1857کے بعد ہندوستان کی جو سماجی ، سیاسی اور معاشرتی پسماندگی تھی، وہ کسی سے مخفی نہیں۔موجودہ وقت میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ادیب و شاعر معاشرے کی بہتری کے لیے سوچتے ہیں۔ اسی لیے ان کی تحریروں میں سماجی اور معاشرتی زندگی رواں دواں نظر آتی ہے۔ ادیب و شاعر بعد میں ہوتا ہے، پہلے وہ ایک شہری ہے۔ اس لیے اس پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سماج کی تشکیل نو میں اپنا کردار ادا کرے۔ ناکام جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے ہندوستانیوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا تھا، بطور خاص مسلمانوں کے ساتھ، اس صورت میں اگر سرسید نے اس جوانمردی کا ثبوت نہیں دیا ہوتا توآج ہندوستان کی تعلیمی صورتحال جو نظر آرہی ہے، اس طرح سے نہیں ہوتی۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ سرسید نے جس ہندوستان کاخواب دیکھا تھا، اس کو عمل میں لانے کی بھی کوشش کی تھی۔ لیکن یہ کام اتنا بڑا تھا کہ اکیلے ممکن نہیں تھا۔ لہذا سرسید کے رفقا نے مل کر سر سید کے خواب کے ہندوستان کو تیار کرنے میں اپنی طرف سے ہر طرح کا تعاون پیش کیا۔ اس زمانے میں سر سید، حالی اور شبلی نعمانی نے نہ صرف افراد سازی میں اپنا کردار ادا کیا، بلکہ ادارہ سازی کے ذریعے انگریزوں کو ایک طرح سے چیلنج کیا۔ یہ چیلنج صرف ہندوستان کی سماجی، سیاسی اور معاشرتی صورتحال کو مستحکم کر نے کے لیے تھا۔ جس کے ذریعے ہندوستانی اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال کر سکیں اور ایک اچھے سماج کو بنانے میں اپنا تعاون پیش کر سکیں۔ اس اعتبار سے جب ہم سرسید اور حالی کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں توہمیں ان کی تحریروں میں سماجی محرکات کا عکس واضح طور پر نظر آتا ہے۔
سر سید احمد خاں(1817-1898)الطاف حسین حالی (1837-1914)سے بلا شبہہ بیس سال بڑے تھے۔ لیکن حالی1857میں بیس برس کے ہو چکے تھے۔انھوں نے اپنی آنکھوں سے وہ سارے مظالم دیکھے، جو انگریزوں نے ہندوستانیوں کے ساتھ کیے تھے۔ سر سید نے اس کو نہ صرف دیکھا،بلکہ انسانیت کو پامال ہونے سے بچانے کے لیے اس کا سد باب بھی ڈھونڈ ا۔ انھوں نے بہت غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ سب سے پہلے ہندوستانیوں کو تعلیم کی اہمیت سے روشنا س کرایا جائے ۔ کیونکہ سرسید یہ جان چکے تھے کہ بغیر تعلیم کے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔اس لیے انھوں نے تعلیمی بیداری کواپنا مشن بنایا اور اسی مشن پر تا حیات کام کرتے رہے۔
سر سید کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ قوم کی فلاح تب تک ممکن نہیں، جب تک وہ خود کو اس زمانے کی ترقی یافتہ قوم سے منسلک نہ کر لیں۔ بعد میں ان کی یہ حکمتِ عملی کار آمد بھی ثابت ہوئی۔ یوں تو سر سید احمد خاں کو بہت سی تحریکوں کا بانی سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف ایک تحریک کے بانی تھے۔اور وہ تھی ان کی تعلیمی تحریک؛ باقی تمام تحریکیں ، خواہ وہ ادبی ہوں، اصلاحی ہوں یا سماجی سب کے سب ان کی تعلیمی تحریک کی توسیع معلوم ہوتی ہیں۔سر سید نے نہ صرف اس طرح کے موضوعات پر مضامین لکھے، بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی آمادہ کیا۔ سماجی دردمندی کوان کے خطبات میں واضح طور پردیکھا جا سکتا ہے۔
