علامہ اقبال کا معروف شعر ہے:
جو میں سر بسجدہ ہُوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنَم آشنا، تجھے کیا مِلے گا نماز میں
اب امیرخسرو کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے:
مسجد چہ روم چندیں، آخر چہ نماز است ایں
رُویم بہ سوئے قبلہ، دل جانبِ ابرویت
یعنی میں مسجد کی طرف بار بار کیا جاؤں، آخر یہ کونسی نماز ہے کہ میرا چہرہ تو قبلے کی طرف ہے اور دل تیرے ابروؤں کی جانب۔
اور اب خواجہ حافظ کا شعر ملاحظہ فرمائیں جو خود امیرخسرو کے مداح ہیں:
در نمازم خم ابروی تو با یاد آمد
حالتی رفت که محراب به فریاد آمد
یعنی حالت نماز میں تمھارے خم ابرو کی یاد آگئی، اور پھر میری وہ حالت ہوئی کہ محراب بھی فریاد کناں ہوگیا۔
اور وارفتہ دل عراقی کی ایک غزل تو اسی حال و سرور میں ہے۔ پہلے اسی مضمون میں یہ شعر :
بہ زمیں چو سجدہ کردم، ز زمیں ندا برآمد
کہ مرا خراب کردی، ازیں سجدۂ ریائی
میں نے جب زمین پر سجدہ کیا تو زمیں سے آواز آئی کہ (لعنت ہو تم پر) اِس ریا کارانہ سجدے سے تُو نے مجھے بھی خراب کر دیا۔
اور اب باقی اشعار بھی ملاحظہ فرمائیں:
ز دو دیده خون فشانم، ز غمت شب جدایی
چه کنم؟ که هست اینها گل خیر آشنایی
همه شب نهادهام سر، چو سگان، بر آستانت
که رقیب در نیاید به بهانهٔ گدایی
مژهها و چشم یارم به نظر چنان نماید
که میان سنبلستان چرد آهوی ختایی
در گلستان چشمم ز چه رو همیشه باز است؟
به امید آنکه شاید تو به چشم من درآیی
سر برگ گل ندارم، به چه رو روم به گلشن؟
که شنیدهام ز گلها همه بوی بیوفایی
به کدام مذهب است این؟ به کدام ملت است این؟
که کشند عاشقی را، که تو عاشقم چرایی؟
به طواف کعبه رفتم به حرم رهم ندادند
که برون در چه کردی؟ که درون خانه آیی؟
به قمار خانه رفتم، همه پاکباز دیدم
چو به صومعه رسیدم همه زاهد ریایی
در دیر میزدم من، که یکی ز در در آمد
که : درآ، درآ، عراقی، که تو خاص از آن مایی
فکر و احساس میں تشابہ ممکن ہے، اس لیے بھی کہ یہ دونوں عموما آفاقی نوعیت کے ہیں، بلکہ یہ ایک بین المتونی عمل بھی ہے۔ البتہ طرز بیان و تخیل جدا ہونا چاہئے، اور وہیں فنکار کا امتیاز ابھرتا ہے۔
خیام اور ہری ونش راے بچن کے حوالے سے بھی توارد کی بات کی جاتی ہے، کیوں کہ انھوں نے طرز خیام کی پیروی کی کوشش کی تھی۔ یہاں واضح ہونا چاہئے کہ بچن فارسی سے واقف نہ تھے اور ان کا کام در اصل خیام کے اس منظوم انگریزی ترجمے پر تھا جسے فٹجزرالڈ نے انجام دیا تھا۔ یہ ترجمہ مغرب و مشرق میں خیام کی شہرت کی وجہ بھی بنا۔”مدھوشالا” اسی ترجمہ سے متاثر ہو کر کہا گیا ہے اور بچن کا طبع زاد کام ہے۔ البتہ مذکورہ ترجمہ کا انھوں نے منظوم ترجمہ بھی کیا تھا جو "مدھوکلش” کے نام سے شائع ہوا تھا۔ بچن سے قبل دوسری زبانوں بالخصوص اردو میں بہت سارے شعرا متاثر ہوئے اور خمریات کا رواج ہوا۔ ریاض خیرآبادی اور عدم کی شاعری اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ناچیز کی تحقیق میں خیام سے منسوب کوئی اٹھائیس تراجم اردو میں ہوئے، ان میں محمد دین تاثیر کا بھی آتا ہے جس کا سراغ اب نہیں ملتا۔ البتہ ان کا ایک مضمون راقم کی نظر سے گذرا جو در اصل ایک خط تھا جو غالبا انھوں نے مولانا سید سلیمان ندوی کو خیام سے متعلق ان کی کتاب کے حوالے سے لکھا تھا۔ اسی طرح ہندی میں بھی کوئی درجن بھر ترجمے ہوئے ہیں۔ البتہ اردو کے بعد سب سے زیادہ ترجمے انگریزی اور فرانسیسی میں ہوئے ہیں، جو نوآبادیاتی دور کے مغربی ذوق کی داستاں بھی بیان کرتی ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

