شجاع خاور کی شاعری پر پاریکھ بک ڈپو میں کامیاب مذاکرے کا انعقاد
لکھنؤ (22 جون/شاہد حبیب)۔ شجاع خاور کی شاعری میں مزاحمتی رنگ ابھر کر آیا ہے۔ عرش و فرش کے استعارے میں سماج کے رویوں پر خدا سے شکوے کی مثالیں بھی جگہ جگہ موجود ملتی ہیں۔ درونِ ذات کا کرب ان کے فن میں بطور خاص محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار شجاع خاور پر منعقدہ ایک مذاکرے میں مانو لکھنؤ کیمپس کے اسکالر مجتبیٰ حسن صدیقی نے کیا۔ مذاکرے کا انعقاد لکھنؤ کے علمی و ادبی افق پر ابھرتا ہوا مکتبہ پاریکھ ڈپو کے زیر اہتمام کیا گیا تھا۔
مجتبیٰ حسن صدیقی نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ شجاع خاور سسٹم میں زور پکڑتی متعصبانہ ذہنیت اور اس کے سبب مستقبل میں درپیش مسائل سے دلبرداشتہ تھے۔ لیکن یہ دلبرداشتگی انھیں خوف یا فرار کی طرف مائل کرنے کے بجائے سربکف ہونے پر آمادہ کرتی تھی۔ شجاع خاور کی شاعری پر پیامی ٹیگ نہ لگنے کے باوجود وہ ایک پیامی شاعری ہے۔ اس لیے محسوس ہوتا ہے کہ شجاع خاور کی شاعری رہبرانِ قوم کی نا پختہ کاریوں کا مرثیہ ہے۔ شاید اسی لیے ایک عام حلقہ ان کی شاعری سے دور ہے۔
مانو لکھنؤ کیمپس کے اسکالر محمود الحسن خان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ شجاع خاور کی شاعری میں عصر حاضر کی خاموش گونج سنائی دیتی ہے اور شاعر کے احساسات اور اس کے سماجی و معاشرتی تصورات قاری کے دل کو چھوتے ہوئے دعوت فکر پر ابھارتے ہیں۔ جیسے ان کا مشہور شعر ان کی فکر کا اشاریہ ہے:
آؤ چپ کی زبان میں خاور
اتنی باتیں کریں کہ تھک جائیں
محمود الحسن خان نے آگے کہا کہ کربِ ذات، سماج کا درد، ادب و مذہب میں پائی جانے والی مصنوعیت، عرش و فرش کی دوری، سرکاری محکمے سے جڑے ہوئے انسان کی بے بسی، اور اس بے بسی کے سبب پیدا ہونے والی جھنجھلاہٹ یہ سبھی چیزیں شجاع خاور کے یہاں نظر آتی ہیں اور قاری کو نئے ابعاد سے روشناس کراتی ہیں۔
آخر میں شاہد حبیب نے شجاع خاور کے مجموعہ ہائے کلام ”دوسرا شجر“ (مطبوعہ: 1970) اور”اللہ ھو“ (مطبوعہ : 2000) سے منتخب غزلوں کی قرات کی اور شجاع خاور کی تفہیم میں ڈاکٹر عمیر منظر کے مضمون ”شجاع خاور اور ”دوسرا شجر“ کو کار آمد بتایا۔ کچھ پسندیدہ اشعار ذیل میں درج ہیں :
یقیناً آگ جلتی ہے کہیں دیکھو
یہ شعرو شاعری تو ہے دھواں خالی
شجاع زیادہ فکر نہ کرنا
بہت ہوا تو مر جائیں گے
تم سے بھی ایک معرکہ ہونا ہے مومنو!
پہلے ذرا یہ نرغہ ٔکفار اور میں
یہ بتا کہ کون سی جنگ میں میں لہو لہان نہیں رہا
مگر آج بھی ترے شہر میں کوئی مجھ کو مان نہیں رہا
سبھی زندگی پر فریفتہ، کوئی موت پر نہیں شیفتہ
سبھی سودخور تو ہوگیے ہیں ،کوئی پٹھان نہیں رہا
امن میں سوکھ گیا تھا جب خون
جنگ میں کیسے بہایا جاتا
آئینے میں وہ سامنے ہے آپ کا دشمن
ہمت ہے تو کر دیجئے یلغار میاں جی
یہ مصلحت کا فیض ہے جس نے کبھی شجاع
میدان جنگ میں ہمیں کھپنے نہیں دیا
مذاکرے میں پاریکھ بکڈپو کے مالک شہود الحسن، مکتبہ احسان کے پروپرائٹر عرفان نصر ندوی، عمران لکھنوی اور علم و ادب کے دیگر شائقین کی گرم جوش شرکت رہی۔ حاضرین نے اس نوعیت کے پروگرام کو وقت کی اہم ضرورت بتاتے ہوئے بار بار کیے جانے کی خواہش کا اظہار کیا کہ ادب کا یہی صحیح مصرف ہے۔ ٭٭٭
***
—
بشکریہ
Shahid Habib Falahi شاہد حبیب فلاحی
Research Scholar, Maulana Azad National Urdu University, Lucknow Campus.
504/122, Tagore Marg, Near Nadva college , Daliganj , Lucknow – 226020 (Uttara Pradesh) INDIA.
Mob. +91 8539054888 / 7053234784
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