کسی بھی قوم کی ترقی اس کی آنے والی نسلوں پر منحصر ہوتی ہے اور اسی آنے والی نسلوں سے وابستہ جذبات انسان کو نئی نئی چیزوں کی آگاہی پر آمادہ کرتے ہیں۔کیونکہ کسی بھی قوم کو مفلوج کرنا ہے تو اس کے بچوں کو ختم کر دیا جائے۔ایسی صورت میں وہ ایک صدی تک نہیں سنبھل سکتی۔اسی طرح کسی سماج کی شناخت اور اس کی تہذیب ختم کرنی ہو تو اسے تعلیم سے دور کر دیا جائے۔ ہندوستان میں ایک زمانے تک عورتوں کو تعلیم سے دوررکھا گیا۔جبکہ دوسرے کئی ممالک میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کابھی حصول تعلیم میں اپنا مقام تھا۔اسی لیے ان کے بچے بھی شروع ہی سے تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ سلسلہ نسلاً بعد نسل تاحال جاری و ساری ہے۔اس کے بر عکس ہندوستان میں عورتوں کا تعلیم حاصل کرنا عام نہیں تھا۔کیونکہ یہاں کے سماج میں عورتوں کا تعلیم حاصل کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔اس کا بنیادی نقصان جو ہوا،وہ جگ ظاہر ہے۔عورتوں کی تعلیم و تربیت کی طرف اردو کے ابتدائی ادیبوں نے خاصی توجہ صرف کی۔ایسے میں نذیر احمد اور راشدالخیری کے نام کے ساتھ ساتھ الطاف حسین حالی کا نام کافی اہمیت کا حامل ہے۔
ہماری تہذیبی اقدار میں تعلیم کو سب سے مقدم سمجھا گیا ہے اور حالی نے اسی تہذیبی روایت کو آگے بڑھانے کی کوشش ’مجالس النساء‘کی صورت میں پیش کی۔ ساتھ ہی ساتھ تعلیم کے لیے انھوں نے خطوط لکھے،اس کے علاوہ سماجی دردمندی کو ان کی شاعری میں بطور خاص ملا حظہ کیا جا سکتا ہے۔
سر سید احمد خاں اور حالی کی تحریروں میںسماجی محرکات کااثر جا بجا نظر آتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں نے اپنی زندگی کو اسی کام کے لیے وقف کر دیا تھا۔ مذہبی معاملات میں انھوں نے جو خدمات انجام دی ہیں ،اس حصے پر بھی اگر غور کریں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ دونوں نے سماج میں پھیل رہی اسلام کے تعلق سے غلط فہمیوں کا جواب دیا اور لوگوں کو حقیقت سے روشناس کرایا۔ چونکہ کوئی بھی مذہب عدم مساوات ، ظلم و زیادتی اور ناانصافی کا درس نہیں دیتا، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ان دونوں نے اس تعلق سے کام کر کے سماج میں پھیل رہی دوریوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
