سرسید کی تفسیر اور اصول تفسیر اپنے مفہوم اور طریقۂ کار کے سبب علمی و دینی حلقوں میں متنازع فیہ رہے ہیں۔ تفسیر سرسید کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ اس میں منشاء الٰہی کے خلاف مطالب برآمد کیے گئے ہیں۔ اس میں تعقل کی بنیاد پر خارقِ عادت واقعات کا انکار کیا گیا ہے۔ تشریح و تفہیم میں ایسے اصول بروئے کار لائے گئے ہیں جو دیگر مفسرین سے مماثلت نہیں رکھتے ہیں۔ تفسیر سرسید پر یہ اعتراض بھی وارد کیا گیا ہے کہ اس میں سیاق و سباق کا لحاظ نہیں رکھا گیا ہے۔
قرآن کی دیگر تفسیروں اور سرسید کی تفسیر میں معنوی اختلافات کے باعث ان سوالات کا پیدا ہونا فطری امر ہے کہ ایک ہی متن سے مختلف معنی کیسے متبادر ہوسکتے ہیں۔ معنی کے تعین میں منشائے مصنف کی اہمیت ہوتی ہے یا نہیں۔ معنی کے تعین میں کیا دشواریاں پیش آتی ہیں۔ درست معنی تک رسائی کیسے ممکن ہے۔ معنی کے تعین میں سیاق و سباق یا شان نزول کس قدر موثر ہوتا ہے۔ تعین معنی کے عمل میں زبان کی مجازی اور تمثیلی خصوصیت کس طرح حارج ہوتی ہے۔ معنی کے عدم تعین کی کیفیت درست ہے یا نادرست۔ کیا اخذ معنی پر تشکیل معنی کے مختلف اصولوں کے استعمال سے مختلف معنی وجود میں آسکتے ہیں۔ تعین معنی کے عمل میں زمان و مکان کا تناظر کس قدر دخل انداز ہوتا ہے۔ یہ سوالات مزید پیچیدگی اختیار کرلیتے ہیں جب کہ یہ کسی مذہبی متن کے مطالعہ سے وابستہ ہوں۔
قرآنی نصوص سے وہی معنی مراد لیے جائیں جو منشاء الٰہی ہے۔ اس تصور کی روشنی میں سرسید کا مطالعہ اخذ معنی کے اصول سے متعلق متعدد مباحث کو فروغ دیتا ہے۔ ایک خط میں محسن الملک سرسید کو ان کی تفسیر کے متعلق لکھتے ہیں:
’’اب تک آپ کی رایوں سے اتفاق نہیں کرتا اور ہر بحث میں اسے قرآن کی وہ تفسیر جس کو کوئی قرآن کے مطالب کی تشریح اور تفصیل اور تفسیر نہیں سمجھتا، بلکہ اکثر جگہ تفسیر کو تفسیر القول بما لا یرضی بہ قائلہ تصور کرتا ہوں۔‘‘ (مکاتبات الخلان فی اصول تفسیر وعلوم القرآن، ص: ۱۹)
سرسید اس خط کے جواب میں تحریر کرتے ہیں:
’’آپ نے اس خط میں لکھا ہے کہ اکثر جگہ تفسیر کو تفسیر القول بما لا یرضی بہ قائلہ (کسی قول کی ایسی تفسیر کرنا جو اس کے قائل کا مقصد نہ ہو) تصور کرتا ہوں۔ یقینی آپ کے پاس خدا کی بھیجی ہوئی وحی تو آئی نہیں جس سے آپ کو ثابت ہوا ہو کہ اس قول سے مرضی قائل یعنی خدا کی یہ نہیں ہے۔ بس ضرور ہے کہ کوئی اور ذریعہ آپ کے پاس ہے، جس کی وجہ سے آپ نے تفسیر کے مقالات کو مالایرضی بہ قائلہ قرار دیا ہے۔‘‘ (ایضاً)
سرسید آگے جواب میں تحریر کرتے ہیں:
’’میں نے بہت سوچا کہ وہ ذریعہ آپ کے پاس کیا ہے اور وہ ذریعے دو معلوم ہوئے اوّل بچپن کی تربیت۔ بچپن سے باتوں کو سنتے سنتے ان کا نقش کالحجر دل میں ہوجاتا ہے، جس کا مٹانا بہت ہی زبردست دل اور نہایت ہی قوت ایمانیہ کا اور بہت ہی غور و فکر کا کام ہے۔ دوسرا ذریعہ جو پہلے ذریعہ کا شعبہ ہے، مگر اس پہلے کو نہایت قوی اور مضبوط کرنے والا ہے، وہ علماء کے اقوال اور تفاسیر کے مندرجہ رطب و یابس روایتیں اور قصے ہیں۔‘‘ (مکاتبات الخلان، ص: ۳)
محسن الملک تفسیر سرسید پر مزید اعتراض وارد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’نہ سیاق کلام نہ الفاظ قرآنی نہ محاورات عرب سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگر آپ میرے اس شبہ کو کسی طرح دور کرسکیں تو مجھے ایسے خوشی ہو کہ کسی اور چیز سے نہ ہو۔‘‘
(مکاتبات الخلان، ص:۲)
سرسید اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’اگر آپ میری تفسیر کے کسی مقام کو خلاف سیاق کلام (اگرچہ مجھ کو نہایت شبہ ہے کہ تم اس بات کو سمجھے بھی ہو کہ قرآن مجید کا سیاق کلام کیا ہے اور کس طور پر ہے) اور خلاف الفاظ قرآن اور خلاف محاورہ عرب جاہلیت ثابت کردو تو میں اسی وقت اپنی غلطی کا مقر ہوجائوں گا مگر مجاز و حقیقت میں یا استعارہ و کنایہ یا خطابیات میں بحث مت کرنا، کیوں کہ جیسا تم کو کسی لفظ کے حقیقی یا لغوی معنی لینے کا حق ہے ویسا ہی مجھ کو اس کے مجازی معنی لینے یا استعارہ یا کنایہ یا از قسم خطابیات قرار دینے کا حق ہے۔‘‘ (مکاتبات الخلان، ص: ۵)
سرسید اور محسن الملک کے مکالمہ سے متعدد نکات مترشح ہوتے ہیں۔ سرسید قرآنی متن کو تشکیل معنی کے ضمن میں اوّلیت دینے کے قائل ہیں۔ وہ منشائے الٰہی کی تفہیم کے لیے نص قرآنی ہی کو اوّل و آخر ذریعہ قرار دینے پر اصرار کرتے ہیں۔ منشائے الٰہی اور احکام الٰہی کی تفہیم کے لیے نص قرآنی کے علاوہ دیگر روایتوں اور اساطیر کو ناقابل اعتنا تصور کرتے ہیں۔ سرسیّد جب اپنی تفسیر کو خلاف سیاق قرار دینے کی تردید کرتے ہیں تو وہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ زبان اپنا سیاق خود فراہم کرتی ہے جو اس کے جملوں کے دروبست، لہجہ اور رموز اوقاف سے خودبخود نموپذیر ہوتا ہے اور جہاں تک معاملہ ہے سرسید کے اس جملہ کا کہ ’’تم کو کسی لفظ کے حقیقی یا لغوی معنی لینے کا حق ہے ویسا ہی مجھ کو اس کے مجازی معنی لینے یا استعارہ یا کنایہ یا از قسم خطابیات قرار دینے کا حق ہے تو یہ جملہ بحث کا متقاضی ہے۔‘‘ شلائر ماخر کا کہنا ہے کہ Everything presupposed in hermeneutics is but language.
