۱۸۵۷ءکی پہلی جنگ آزادی کے بعد مسلمانان ہند پر جو ظلم وستم توڑے گئے وہ ہم سوچ ہی نہیں سکتے جو لوگ ملک کے حاکم تھے ان کو سب سے زیادہ انگریزوں کے جور و ستم کو برداشت کرنا پڑا جس کا سب سے زیادہ اثر مسلمانان ہند کے تعلیمی مراکز پر پڑا۔ علمائے ہند نے جنگ آزادی کی جد وجہد کا بگل بجا رکھا تھا اور مکاتب میں مجاہدین آزادی کی تربیت بھی ہوتی تھی اور سب سے زیادہ قربانی بھی علمائے ہند نے دی دہلی و اطراف میں ہر طرف پیڑوں پر مسلم علماء کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا۔جس کے سبب مسلمان تعلیمی میدان میں پیچھے ہو گئے ۔ان کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے جہاں ایک طرف جنگ آزادی میں ناکام ہونے کے بعد علماءکی ایک جماعت نے دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس کی بنیاد رکھی اور مذہبی تعلیم سے آراستہ کرنا شروع کیا وہیں دوسری طرف سماجی اور تعلیم یافتہ لوگوں نے مسلمانان ہند کی جدید تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کوششیں کرنی شروع کی جس میں سرکردہ کردار سر سیداحمد خاں نے ادا کیا جن کے بارے میں جناب عبید الرحمن صدیقی لکھتے ہیں ’’سر سید احمد خان جن کا سب سے بڑا کام علوم جدیدہ کی تحصیل کا تعلیمی وعملی اقدام تھا ۔۱۸۶۴ء میں غازی پور کے مدرسہ ملکہ وکٹوریہ کی سنگ بنیاد سے قبل ۱۸۵۹ء میں سر سید احمد نے مرادآباد میں ایک فارسی مدرسہ کھول کر تعلیم کے عملی میدا ن میں قدم رکھا تھا۔‘‘ (غازی پور سر سید احمدخاں کے پس منظر میں،ص۱۵۳،مطبوعہ ۲۰۱۷ء،پبلیکیشن ڈیپارمنٹ،علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی) اس کے بعد ۱۸۷۵ء میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھی جس نے ۱۹۲۰ء میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی شکل میں تعلیمی میدان میں اپنی پہچان بنائی اور مسلمانان ہند کی جدید تعلیمی ضروت کو پورا کیا اور ان کے لئے مرکزی ادارے کی شکل اختیار کی جس سے آج بھی عام مسلم ہندوستانی ایک عقیدت رکھتا ہے اور اپنے بچوں کو وہاں تعلیم حاصل کرنے کو لیکر ایک خواب ہمیشہ ان کی آنکھوں میں ہوتا ہے کہ کس طرح ان کے گھر کے بچے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کریں اور ملک وبیرون ملک میں اپنا او ر ان کا نام روشن کرے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بہرائچ کا تعلق اس کے شروعاتی دور سےرہا ہے۔ بہرائچ کے علیگ حضرات حکومت کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہوئے، یونیورسٹی کے وائس چانسلر،وہاں کی انتظامیہ میں کورٹ ممبر بھی رہے۔قومی اقلیتی کمیشن کے صدر رہے،متعدد ممالک میں ہندوستانی حکومت کے سفیر رہے،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر اور نائب صدر ،طلبہ کورٹ کے ممبر اور وہاں کے پروفیسر تک رہے۔ ڈسٹرکٹ بورڈ اور میونسپل بورڈ کے صدر رہے۔شہر کے نامور وکیل رہے۔شہر کے مشہور تاجر ہوئے۔اسلامیات اور اردو کے ریسرچ اسکالرس ہوئے۔ہمیشہ ملی و قومی خدمات میں آگے بڑھے ۔ اس کے علاوہ بہرائچ کے علاقہ مہسی کے میگلا گاؤں میں ۴۱ ؍بگھہ ۱۳؍ بسوا زمین علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ایک ہندو زمیندار چودھری سنت رام نے ۱۹۵۴ء میں عطیہ کی تھی۔زمیندار چودھری سنت رام نے اپنی تمام جائیداد کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے درمیان برابر برابر عطیہ کی تھی۔ (یہ بھی پڑھیں سرسید کی فکری اساس اور اس کے عصری تقاضے- ڈاکٹرعبد الرزاق زیادی )