الطاف حسین حالی کی جب تک سر سید سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، اس وقت تک ان کی شاعری کا رنگ اور موضوع دونوں بہت مختلف تھا، لیکن اس ملاقات(1867)کے بعد حالی کی شاعری کا رنگ اور موضوع دونوں میں بہت نمایاں فرق معلوم ہوتا ہے۔ حالی کی شاعری میں سماج کی جس دردمندی کا اظہار ملتا ہے، وہ دراصل سر سید کی ملاقات کے بعد نمایاں معلوم ہوتا ہے۔کتنے ایسے موضوعات ہیں جہاں سر سید نے نثر میں بیان کیا ہے اور حالی نے تھوڑے سے رد وبدل کے ساتھ شعری پیکر میں ڈھال کر لوگوں کے سامنے پیش کیاہے۔ سر سید ہوں یا حالی ؛دونوں نے تعلیم کی طرف خصوصی توجہ کی۔ دونوں نے اتحاد و اتفاق پر زور دیا ۔دونوں نے باہم محبت و ہمدردی کا درس دیا؛ باہمی اختلاف کے نقصانات کی طرف بھی اشارہ کیا ۔ سر سید نے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے /29اکتوبر1869کا شذرات ’ہندو ستا نیوں کو باہم محبت و ہمدردی پیدا کرنا چاہیے‘کے عنوان سے لکھا تھا۔اس مضمون میں سر سید نے اتحاد واتفاق کے مابین جو فرق ہے اسے واضح کیا ہے اور دونوں کے فوائد ونقصانات کو بھی لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’…….ہندوستان کی مختلف مذہب کی قومیں ایک ملک کی سکونت میں موافق ہیں، ایک گورنمنٹ کی رعایا ہونے میں موافق ہیں اور ان دونوں سببوں سے صدہا باتوں اور ملک کے طریقوں اور رسم و عادات میں موافق ہیں اور منشاء مغائرت صرف ایک مذہبی مخالفت ہے باوجود باقی رکھنے ایسی موافقتوں کے کسی طرح خیال پذیرنہیں ہو سکتی اس لیے کہ اگر ایک ملک کے باشندے باہم حسن معاشرت اور حسن سلوک اور مراتب ہموطنی کے باقی رکھنے میں سعی کریں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ سب کا مذہب متحد ہو جاوے یاایک دوسرے کے مذہب کا مخل ہو سکے۔ پس باوصف ان امر کے اس مخالفت کو سخت تعصب کا ذریعہ بنالینا اور باہمی رنجش وعناد و کاوش و فساد کا بڑھانا کسی ملت یا اخلاق کے مطابق نہ ہوگا بلکہ یہی مذہبی اختلاف جو ایک ملک کی رعایا میں خصومت اور عداوت کو پیدا کرے ملک کی بے رونقی اور انتری کا سبب ہو سکتا ہے۔‘‘
(شذرات سرسید(جلد اول)مرتب، اصغر عباس۔ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ۔2017ص، 57-58)
سر سید احمد خاں نے اپنے شذرات میں ہندوستانیوں سے اتحاد پر زور دیا ہے، کیونکہ متحد ہونے کی صورت میں بڑی سے بڑی طاقتوں سے نبردآزما ہوا جا سکتا ہے۔ تقریباًاسی حصے کو الطاف حسین حالی نے شعری پیکر میں ’برکت اتفاق‘کے عنوان سے ڈھالا ہے۔
کہہ رہا تھا یہ ایک آزاد کہ ہے جن میں ملاپ
دولت و بخت ہے ہر حال میں ان کے ہمراہ
نہ انھیں حاجت اعواں نہ تلاش انصار
نہ انھیں خوف بد اندیش یہ بیم ِ بد خواہ
پر، نہیں رابط جس قوم میں اور یکجہتی
اس کی دنیا سے یہ سمجھو کہ گئی عزت وجاہ
(کلیات حالی۔ مرتب، رشید حسن خاں۔اردو اکادمی، دہلی۔ 2013، ص45)
