سید عارف علی عارف(1958-2004شاہ آباد،رامپور) کا نام جدید شعرا میں آتا ہے۔پچاس سال سے کم دنیا میں رہنے والے اس شاعر نے اپنی پوری زندگی گمنامی میں گزار دی۔ان کو دنیا کے رخصت ہوئے دس سال سے بھی زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اب جب کہ ان کے کلام کو شائع کرنے کاا رادہ کیا گیا تو، ان کے کلام کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ انھوں نے نہ صرف ہندوستان کی مٹی سے پیار کیا ہے، بلکہ اپنی محبت کا ثبوت بھی دیا ہے۔انھوں نے اپنے کلام کے ذریعہ ایک ایسے سماج کو چھوڑا ہے، جہاں زندگی ہے، اور زندگی سے جڑے ہوئے دوسرے تمام لوازم بھی اپنی گوناگوں خصوصیات کے ساتھ قاری کے سامنے جلوہ گر ہیں۔انھوں نے غزل کے علاوہ رباعی بھی کہی ہیں، لیکن ان کی غزلیں ہی دراصل ان کی شاعری کی اصل پہچان ہیں۔ایک زمانہ وہ بھی تھا، جب غزل کو کسی مخصوص معنی میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔لیکن زمانے کی ترقی نے سب سے زیادہ ادب کی جس صنف کو وسعت بخشی، اس میں غزل سر فہرست ہے۔عارف کی شاعری کا عرفان ان کی غزل گوئی ہی ہے۔
سید عارف علی عارف کی شاعری کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے غزل کو اپنے اظہار کا بہترین ذریعہ بنایا۔انھوں نے سیدھے سادے اور عام فہم زبان میں اپنی شاعری کا تانا بانا بنا ہے۔ایک تخلیق کار ہونے کے ناطے انھوں نے زندگی اور زندگی سے جڑی ہوئی چیزوں کا بغور مشاہدہ کیا ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کی شاعری ہی کو ان کے مشاہدہ کا تتمہ کہا جا سکتا ہے۔دوستوں اور دشمنوں کے حوالے سے اردو شاعری میں بے شمار اشعار ہیں۔لیکن سید عارف علی عارف نے دوستی اور دشمنی کے حوالے سے کتنا خوبصورت مضمون اپنے شعر میں باندھا ہے۔ملاحظہ ہو یہ شعر:
اپنے دشمنوں پر میں آج رشک کرتا ہوں
دوستوں کا ہر لہجہ کتنا قاتلانہ ہے
سچ بات یہ ہے کہ دشمنی انسان کو بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔کیونکہ دشمنوں کی نگاہ ہمیشہ منفی چیزوں پر رہتی ہے۔دوستی کا جو تصور تھا،یا اس کا جو حق تھا ، وہ ادا ہی نہ ہوا۔اب دوستی کا لفظ بہت محدود معنی میں استعمال ہونے لگا ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو شاعر نے جس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے وہ کئی اعتبار سے بہت بلیغ ہے۔زمانے پر طنز کرتے ہوئے سید عارف علی عارف نے کہا ہے کہ:
کیا خلوص و الفت سے پہلے لوگ ملتے تھے
وہ بھی اک زمانہ تھا یہ بھی اک زمانہ ہے
درج بالا شعرکو اگر بغور پڑھا جائے تو ایک طرح سے انسانیت کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔سچ بات یہ ہے کہ ایک زمانہ وہ تھا، جب لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے اس طرح سے سامنے آتے تھے، جیسے اس کا اپنا ہو۔کوئی کہیں اپنے ملک سے باہر جا رہا ہو تا تو گاؤں کے لوگ اسے پہنچانے جاتے تھے۔اس سے اپنی غلطیوں کی معافی چاہتے تھے، اور بے پناہ دعاؤں کے ساتھ اسے رخصت کرتے تھے۔ایسا صرف اس لیے تھا کہ لوگوں میں اپنا پن تھا۔اور انسانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایک دوسرے سے محبت سے ملیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھیں۔زندگی ختم ہو جاتی ہے لیکن لوگوں کے دلوں میں، چلے جانے والے لوگ اس لیے زندہ رہتے ہیں کہ ان کے رہنے سے زندگی کا مقصد پتا چلتا تھا۔مصرع ثانی میں جس طرح سے اشارے اشارے میں پہلے اور موجودہ زمانے کے فرق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعر کو اپنی روایت سے کتنا لگاؤ تھا۔موجودہ سماج میں غریبی اور امیری نے اتنا فاصلہ پیدا کر دیا ہے کہ کچھ بھی ہوتا ہے، غریب یا سماج کا دبا کچلا شخص خود بخود مصیبت کی آہٹ کو پہچان لیتا ہے۔اس تناظر میں سید عارف علی عارف کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
برق پھر نشیمن کو آج پھونک ڈالے گی
سب سے اونچی ڈالی پر میرا آشیانہ ہے
اس شعر کو جتنی بار پڑھا جائے اتنا ہی الگ معنی پیدا ہوگا۔اصل بات یہی ہے کہ ایک تھوڑی سی بات پر لوگ ایک دوسرے کی جان پر بن آتے ہیں۔غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ’برق پھر نشیمن کو‘ سے کتنے معنی نکالے جا سکتے ہیں۔موجودہ حالات کے پیش نظر کتنا سچااور بر محل یہ شعر ہے۔دوسرے مصرعے میں جو کچھ کہا گیا ہے بظاہر اس میں بڑائی لگتی ہے، لیکن غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں سب سے اونچی ڈالی کہا گیا ہے، جو ڈال سب سے اونچی ہوتی ہے، وہ اتنی ہی کمزور ہوتی ہے۔اس لیے یہ کہا جاسکتاہے کہ سید عارف علی عارف کو اپنے فن پر پورا عبور حاصل تھا۔ایک شخص زندگی کی کچھ ہی فصل دیکھنے کے بعد دنیا سے رخصت ہو گیا۔زندگی نے اگر وفا کی ہوتی تو اردو شاعری کے افق پر چمکتا نظر آتا ، لیکن انھوں نے جو کچھ بھی سرمایہ چھوڑا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رواداری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ان کے یہاں آدمیت کا جو تصور ہے، وہی ان کو بڑا بناتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ آج ہم جس حالات سے گزر رہے ہیں کل وہ نہیں رہیں گے۔اس لیے اکڑکر نہیں رہنا چاہئے۔آج ہم اپنے بزرگوں کی عزت و احترام کریں گے تو کل جب ہمارا وہ وقت آئے گا تو ہم بھی عزت و احترام سے دیکھے جائیں گے۔لیکن افسوس کہ اب تو اولاد اپنے بزرگ والدین کی عزت نہیں کرتے، ان کی دیکھ بھال سے گریز کرتے ہیں تو اور پھر کیا کہا جائے۔اس ضمن میں سید عارف علی عارف کا یہ کہنا کہ:
پگڑیاں بزرگوں کی مت اتاریے سر سے
آئینے کا رخ شاید آپ پر بھی آنا ہے
آج ہی گناہوں سے توبہ کیجئے عارفؔ
ایک دن تمہیں اپنا، رب کو منہ دکھانا ہے
سید عارف علی عارف کی شاعری کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں انسانیت اور بھائی چارہ کے مضامین زیادہ واضح طور پر ہیں۔سماج کے ہر فرد پر یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اپنے اعتبار سے سماج کی تشکیل نو میں اپنا کرداراداکرے۔سید عارف نے اپنے اشعار کے ذریعے سماج میں ایک اچھا پیغام دینے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ انھیں جہاں بھی محسوس ہوا کہ یہ سماج کے لیے غلط ہے اس کی طرف اشارہ ضرور کیا ۔ لیکن اس کے انجام کا اندازہ انھیں ہے، اسی لیے کہا ہے کہ ’بولتا ہوں تو زمانے کو برا لگتا ہے۔‘ سید عارف علی عارف نے آسان لفظوں کا انتخاب کیا ہے۔تاکہ ہر عام و خاص ان کے کلام سے محظوظ ہو سکے۔اس ضمن میں چند اشعار ملاحظہ ہوں:
شکل و صورت سے تو ہر شخص بھلا لگتا ہے
اچھا انسان پرکھنے سے پتا لگتا ہے
اپنے اپنے ہی مفادات پر سب مرتے ہیں
آج کل کوئی کسی کا نہ سگا لگتا ہے
دیکھتا ہوں تو ان آنکھوں میں کھٹک ہوتی ہے
بولتا ہوں تو زمانے کو برا لگتا ہے
سید عارف علی عارف نے رباعیاں بھی کہی ہیں۔اور ان کی رباعیوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہی مضمون ان کی رباعیوں میں بھی ہے۔ان کی ایک رباعی ملاحظہ ہو:
جو ہر کسی سے دعا اور سلام رکھتا ہے
وہ شخص الگ اپنا اک مقام رکھتا ہے
اسی کا دنیا میں خانہ خراب ہوتا ہے
جو دل میں اپنے حسد انتقام رکھتا ہے
انسان دنیا میں بس کچھ وقت کے لیے ہی آتا ہے۔جو آتا ہے اسے جانا بھی ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ہر کسی کو سامنا کرنا ہے۔دنیا کو تو ’متاع چند روزہ‘ کہا گیا ہے۔ایسے میں ہم اگر میل محبت سے اپنی زندگی کزر بسر کریں تو خود کے ساتھ ساتھ سماج کے لیے بھی اچھا ہے۔اگر کوئی ایسا نہیں کرتا ہے تو سماج میں اسے اچھا کہنے والا کوئی نہیں ہوگا اور ہمیشہ کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار بھی رہے گا۔آخر دو مصرعے میں شاعر نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
موجودہ سماج میں ایک برائی یہ بھی ہے کہ اگر کوئی غریب ہے، چہ جائے کہ وہ اپنا کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو،لوگ اس سے اس لیے بچتے ہیں کہ کہیں کچھ مطالبہ نہ کر لے۔ اس لیے اپنے ہوتے ہوئے بھی اپنے نہیں ہوتے۔لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ صد فیصد لوگ ایسے ہیں۔ہاں اچھے لوگوںکی تعداد بلا شبہہ کم ہے؛ لیکن اچھے لوگ ہر حال اب بھی ہمارے سماج میں ہیں۔کیونکہ یہ ملا جلا ماحول اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لوگوں میں اب بھی میل محبت باقی ہے۔ ہاں کچھ ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف ہر کسی نے کیا ہے، کوئی لفظوں کے ذریعہ کرتا ہے تو کوئی محسوس کر کے رہ جاتا ہے۔ایک تخلیق کار ہونے کی حیثیت سے دیکھا جائے تو سید عارف علی عارف کا مشاہدہ بہت گہرا ہے۔ان کے مشاہدے میں گہرائی اور گیرائی دونوں ہے۔انھوں نے جو کچھ محسوس کیا ، اسے بے کم و کاست بیان کر دیا ۔انھوں نے سماج پر بھی طنز کیا ہے اور اپنوں پر بھی ۔اس ضمن میں ان کی یہ رباعی ملاحظہ ہو:
دیکھ کر دور سیاہ بختی گرانی آجکل
پھیر لیتے ہیں نظر سب خاندانی آجکل
اپنے مطلب کے لئے ہمدرد ہیں میرے مگر
کون کرتا ہے کسی پر مہربانی آجکل
سید عارف علی عارف نے خالص غزلیہ شاعری کا بھی بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔اس انداز کے ان کے چند اشعار ملاحظہ ہو:
نظروں کو ملا کر تم نظروں کو چراتے ہو
تم اپنی محبت کو کیوں ہم سے چھپاتے ہو
نزدیک میرے آکر تم دور ہو جاتے ہو
اک بار ہنس کر تم سو بار رلاتے ہو
کچھ صبر مجھے آئے کچھ دل کو تسلی ہو
تدبیر کرو ایسی کیوں مجھ کو ستاتے ہو
جب ہم سے بچھڑنے کا احساس نہیں تم کو
چھپ چھپ کے اکیلے میں کیوں اشک بہاتے ہو
ہر ایک جواں دل کا پھنس جانا ضروری ہے
اس طرح ادائوں کے تم جال بچھاتے ہو
راتوں کو اندھیرے میں جب نیند نہیں آتی
ہم دیپ جلاتے ہیں تم دیپ بجھاتے ہو
بحیثیت مجموعی کہا جا سکتاہے کہ سید عارف علی عارف کے کلام کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے سماجی معاملات کو اپنی شاعر ی میں برتاہے۔ ان کی شاعری میں زندگی ہے اور جینے کے نئے نئے طریقے بھی۔وہ سماج میں اتحاد کا پیغام دینا چاہ رہے ہیں۔انھوں نے اپنی شاعری کا خاص موضوع بھائی چارے اور انسانیت کو بنایا ہے؛اور ان کی پوری شاعری اسی کے ارد گرد نظر آتی ہے۔فنی اعتبار سے بھی ان کاکلام موزوں ہے؛ البتہ کہیں کہیں ان کی شاعری میں روانی نظر نہیں آتی ہے، جو ان کی بیشتر غزلوں میں ہے۔انھوں نے زندگی کو ایک نئے طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔موجودہ سماج میں جو کچھ چل رہا ہے وہ اس سے الگ اپنی تہذیب اوراپنی قدروں کے ساتھ جینا چاہ رہے ہیں۔ان کی شاعری اچھے سماج کا آئینہ کہی جا سکتی ہے ۔اس مجموعے کی اشاعت پر مرتب مبارکباد کے مستحق ہیں۔انھوں نے اس مجموعے کو شائع کرنے کا جو بیڑہ اٹھایا ہے، اس سے ان کی ادب نوازی کا بھی ثبوت ملتا ہے۔
نوٹ۔ مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں گیسٹ ٹیچر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