شرح معنی کے سلسلے میں زبان ہی کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، اس کے علاوہ باقی عوامل یعنی منشائے مصنف اور اس کا عہد سب مفروضات ہوتے ہیں۔ سرسید جب مافوق الفطرت معجزات کے قرآن میں موجود نہ ہونے کی دلیل فراہم کرتے ہیں تو وہ زبان ہی کو بنیاد بناکر اپنی دلیل قائم کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’جو آیت قرآن مجید کی آپ پیش کرتے ہیں اور اس سے معجزات مافوق الفطرت پر استدلال فرماتے ہیں، آیا اس کے کوئی دوسرے معنی بھی ایسے ہیں جو موافق زبان و کلام عرب کے اور موافق محاورات اور استعمالات اور استعارات قرآن مجید کے ہوسکتے ہیں۔ اگر نہ ہوسکتے ہوں تو ہم قبول کریں گے کہ ہمارا یہ اصول غلط ہے اور اگر ہوسکتے ہیں تو ہم نہایت ادب سے عرض کریں گے کہ آپ اس بات کو ثابت نہیں کرسکے کہ قرآن مجید میں معجزات مافوق الفطرت موجود ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں مفسرین کے اقوال پیش کریں یا یہ کہیں کہ تیرہ سو برس سے کسی نے صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین یا علمائے مجتہدین و مفسرین نے یہ معنی نہیں کہے بلکہ خدا بھی یہ معنی نہیں سمجھا جو تم کہتے ہو تو ہم ادب سے عرض کریں گے کہ اس دلیل سے ہم کو معاف رکھیے۔‘‘ (تفسیر القرآن، مقدمہ، ج۱، ص ۱۰)
سرسید نے ۱۸۷۶ء میں تفسیر القرآن لکھنے کا آغاز کردیا تھا اور ۱۸۹۲ء میں انھوں نے اصول تفسیر رقم کیا۔ سرسید نے اس عہد میں منشائے الٰہی کے تصور کی تردید کی، جس کی رو سے مذہب سے وابستہ تمام رطب و یابس تصورات کو تعین معنی میں دخیل قرار دیا جاتا تھا۔
اگر اسی جگہ تھوڑی دیر رک کر منشائے مصنف کے ضمن میں مغرب میں ہونے والی بحث پر طائرانہ نظر ڈال لی جائے اور اس کے عہد کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو سرسید کی شرحیاتی بصیرت کی داد نہ دینا ظلم ہوگا۔ (یہ بھی پڑھیں سرسید احمد خان اور تہذیب الاخلاق- ڈاکٹر نوشاد منظر )
مغرب میں ای ڈی ہرش تعین معنی میں منشائے مصنف کی اہمیت کا قائل ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ اگر متن کو منشائے مصنف کے حوالے کے بغیر پڑھا گیا تو کسی حتمی معنی تک پہنچنا دشوار ہوگا۔
ہیڈگر اور گیڈمر کا عندیہ یہ ہے کہ تعین معنی کے عمل میں منشائے مصنف کی اہمیت نہیں ہے۔ یہ کام تو قاری کا ہے جو اپنے عہد اور اپنے تجربے کی روشنی میں متن کی تفہیم و تشریح کرتا ہے۔
سرسید نے قرآن آیتوں کی تشریح کے لیے درج ذیل اصول وضع کیے ہیں، وہ لکھتے ہیں:
ہر ایک کلام کے معنی قرار دینے میں وہ کلام کسی کا ہو، خواہ خدا کا ہو یا انسان کا، مندرجہ ذیل باتوں کا محقق ہونا ضروری ہے:
(۱) جس لفظ کے جو معنی قرار دیے گئے ہیں، اس کی نسبت جاننا چاہیے کہ وہ لفظ انھیں معنوں میں وضع کیا گیا ہے۔
(۲) اس بات کا قرار دینا کہ جن معنوں میں وہ لفظ وضع کیا گیا تھا ان معنوں سے کسی دوسرے معنوں میں مستعمل نہیں ہوا ہے۔
(۳) اگر وہ لفظ مشترک المعنی ہے تو اس بات کا قرار دینا لازم ہے کہ وہ ان مشترک معنوں میں سے کس معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ ضمائر جن کا مرجع مختلف ہوسکتا ہو وہ بھی الفاظ مشترک المعنی میں داخل ہیں۔