سر سید احمد خاں اور الطاف حسین حالی کی تحریروں کے مطالعے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان دونوں نے نہ صرف تحریری طور پر سماج میں بیداری لانے کی کوشش کی تھی، بلکہ عملی طور پر اس کے اقدام بھی کرتے رہے۔اس ضمن میں اگر ہم شذرات سر سید، خطبات سر سید اور مضامین سر سیدکا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان تحریروں کا شان نزول ’سماجی محرکات ‘ہی ہیں۔اسی طرح سے الطاف حسین حالی کی نظمیہ شاعری، مکاتیب حالی، مقالات حالی کا مطالعہ بھی ہمیں باور کراتا ہے کہ ان تحریروں کی وجہ وہی سماجی درد مندی تھی۔ جس زمانے میں عورتوں کی تعلیم کی طرف لوگ ایک طرح سے سوچتے بھی نہیں تھے، اس وقت حالی نے ’مجالس النساء‘ لکھ کر تعلیم نسواں کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی۔
حالی نہ صرف عورتوں کی تعلیم کے خواہاں تھے، بلکہ اچھے اور برے کے مابین جو فرق ہے ، اسے ابتدا ہی میں بچوں کے ذہن میں واضح کر دینا چاہتے تھے۔کھلونے کے ذریعے کس طرح سے بچوں کی تعلیم دی جا سکتی ہے،اس کا ندازہ ’مجالس النساء‘کے درج ذیل اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے:
’’اماں جان نے اس سے میرے لیے کپڑے کے کھلونے سلوا کر ان پر روغن پھروا دیا تھا۔مگر ان کے نام ہی نرالے تھے۔جو بہت بری صورت کے تھے اور ان کے دیکھنے سے نفرت آتی تھی ان میں کسی کانام تو غصہ تھا، کسی کا نام بدزبانی،کسی کا غیبت۔کسی کا نام جھوٹ…..کسی کا نام پھوہڑ…..کسی کا نام چور ۔کسی کا نام سستی…..اور جن کی صورت اچھی تھیں ان میں کسی کا نام تو حیا تھا،کسی کا غیرت،کسی کا سلیقہ ،کسی کا نام ستھرائی،کسی کا نام پارسائی،کسی کا نام تحمل…..کسی کا نام فرمانبرداری۔‘‘
(مجالس النساء ،اول۔الطاف حسین حالی۔ حالی پریس پانی پت۔1924۔ص۔30)
مندرجہ بالا اقتباس سے الطاف حسین حالی کے اصول تعلیم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ ان کھلونوں کے نام کی خوبصورتی اور بد صورتی اس چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس دنیا میں اچھائی اور برائی کے مابین کیا فرق ہے۔اس طرح کی چیزوں سے حالی یہ تعلیم دینا چاہتے تھے کہ بری باتوں سے نفرت ہو جائے اور نیک عادتیں اختیار کی جائیں ۔کیونکہ جو کردار بچپن کے ذہن میں بٹھا دیا جائے ،وہ زندگی کے ساتھ رہتا ہے ۔اگر کوئی شخص کسی پر غصہ کرتا ہوا نظر آجائے تو بچپن کے اس کھلونے کی طرف ذہن خود بخود مبذول ہو جائے گا،جو قبیح المنظر ہونے کے ساتھ ساتھ غصے کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا تھا ۔غرض یہ کہ الطاف حسین حالی نے سیدھے سادے قصے کہانی کے پیرائے میں جو تعلیم کا اصول اپنانا چاہتے تھے،اس سے یقیناً بچوں کے ذہن کو تقویت ملتی،ساتھ ہی ساتھ اچھے اور برے میں فرق بھی نمایاں ہوتا۔اسی طرح سے تعلیم کے سلسلے میں جاہل عورتوں کی توہم پرستی کا بھی ذکر آیا ہے۔حالی نے ان کے بیان میں ایسی ایسی چیزوں کا ذکر کیا ہے،جو موجودہ دور میں عورتوں کے ذہن وگمان میں بھی نہیں ہوگا۔لیکن جس زمانے میں حالی نے ’مجالس النساء‘لکھی تھی، اس وقت جن چیزوں کی ضرورت تھی، اس تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کو لکھنے کی وجہ وہی سماج میں اتھل پتھل تھی، جس سے ہمارا سماج دوچار تھا۔ یہ حالی کی دردمندی ہی کہی جائے گی کہ انھوں نے نہ صرف اس کو موضوع بنایا، بلکہ اس تعلق سے جو اصلاحی اقدام کیے جا سکتے تھے، اس کو بھی لوگوں کے سامنے پیش کیا۔
چونکہ سر سید احمد خاں مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم کے خواہاں تھے، مگر ان کے نزدیک سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ مذہبی تعلیم کے حامی انگریزی کی تعلیم کے سخت مخالف تھے۔ سرسید تعلیمی تجدید کے حامی تھے ۔وہ اس زمانے کے مروجہ مدرسوں اور کالجوں کے تعلیمی نظام سے مطمئن نہیں تھے ۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کا نظام روایتی اور کتابی ہوا کرتا تھا۔ سر سید کی خواہش یہ بھی تھی کہ مسلمانانِ ہند زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھیں۔ وہ کہتے ہیں :
’’ہم کو چاہیے کہ دوسرے ملکوں میں آٹھ اور کمپنیاں قائم کریںجس سے اعلیٰ درجے کے تاجر ہوں۔ ملک کی پیدا وار اور قدرتی چیزیں جو زمین میں گڑی ہیں ان سے فائدہ اٹھائیں۔‘‘
(سر سید احمد کے لکچروں کا مجموعہ، مرتبہ مولوی سراج الدین بفرمائش فضل الدین کشمیری بازار لاہور1890 صفحہ187)
مئی 1886 میں سر سید احمد نے اپنی تعلیمی مہم کو عام اور مستحکم کرنے کے لیے محمڈن ایجوکیشنل کانگریس کی بنیاد علی گڑھ میں ڈالی۔ اس کے پہلے معتمد وہ خود تھے اور صدر سردار محمد حیات خاں ہوئے۔
سر سید نے اپنے تعلیمی خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے جو اقدام کیے، ان میں سب سے اہم قدم اداروں اور انجمنوں کا قیام تھا۔ مدرسۃ العلوم کا قیام ان کی تعلیمی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی پہلی اہم کڑی ہے۔ وہ یہ قطعی نہیں چاہتے تھے کہ مدرسوں کا نظامِ تعلیم اور مذہبی تعلیم کی نفی کی جائے ،مگر ان کی خواہش یہ تھی کہ مذہبی اور روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ مغربی علوم پر بھی دسترس ہو ،تاکہ روزگار کے امکانات وا ہو سکیں۔
تہذیب الاخلاق کا جاری ہونا بھی ان کے تعلیمی مشن کا ایک حصہ تھا۔ اپنے تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ان کے معاصرین نے بھی ان کا بھر پور تعاون کیا اور ان کی تربیت سر سید نے خود کی۔ ان میں اہم نام نواب محسن الملک ، نواب وقارالملک، ڈاکٹر مولوی نذیر احمد ، حالی، اور چراغ علی وغیرہ کے ہیں۔ سر سید کے رفقا نے جو علمی کارنامے انجام دیے ان کی اہمیت آج بھی مسلم ہے، ان کے علاوہ خود سر سید نے بھی جو علمی کارنامے انجام دیے وہ ایک دفتر ہے؛ نہ صرف یہ کہ انہوں نے مغربی علوم و فنون کی طرف توجہ کی، بلکہ اسلامیات کے مطالعے کو بھی تحقیقی زاویے سے پیش کرنے کی راہ دکھائی۔ خود ان کی تحریر کردہ معرکۃ الارا کتاب’ خطباتِ احمدیہ ‘اپنی نوعیت کی پہلی کتاب تھی۔ اس کتاب میں انہوں نے پیغمبرِ اسلام پر ان اعتراضات کے جوابات دیے جو مستشرقین اکثر کیا کرتے تھے۔ سرسید نے اپنے تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام کے جن مغربی ماہرین کی خدمت حاصل کیں ،ان میں پروفیسر آرنلڈ سب سے اہم نام تھا۔ آرنلڈ نے The Preaching of Islam لکھی ،جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ اس کتاب کومعرض وجود میں لانے میں سر سید کے مشوروں کا دخل تھا۔سائنٹفک سوسائٹی کا قیام بھی ایک اہم واقعہ ، اور اسی سلسلے کے آغاز سے تعلق رکھتا تھا۔
سر سید مسلمانوں کو انگریزی تعلیم سے لیس کر کے انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہتے تھے۔ مگر ہوا یوں کہ اس زمانے کے علما نے ان کی مخالفت شروع کر دی۔ مخالفت کی بنیاد یہ تھی کہ علما کو یہ خطرہ تھا کہ اگر لوگ انگریزی تعلیم حاصل کریں گے تو ان کی تہذیب بھی قبول کریں گے اور اس طرح لوگوں کے ایمان کو خطرہ لاحق ہو جائے گااور دھیرے دھیرے قوم گمراہ ہو جائے گی۔ انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مذہب سے بیزاری کا ڈر اس قدر بڑھا کہ اس بنیاد پر لوگوں نے سر سید کی پر زور مخالفت کرنی شروع کردی۔ سر سید احمد خاں نے بھی ہمت نہیں ہاری اور قوم کی فلاح کے لیے مسلسل جد و جہد کرتے رہے۔ سر سید نے مسلم علما کو یہ باور کرانے کی بھر پور کوشش کی کہ مسلمانوں کو اعلیٰ تعلیم اور مغربی تعلیم دلوانے میں ان کا مقصد ہر گزیہ نہیں کہ وہ اپنی تہذیب اور اپنی شناخت کھو دیں،بلکہ وہ تو صرف اتنا چاہتے تھے کہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ مغربی علوم سے بھی استفادہ کیا جا سکے۔ اس کے لیے یہ کوئی ضروری نہیں کہ مسلمانان ہند اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت کی قربانی دیں۔ اس طرح کی وہ ایک مثال قائم کرنا چاہتے تھے، اورایک ایسا مثالی ادارہ قائم کرنا چاہتے تھے ،جہاں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ مشرقی علوم کی تعلیم بھی دی جائے اور ہماری قدریں بھی محفوظ رہیں؛ اسی نیت سے انہوں نے مدرسۃ العلوم کی بنیاد ڈالی۔
سر سید یہ اچھی طرح جان چکے تھے کہ مسلمانوں کے پچھڑے پن کی صرف ایک ہی وجہ تھی، اور وہ وجہ تعلیمی پسماند گی تھی۔ جن مشرقی علوم پر مسلمان فخر کیا کرتے تھے ان علوم کا یہ حال تھا کہ وہ محض کتابی اور روایتی تھے۔ ایسی تعلیم سے مسلمانوں کا بھلا تو دور، بلکہ مسلمانوں کی پستی کا سبب ہونا طے تھا، جو سر سید دیکھ رہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس زمانے کے جتنے اعلی سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ تھے وہ سب سر سید کے ساتھ آنے لگے اور سر سید کے مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا تعاون دینے لگے۔ یہی سر سید کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔وہ ہندوستان کو تعلیمی اعتبار سے جس مقام پر دیکھنا چاہتے تھے، وہ ان کی زندگی میں اس طرح نہیں ہو سکا، لیکن انھوں نے جدید تعلیم کی افادیت سے لوگوں کو آگاہ کیا اور عملی نمونہ بھی پیش کیا۔آج ہندوستان کا موجودہ تعلیمی نظام اور تعلیمی ترقی انھیں کا رہین منت ہے۔
سر سید احمد خاں اور الطاف حسین حالی نے’ بیوہ‘کے مسائل کو بھی اٹھایا۔ سر سید نے ’بیوہ عورتوں کا نکاح ثانی‘کے تعلق سے اپنے شذرات میں لکھا تو حالی نے’بیوہ کی مناجات‘(معروف بہ مناجات بیوہ)لکھ کر ایک ایسا مسئلہ اٹھایا، جس سے سماج میں پھیلے ہوئے عدم تحفظ کو روکا جا سکے۔ اس سلسلے میں حالی کی نظم کے مطالعے سے ہمیں بعض ایسی باتوں سے روبرو ہونا پڑتا ہے،بسا اوقات اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ ایک لڑکی جس کے شوہرکا انتقال ہو گیا ہو، ایسے میں اس لڑکی کا کیا قصور ہے، لیکن سماج میں جس اذیت اور نانصافی کا شکار وہ لڑکی ہوتی ہے، بعض حالات میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ توہم پرستی کا شکار ہندوستان کے تمام مذاہب کے لوگ ہیں۔ البتہ عہد سرسید اور حالی کے وقت سے موجودہ وقت میں اس تعلق سے اس میں نرمی ضرور برتی گئی ہے، اس کا ایک سبب تعلیم ہی ہے۔ مناجات بیوہ میں حالی نے اسی کرب کو بیان کیا ہے۔ ’ستی پرتھا‘ کا جو معاملہ تھا، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ شوہر کے انتقال میں عورت کا کیا قصور، لیکن اس کو بھی اپنی جان دینی پڑتی تھی۔ اسی طرح کی بعض توہمات ہندوستان میں تھیں، لیکن وقت ، حالات اور لوگوں کی توجہ نے اس کو روکنے میں بھر پور تعاون پیش کیا۔ ایک کشمیری پنڈت گھرانے کی لڑکی کی دوسری شادی آگرہ میں ہوئی تو ایسا کرنے والوں کو چکبست نے مبارکباد پیش کی۔ اس تعلق سے انھوں نے بہت خوبصورت نظم کہی۔ گویا کہ ہمارے ادیب و شاعر سماجی معاملات کو ہر زمانے میں اٹھاتے رہے ہیں۔ ایسے میں حالی اور سر سید نے جو کچھ کیا وہ غیر معمولی ہے۔ سر سید نے اپنے ایک شذرات میں لکھا ہے:
’’……ہمارے وہ ہم وطن جو بیوہ عورتوں کے نکاح کوبری چیز خیال کرتے ہیں اپنے اختیار سے گویا قانون قدرت کے خلاف شرطیں ایجاد جرتے ہیں اور اس ایجاد میں وہ ایک ایسے امر کے مرتکب ہوتے ہیں جو مرضی خالق کے خلاف ہے۔ اگر وہ لوگ فی نفسہ نکاح کو برا سمجھتے ہیں تو ابتدا ئی نکاح کو بہتر سمجھ کرکیوں کرتے ہیں اور اگر وہ صرف نکاح ثانی کو معیوب سمجھتے ہیں تو نکاح ہونے کے لحاظ سے یہ نکاح اور وہ نکاح دونوں مساوی ہیں۔………علاوہ اس کے اگر ہم اس شرط کو تسلیم کریں تو ہمارے ابنائے جنس کا یہ برتاؤ اس کے خلاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرد و عورت جو اس قدرتی ضرورت میں یکساں ہیں اس ضرورت کے لوازم میں یکساں نہ ہوں۔ حالاں کہ ہم صریح دیکھتے ہیں کہ مرد کی بیس عورتیں مرجاویں تو بھی اس کو نکاح ضائز ہے اور عورت کو اگر جھوٹا نام بھی بیوگی کا لگ جاوے تو اس کے لیے یہ مصیبت ہے۔‘‘
(شذرات سرسید۔ ص،109)
سر سید نے اپنے اس مضمون میں اسی دکھتی ہوئی رگ پر قلم اٹھایا ہے، جہاں عورتوں اور مردوں کے درمیان عدم مساوات کا مقدان ہے۔ یہ بالکل جائز سوال ہے کہ جس صورت میں عورت اپنے خاوند کے ساتھ جل جائے، اس حالت میں مرد اپنی بیوی کی لاش کے ساتھ کیوں نہ جلے۔ شوہر مر جائے تو عورت کواچھوت، منحوس اور اشبھ جیسے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے، لیکن اگر کسی کی بیوی کا انتقال ہو جائے تو وہ اس سے جدا کیوں ہوتا ہے۔ حالی نے جب بیوہ کی مناجات کی لکھی تو انھوں نے اپنی اس طویل نظم میں عورت کی اسی بے بسی کو اجاگر کیا۔ ایک بیوہ عورت کی اس سے زیادہ دلدوز تصویر اور کیا پیش کی جاسکتی ہے:
اے مرے زور، اور قدرت والے
حکمت اور حکومت والے
میں لونڈی تیری دکھیاری
دروازے کی تیری بھکاری
موت کی خواہاں، جان کی دشمن
جان پہ اپنی آپ اجیرن
اپنے پرائے کی دھتکاری
میکے اور سسرال پہ بھاری
سہہ کے بہت آزار، چلی ہوں
دنیا سے بیزار چلی ہوں
دل پرمیرے داغ ہیں جتنے
منہ میں بول نہیں میں اتنے
(مناجات بیوہ۔ص، 8-9)
سر سیداور حالی نے جس طرح سے اپنی تحریروں میں سماجی مسائل کو پیش کیا ہے، وہ کسی دردمند سے ہی ممکن تھا۔ حالی نے اپنے مضمون’ہماری معاشرت کی اصلاح کیونکر ہو سکتی ہے؟‘میں معاشرے کی اصلاح کے تعلق سے جو کام ہوئے ہیں اس کو بیان کیا ہے ، اس کے اورکیا امکانات ہیں اس کی طرف بھی روشنی ڈالی ہے۔ آریہ سماج کے ممبروں نے بہت سی قدیم رسموں کو ترک کرنے میں کامیاب ہوئے ، حالی نے اس مضمون میں ان کے متعلق بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اصلاحی معاشرت میں اتنی پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، جتنا کہ سر سید کو انگریزی تعلیم کے پھیلانے میں ہوئی ہے۔ بس سر سید نے جس جذبے کو لیکر اپنے مشن کو آگے بڑھایا، کسی بھی کام کے لیے اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ حالی نے اپنے اس مضمون میں اصلاح معاشرہ کے تعلق سے اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حالی نے جہاں ایک طرف زبان وادب کی ترقی کے لیے کام کیا، وہیں اصلاح معاشرہ کا بھی سد باب ڈھوندا۔ سر سیداور حالی نے اپنی تحریروں کے ذریعے سماج کے مسائل کو پیش کیا ہے۔ یقینا ان کی یہ تحریریں ان کے دردمندی کا واضح ثبوت ہیں۔
Dr.Shahnewaz Faiyaz
H.No.1262 Zubaida Building
Near Aoliya Masjid Ghaibi Nagar
Bhiwandi Thane M.H 421302
Mob.No.+91-9891438766
sanjujmi@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ادب کے سماجی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اس سلسلے میں ڈاکٹر شاہ نواز فیاض کی تحریر بہت مؤثر ثابت ہو گی۔ ڈاکٹر صاحب نے سرسید اور حالی کی تحریروں کے سماجی محرکات کو جس عمدگی سے واضح کیا ہے، اس سے موضوع پر ان کی گرفت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ ایک عرض کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ سرسید اور حالی میں ہم عصری کے ساتھ ساتھ پیر و مرشد کا رشتہ سمجھنا چاہیے۔ سرسید فکری اعتبار سے قائدانہ صلاحیتوں کے مالک تھے، جب کہ حالی کی زندگی تقلید کی بہترین مثال ہے، لیکن ان کی تقلید بھی مثالی رہی۔ سرسید کے منصوبوں کو جن تخلیقات سے انھوں نے مدد پہنچائی، وہ بھی خاصے کی چیز ہیں۔ سرسید کے رفقا میں حالی جیسا فکری اخلاص شاید ہی کسی دوسرے میں نظر آئے۔ مضمون نگار مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اپنے موضوع کو خوب نبھایا ہے۔