Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

جدید افسانہ اور سریندر پرکاش-رخسار پروین   

by adbimiras ستمبر 2, 2020
by adbimiras ستمبر 2, 2020 0 comment

افسانہ ایک ایسی صنف ہے جو مشرق و مغرب دونوں میں یکساں طور پر مقبول رہی ہے اور ہے۔ اردو میں افسانہ نگاری کا آغاز بیسویں صدی سے ہوا۔ منشی پریم چند اور سجاد حیدر یلدرم نے سب سے پہلے اردو ادب میں افسانے کے اولین نمونے پیش کیے اورموضوع و تکنیک کے لحاظ سے مختلف قسم کے افسانے تخلیق کرتے رہے۔ بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی اردو افسانے نے جو مقبولیت حاصل کرنی شروع کی تھی اس میں آہستہ آہستہ ترقی ہوتی گئی اور تیسری دہائی میں قدم رکھتے ہی اردو افسانے اردو کے نثری ادبی منظر نامے پر اردو نثر کی سب سے مقبول و معروف صنف ہونے کی حیثیت حاصل کر لی۔

اس دوران بہت سے انقلابات بھی رونما ہوئے جنھوں نے اردو افسانے کو بے حد متاثر کیا اور انہیں اثرات کے تحت ’’انگارے‘‘ کی اشاعت ہوئی۔ انگارے کی اشاعت نے جہاں ایک طرف حقیقت پسند رجحان اور باغیانہ تیور کا چراغ روشن کیا وہیں ترقی پسند ادبی تحریک نے اردو افسانے میں انسانی زندگی کے تمام تر معاملات و مسائل کو پیش کر کے اردو افسانے کو آفتاب کے مانند منور کر دیا۔ اس طرح اردو ادب میں یکے بعد دیگرے مختلف تحریکیں ابھرتی رہیں اور اسی کے پیش نظر ۱۹۵۰ کے بعد ہی اردو ادب میں جدیدیت کی صدا بلند ہوئی۔ جدیدیت کی تحریک یا رجحان ۵۶۔۱۹۹۵ کے درمیانی عرصے میں سامنے آیا اور یہ رجحان بنیادی طور پر نظم گوئی کی تحریک سے عبارت تھا لیکن اس نے اردو افسانے کو بھی حد درجہ متاثر کیا۔ لہٰذا اس کا ظہور کسی طے شدہ منصوبے کے تحت نہیں بلکہ ایک مسلسل تدریجی عمل کے ذریعے ہوا، اس لیے یہاں سیاسی و سماجی حالات بھی محرک بنے، عالمی منظر نامہ بھی اور علمی و ادبی سطح پر مجموعی صورتحال بھی۔ جدیدیت ایک ایسی اصطلاح ہے جس کو کسی ایک زاویے سے بیان کرنا ممکن نہیں۔ جدیدیت کے لیے معاصریت یا بغاوت کی اصطلاحیں بھی استعمال کی جاتی رہی ہیں۔ انفرادیت اورنئی معنویت بھی، اجتہاد اور آزادہ روی بھی لیکن جدیدیت کی ہمہ گیریت میں یہ تمام زاویے گھل مل جاتے ہیں اور عصری صداقتوں کے تابع رہ کر اپنی پہچان کراتے ہیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:-

’’جدیدیت ہر دور میں ابھرتی ہے جو علمی انکشافات کے اعتبار سے ہنگامہ خیز اور روایات و رسوم کی جکڑ بندیوں کے باعث رجعت پسند ہوتا ہے۔ کسی بھی زمانے میں اہل فن کی مشترکہ کوششیں جو اجتہاد اور تخلیقی برانگیختگی اور احساس کرب سے عبارت ہوتی ہیں، جدیدیت کانام پاتی ہیں۔ علاوہ ازیں جدیدیت میں سماجی شعور، روحانی ارتقاء، تہذیبی نکھار اور تخلیقی سطح بھی شامل ہوتی ہے۔‘‘

(ڈاکٹر وزیر آغا، نئے مقالات، مکتبہ اردو زبان، سرگودھا، ۱۹۷۲، ص۴۱)

ترقی پسند تحریک کی طرح جدیدیت کی تحریک بھی وقت کے تقاضے کی تکمیل ہے کیونکہ ۷۰۔ ۱۹۶۰ کی دہائی انتشار، خوف، تنہائی اور ذات کے بکھرائو سے منسوب رہی۔ لہٰذا جدیدیت کے افسانہ نگاروں نے خارجیت پہ داخلیت اور سماج پہ فرد کے مسائل کو شدومد کے ساتھ پیش کیا اور یہ بات بھی سچ ہے کہ ادب میں جب جب جمود طاری ہوا ہے تب تب ادب میں ایک بڑا بدلائو رونما ہوا ہے جس کے زیر اثر مختلف تحریکیں ابھریں۔ کبھی نظم نگاری کی تحریک سامنے آئی تو کبھی علی گڑھ تحریک نمودار ہوئی، اسی طرح رومانویت اور ترقی پسند ادبی تحریک نے ادب میں نئے باب کا اضافہ کیا اور نئے نئے میلانات و رجحانات سے اردو ادب کے دامن کو ثروت مند بنایا۔ اس کے بعد جدیدیت کے تحریک ظہور پذیر ہوئی اور جدیدیت کا رجحان ادب میں پیدا ہوا جس نے اس بات پر زور دیا کہ ذاتیات یا داخلی معاملات ہی سب کچھ ہیں۔ اس تحریک کے تحت تنہائی، ذاتیات یا داخلیت اور ابہام وغیرہ پر زیادہ زور دیا گیا اور علامتی اور استعاراتی افسانے لکھنے کا رواج عام ہوا۔ لہٰذا ۱۹۷۰ تک آتے آتے ہوا کا رخ پھر تبدیل ہونے لگا اور ما بعد جدیدیت کی تحریک نمو پذیر ہوئی اور اب افسانوں نے پھر سے قاری سے رشتہ جوڑنا شروع کیا چنانچہ آٹھویں دہائی میں افسانہ ابہام سے دامن بچاتے ہوئے زیادہ با معنی، مؤثر کن اور عمدہ مواد کی توانائی کا حامل ہو کر ابھرا۔ افسانے کے نئے طرز احساس کے سلسلے میں انتظار حسین ایک مضمون میں لکھتے ہیں:-

’’جب ہم نئے طرز احساس کی بات کرتے ہیں، اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ جن مختلف سطحوں پر ظاہر اور باطن میں تبدیلی پیدا ہو رہی ہے اور نئے اندیشے، نئی بصیرتیں اور نئے غم جاںکو لگے ہیں اور جو بھولی باتیں یاد آئی ہیں انھیں اس طرح جاننا پہچاننا کہ ان کے بارے میں، خود اپنے بارے میں نئی آگاہی پیدا ہو اور اس طرح قبول کیا جائے کہ آگاہی سوچنے اور محسوس کرنے کے انداز میں گھل مل جائے… … نئے افسانہ نگار کا قاری سے رشتہ اس آسانی سے قائم نہیں ہو سکتا جس آسانی سے پچھلے دور کا افسانہ نگار اپنے قاری سے قائم کر لیتا تھا۔ اس دور کے افسانہ نگار کا چیزوں کے بارے میں ردّعمل سیدھا سادا جذباتی قسم کا تھا۔ جذباتی سطح پر رشتہ گھڑیوں میں قائم ہوتا ہے اور چٹکیوں میں ختم ہوجاتا ہے۔ نیا طرزِ احساس، افسانہ نگار کا قاری کے ساتھ اس سطح پر رشتہ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، جہاں آدمی کے ظاہر و باطن اکٹھے ہوتے ہیں۔‘‘

(جدید افسانہ: اردو، ہندی، طارق چھتاری، ص۲۰۷)

۱۹۶۰سے ۱۹۷۰ تک اردو میں علامتی اور استعاراتی افسانے لکھنے کا رواج عام ہوا یعنی ساتویں دہائی میں نئے رجحانات، نئی تعبیر اور نئے تقاضوں سے اردو افسانے کو روشناس کرایا گیا۔ اس دہائی میں یعنی ۱۹۶۰ کے بعد اردو میںایک ساتھ دو رجحان کام کر رہے تھے جس کے تحت ایک رجحان کے علمبردار وہ تھے جنھوں نے شدت پسند تجریدی افسانوں کی تخلیق کی اور دوسرے رجحان کے نمائندے وہ فنکار تھے جنھوں نے سماجی خارجیت کے موضوعات کو اپنے افسانوںمیں جگہ دینے کے ساتھ ساتھ فن اور ہیئت کے تجربے بھی کیے اور اسی بنا  پر وہ جدید کہلانے کے مستحق ہوئے چنانچہ اس دور کے افسانہ نگاروں نے سماج کے مسائل و معاملات اور احتجاجی شعور کی وکالت کرنے کے بجائے زندگی کے داخلی مسائل اور فرد کی ذات کو اپنے افسانوںکاموضوع بناتے ہوئے عالمی پیمانے کے افسانے تخلیق کیے جس کے پیش نظر علامتی، استعاراتی، تجریدی اور تمثیلی کہانیاں منظرِ عام پر آئیں اور ان نئی کہانیوں میں فرد کے باطن کو اہمیت دی گئی اور افسانوں میں اپنے ہی باطنی تجزیوں کی شدت، خواہشات، اضطراب اور خوابوں خیالوںکی ہیبت ناک فضا میں غیر یقینی اور مبہم مستقبل کی مایوسیوں، حال کی محرومیوں اور ماضی و اساطیر کی بنیادوں کی تلاش وغیرہ پر زور دینے کی کوشش کی گئی۔ لہٰذا اس سلسلے میں علامتی افسانے کثرت سے لکھے جانے لگے اور جب اردو افسانوںمیں علامت کا چلن عام ہوا تو جدید افسانے کو معنوی اور موضوعی دونوں اعتبار سے پھلنے پھولنے کا موقع ملا اس ضمن میں ڈاکٹر اعجاز راہی تحریر فرماتے ہیں:-

’’نئے اردو افسانے نے زندگی کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی روایت قائم کی اور اس کے لیے اس نے نہایت توانا نامیاتی اسلوب اور ڈکشن کو استعمال کیا، جس میں نئے موضوع و کردار کو زندہ پیکروں میںمجسم کرنے والی پوری صلاحیت اور اس کے اندر غیر مرئی قوت کا ایک بے  پایاں استدلال اور وسعت موجود تھی۔ چنانچہ معنیاتی انسلاکات واستدراک کے لیے استعاراتی، علامتی، تمثیلی اور پیکری تہہ در تہہ محاکات کا تخلیقی محاکمہ نئے افسانے کے اسلوب اور بنت کا حصہ بنے… … یہ سارے عناصر مل کر نئے افسانے کو اظہار کے لیے ایک وسیع کینوس مہیا کرتے ہیں۔‘‘

(ڈاکٹر اعجاز راہی، ’’اردو افسانے میں اسلوب کا آہنگ‘‘ ص۵۶‘‘)

اس دور کے اکثر جدید افسانے علامت تمثیل اور تجرید کے مرکب نظر آتے ہیںلہٰذا اس دور میں عموماً غیر وابستگی سے متعلق کہانیاں لکھی گئیں جس میں عام طور سے دوسری ذات کی تلاش ، باطن کی دریافت اور لاشعور کی ان دیکھی دنیائوں کی تصویر کشی کی گئی۔ تجرید، مایوسی، محرومیت، علامت، نئے تلازمات، تنہائی، خود کلامی اور باطن کے کرب وغیرہ کو اہمیت دی گئی اور اس علامتی و تجریدی اظہار کے لیے داستان، حکایت، اساطیر اور دیو مالا وغیرہ سے ماخود کردار و واقعات پیش کرنے پر توجہ دی گئی اور انھیں موجودہ زندگی سے ہم آہنگ کر کے نئی علامتیں تخلیق کی گئیں۔ چنانچہ اس پورے دور میں انتظار حسین اور سریندر پرکاش دو ایسے نمائندہ تخلیق کار ہیں جنھوں نے نسلِ آدم کی داستان کو مکمل کرنے کے لیے وقت کے پہیئے کو کبھی آگے اور کبھی پیچھے گھمایا ہے۔ ان دونوں کا تعلق بیک وقت مستقبل کے امکانات اور ماضی کی جگ بیتی سے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں جاتک کتھائو، متھوں، پنچ تنتر کی کہانیوں اور ویدوں کے وہ موضوعات اور کردار بار بار برتے جاتے ہیں جو زندگی کے معنی کو سمجھانے میں کلیدی کردار اداکر سکتے ہیں۔ ماضی بعید سے مواد و موضوعات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ماضی قریب کے کرداروں کو بھی خاطر میں لانا ان کا شیوہ ہے، مثال کے طور پر ’’بجو کا‘‘ میں پریم چند کا تخلیق کردہ کردار ہو ری۔ لہٰذا اس سلسلے میں سریندر پرکاش کا نام صف اول میں شمار کیا جاتا ہے جن کا نام جدیدیت کی دنیا  میں بہت مشہور و مقبول ہوا ہے۔ سریندر پرکاش اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں میں کئی طرح سے امتیاز رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ہم عصروں کی نسبت اساطیر سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کے افسانوں پر ہندوستان کے ماضی بعید کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ وہ اکثر اپنے افسانوں کے ذریعہ داخلیت سے خارج کی طرف قدم بڑھاتے ہیں جس کی سب سے عمدہ مثال ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ ہے۔ مہدی جعفر سریندر پرکاش کے حوالے سے لکھتے ہیں:-

’’ساتویں دہائی کے اوائل سے ہی سریندر پرکاش نے اسطور سازی کا ثبوت دیا ہے۔ انھوں نے ’’جپی ژاں‘‘ میں اسطوری تجسیم کی سعی کی ہے اور ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ میں اسطوری ماحول کی کامیاب عکاسی کی ہے۔ دونوں میں قدیم و جدید کا تصادم ملتا ہے۔ آٹھویں دہائی کے اواخر میں ان کا افسانہ ’’بجوکا‘‘ بھی مافوق البشر کیفیت سے مملو ہے۔ طرہ یہ کہ ’’بجوکا‘‘ میں جان بھی پڑ گئی ہے۔ سریندر پرکاش کا اسطور ان کے سارے افسانے پر چھایا رہتا ہے۔‘‘

(معیار، دہلی، شمارہ۳، ص۱۸۸)

سریندر پرکاش نے نہایت عمدہ اور شاہکار افسانے تخلیق کیے ہیں۔ انھوں نے ذاتی علامتیں تشکیل کر کے عصری ماحول و معاشرے کے ذہنی مسائل جیسے احساس تنہائی، کرب، عدم  تحفظ، بے چہرگی، بے ستمی وبے معنویت، اخلاقی و رومانی زوال، تشکیک اور ہجرت جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی جبر، معاشی عدم مساوات وغیرہ کے بیان میں بھی باطنی انتشار، مایوسی و محرومیت وغیرہ مسائل کو کہانیوں کاموضوع بناتے ہوئے اپنے افسانوں کے دامن کو ثروت مند بنایا۔ چنانچہ سریندر پرکاش جدید افسانے کا ایک اہم نام ہے انھوں نے چند ایسے افسانے تخلیق کیے ہیں جن کی چمک دمک عرصے تک باقی رہے گی۔ مثال کے طور پر دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم، جپی ژاں، بجوکا، گاڑی بھررسد، برف پر مکالمہ، سرنگ، جمغورہ الفریم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان کے افسانے جدیدیت سے سرشار اور ہندوستان کے قدیم کلچر سے بھرپور ہیں اور ان افسانوں پر ہندوستان کے ماضی بعید کی گہری چھاپ نظر آتی ہے اور ساتھ ہی افسانوںمیں تاریخی حیثیت بھی ایک الگ پیکر اختیار کر لیتی ہے۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ سریندر پرکاش کے افسانوں کے متعلق فرماتے ہیں:

’’سریندر پرکاش نے جدید انسان کے ذہنی مسائل کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ اس کی کہانیاں زبان و بیان کے ایجاز اور تہہ در تہہ علامتوں کی معنویت کی وجہ سے ممتاز ہیں۔ وہ بظاہر نہایت سادہ زبان استعمال کرتا ہے جیسے کوئی روانی سے بے تکلف لکھے جا رہا ہے۔ لیکن ہر سطر گہرے غور و فکر کا نتیجہ ہوتی ہے اور چند ہی جملوں کے بعد احساس ہونے لگتا ہے کہ پڑھنے والے کو ذہنی چیلنج کا سامنا ہے۔ سریندر پرکاش کے افسانوں کا تانابانا خواب اور بیداری کے بیچ کی کیفیتوں سے تیار ہوتا ہے… … سریندر پرکاش کے افسانوں میں لفظوں کے لغوی اور منطقی معنوں کے پیچھے ایک اورجہانِ معنی آباد نظر آتا ہے۔ وہ استعاروں کے جال سے علامتی معنوں کی ایک وسیع اور روشن فضا قائم کر دیتا ہے۔ اس کی ذہنی پرچھائیاں اجلی، نمایاں اور متحرک ہوتی ہیں اور واقعات کا ایک دریا سا اپنے حسن اور فکری اُتار چڑھائو کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ لغوی معنی سے پرے دیکھ سکنے والوں کے لیے سریندر پرکاش کے افسانوں میں داستان کی سی واقعیت اور قصے کی سی کشش ہے۔‘‘

(جدیدیت کی سیر، حیات اللہ انصاری، ص۶۵)

مذکورہ دعووں کی دلیل پیش کرنے کے لیے سریندر پرکاش کے چند نمائندہ افسانوں کا تجزیہ کرنا نامناسب نہیںہوگا۔ ان تجزیوں سے نہ صرف یہ کہ سریندر پرکاش کے تخلیقی سروکار اور طریقۂ کار پر روشنی پڑے گی بلکہ ان کے ذریعہ برتے گئے موضوعات کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوگا۔ اپنے معاصرین میں سریندرپرکاش کا امتیاز اس بنیاد پہ قائم ہوا ہے کہ وہ اپنے افسانوں کے موضوعات اورموضوعات کے لحاظ سے اسلوب کا انتخاب بڑی دقت نظر اور باریک بینی سے کرتے ہین۔ ’’جمغورہ الفریم‘‘، ’’دوسرے آدمی کا ڈڑائنگ روم‘‘، ’’گاڑی بھر رسد‘‘، ’’برف پر مکالمہ‘‘ اور ’’بجوکا‘‘ ’’جپی ژاں‘‘، ’’خواب صورت‘‘، ’’رونے کی آواز‘‘ وغیرہ اس کی نمائندہ مثالیں ہیں۔باز تخلیقات کے تحت ماضی بعید کے واقعات کو عصری تناظر میں پیش کرنے پر ایک نوع کا تعلق قائم کرنا پڑتا ہے۔ وہ تعلق موضوع، ہیئت، اسلوب، کسی بھی سطح پر استوار کیا جا سکتا ہے لیکن ماضی قریب کے واقعات کو کرداروں یا کسی مخصوص کردار کے ذریعہ ایک سلسلے کی صورت میں پیش کرنا لازم معلوم ہوتا ہے جیساکہ ’’بجوکا‘‘ میں ہوا ہے۔

ہرچند کہ ’’بجوکا‘‘ کے ’’ہوری‘‘ کا تعارف ایک کسان کی حیثیت سے ہوا ہے لیکن اس کے حالات ’’گئودان‘‘ والی صورت سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ مگر ہوری کی سوچ میں اک ذرا سی تبدیلی بلکہ جو خوش فہمی پیدا ہو گئی ہے کہ اب نہ اہلمند کی دھونس ، نہ بنیئے کا کھٹکا، نہ انگریزکی زور زبردستی اور زمیندار کا حصہ، سکون سے کھیتی کرو، فصل اگائو اور کاٹ کر پوری فصل گھر لائو، پھرچارپائی پر بیٹھ کر آرام سے کھائو گویا ہوری بھی انہیں عوام میں سے ایک ہے جو یہ سوچے بیٹھے تھے کہ ملک آزاد ہوگا تو ہمیں بھی پوری آزادی مل جائے گی اورہم ہر قسم کے استحصال سے بری ہو کر جئیں گے مگر اس کا بھرم تب چکنا چور ہو جاتا ہے جب اس کے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہوا ’’بجوکا‘‘ ہی اس کی فصل سے ایک چوتھائی کاٹ لیتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’بجوکا‘‘ ہے کون؟ بجوکا سے ہمارا تعارف یوں ہوتا ہے۔ وہ بانس کا بنا ہوا ہے، اس کے جسم پر ’’انگریز شکاری‘‘ کے کپڑے اور سرپر ٹوپا ہے۔ اس کا چہرا ہوری کے گھرکی بیکار ہانڈی سے بنا ہے۔ اور یہ بے جان پتلے میں جان کہاں سے آئی؟ ظاہر ہے کہ ’’انگریز شکاری‘‘ برطانوی حکومت کی علامت ہے اور ’’بجوکا‘‘ ہمارے ملکی نظام کی۔ گویا بقول فیض ’’یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر‘‘ والا معاملہ ہونے کے باوجود ہوری نے جاتے جاتے ایک راستہ ضرور دکھایا ہے کہ اب ہم کوئی بجوکا بنانے کے بجائے خود بجوکا بن جائیں گے۔ لیکن سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا اس سے نظام میں کوئی تبدیلی آئے گی یا پھر ہوری ایک نئے ’’بجوکا‘‘ کے اوتار میں جنم لیگا؟ سریندر پرکاش نے اس پیچیدہ مسئلے کو اپنے طریق سے قدرے مختلف انداز یعنی سادہ بیانی میں پیش کیا ہے۔

چنانچہ سریندر پرکاش نے پریم چند کے ناول ’’گئودان‘‘ کے کردار ’’ہوری‘‘ اور راجندر سنگھ بیدی کے ’’بھولا‘‘ کی کہانی کو آگے بڑھا کر ذاتی اسطور کی تخلیق کی ہے۔ انھوں نے ’’بجوکا‘‘ میں بجوکا کو جو محض کپڑوں سے بنتا ہے اور پرندوں کو کھیتی سے دور رکھنے کے کام آتا ہے، ایک فوق الفطری عنصر دے دیا ہے۔ ڈاکٹر نگہت ریحانہ خان نے اس افسانے کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے عصری اور اسطوری دونوں پہلوئوں سے دیکھا ہے وہ اس افسانے کے بارے میں یوں تحریر فرماتی ہیں:-

’’بجوکا ایک اسطوری کردار ہے جومافوق البشر کیفیات کامظہر ہے جب وہ ڈرامائی اندازمیں ہوری کے کھیت میں فصل کاٹتا دکھائی دیت اہے تو نہ صرف ہوری اور اس کے خاند ان کے لوگ بلکہ قارئین بھی حیران و پریشان ہو جاتے ہیں اور یہ محسوس کرنے لگتے ہیں جیسے ہوری کے کھیت میں ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے میں بلکہ پورے معاشرے ہی نہیں بلکہ ملک کے کونے کونے میں اس قسم کے مافوق البشر وجود پیدا ہو گئے ہیں۔‘‘

(اردو مختصر افسانہ، فنی و تکنیکی مطالعہ، ص۲۸۳)

’’برف پر مکالمہ‘‘ میں بھی ذاتی اسطورہ مچھلی کے حوالے سے بنائی گئی ہے ۔ سمندر جو برف بن چکا ہے، ماحول جس نے برف اوڑھ رکھی ہے وہاں پہاڑ جنھوں نے برف کا لباس پہن لیا ہے۔ یہ برف کیسے پگھلے گی۔ مکالمے کی گرمی اور فکر کی حدت اسے پگھلانے میں کامیاب ہوگی۔

’’کئی صدیاں بیت گئیں۔ تب یہاں برف نہ تھی، سمندر تھا اور ہم سب اس کے بے کرانی میں مچھلیوں کی طرح تیرتے پھرتے تھے ایک دن کی بات ہے میں اپنے زعفرانی لباس میں سمندر کے بازار میں سے گزر رہا تھا کہ ایک نوجوان مچھلی نے مجھے روکا میرے سنہری بازوئوں کو بوسہ دیا اور بڑی تعظیم سے پوچھا۔

’’یہ پانی کہاں سے آتا ہے؟‘‘

میں سوچ میں ڈوب گیا اور میرے سنہری پرجھڑ گئے، پھر سمندر کا پانی برف میں تبدیل ہونے لگا اور سارا بازار ویران ہو گیا۔ تب سے میں اس کھوہ میں بیٹھا برف کے پگھلنے کا انتظار کر رہا ہوں، کب برف پگھلے اور کب میرے بازو مجھے واپس ملیں۔‘‘

(برف پر مکالمہ، ص۱۲۰)

’’گاڑی بھر رسد‘‘ بھی سریندر پرکاش کا مقبول و معروف افسانہ ہے جس میںمہا بھارت کے واقعاتی پس منظر کا بیان ہے سریندر پرکاش نے ’’گاڑی بھر رسد‘‘ میں مہابھارت کے بکاسر والے واقعے کو عصری تناظر میں پیش کیا ہے جس کے پیش نظر یہ پورا افسانہ ظلم و جبر اور استبداد و مظلومیت کا استعارہ بن جاتا ہے۔ اس کہانی کی خوبی یہی ہے پوری کہانی میں کہیں بھی بکاسر کا ذکر نہیں ہے مگر ابتدا سے انتہا تک بکاسر کا ڈر اور دہشت پوری کہانی پر ایک خوفناک سایے کی طرح چھائی رہتی ہے۔ کہانی میں کہیں مہابھارت کا حوالہ نہیں ہے لیکن کہانی کا مطالعہ کرتے وقت قاری خود کو مہابھارت کی فضا میں کھویا ہوا محسوس کرتا ہے لیکن جب پروہت کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ ہزاروں برس پہلے اس کے ساتھ یہ طے ہو گیا تھا کہ وہ ہمارے گائوں پر کوئی آفت نہیں ڈھائے گا بلکہ قدرت اور انسانوں کے قہر سے ہماری حفاظت کرے گا۔ یہ معاہدہ ہمارے لیے محض ایک متبرک رسم کی صورت اختیار کر گیا ہے تب اچانک قاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ مہابھارت کی نہیں بلکہ ہمارے اپنے عہد، اپنی بستی اور آس پاس کے ماحول کی کہانی ہے، جہاں حکومت کا جبر اور مذہب کا قہر آج بھی بکاسر کی شکل میں عام آدمی کی جان کا خراج وصول کرتا ہے۔ اس طرح سریندر رکاش نے بکاسر کے استعارے کو اپنے افسانے میں نئے اور عصری انداز میں برتا ہے۔

’’بن باس ۸۱‘‘ سریندر پرکاش کا معرکۃ الآرا فسانہ ہے جس میں رام اور سیتا کی کہانی کو پورے فنی خلوص کے ساتھ دوبارہ خلق کیا گیا ہے، ساتھ ہی ساتھ اپنی عصری صورتحال کا سیاق و سباق بھی بین السطور پیدا کر دیا گیا ہے، کہانی میں فنی حسن پورے عروج پر ہے۔ اس کہانی کے سارے واقعات کومکمل درامائی آہنگ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اور کہانی کے دوسرے حصے میں عصری صورتحال کہانی کے اندر بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنا وجود ظاہر کرتی ہے۔

’’جپی زاں‘‘ بھی سریندر پرکاش کے بہترین افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس افسانے میں بھی اساطیری جہات کے ذریعہ علامت کا تانا بانا بنایا گیا ہے اور افسانے کا کردار ’’جپی زاں‘‘ مکمل طور پر اسطوری شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ ’’جپی زاں‘‘ قدیم ہندوستان کی شکل میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور عصری ماحول میں اس کی شکشت و ریخت ایک تضاد کو جنم دیتی ہے۔ سریندر پرکاش نے ’’جپی زاں‘‘ کو ذات کی شکستگی کا استعارہ بنا کر پیش کیا ہے۔ کہانی کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:-

’’ہم میں سے جو سب سے بوڑھا تھا سب سے سمجھ دار تھا، وہ بتانے لگا۔ ’’جپی زاں‘‘ کی دائیں ہتھیلی پر کھتیری اُگی رہتی ہے اور باتیں ہاتھ میں شنکھ پڑ رہتا ہے!‘‘

’’کیا تم نے کبھی اسے شنکھ بجاتے دیکھا ہے؟‘‘ ایک ہم سفر نے پوچھا

’’شنکھ بجاتے؟… میںنے تو اسے بھی دیکھا ہی نہیں! سنا ہے… صرف سنا ہے!‘‘

’’اس شہر میں کوئی ایسا ہے جس نے اسے دیکھا ہو؟‘‘ دوسرے ہم سفر نے پوچھا

بوڑھے نے جواب دیا… ’’ایک تھا…! مگر اب اس کی موت ہو چکی ہے۔‘‘

’’سب نے اس کی بات سنی اور یکے بعد دیگرے گڑھے میں چھلانگیں لگانے لگے حتیٰ کہ باہر صرف میں اور میرا نحیف جسم رہ گئے یا پھر جپی ژاں کا مردہ مجسمہ۔ سارے شہر کی عورتیں سیاہ لباس پہنے اپنے گھروں سے نکلیں اور چھاتیاں پیٹ پیٹ کر سیاپا کرتی ہوئی ہم دونوں کی طرف بڑھیں۔‘‘

’’جپی زاں‘‘ ذاتی اسطورہ بنانے کی کامیاب کوشش ہے۔ چنانچہ اس کہانی کے ذریعہ سریندر پرکاش نے معاشرتی زوال اور روحانی انتشار کو اساطیری وسیلے سے بہت آسانی سے بیان کیا ہے۔ اساطیر انسان کے باطنی اور داخلی تجربات کو کہانی کی صورت میں جدید افسانے میں آسانی سے پیش کرتی ہے۔

جدید افسانے میں کردار کی جگہ پرچھائیں نمایاں ہے۔ وہ بذات خود بے چہرہ ہوتی ہے اور اصل وجود کے بے نام عکس کی حیثیت رکھتی ہے۔ روایتی افسانے نے انسان کا خارجی پورٹریٹ بنایا تھا لیکن جدید افسانہ نگاروں نے اس کا داخلی خاکہ تیار کیا اس ضمن میں سریندر پرکاش صف اول میں شمار ہوتے ہیں چنانچہ ان کے یہاں حیاتیاتی انسان سے زیادہ نفسیاتی انسان کی تصویر کشی ہے۔ سریندر پرکاش نے کرداروں کے نئے قالب تیار کیے اور انہیں نئی معنویت کے ساتھ نئے انداز میں پیش کیا اور کرداری حوالے سے بنیادی تبدیلی جسم کے بجائے سائے، پرچھائیں اور وقت کو ترجیح دینا ہے۔

’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ بھی علامتی طرز کا اور نہایت اہم اور مشہور و مقبول افسانہ ہے جس میں انفرادی کرب کی ایک لہر موجود ہے، انسان سے جب سب کچھ چھن جاتا ہے تو وہ ماضی کی خوشحالی کے خوابوں کا اسیر ہو جاتا ہے۔ یہ افسانہ مکمل طور پر شخصیت کے ٹوٹاؤ سے عبارت ہے جس میں فرد کی ذات دو حصوں میں تقسیم ہو کر ود شخصیتوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایک شخصیت قدیم ہندوستان کے نیچر سے مطابقت رکھتی ہے تو دوسری اس وقت کے بدلے ہوئے عصری منظر نامے کے قریب نظر آتی ہے ۔ یعنی اس میں وقت دو صورتوں میںموجود ہے۔ ایک تو ناریل پیتا ہوا بوڑھا مجسمہ جو ہندوستانی قدیم کلچر کا استعارہ ہے اور دوسرا وہ بوڑھا جو اندھا، بہرا اور گونگا ہے، جیسا کہ وقت ہوتا ہے۔ لہٰذا اس ڈرائنگ روم میںموجود آدمی کو اس بوڑھے آدمی کی لاٹھی کی ٹھک ٹھک کی آواز کبھی تو بہت قریب سے سنائی دیتی اور کبھی غائب ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ یعنی یہ تمام باتیں وقت کے احساس سے تعلق رکھتی ہیں۔ چنانچہ یہ افسانہ سریندر پرکاش کا نہایت اہم اور علامتی افسانہ جس  میں انھوں نے وقت کو کردار بنا کر عصری تناظر میں پیش کرنے کی سعی کی ہے اور یہ افسانہ ان کی پہچان کا خاص وسیلہ بنا کیوں کہ اس افسانے میں انھوں نے داستانوی انداز میں نہایت پیچیدہ علامتوں کا استعمال کر کے قدیم معاشرے سے جدید معاشرے کی طرف خاص توجہ مذکور کرائی ہے۔

’’رونے کی آواز‘‘ میں خود کلامی کے ذریعے مرکزی کردار اپنے اندر کی آواز کے ذریعہ معاشرتی بے حسی کو واضح کرتا ہے، سرسوتی اور لکشمی کی اسطوری معنویت کہانی کے اندر علامتی پیرایہ پیدا کرنے میں معاونت کرتی ہے۔ مالک مکان جس نے سرسوتی کو چھوڑ کر لکشمی سے بیاہ رچا لیا ہے۔ دراصل پورے معاشرے کی بدلتی ہوئی سوچ کا عکاس بن جاتا ہے ’’ خشت وگل ‘‘میں حضرت نوحؑ کی اسطورہ کو استعمال کیا گیا ہے۔ ’’آرٹ گیلری‘‘ سریندر پرکاش کا ایک بالکل نئے انداز کا افسانہ ہے جس میں زندگی کے خلاف سیاسی منظر نامہ کے دبائو اور بے معنویت کی عمل داری کو تجریدی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ’’خواب صورت‘‘ نفسیاتی یا پھر نفسی کیفیت کا افسانہ ہے جس میں اسطوری سیاق و سباق میں اس کی نفسی گرہیں آسانی سے کھل جاتی ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے اس کہانی کا بہت خوبصورت تجزیہ کیا اس لیے یہاں انہیں کے الفاظ دہرانا بیجا نہ ہوگا۔ملاحظہ ہو:-

’’خواب صورت‘‘ بظاہر ایک نفسیاتی نکتے پر مبنی ہے، آخری تجزیے کی روشنی میںتہذیب کی نفسیات کامطالعہ ثابت ہوتا ہے۔ وہ قبائلی عورت جومشینی پمپ کا پانی نہیں پیتی بلکہ پمپ کی پوجا کرتی ہے اور گندے جوہڑ کا کا پانی پیتی ہے، افسانے کے متکلم سے زیادہ مختلف نہیں، لیکن خود افسانے کا متکلم ایک پورے اسطور سے منسلک ہے۔ بچپن میں وہ معصوم تھا تو اسے خواب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ جوان ہو کر اس کے خواب کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ مارگریٹ کو وہ اپنی بہن کہتا اور سمجھتا ہے لیکن خواب میں وہ اسے کسی اور روپ میں نظر آتی ہے۔ اس طرح یہ افسانہ بچپن کی معصومیت کے زوال اور زیاں کا اسطورہ بن جاتا ہے۔‘‘

(بازگوئی، ص۱۳،۱۴)

’’جمغورۃ الفریم‘‘ میں بھی سریندر پرکاش نے اسطور سازی سے کام لے کر کہانی تخلیق کی ہے اور نہایت عمدہ، علامت اور استعارہ سازی کا استعمال کر کے قدیم و جدید ہندوستان کی پیکر سازی کی ہے۔ چنانچہ اس کہانی کے ذریعہ انھوں نے ہندوستان کی عصری صورتحال پر ایک طنز کیا ہے۔ ’’جنگل سے کاٹی ہوئی لکڑیاں‘‘ بھی سماجی معنویت سے پُر ہونے کے ساتھ ساتھ احتجاجی رنگ سموئے ہوئے ہے ۔ ’’باز گوئی‘‘ میں اساطیرکی نسبت داستان کی طرف زیادہ جھکائو ہے۔ سریندر پرکاش نے اس افسانے میں نہایت آسان علامتوں اور تمثیلوں سے کام لیا۔ جس میں کسی مصری شہر کو بنیاد بنا کر یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دراصل اقتدار اندھی طاقت ہوتی ہے اور اس پر مغلوب ہونے والا خود بھی اس کا غلام بن جاتا ہے۔۔ ’’پیاسا سمندر‘‘، ’’رہائی کے بعد‘‘، ’’خشت و گل‘‘، اور ’’نئے قدموں کی چاب‘‘ وغیرہ افسانوںمیں بھی دو معاشروں کے تضادات کی کشمکش کی عکاسی کی گئی ہے ’’سرنگ‘‘ بھی ان کا ایک پیچیدہ اور تجریدی قسم کا افسانہ ہے۔ جس میں جاسوسیت کا تجسس اور مناظر کی ہمہ جہتی پوری کہانی پر مکمل طور سے غالب ہے۔

چنانچہ اس طرح سریندر پرکاش نے اپنی کہانیوں کے ذریعہ معاشرتی زوال اور روحانی انتشار کو اساطیری وسیلے سے کہانی میں آسانی سے بیان کرکے ایک نیا جہانِ معنی آباد کیا ہے۔ ان کے یہاں تہذیب نو کے عصری عناصر و مناظر زیادہ ابھر کر سامنے آتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مشرقیت و مغربیت کا امتزاج بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں بیانیہ حقیقت کے بجائے زبان و بیان کی داخلیت سے کام لے کر ابہام اور پیچیدگی کے ذریعہ کہانی میں ایک نیا انداز پیدا کیا ہے۔ ان کے یہاں علامت، تمثیل، تجزید و استعارہ سے کہیں زیادہ اسلوب، انداز بیان اور طرز نگارشات کی کارفرمائی ملتی ہے۔ اسی لیے شمس الرحمن فاروقی نے ان کے لیے کہا ہے کہ ’’سریندر پرکاش بے مثال خوبصورت نثر لکھتے ہیں۔‘‘

چنانچہ اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ سریندر پرکاش اپنی تکنیک، اپنے اسلوب اور اپنے موضوعات کی بنیاد پہ ایسا تخلیق کار ہے جس کی کہانیاں ہر عہد اور ہر زمانے میں زندگی کی پُر پیچ، باریک، پُر اسرار اور تہ دار مسائل و معاملات کی نمائندگی کرتی رہیں گی۔

 

 

نوٹ۔ مضمون نگار شعبۂ اردو، الہ آباد یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
عرفان ذات کا شاعر:سید عارف علی عارف-ڈاکٹر شاہ نواز فیاض
اگلی پوسٹ
فراق کاتصورعشق’من آنم‘کےحوالےسے- پروفیسر کوثر مظہری

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں