھیں۔ وہ مفکربھی تھے، مصلح بھی۔مورخ بھی تھے، مصنف بھی۔ معلم بھی تھے ، مدبّر بھی۔ ادیب وصحافی بھی تھے،بہترین قلمکار اورانشا پرداز بھی ۔ مسلمانوں کے بھی خیر خواہ تھے،اور تمام ہندوستانی قوموں کے بہی خواہ بھی۔ترقی کے خواہاں تھے تو اپنی تہذیب و معاشرت کے محافظ بھی۔جدیدیت کے علمبردار بھی تھے اوراپنے مذہب کے داعی ومبلغ بھی۔ غرض ان کی شخصیت میں کئی جہتیں اورصلاحیتیں جمع تھیں ۔ یہ ان کا کمال تھا کہ انھوں نے اپنی مختلف النوع صلاحیتوں سے اپنے عہد کے لوگوں کو بھی فیضیاب کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایسے نقوش چھوڑے جن پر چل کر وہ دور اور دیر تک کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہیں۔
سرسید احمد خاں نے جہاں عوام الناس کی فلاح وبہبود سے متعلق اپنے افکاروخیالات کی تبلیغ کے لیے ادارے کے قیام اور خطبات کا سہارا لیا ، وہیں انھوں نے کئی معرکۃ الآرا کتابیں بھی تصنیف کیں۔ اسی کے ساتھ انھوں نے مقالات اور مضامین کے سلسلے کو بھی جاری رکھا۔یہ سرسید احمدخاں کا انفراد ہے کہ انھوں نے جس راہ میں بھی قدم رکھا ، کامیابی حاصل کی۔جیساکہ انھوں نے نئی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ایک ادارے کی داغ بیل ڈالی تو وہ عہد بہ عہد ترقی کرتا چلا گیا ، پھر ایک ممتاز یونیورسٹی بن گیا جس کی ترقی کا سفر آج بھی جاری ہے۔ سرسید احمد خاں نے قلم اٹھایا تو کئی اہم کتابیں اپنے پیچھے چھوڑیں ، جن سے نہ صرف ان کے عہد کے لوگوں نے استفادہ کیا بلکہ آج بھی ان کی تصانیف سے فائدہ حاصل کرنے والوں کی بڑی تعداد ہے۔ایسے ہی انھوں نے مقالہ نویسی اور مضمون نویسی کی وادیوں میں قدم رکھا توان کی گہرائیوں کی پیمائش کرلی اور ان کے سارے نشیب وفراز سے گزرگئے ۔ایسے ایسے مضامین لکھے جن کی معنویت آج دوصدیوں کے بعد بھی قائم ہے۔ سرسید کے مضامین و مقالات کی دنیا اتنی وسیع ہے کہ اس میں بہت سے موضوعات اورعنوانات بسیرا کرتے ہیں،بہت سے مسائل آباد ہیں اور بہت سے رجحانات وتحریکات سکونت پذیر ہیں۔ انشا پردازی کی اتنی جہات اور تہیں بڑے بڑے نثرنگاروں وقلمکاروں کے یہاں بھی نہیں ملتیں۔ جیسا کہ علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں:
’’سرسید کی انشا پردازی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ہرقسم کے مختلف مضامین پر کچھ نہ کچھ بلکہ بہت لکھا ہے اور جس مضمون کو لکھا ہے، اس درجہ پر پہنچادیا ہے کہ اس سے بڑھ کر ناممکن ہے۔فارسی اور اردو میں بڑے بڑے شعرا ونثرنگار گزرے ہیں لیکن ان میں ایک بھی ایسا نہ تھا جو تمام قسم کے مضامین کا حق ادا کرسکتا۔فردوسی بزم میںرہ جاتاہے، سعدی رزم کے مردِ میدان ہیں۔ نظامی رزم وبزم دونوں کے استاد ہیں لیکن اخلاق کے کوچے سے آشنا نہیں۔ظہور ی صرف مزاحیہ نثر لکھ سکتا ہے۔برخلاف اس کے سرسید نے اخلاق ، معاشرت، پالیٹکس، مناظر قدرت وغیرہ وغیرہ سب پر لکھا ہے۔‘‘(مطالعہ سرسید احمد خاں، مرتب عبدالحق ،ایجوکیشنل بک ہائوس علی گڑھ، ص ۱۲، ۱۹۹۸)