بانی جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ و آزاد انٹر کالج بہرائچ سابق ممبر اسمبلی سابق صدر صوبائی حج کمیٹی حضرت مولانا محفوظ الرحمن نامی رحمتہ اللہ علیہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کورٹ ممبر رہے دارالعلوم دیوبند کی جانب سے ۱۳۵۹ہجری(۱۹۴۰ء) میں۔
بہرائچ کے مشہور وکیل و ملی رہنما منظور حسن علیگ (۱۸۹۴ء-۱۹۸۴ء)(ڈسٹرکٹ بورڈ اور میونسپل بورڈ بہرائچ کے صدر رہے ۱۹۳۰ءسے ۱۹۴۰ء کے درمیان ) جنکی کوٹھی آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ شہر میں "فیض منزل”کے نام سے مشہورو معروف ہے ۔
نامور وکیل اور ملی رہنما سید محمود حسن علیگ(۱۹۰۳ء-۱۹۷۵ء)جو شہر کے تمام اداروں کے صدر و منیجر رہے۔مرحوم اپنے آپ میں ایک انجمن تھے، وہ صرف وکیل ہی نہیں بلکہ عالم دین اور سیاست دان بھی تھے۔مصنف’’ قرآن کریم کی بیسک ریڈر‘‘ ،بانی رکن دینی تعلیمی کونسل، صدر مسلم لیگ بہرائچ۔ پروفیسر طاہر محمود صاحب کے والد۔آپ کی کوٹھی محمود حسن ہاؤس ( موجودہ زکوۃ ہاؤس) اب بھی موجود ہے۔
مشہور شاعر ساغرمہدی کے ماموں سیّد ہدایت حسین زیدی بھی علیگ تھے۔
سید ساغر مہدی (۱۹۳۶ء-۱۹۸۰ء)نے بھی بی اے کی سند علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے۔ فاصلاتی تعلیم کے ذریعے حاصل کی تھی۔
پروفیسر جمیل صدیقی ( پروفیسر ریاضی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی, ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ 1966-1956)
پروفیسر مصطفیٰ علی خاں (پروفیسر قانون علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) جو سابق طالب علم آزاد انٹر کالج بہرائچ تھے۔
پروفیسر سید اطہر حسین رضوی (متوفی ۱۹۹۵ء)( ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ مکینیکل انجینئرنگ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ۱۹۹۳ء-۱۹۹۵ء)
محترم جنرل ضمیر الدین شاہ صاحب سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ولادت بھی بہرائچ میں ہوئی تھی۔اس کا اعتراف خود جنرل صاحب نے بہرائچ کے ایک مشہور و معروف ڈاکٹر صاحب سے کیا تھا ۔آپ پڑوسی ضلع بارہ بنکی کے اصل باشندے ہیں۔
بیگ برادرس
ڈاکٹر ہدایت اللہ بیگ ( فرزند مجاہد آزادی حضرت مولانا سلامت اللہ بیگ سابق صدر المدرسین جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ) مقیم حال خلیل آباد ۔
پروفیسر حمایت اللہ بیگ پروفیسر انجیرنگ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،پرنسپل انجمن انجیرنگ کالج بنگلور،ڈپٹی دائرکٹر آزاد انجیرنگ کالج لکھنؤ۔
ڈاکٹر عنایت اللہ بیگ
محمود برادران :
سیّد طاہر محمود (ولادت لکھنؤ1941) -(ابتدائ تعلیم آزاد کالج اور گورنمنٹ کالج بہرائچ، اعلیٰ تعلیم علیگڑھ اور لندن، دہلی یونورسٹی میں شعبہ قانون کے ڈین، قومی اقلیتی کمیشن کے چیرمین اور،لا کمیشن آف انڈیا کے رکن ، 40 کتابوں کے مصنف، اب ایمیٹی یونیورسٹی میں اعلیٰ عہدے پر فائز )
سید خالد محمود ( ولادت لکھنؤ 1943) ، ابتدائی تعلیم گورنمنٹ کالج بہرائچ، اعلیٰ تعلیم علیگڑھ۔ پروفیسر شعبہ نباتات، ترپھون یونورسٹی کیمپس نیپال گنج، بانی سرپرست اردو محفل بہرائچ۔
سید ناصر محمود( ولادت بہرائچ 1947) ابتدائی تعلیم گورنمنٹ کالج بہرائچ، اعلیٰ تعلیم علیگڑھ، ملازمت دہلی اورمسقط،بانی منیجر اسٹینڈرڈ کریسنٹ اسکول بہرائچ۔
سید ظفر محمود (ولادت :بہرائچ 1950) ابتدائی تعلیم بہرائچ , اعلیٰ تعلیم علی گڑھ، سابق چیف انکم ٹیکس کمشنر اور او ایس ڈی سچّر کمیٹی، بانی چیرمین زکوٰۃ فاؤنڈیشن، مقیم حال دہلی۔
سید قیصر محمود (ولادت بہرائچ 1951), ابتدائی تعلیم گورنمنٹ کالج بہرائچ، اعلیٰ تعلیم علیگڑھ، سابق افسر حکومت عمان، مسقط، مقیم حال دبئی۔
فرحت احساس (۱۹۵۲ء)۔شہر کے ایک مشہور و معروف خاندان سے تعلق۔ ابتدائی تعلیم شہر بہرائچ کے جی آئی سی سے حاصل کی اس کے بعد اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے حاصل کی۔مشہور شاعر و سب ایڈیٹر ریسرچ جرنل ذاکر حسین انسٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ۔ ریختہ سے وابستہ
جناب ڈاکٹر شاداب خاں۔آپ کا تعلق بھی فرحت احساس کے خانوادے سے ہے ابھی حال میں ہی آپ کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے۔موجودہ وقت میں جامعہ ملّیہ اسلامیہ سے منسلک۔ایکسس بینک بہرائچ برانچ میں خدمات انجام دی۔
جناب اقبال محمود صدیقی(ماسٹر اڈو)۔خانواده مخدوم بڈھن شاہ بہرائچی ؒ کے چشم وچراغ۔۱۹۶۷-۱۹۶۹ءکے درمیان علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد درگاہ شریف حضرت سید سالار مسعود غازیؒ کے تعلیمی ادارے سے وابستہ ہوئے۔متعدد سماجی تنظیموں سے وابستہ۔
ڈاکٹر تقی الرحمن (ولادت ۱۱؍جنوری ۱۹۵۵ء) : مولانا محفوظ الرحمٰن نامیؒ کے تیسرے فرزند ، ابتدائی تعلیم جامعہ مسعودیہ نور العلوم بہرائچ سے حاصل کی اس کے بعد عالم آلہ آباد (یو۔پی بورڈ)۱۹۷۱ء،فاضل(دارالعلوم دیوبند ۱۹۷۴ء)بی یو ایم ایس(علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ۱۹۷۹ء) ایم ڈی(معالجات)( ۱۹۹۵ء)،دیوبند طبیہ کالج،یوپی گورنمنٹ میڈکل آفیسر رہے۔ایک سال تک شر ی نگر میں ایم ڈی کےاستاد رہے۔ آلہ آباد سے یونانی گورنمنٹ میڈکل آفیسر کے عہدے سے رٹائیر ہوئے۔علی گڑھ میں سکونت پذیر ہیں۔
ڈاکر محمد رضی الاسلام ندوی (۱۹۶۴ء)(ایم ڈی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) ممبر مجلس شوریٰ جماعت اسلامی ہند، متعدد کتابوں کے مصنف اور ترجمہ نگار۔ ثانوی تعلیم مرکزی درس گاہ رام پور سے حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انھوں نے 1975ء میں بر صغیر کی عظیم دانش گاہ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کا رخ کیا اور وہاں سے 1981ء میں عالمیت اور 1983ء میں فضیلت کی اسناد حاصل کیں۔ 1989ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اجمل خاں طبیہ کالج سے بی۔ یو۔ ایم۔ ایس اور 1993ء میں ایم۔ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔
ڈاکٹر رضی السلام ندوی صاحب کے بھائی ڈاکٹر سیف الاسلام صاحب اور بہن محترمہ اور آپ کے بھانجے ڈاکٹر نظام الدین صاحب بھی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے فارغ ہیں ۔اس کے علاوہ آپ کے صاحبزادے برادر محمد نجم الاسلام نے بھی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔
وہیں آپ کی اہلیہ کی بھتیجیاں محترمہ نجم سحر آفرین۔ابتدائی تعلیم عائشہ درسگاہ اسلامی بہرائچ سے حاصل کی اس کے بعد رامپور کی مرکزی درسگاہ جامعہ الصالحات سے فارغ ہوئی پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔جبکہ آپ کی چھوٹی بہن ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین (گولڈ میڈلسٹ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)نے بھی آپ کے ساتھ ہی عائشہ درسگاہ اسلامی بہرائچ اور رامپور کی مرکزی درسگاہ جامعہ الصالحات سے حاصل کی اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہی بی اے ،ایم اے کیا پھر جامعہ ملّیہ اسلامیہ دہلی سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی۔اس وقت بطور پروفیسر اپنی خدمات شعبہ اسلامیات جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں انجام دے رہی ہیں۔متعدد کتابوں کی مصنفہ
(راقم الحروف بھی آپ کے ساتھ ہی عائشہ درسگاہ اسلامی میں ساتھ ہی جاتا تھا اور نرسری کلاس میں تھا جبکہ آپ لوگ آگے کی درجات میں تھیں۔)
حاجی سید جمیل احمد (۱۹۶۲ء)(نامی دواخانہ ایجنسی ہمدرد):شہر بہرائچ کے مشہور و معروف علمی خانوادے کے چشم و چراغ۔آپ کے والد حاجی سید سلیم احمد نقشبندی مجددی مظہریؒ تھے۔آپ نےابتدائی تعلیم مکتب مسعودیہ جامع مسجد سے حاصل کی اس کے بعد آزاد انٹر کالج بہرائچ سے تعلیم حاصل کی آپ درسی ساتھیوں میں راقم کے والد مرحوم رئیس احمد چونے والے،جناب مصباح الحسن صاحب،جناب سلیم اختر مکرانی صاحب،محمد شفیع (مرحوم بڑے بابو مدرسہ چھوٹی تکیہ)قابل ذکر ہیں۔ اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے حاصل کی ۔شہر کے مشہور و معروف یونانی دواؤں کے تاجر۔
آپ کے بڑے فرزند سید عبد الجلیل جامی ابن سید جمیل احمد (۱۹۸۹ء) نائب صدر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی اولڈ بوائزایسوسیشن بہرائچ ۔ ابتدائی تعلیم شہر کے کریسنٹ پبلک اسکول اور سینک پبلک اسکول سے حاصل کی ۔انٹر سے گریجویشن تک کی تعلیم علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے حاصل کی ۔
ارشد صدیقی ابن پروفیسر جمیل احمد صدیقی( پروفیسر ریاضی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی, ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ 1966-1956)۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ۔آپ کے صاحبزادگان بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
علیگڑھ انجیرینگ کالج کے موجودہ پرنسپل محترم جناب محمد سفیان بیگ صاحب بھی بہرائچ کے ہیں۔آپ کے والد سلمان بیگ مرحوم اسی کالج میں پروفیسر تھے۔
مظہر سعید صاحب (۱۹۵۹ء) سید مظہر عباس رضوی ۔شہر بہرائچ کے موجودہ دور میں چند کہنہ مشق شاعروں میں سر فہرست ۔ مظہرؔ سعید نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم ۔اے (اردوادب) میں کیا اور جامعہ اردو علی گڑھ سے ’’معلم اردو‘‘ کی سند حاصل کی ۔محکمہ تعلیم سے وابستہ۔متعدد کتابوں کے مصنف۔
ڈاکٹر محمد رفیق (نانپارہ)
ڈاکٹر محمد ولی (نانپارہ)بی یو ایم ایس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
آپ کے بیٹے محمد فرقان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ایس سی ،اور ایم ایس سی کیا ہے
عمر قادری (سابق نائب صدر طلبہ یونین علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
پروفیسر محمد وسیم(فیکلٹی آف لاء) ۔ موجودہ وقت میں آپ پراکٹر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ہیں۔
یاسر صدیقی (کورٹ ممبر طلبہ یونین علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)۔علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی اولڈ بوائز ایسوسیشن بہرائچ کے صدر
سید تنویر احمد(قیصر گنج) ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل۔قیصرگنج میں سر سید احمد خاں صاحب کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور تعلیمی شعبے سے وابستہ۔
ڈاکٹر ہمایوں رشید خان۔
تقریباً 2004ءمیں آپ نےاےایم یو سے وکالت کی ڈگری حاصل کی اسکے بعد سول جج کا امتحان پاس کیا۔2008یا 2009 میں پی. ایچ. ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ کئی جگہوں پر جج کے عہدے پر فائز رہے فی الحال لکھنؤ گورنمنٹ اکیڈمی میں کسی اونچے عہدے پر فائز ہیں
زید عبداللہ(چاند پورہ بہرائچ) آپ شہر بہرائچ کی معروف علمی شخصیت جناب مصباح الحسن صاحب کے سب سے بڑے فرزند ہے ۔آپ کی ابتدائی تعلیم شہر بہرائچ میں ہوئی۔آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم ایس سی کیا ہے۔
محمد سلماں خاں (نانپارہ) بی ایس سی ،بی۔ایڈ،اس وقت نانپارہ کے کسی کالج میں ریاضی کے استاد ہیں۔
فیض الحسن(قیصر گنج) سابق صدر طلبہ یونین علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ۔سیاسی طور پر بھی سرگرم پرگتی شیل سماج وادی پارٹی (لوہیا) سے وابستہ
محمد حنیف خاں(پھولوریہ ،رسیا موڈ)، ندوہ العلماء لکھنؤ سے فارغ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ متعدد اخبارات میں کالمز شائع ہوتے ہیں،افسانہ نگار مصنف”مجسموں کا شہر”، اس کے علاوہ مضامین کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر محمد فاروق خاں(رسیا) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ متعدد کتابوں کے مصنف، موجودہ وقت میں سکندرآباد میں استاد۔
ابو البشر (۱۹۸۴ء)(ریسرچ اسکالر شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)۔ابتدائی نانپارہ کےاسکولس میں حاصل کی ۔اس کے بعد عالمیت جامع الفلاح اعظم گڑھ سے کیا اسکے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے بی۔اے ،ایم۔اے۔ اس کے علاوہ ڈپلومہ ٹرانسلیشن اِن انگلش کی ڈگریاں حاصل کی اور فی الحال پی ایچ ڈی (اردو ) کر رہے ہے ۔ امبیڈکر پروجیکٹ جو کہ انگریزی شعبہ کے پروفیسر عاصم صدیقی کےزیر نگراں پروجیکٹ کے ایسوسیٹ ہیں ہے۔آپ ہمارے عزیزداروں میں سے ہیں۔
ڈاکٹر دانش ودود خاں
وامق سعود خاں
دونوں بھائی شہر کے مشہور و معروف ڈاکٹر عبد الوجود خاں صاحب کے فرزند ہیں اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ ہیں۔
ڈاکٹر محمد سلیم فلاحی علیگ۔(محلہ میرا کھیل پورہ شہر بہرائچ) ابتدائی تعلیم شہر بہرائچ میں ہوئی۔جامعہ الفلاح اعظم گڑھ سے فارغت جہاں آپ ابوالبشر بھائی کے ہم جماعت تھے۔ اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی یو ایم ایس کیا۔ اپیکس ہاسپٹل بہرائچ۔
ڈاکٹر محمد فرقان (قاضی پورہ بہرائچ) موجودہ وقت میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیم کے شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر۔
آپ کے چھوٹے بھائی محمد نعمان خاں نے بھی ابھی حال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہی ایم سی اے کیا ہے۔
اور تمام افراد جنکا تعلق ضلع بہرائچ سے ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