(۴) اس بات کو قرار دینا ضروری ہے کہ وہ ان اصلی معنوں میں بولا گیا ہے جو اس سے متبادر ہوتے ہیں یا مجازی معنوں میں۔
(۵) اس بات کو قرار دینا کہ اس کلام میں کوئی شئے مضمر ہے یا نہیں۔
(۶) اس بات کو قرار دینا ضرور ہے کہ جن معنوں پر وہ لفظ دلالت کرتا ہے اس میں کوئی تخصیص بھی ہے یا نہیں۔
(۷) یہ بات دیکھنی لازم ہے کہ جو معنی اس لفظ کے قرار دیے گئے ہیں اس پر کوئی عقلی معارضہ بھی ہے یا نہیں۔ اگر ہے وہ معنی اس کے صحیح نہ ہوں گے۔
(تفسیر القرآن، مقدمہ، ص۱۵)
سرسید نے قرآن کی تفسیر کے لیے جو اصول قائم کیے تھے ان کا مقصود قرآن کو اپنے عہد کے لوگوں کے لیے بامعنی بنانا تھا۔ تشکیل معنی کے لیے روایتی طریقوں کے برعکس اصول اختیار کرکے جدید ذہنوں کا وہ قرآن سے رابطہ استوار کرنا چاہتے تھے۔
گیڈمر اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ Hermeneutics صرف درست تشریح کے لیے اصول و ضوابط وضع کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ ان اصولوں کی دریافت کا نام ہے، جس کے ذریعہ قدیم متن سے ہم اپنے عہد میں مکالمہ قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ گیڈمر لکھتا ہے:
"In the form of writing, all tradition is contemporaneous with each present time. Moreover, it involves a unique co-existence of past and present, in so far as present consiousness has the possibility of a free access to every thing handed down in writing.” (Truth and Method, P. 391)
سرسید اپنی تفسیر کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ میں نے یہ تفسیر عیسائیوں اور غیرمسلموں کے لیے لکھی ہے نہ کہ مسلمانوں کے لیے۔ انھوں نے یہ تفسیر ان لوگوں کے لیے لکھی جو عقل کی روشنی میں اسلامی عقائد کو ثابت کرنے کے خواہاں تھے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ عقل کس حد تک عقائد کی تفہیم میں کامیاب ہوسکتی ہے۔
محسن الملک حیدرآباد دکن سے ۱۹؍ستمبر ۱۸۹۲ء کو سرسید کے نام ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’مگر بایں ہمہ آپ یہ خیال نہ فرماویں کہ میں اس ضرورت سے بے خبر ہوں جس نے آپ کو تفسیر لکھنے پر مجبور کیا یا مذہب اور علم کی اس لڑائی سے ناواقف ہوں جو نہایت زور و شور سے اس زمانے میں ہورہی ہے یا میں علم کے حملے کو خفیف سمجھتا ہوں، جو وہ نئے ڈھنگ سے اور نوایجاد ہتھیاروں سے مذہب پر کررہا ہے۔‘‘ (مقالات سرسید، حصہ دوم، ص ۲۱۷)
سرسید نے یہ تفسیر مذہب اور سائنس کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لیے لکھی تھی۔ ورڈ آف گارڈ اور ورک آف گارڈ کے درمیان کے ظاہری تضاد کو ختم کرنے کے لیے انھوں نے عقل کو ایک رہنما اصول قرار دیا تھا۔
سرسید تشکیل معنی کے نئے اصول و ضوابط وضع کرکے اور انھیں بروئے کار لاکر قرآنی آیتوں سے قانون فطرت کا استنباط کرنا چاہتے تھے۔ سرسید اس کائنات کی بنیاد قانون فطرت کو قرار دیتے ہیں۔ قانون فطرت کے متعلق وہ لکھتے ہیں:
’’یہ کائنات قانون فطرت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ پہلا قولی وعدہ ہے اور قانون فطرت عملی وعدہ۔ اس قانون فطرت میں بہت کچھ خدا نے ہم کو بتایا ہے اور بہت کچھ انسان نے دریافت کیا ہے، گو کہ انسان کو ابھی بہت کچھ دریافت نہ ہوا ہو اور کیا عجب ہے کہ بہت کچھ دریافت نہ ہو، مگر جس قدر دریافت ہوا ہے وہ بلاشبہ خدا کا عملی وعدہ ہے، جس سے تخلف قولی وعدہ کی تخلف کے مساوی ہے جو کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘ (تفسیر القرآن، مقدمہ ص ۶)
سرسید نے زن و مرد کے ملاپ سے بچہ کے وجود میں آنے، سورج اور چاند کے اپنے اپنے مدار پر چلنے، سورج کے مشرق سے نکلنے اور مغرب میں ڈوبنے اور آگ کے جلانے کو قانون فطرت قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس رونما ہونے والے واقعات کو اللہ کے قولی وعدہ اور فعلی وعدہ میں تخلف قرار دیا ہے۔
سرسید کی تفسیر اور اصول تفسیر کے ذریعہ یہ علمی انقلاب برپا ہوا کہ مذہب اور سائنس کے درمیان کی خلیج ختم ہوگئی۔ مذہب پر عقلیت پسندی کے زیراثر حملوں کی رفتار مدھم پڑگئی۔ قرآن کو ہر عہد کے مسائل کے لیے نسخۂ کیمیا سمجھا جانے لگا۔ مختلف علوم کی روشنی میں قرآنی مطالعات کی داغ بیل جو عہد عباسی میں معتزلہ، اشاعرہ کے ذریعہ ڈالی گئی تھی اس کا احیاء ہوا۔ اسے تفسیر سرسید کے عظیم کارنامے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
تفسیر سرسید کی ان تمام کامیابیوں کے باوجود ان تعبیری غلطیوں سے صرف نظر ناممکن ہے، جس میں انھوں نے فرشتوں کے وجود کی عقلی تاویل کی، معجزات کو ورڈ آف گارڈ اور ورک آف گارڈ میں تخلف قرار دیا۔ اس طرح کی متعدد مثالیں ہیں جو تفسیر سرسید میں موجود ہیں۔ ان مثالوں کے علاوہ یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ سرسید نے بعض مقامات پر محاورہ عرب کے خلاف معنی پر اصرار کیا۔ الفاظ کے متروک معنی کو قبول کیا جس سے کوئی نتیجہ خیز معنی کا بھی امکان نظر نہیں آتا ہے۔ انھوں نے سورۃ الفیل میں وأرسل علیھم طیراً أبابیل کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ ’’اور بھیجے ان پر وبالوں کے غول۔‘‘ (مقالات سرسید، ج۲، ص ۱۱۷) جو عربی زبان کی رو سے غلط ہے۔ اسی طرح انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے والے واقعہ سے صرف اس قانون فطرت کا استنباط کیا کہ آگ میں جلانے کی صفت ہے، لیکن اسی میں آگے کی آیت فانجاہ اللہ من النار کہ اللہ نے انھیں آگ سے بچالیا، پر توجہ نہیں دی۔ اللہ آگ سے بچانے پر بھی قادر ہے۔ اللہ کے حکم سے آگ کے جلانے کی صفت ختم بھی ہوسکتی ہے۔ اس پر غور نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے قانون علت کے اصول پر اس سے ضرب پڑتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں افکارِسرسید کی معنویت- ڈاکٹر ابراررحمانی )
سرسید کی تفسیر اور اصول تفسیر سے اختلافات کے باوجود مذکورہ معروضات کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ سرسید کے اصول تفسیر اس قدر دوررس اور لسانیاتی بصیرت سے مملو ہیں کہ اس کی گونج شرحیات کے ماہرین کے اصولوں میں محسوس کی جاسکتی ہے۔ اسے محض اتفاق کہہ کر نہیں ٹالا جاسکتا بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اخذ معنی کے اصول، تشکیل معنی کے رموز، زبان کی ساخت، زبان کی استعاراتی اور تمثیلی نزاکتوں اور حقیقت کی تشکیل میں زبان کے کردار سے سرسید بطرز احسن واقف تھے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