سرسید احمد خاں نے مضامین کے ذریعہ اپنے خیالات کولوگوں کے دلوں میں اتارنے کی کوشش کی ہے، اس لیے انھوں نے مضامین کی عبارت کو مقفّٰی ومسجع اور بے جا استعارات وتلمیحات سے بوجھل نہیں کیا اور مضامین کی زبان کو سادہ رکھا ۔ مضامین کی تفہیم ان کے پیش نظر رہی تاکہ نہ صرف خواص بلکہ عوام بھی ان کو تفہیم تک رسائی حاصل کر سکیں۔ سرسید کے اس طرزِ نگارش سے دو فائدے ہوئے۔ایک یہ کہ وہ جو بات لوگوں کو سمجھانا چاہتے تھے، اس میں انھیں کامیابی ملی ۔ دوسرے اردو زبان کے فروغ کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ کیوںکہ اس سے پہلے اردومیں عبارت آرائی کا خاص اہتمام کیا جاتاتھا۔ ’نوطرز مرصع‘ اور ’ فسانہ عجائب ‘ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اگرچہ میر امن کی’ باغ وبہار‘جس کی زبان مذکورہ بالا دونوں داستانوں کی بہ نسبت بہت آسان تھی، خاصی مقبول ہوئی ،مگر مشکل وپُرپیچ زبان کا رواج پھر بھی جاری رہا ، اسی لیے تو ’باغ وبہار‘ کے پچیس سال کے بعد بھی ’فسانۂ عجائب‘ کو زبردست شہرت ملی۔لیکن سرسید احمد خاں نے جب آسان اردو لکھی تواس کا تتبع اس وقت کی کئی مشہور شخصیات نے کیا، پھر یہی رواج چل پڑا۔اس طرح اردو کے فروغ میں سرسید کے مضامین نے اہم کردار اداکیا۔سرسید خود اپنے مضمون ’’ ترقی علم انشا‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’جہاں تک ہم سے ہوسکا ہم نے اردو زبان کے علم ادب کی ترقی میں اپنے ان ناچیز پرچوں کے ذریعہ سے کوشش کی، مضمون کے ادا کا ایک سیدھا طریقہ اختیار کیا۔جہاں تک ہماری کج مج زبان نے یاری دی، الفاظ کی درستی، بول چال کی صفائی پر کوشش کی۔رنگینی عبارت سے جو تشبیہات اور استعاراتِ خیالی سے بھری ہوتی ہے اور جس کی شوکت صرف لفظوں ہی لفظوں میں رہتی ہے اور دل پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا، پرہیز کیا۔تک بندی سے جو اس زمانہ میں مقفی عبارت کہلاتی تھی، ہاتھ اٹھایا، جہاں تک ہوسکا ، سادگی عبارت پر توجہ کی، اس میں کوشش کی کہ جو کچھ لطف ہو، وہ صرف مضمون کے ادا میں ہوجو اپنے دل میں ہو وہی دوسرے کے دل میں پڑے تاکہ دل سے نکلے اور دل میں بیٹھے۔‘‘
طویل اور مدقق مضامین کو سادہ زبان میں اختصار کے ساتھ بیان کرنے کا فن سرسید کو بخوبی آتا تھا جس کا اعتراف شبلی نے بھی کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’زمانہ جانتاہے کہ مجھ کو سرسید کے مذہبی مسائل سے سخت اختلاف تھا اور میں ان کے بہت سے عقائد وخیالات کو بالکل غلط سمجھتا تھا ، تاہم اس سے مجھ کو کبھی انکار نہ ہوسکا کہ ان مسائل کو سرسید نے جس طرح اردو زبان میں اداکیا ہے، کوئی شخص کبھی ادا نہیں کرسکتا۔‘‘(مطالعۂ سرسیداحمدخاں، مرتب عبدالحق، ص ۱۲، ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ،۱۹۸۹)
آسان زبان کا یہ مطلب نہ نکالاجائے کہ سرسید احمد خاں کی زبان روکھی ،کھُردری ،سادہ اور سپاٹ تھی۔ ہر گزنہیں ، بلکہ ان کے مضامین کی زبان رواں ، سلیس اور پُرکشش تھی۔ پُرشکوہ الفاظ کو استعمال نہ کرکے عام فہم الفاظ کے ذریعہ جملوں میں کشش پیدا کرنا اور پھر انھیں یکے بعد دیگر ے خوبصورتی کے ساتھ مضمون کی لڑی میں پرونے کا فن سرسید احمد کو بخوبی آتا تھا۔جس کے سبب مقفی عبارت نہ ہونے کے باوجود زبان جاذب اور غنائیت سے پُرہوتی تھی۔ (یہ بھی پڑھیں سرسید کا اصول تفسیر اور شرحیات – ڈاکٹرمعیدالرحمن )

سرسید کے مضامین ومقالات ان گنت خوبیوں کو مجتمع ہیں۔مثلاً یہ کہ سرسید نے مضامین کے لیے بالعموم ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جو عوام الناس کے لیے اہمیت وافادیت کے حامل ہوتے ہیں،جو سماج کی اصلاح کا کام کرتے ہیں، نئی نسلوں کو بیدار کرتے ہیں، لوگوں کو احساسِ کمتری سے نکالتے ہیں،امن ومحبت کا پیغام دیتے ہیں، مستقبل کا کوئی لائحۂ عمل پیش کرتے ہیں وغیرہ ۔سرسید کے بعض مضامین کے عنوانات دیکھئے: علم، تعلیم وتربیت، عورتوں کے حقوق،کاہلی، اخلاق، ریا، مخالفت، خوشامد، بحث وتکرار، امید کی خوشی، اپنی مدد آپ ،تربیت اَطفال، آزادیٔ رائے،تہذیب، قومی اتفاق،خود غرضی اور قومی ہمدردی،رسم ورواج ، رسم ورواج کی پابندی کے نقصانات،نوروز، کارخانۂ قدرت، سرابِ حیات، ترقی علم انشا،ہمدردی ، تعصب،طریقۂ زندگی ، باہمی اتحاد وغیرہ۔یہ تمام موضوعات وہ ہیں جن پر قلم اٹھانا اُس وقت کی بھی اہم ضرورت تھی اور آج کی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سرسید کے مضامین تروتازہ ہیں اور وہ جس طرح گزشتہ دوسوسال کے درمیان کی نسلوں کے لیے مفید وکارآمد تھے ، عہدِ حاضر اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی موثر ثابت ہوتے رہیں گے۔ان موضوعات پر گہری نظرڈالی جائے تو ان سے اس بات کا بھی عندیہ ملتا ہے کہ مضمون نگاروں کو ایسے موضوعات کا ترجیحی طورپر انتخاب کرنا چاہئے جن کی عوام وخواص سب کو فی الواقع ضرورت ہو۔
سرسید احمد خاں کے مضامین کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ بالعموم اختصار سے کام لیتے ہیں۔ ان کے بہت سے مضامین چند صفحات پر مشتمل ہیں۔انہی چند صفحات میں وہ اپنی بات کو لوگوں تک پہنچادیتے ہیں۔یہ مہارت و فنکاری کی بات ہے کہ مضمون کو چند صفحات میں پورا کردیا جائے اور موضوع کے اہم گوشوں کا بھی احاطہ کرلیاجائے۔ مثال کے طورپر ان کے مضمون ’علم ‘ کو دیکھئے کہ موضوع بہت وسیع ہے، لیکن یہ مضمون چار صفحات پر مشتمل ہے۔ مضمون ’’تعلیم ‘‘بھی کتابی سائز کے ساڑھے پانچ صفحات پر مبنی ہے۔ مضمون ’’تعلیم وتربیت‘‘ چار صفحات کا ہے۔’’طریقۂ زندگی ‘‘ بھی اتنے ہی صفحات کا ہے۔یہی معاملہ مضمون’’ہمدردی‘‘ کے ساتھ بھی ہے۔ اور بھی بہت سے مضامین ایسے ہیں جو چار سے آٹھ صفحات پر مشتمل ہیں۔اس طرح سرسیدنے مختصر مضامین لکھ کراپنا بھی وقت بچایاہے اور قارئین کا بھی، البتہ جب بہت زیادہ مدلل ومحقق مضامین لکھنے کی ضرورت ہوئی، تو سرسید نے طویل مگر تحقیقی مضامین لکھ کر اس تقاضے کی بھی تکمیل کی۔
’تہذیب الاخلاق‘ اور’ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘کے صفحات پر سرسید نے ایسے عمدہ مضامین لکھے جن سے عوام وخواص سب کو روشنی ملی ، نئے قلم کاروںنے بھی ان سے بہت کچھ سیکھا اور پرانے قلم کاروں نے بھی استفادہ کیا، ان مضامین کے ذریعہ انھوں نے ہندوستانی قوم کو بیدار کیا اور ایک فکر عطاکی۔گزٹ میں سرسید کے مضامین کی بابت مندرجہ ذیل اقتباس دیکھئے:
’’اسی اخبار کے ذریعہ سرسید کبھی ہندوستانیوں کو سیاسی آداب سے آگاہ کرتے ہیں، کبھی مفید صحافت کے اصول بتاتے ہیں، کبھی ابدی اور ہنگامی قدروں کے آب ورنگ کو ظاہر کرتے ہیں اور گزٹ میں کبھی ان کا پیغمبرانہ اضطراب ہماری توجہ کا مرکز بنتاہے۔‘‘
(انتخاب مضامین علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ، سرسید احمد خان، مرتبہ، اصغر عباس ، ص ۱۱۔ ۱۹۸۲)
سرسید احمد خاں نے اپنے مضامین میں کتنی قیمتی باتیں کہی ہیں، کس طرح قوم وملت کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا ہے اور کس طرح انھیں جہالت کی تاریکیوں سے نکالنے کی سعی کی ہے ۔ اس سے آگہی کے لیے ہم سرسید کے بعض مضامین کے مختصر اِقتباسات پیش کرنا چاہیں گے ، تاکہ سامعین براہِ راست ان سے استفادہ کریں اور ان کے مضامین کی اہمیت ومعنویت کودورِ حاضر کے تناظر میں سمجھیں ۔
اپنے مضمون’’ باہمی اتحاد اور تعلیم‘‘ میں حب الوطنی اور قومیت کادرس دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اے ہندوئوں اور مسلمانو! کیا تم ہندوستان کے سوا اور ملک کے رہنے والے ہو، کیا اسی زمین پر تم دونوں نہیں بستے، کیا اسی زمین پر تم دفن نہیں ہوتے یا اسی زمین کے گھاٹ پر نہیں جلائے جاتے ہو، اسی پر مرتے ہو اور اسی پر جیتے ہو تو یاد رکھو کہ ہندو اور مسلمان ایک مذہبی لفظ ہے ، ورنہ ہندومسلم اور عیسائی بھی جو اسی ملک میں رہتے ہیں ، اس اعتبار سے سب ایک قوم ہیں۔‘‘(مطالعہ سرسید ، ص ۸۲)
یہ بات اگرچہ سرسید نے بہت پہلے کہی تھی لیکن آج بھی سرسید کا یہ درس معنویت کا حامل ہے اور آج بھی اس پر تمام ہندوستانیوں کو عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔اس سے نہ صرف ملک میں امن وامان قائم ہوگا، بلکہ ہندوستان کا مشترکہ کلچر بھی محفوظ رہے گااورملک دن بہ دن ترقی بھی کرتا جائے گا۔
سرسید احمد خاں کی معاشرے اور معاشرے کے افراد پر گہری نظر تھی ۔ وہ یہ جانتے تھے کہ لوگوں میں کیا برائیاں ہیں اور انھیں کس طرح دور کیاجاسکتاہے۔اس سلسلے میں ان کا مضمون ’’ ریا‘‘ بہت اہم ہے ، اس میں نہایت قیمتی باتیں کی گئی ہیں۔ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’دنیا میں ایسے لوگ بہت ہیں جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہوتا ہے۔دنیادار اور رندمشرب آدمی جس قدر کہ دراصل وہ بد ہیں ، اس سے زیادہ اپنے تئیں وہ بد بناتے ہیں۔دینداری کی بناوٹ کرنے والے جس قدر کہ ہوتے ہیں اس سے زیادہ نیک اپنے آپ کو جتلاتے ہیں۔۔۔۔اور یہ حضرت بے شمارگناہوں اور بدیوں کو ایک ظاہری دینداری کے پردے میں چھپاتے ہیں۔‘‘
سرسید نے عورتوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا بلکہ بھرپور انداز میںان کے حقوق کی بات کی ہے ۔انھیں بتایا ہے کہ ان کے حقوق کہاں محفوظ ہیں اور ہوسکتے ہیںاور کہاں وہ غیر محفوظ ہیں۔ اس بابت ان کا مضمون ’’عورتوںکے حقوق‘‘ پڑھنے کے لائق ہے۔انھوںنے لکھاہے:
’’ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر قدرومنزلت عورتوں کی مذہب اسلام میں کی گئی ہے اور ان کے حقوق اور ان کے اختیارات کو مردوں کے برابر کیا گیا ہے، اس قدر آج تک کسی تربیت یافتہ ملک میں نہیں ہوئی۔‘‘
سرسید کا یہ اقتباس آج کی عورت کی اس کشمکش کو ختم کردیتا ہے جواسے بے چین کیے ہوئے ہے۔ دورِ حاضر کی تہذیب خواتین کو نہ جانے کہاں کہاں لے جانا چاہتی ہے، لیکن سرسید نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ خواتین کو کہیں بھٹکنے کی ضرورت نہیں ہے ، اسلام میں ان کے حقوق اسلام میں محفوظ ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں سرسیداحمدخان:تعلیمی افکارکی معنویت- نایاب حسن )

سرسید کا مضمون ’’گزرا ہوا زمانہ‘‘ اس روئے زمین پر موجود بے شمارانسانوں کی زندگیوں کی سچی تصویر کھینچ کررکھ دیتاہے ۔اس مضمون کے ذریعہ سرسید نے ہر عمر کے لوگوں کو آئینہ دکھایا ہے اور بتایا ہے کہ اگر ان کی زندگی غفلت میں گزررہی ہے تو وہ ہوشیار ہوجائیں ، اپنے رویے کو تبدیل کریں اور وہ قیمتی پل جو انھیں قدرت کی جانب سے عطا کیے گئے ان کو قیمتی بنائیں تاکہ وہ سطحِ دنیا پر اپنی بعثت کے مقصدکی کسوٹی پر کھرے اتر سکیں۔مضمون ایسے پیرائے میں لکھا گیا ہے کہ قاری پر اثرانداز ہوتا ہے۔سرسید کے اس مضمون کا اسلوب تمثیلی ہے۔ اس مضمون میں ایک بوڑھے شخص کو اپنے ماضی میں مستغرق دکھایاگیا ہے۔بوڑھا اپنے بچپن کو یاد کرتا ہے، جوانی کو یاد کرتا ہے ،اپنے بیتے ہوئے خوشگوار لمحات کے بارے میں سوچتا ہے اور چاہتاہے کہ کاش وہ پیچھے کی طرف لوٹ جائے۔بچپن کو یاد کرتا ہے تو بے اختیار ہوجاتاہے اور سرسید کی زبان میں چلّااٹھتا ہے!’’ہائے وقت، ہائے وقت، ہائے گزرے ہوئے زمانے، افسوس کہ میں نے تجھے بہت دیر میں یادکیا۔‘‘ غفلت میں اپنی زندگی گزارنے کا اس بوڑھے شخص کو نہایت افسوس ہے۔ ڈروانی رات میں وہ چلّاتا ہوا کہتا ہے: ’’ہائے میری گزری ہوئی زندگی بھی ایسی ہی ڈرائونی ہے جیسی یہ رات۔‘‘(انتخاب مضامین سرسید، ص ۴۷)
اس مضمون کے بعض وہ جملے جو سرسید بوڑھے شخص سے ادا کرواتے ہیں ، عبرت کا درس دیتے ہیں۔جیسے ’’ہائے وقت نکل گیا، اب کیوں کر اس کا بدلہ ہو، ہائے وقت ہائے وقت میں نے تجھ کو کیوں کھودیا۔‘‘ ابتدا اور وسط میں مضمون پر قنوطیت اور یاسیت کی چھاپ ہے مگر سرسید مضمون کا اختتام نہایت ہی عمدہ اور حوصلہ افزا انداز میں کرتے ہیں جس کے سبب یاسیت ومایوسی کے اندھیروں سے ہی امید کی روشنی پھوٹنے لگتی ہے ۔دراصل یہ ایک بچہ کا خواب تھا جس میں وہ اپنے آپ کو بڑھاپے میں دیکھ رہا تھا اور عمرِ رفتہ اس کے سامنے تھی ۔آنکھ کھلتی ہے تو بچہ متنبہ ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اس طرح نہ بسرکرے کہ اخیرعمرمیں اسے یوں پچھتانا پڑے ۔مضمون کے آخر میں سرسید نئی نسل سے مخاطب ہیں :
’’پس اے میرے پیارے نوجوان ہموطنو! اور اے میری قوم کے بچو! اپنی قوم کی بھلائی پر کوشش کرو تاکہ اخیر وقت میں اس بڈھے کی طرح نہ پچھتاؤ۔ہمارا زمانہ تو اخیر ہے۔ اب خدا سے یہ دعاہے کہ کوئی نوجوان اٹھے اور اپنی قوم کی بھلائی میں کوشش کرے۔‘‘
سرسید احمد خاں انسان کو ایسے مقام پر دیکھنا چاہتے تھے جہاں وہ اپنی تعلیم، قابلیت ، جدوجہد،حوصلے اور سچائی سے اپنی دنیا کی تعمیرآپ کرے ، دوسروں کے کاندھوں پر سوار نہ ہو۔ انھوںنے اپنے کئی مضامین میں قوم کویہ سبق پڑھایاہے۔ مضمون ’’خوشامد‘‘  میں لکھتے ہیں:
’’دل کی جس قدر بیماریاں ہیں۔ان میں زیادہ مہلک خوشامد کا اچھا لگنا ہے۔‘‘
سرسید شاعروں اورادیبوں کو بھی خوددار دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کی آرزو تھی کہ شعرازمانے کی سچائیوں کو سامنے لائیں۔ اشعار کے قالب میں ایسی باتوں کو ڈھالیں جو عوام الناس کے لیے بہتر ہوں ۔سرسید کو ایسے شاعر پسند نہیں جو دوسروں کی خوشامد کرتے ہیں ۔ خوشامدی شعرا کے بارے میں سرسید کہتے ہیں:
’’ایشیا کے شاعروں میں ایک بڑا نقص یہ ہے کہ وہ اس بات کا خیال نہیں رکھتے بلکہ جس کی تعریف کرتے ہیں، اس کے اوصاف ایسے جھوٹے اور ناممکن بیان کرتے ہیں جن کے سبب سے وہ تعریف نہیں رہتی بلکہ فرضی خیالات ہوجاتے ہیں۔‘‘
بہت سے قصیدہ نگاروں نے اپنے ممدوحین کی مدح میں ایسی ایسی خوبیاں بیان کیں ، جو دراصل ان میں تھی ہیں نہیں۔ سرسید ایسی تعریف سے بیزار تھے اور اسے پسند نہ کرتے تھے ۔وہ شاعری کے ذریعہ اصلاحی ، فکری اور مختلف النوع ضروری کام لینے کے خواہشمند تھے جیسا کہ انھوں نے حالی سے مسد س لکھوائی جس پر سرسید کو بڑا اطمینان حاصل ہوا۔
بہر کیف سرسید کے مضامین و مقالات آج بھی تروتازہ ہیں جیسا کہ امیر خسروکے کلام کے بارے میں کسی نے کہاہے ’’شیریں وتازہ ہے نغمۂ خسرو‘‘ ۔یہی بات سرسید کے مضامین پر بھی صادق آتی ہے کہ ’’شیریں وتازہ ہیں مضامین سرسید‘‘ ۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

سرسیدسرسید احمد خانیوسف رامپوری
1 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
فارسی اور اردو اشعار میں موضوعاتی تشابہ اور تراجم – پروفیسر اخلاق آہن
اگلی پوسٹ
سرسیّد کے تعلیمی تحفّظات : عورتوں کی تعلیم کے خصوصی حوالے سے – ڈاکٹر صفدرا مام قادری

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

1 comment

سرسید ؒ اور اقبال (اشتراک و اختلاف کے مسائل) - محمد یاسین گنائی - Adbi Miras اکتوبر 22, 2021 - 10:15 صبح

[…] متفرقات […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں