مراسلہ نگاری میں برجستگی اور بے تکلفی سے ایک طرح کی شان بے نیازی پیدا ہوجاتی ہے۔ سچائیوں کا پُرخلوص بیان کبھی تو دلچسپ لگتا ہے اور کبھی مکتوب نگار کے تئیں جذبات برہمی پیدا ہوجاتے ہیں اور کبھی مکتوب نگار کے ساتھ ساتھ اس کے احباب اور اس کے آس پاس کی دنیائیں بھی سامنے آجاتی ہیں۔ اس کی مثالیں غالب کے خطوط میں بھری پڑی ہیں۔ یوں تو غالب بھی نرگسی تھے لیکن احباب اور اعزا کے چہرے بھی ان کے خطوط میں مل جاتے ہیں جب کہ فراق کے خطوط میں ذات فراق کے علاوہ کچھ نہیں اور اگر بھولے بھٹکے کسی کی شبیہ نظر بھی آئی تو تھوڑی دیر میں ماند پڑگئی۔ یہ سب اس لیے ہے کہ فراق نے پوری کائنات کو اپنی ذات کے حصار میں لے لیا ہے۔ اس لیے انہیں باہر جھانکنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔
فراق نے گاہے گاہے اپنے دوستوں کو خطوط لکھے مگر ان کے خطوط کا مجموعہ صرف ’من آنم‘ ہے۔ ’نقوش‘ کے مدیر محمد طفیل کے خطوط کے جواب میں یہ سارے خطوط لکھے گئے۔ اس میں بھی طفیل صاحب نے قصداً کچھ سوالات قائم کیے تھے تاکہ فراق کی نجی زندگی اور شاعری کے تئیں ان کا نظریہ سامنے آجائے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو من آنم کے خطوط فطری نہیں جن میں اپنی مرضی زیادہ شامل ہوتی ہے۔ خط میں سوال کا جواب دینا انٹرویو کی شکل پیش کرتا ہے۔ ان خطوط میں ان کی شادی اور اس کے بعد کے حالات کے ساتھ ساتھ شاعری کے مزاج، تصور عشق، تصور غم، حسن و عشق کے خارجی اور داخلی پہلو قدیم اور نئی شاعری کی تفریق اور اس کی ضرورت، اسالیب نظم، کلام کے دوبارہ نکھارے جانے اور اسلامی ادب جیسے موضوعات اور جہات سے بحث کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تقسیم ملک کے خلاف بھی ان کا موقف ان کے ایک خط میں ملتا ہے۔ ہندودیومالا اور ہندو تہذیبی زندگی کے نقوش پر بحث کی گئی ہے۔ اسلامی ادب پر اظہار خیال کرتے ہوئے نقوش کے صفحات پر اس کی مخالفت کی گئی ہے۔ جرمن شاعر گوئٹے اور کالی داس کی شکنتلا کا ذکر کئی جگہوں پر ملتا ہے۔
اپنے اس مضمون میں میری کوشش ہوگی کہ ان کے خطوط میں پیش کیے گئے صرف تصور عشق اور جنسیت سے بحث کروں کیونکہ تمام پہلوؤں پر گفتگو کرنے سے خلط مبحث اور طوالت دونوں کا خوف ہے۔ اسلامی ادب پر فراق نے جو رائے پیش کی ہے اس پر گفتگو کرنا اپنا سر اوکھلی میں دینے کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا اس کے حوالے سے گوشۂ عافیت کی تلاش ضروری ہے۔
فراق نے محمد طفیل کو لکھے گئے جن خطوط میں عشق اور عشقیہ شاعری کے تصور پیش کیے ہیں ان میں فراق کی نفسیات اور میلان طبع دونوں کے نقوش ملتے ہیں۔ ان خطوط کے تلازمے ان کی کتاب ’’اردو کی عشقیہ شاعری‘‘ میں تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ مدینہ بجنور کے جوبلی نمبر اپریل 1939 میں یہ مقالہ پہلی بار چھپا تھا جس کا شہرہ اس زمانے میں خوب ہوا۔ پھر یہی مقالہ 1945 میں کتابی شکل میں منظر عام پر آیا:
’’من آنم‘‘ کے پہلے خط (14 فروری 1953) سے اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’نو دس برس کی عمر ہی سے جس لڑکی یا لڑکے کو، مرد یا عورت کو، اپنے نزدیک میں خوبصورت سمجھتا تھا اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میرا جسم بلکہ میری ہڈیاں تک پگھل کر رہ جائیں گی۔ شعوری طور پر احساس حسن سے برانگیختہ ہونے والی جنسیت میرے اندر سن بلوغ سے کافی پہلے پیدا ہوچکی تھی۔‘‘(ص14)
فراق کے تصور حسن و عشق پر اس اقتباس سے بھی روشنی پڑتی ہے۔ خط جو ذاتی نوعیت کی تحریر پیش کرتا ہے، اس میں اس طرح کے خیالات کی پیش کش معنی آفرینی کو فروغ دیتی ہے۔ اس طرح کے خیالات کا پیش کرنا مکتوب نگار کی بشریت کو مجروح ہونے سے بچاتا ہے۔ کوئی انسان اپنی شاعری میں اور اپنی گفتگو میں ممکن ہے کہ اپنے ایسے خیالات کو اس طرح کھل کر پیش نہیں کرسکے لیکن خط میں تمام تر شائستگی اور پردہ داری کے باوجود اپنے حد درجہ نجی احساسات کو بیان کرسکتا ہے۔ فراق کا معاملہ تو خیر بالکل جداگانہ ہے کہ اُن کی نجی زندگی کچھ اتنی ڈھکی چھپی بھی نہیں تھی۔ ملمع کاری فراق کی زندگی میں بھی نہیں تھی اور یہی رویہ ان کے خطوط میں بھی ملتا ہے کہ جو کچھ کہنا ہے اس کا برملا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ فراق کی غزلوں میں جو جمالیاتی تموج نظر آتا ہے اس کے پیچھے وہی ہڈیاں تک پگھلا دینے والا احساس جمال رہا ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں اس بات کا اظہار بھی کیا ہے کہ میں شاعری کا ایک مقصد یہ بھی سمجھتا ہوں کہ زندگی کے خوشگوار اور ناخوشگوار حالات و تجربات کا ایک سچا جمالیاتی احساس حاصل کیا جائے۔ اس جمالیاتی احساس میں فراق کا جنسی تصور بھی شامل ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکیزگی جنسی تعلق سے بچنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس تعلق کو وجدانیت اور جمالیاتی صفات سے متصف کرنے کا نام ہے۔ عشق اور جنسی جذبے میں جو ربط باہم ہے اسے سمجھنے کے لیے فراق کا یہ تصور ملاحظہ کیجیے:
’’جب جنسی جذبات کسی شخص کی پوری شخصیت میں حلول کرجائیں اور اس کے مستقل کردار کا جزو بن جائے اور جب جنسی خواہش کے مقابلے میں احساس جمال بہت زیادہ بڑھ جائے اور بہت زیادہ گہرا ہوجائے تب جنسیت عشق کا مرتبہ حاصل کرلیتی ہے۔‘‘ (ص22)
آگے اسی خط میں محمد طفیل صاحب سے استفسار کرتے ہیں کہ کیا میرا عشقیہ کلام آپ کو یہ احساس کراتا ہے کہ ’’جنسیت اپنی تمام کثافتوں سے پاک ہوکر میرے شعور اور کردار کا جزو لطیف بن گئی ہے۔‘‘ (ص22)
معلوم نہیں طفیل صاحب نے فراق صاحب کے اس سوال کا جواب کیا دیا تھا لیکن سچ تو یہی ہے کہ ان کی شاعری میں عشق پوری توانائی کے ساتھ ابھرتا ہے لیکن جنس زدگی یا اس کے کثیف ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ شاید ایک رچے ہوئے اور حسّاس عاشق میں یہ قوت اظہار پیدا ہوجاتی ہے۔
پروفیسر گوپی چند نارنگ نے فراق کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے بہت صحیح لکھا ہے کہ:
’’فراق کی عشقیہ شاعری جنس کی پاکیزگی اور تطہیر کی بہترین مثال ہے۔‘‘
(فراق گورکھپوری، مرتب: کامل قریشی، ص89)
فراق نے اسی خط میں اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ میری زندگی جنسیت زدہ رہی ہے۔ لیکن انہوں نے اس جنسی احساس کو سَدھا کر بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ نکیل دے کر اپنی عشقیہ شاعری میں خوبصورتی کے ساتھ پیش کردیا ہے۔ انہوں نے جس کھلے پن سے اپنے جنسی جذبات کو اپنی شاعری سے ہم آہنگ کرنے کی بات کہی ہے، وہ توجہ طلب ہے۔ لکھتے ہیں:
’’مجھے اس کا اعتراف ہے کہ میری ذاتی زندگی بہت زیادہ جنسیت زدہ رہی ہے اور ہے۔ میری جنسی زندگی کو اس بات سے نہیں سمجھا جاسکتا کہ کن کن سے میرے تعلقات رہے ہیں۔ ان تعلقات کو میں نے کس طرح ہضم کیا ہے۔ جنسیت کو کتنا لطیف بنا سکا ہوں… اگر ان باتوں کا پتہ چلانا ہو تو میری غزلوں، رباعیوں اور عشقیہ نظموں میں ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنا چاہیے۔‘‘
(ص21، خط نمبر2)
اس کے آگے والے خط میں انہوں نے اپنے چند عشقیہ اشعار پیش کیے ہیں۔ دو تین اشعار ملاحظہ کرلیجیے:
اس پرسش کرم پہ تو آنسو نکل پڑے
کیا تو وہی خلوص سراپا ہے آج بھی
جو چھپ کے تاروں کی آنکھوں سے پاؤں دھرتا ہے
اسی کے نقش کف پا سے جل اٹھے ہیں چراغ
وہ ہر نفس حسن میں خوشبوئے محبت
وہ رنگ گل افشانی لب ہائے نگاریں
میرے خیال سے ایسے اشعار پڑھتے ہوئے فراق کی جنسیت زدہ شاعری کا عکس نہیں ابھرتا۔ دراصل فراق اس لطیف پیرایہ اظہار کے حصول تک پہنچنے کے لیے بہت ہی سخت مجاہدے سے گزرے ہوں گے۔ جنسیت زدہ شخصیت کس طرح لطیف شاعری میں اتر آئی ہے، یہ ایک قابل تقلید اور حیرت انگیز صورت حال ہے۔ اپنی ذاتی زندگی کو کھُل کر جس طرح فراق نے محمد طفیل صاحب کے سامنے رکھ دیا ہے اسے ان کا حددرجہ ذات کا کھلاپن اور خلوص بے پایاں کا طرز اظہار کہا جاسکتا ہے۔ یہ طرز اظہار احساس بشریت سے پیدا ہوتا ہے۔ فراق نے خود کو ہمیشہ ایک انسان سمجھا ہے۔ ایک خط طفیل صاحب کے اس خط کے جواب میں ہے جس میں انہوں نے فراق کو لکھا تھا کہ آپ عشقیہ شاعری کے پردے میں خود حظ اٹھانے لگتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہ طعنہ مجھے نہ دیجیے کہ لوگ میرے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔ میں جیسا کچھ ہوں اسی طرح آپ کے اور سب کے روبرو آنا چاہتا ہوں….. میں نے کوئی پیغمبری یا اوتاری کا دعویٰ کیا ہو تو لوگوں سے خطرہ، میں تو شاعر ہوں بلکہ انسان ہوں، اس لیے میں شاعری بھی کروں گا اور اپنے انسان ہونے کا ثبوت بھی دوں گا۔‘‘ (ص65)
اس اقتباس سے فراق کی جبلّی قوتوں اور شعور بشریت دونوں کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ جنون کی کیفیت میں انسان دنیا ومافیہا سے تقریباً بے نیاز سا ہوجاتا ہے۔ یہ بے نیازی اس کی شخصیت اور شاعری (اگر وہ شاعر بھی ہے) دونوں میں Sublimity پیدا کردیتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنی خامیوں پر پردہ ڈالتے ہیں بلکہ دوہری شخصیت کے ساتھ جیتے ہیں۔ فراق نے اکثر اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ محض ایک انسان ہیں بلکہ دنیادار بھی ہیں۔ سید محمد عقیل لکھتے ہیں کہ:
’’فراق صاحب کے خطوط اس لحاظ سے اہم ضرور ہیں کہ وہ ان کی ایسی شخصیت کو پیش کرتے ہیں جیسا کہ فراق صاحب خود کو سمجھتے ہیں۔‘‘
(فراق گورکھپوری: فن اور شخصیت، 1986، مرتب: علی احمد فاطمی، ص45)
اس پہلو پر غور کیا جاسکتا ہے کہ اگر فراق نے یہ خطوط نہیں لکھے ہوتے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اگر محمد طفیل نے یہ خطوط ان سے لکھوائے نہیں ہوتے تو کیا ان کی شخصیت کا یہ بشری پہلو ہمارے سامنے آسکتا تھا؟ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے چونکہ جوش کی طرح کوئی ’’یادوں کی برات‘‘ نہیں لکھی تھی، اس لیے ان کی شاعری سے ان کی شخصیت تک پہنچنا مشکل تھا۔ یہ ضرور ہونا چاہیے کہ جب کوئی خط نجی نہ رہ کر اجتماعی بن جائے تو اس میں عام قاری کو بھی اپنی طرف مائل کرنے کے عناصر موجود ہوں۔ اعتراف گناہ اور اپنی ہوس کاری کا ذکر انہوں نے دوسرے خطوط میں بھی کیا ہے۔ انہوں نے طفیل صاحب کو خط لکھنے سے پہلے مولیٰنا خیر بہوروی کو ایک خط لکھا تھا جس میں اپنی تعلیم و تربیت، شادی، اپنے عشق اور قید فرنگ کا تفصیلی ذکر کیا تھا۔ یہ اقتباس دیکھیے:
’’شادی کے ناکامیاب ہونے کے بعد کچھ معاملات عشق بھی درپیش ہوئے اور اس طرح کہ مجھے پیتے اور مٹاتے ہی رہے۔ میرے عشق کا زمانہ آپ 1915 سے 1935 تک سمجھ سکتے ہیں۔ کسی سے کچھ ہوجانے یا معمولی طور پر پینگ بڑھ جانے کا جہاں تک تعلق ہے تو ایسے معاملات بہت رہے۔ لیکن یہ محض ہوس تھی۔ جہاں تک میری زندگی اور مزاج کا تعلق ہے ہوس عشق میں ناکامی کا نتیجہ تھی۔ میرے لیے ہوس پرستی عشق کی تلاش تھی اور اس لیے میں ہوس کا زیادہ احترام کرتا ہوں۔‘‘
(باتیں فراق سے، سولہ برس چار ماہ پر مشتمل انٹرویو، از سُمِت پرکاش شوق 1998، ص: 187-88)
غالب کے اس شعر اور ایک مصرعے کو یہاں رکھ کر غور کیجیے۔ میں تبصرہ نہیں کروں گا:
ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
ع
ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی
فراق کے عشق کا نکتۂ ارتکاز جسم ہے۔ ان کے عشق کے جگنو خطوط میں یا انٹرویوز میں یا پھر نجی گفتگو میں جہاں تہاں چمکتے نظر آتے ہیں لیکن آسانی سے گرفت میں نہیں آتے۔ اگر صرف شاعری کو سامنے رکھیں تو یہ ہوس پرستی اور جسم کی ہوس رکھنے والا عشق کمزور دکھائی دینے لگتا ہے۔ فراق ایک ذہین و فطین فنکار تھے۔ انہیں پتہ تھا کہ اگر شاعری میں جسم کا تلذذ دَر آیا تو قارئین اور سامعین کا عمل تنفس تیز تر ہوجائے گا اور پھر تخلیقی بصیرت پر دُھند سی چھا جائے گی۔ محمد حسن عسکری نے بہت صحیح لکھا ہے کہ:
’’فراق کے عاشق اور معشوق کے پاس جسم تو خیر ہے ہی، لیکن دماغ بھی ہے اور بڑے مصروف قسم کا۔ یہاں صرف دو جسم ہی ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں ہیں بلکہ دو دماغ بھی گتھے ہوئے ہیں۔ انہیں دو دماغوں کے دانو پیچ سے فراق کی شاعری تشکیل پاتی ہے۔‘‘
(فراق شاعر اور شخص،1983، ص 18، مرتب: شمیم حنفی)
حسن عسکری کا خیال درست ہے کہ اگر فراق دماغ سے کام نہ لیتے تو ان کی شاعری ترفع کے بجائے تنزل کا شکار ہوجاتی۔ زندگی کے مختلف جہات اور تنوعات میں اگر شاعر کی دلچسپی نہیں تو عشقیہ شاعری کو کامیابی کے ساتھ نبھانا ایک مشکل کام ہے۔ فراق زندگی اور کائنات اور کائنات کے رموز و نکات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ فراق اپنے خط میں لکھتے ہیں:
’’ہمارے اردو شعراء جسمی لحاظ سے نامرد نہیں تھے، لیکن زیادہ تر یہ شعرا وسیع دلچسپیاں نہیں رکھتے تھے، اس لیے ان کی عشقیہ شاعری میں وہ قوت یا زندگی نہیں ہے جو ان شعرا کی شاعری میں ہے جو حیات و کائنات میں دلچسپی رکھتے تھے، مثلاً میر، آتش، غالب۔‘‘ (من آنم، ص:28 — خط نمبر3)
فراق نے جنسی عشق کے حوالے سے اپنے خطوط میں اکثر ذکر کیا ہے۔ ایک اور خط کا یہ اقتباس دیکھیے:
’’آفاقی دلچسپیاں عشقیہ شاعری میں آفاقیت پیدا کردیتی ہیں۔ تہذیب کے کارنامے ارتقائے جنسیت کے ہی کرشمے ہیں۔ علی ہٰذا القیاس تہذیب کے کارناموں سے دلچسپیاں جنسیت کے ارتقا میں مدد دیتی ہیں۔‘‘
(من آنم، خط نمبر-8، ص72)
فراق نے جس بے باکی سے جنسیت زدہ شاعری بلکہ جنسی زندگی کی بدعنوانیوں کو لائق اعتنا قرار دیا ہے، یہ مرحلہ قدرے توقف چاہتا ہے۔ فراق ذاتی کمزوریوں کو ہمیشہ درگزر کیے جانے کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے اس موقف کے دفاع کے طور پر ملٹن، شیکسپیئر، شیلے، ڈکنس، گوئٹے، سقراط یہاں تک کہ شیخ سعدی اور امیرخسرو کے حوالے پیش کیے ہیں۔ ان کا نظریہ کچھ یوں ہے کہ:
’’کسی شخص کی جنسی زندگی اس کی مکمل عملی زندگی کا صرف ایک جزو ہے اور اگر یہ مکمل عملی زندگی سماج کو فائدہ پہنچاتی ہے تو ایسے شخص کو اس کی جنسی زندگی کی ظاہری بدعنوانی کی بنا پر ہم قابل لعنت نہیں ٹھہرا سکتے۔‘‘
(من آنم، خط نمبر-12، ص101)
فراق ہمیشہ اسی دُھن میں نظر آتے ہیں کہ کسی طرح جنسی میلان کو سند حاصل ہوجائے۔ یہیں اگر یہ سوال قائم کردیا جائے کہ مذکورہ بالا اشخاص کی زندگیاں اگر جنسی میلان سے پُر تھیں تو اس سے یہ جواز کہاں پیدا ہوتا ہے کہ بغیر جنسی میلان کے سماج کو فائدہ پہنچانے والا کوئی کام نہیں کیا جاسکتا؟ کسی شاعر یا ادیب کی زندگی الگ ہوتی ہے اور اس کے کارنامے الگ حیثیت رکھتے ہیں۔ فراق نے لکھا ہے کہ ’’شیلے اپنی پہلی بیوی کی زندگی ہی میں ایک دوسری عورت کو لے کر بھاگ گیا تھا۔ اس کی پہلی بیوی نے خودکشی کرلی، لیکن باتفاق رائے شیلے کو فرشتہ خصلت انسان کہا گیا ہے۔‘‘ (ص101) غور فرمائیے کہ شیلے کی بیوی نے اس کے اس اقدام پر خودکشی کرلی لیکن اس کے باوجود وہ باتفاق رائے فرشتہ صفت انسان ٹھہرا۔ کم سے کم میں تو اس ’’باتفاق رائے‘‘ والی جماعت میں شامل نہیں۔ پھر یہ کہ یہ جس معاشرے کی مثال ہے کیا وہ ہمارے تہذیبی و تمدنی زندگی کے لیے بعینہٖ قابل قبول ہوسکتی ہے؟
جنسی عشقیہ میلان کے جواز پیدا کرنے میںفراق اس حد تک جاتے ہیں کہ ہم جنسی کی وکالت کرنے لگتے ہیں۔ اپنی نفسیات اور اپنی فکر کو جیسے وہ تھوپنے کی کوشش کرنے لگ جاتے ہیں۔ بار بار لطافت اور تہذیب زندگی کا حوالہ دیتے ہیں تاکہ لوگوں کو باور کراسکیں کہ یہ ہم جنسی کوئی ایسی بُری شئے نہیں۔ ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’ہم جنسوں کی پُرخلوص جنسی محبت سے اولاد تو نہیں پیدا ہوتی، پھر اس سے تہذیب کو کیا فائدہ ہوتا ہے۔ ایک فائدہ عاشق و معشوق کی زندگیوں میں ایک لطافت پیدا ہوجانا اور دونوں کی شخصیتوں کی تالیف و تہذیب۔ دوسرے اگر عاشق کی شخصیت معشوق سے بڑی ہے تو معشوق ’جمال ہم نشیں درمن اثر کرد‘ کے مصداق بہت کچھ بن سکتا ہے۔ پھر اگر ایسی محبت میں طرفین میں سے کوئی شاعر، فن کار یا کسی دوسری کارآمد دلچسپیوں کا حامل ہے تو یہ محبت اُس کی اُن دلچسپیوں کو پروان چڑھانے میں بہت مدد دے سکتی ہے۔‘‘
(من آنم، خط نمبر-6، ص: 50)
فراق کے مذکورہ بالا نسخے میں کچھ قباحتیں ضرور ہیں۔ اسے یونہی اپنایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے اپنی شخصیت اور اپنے ہی میلان طبع اور کار آمد دلچسپیوں کی روشنی میں یہ بیان دیا ہے۔ طرفین میں سے کسی ایک کے شاعر یا فنکار ہونے کی بات فراق نے اپنے مطابق وضع کرلی ہے۔ عاشق اور معشوق کی زندگیوں میں اگر لطافت پیدا ہوگی تو تقریباً ایک سی۔ اسی طرح دونوں کی شخصیتوں کی تالیف و تہذیب بھی ہوگی تو اس میں بھی کم و بیش ایک سا رنگ ہونا چاہیے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ جو شاعر و فنکار ہے صرف اسی کی دلچسپیوں کو پروان چڑھنے کا موقع ملے۔
فراق جب عشق پر لکچر دیتے ہیں تو اس میں ان کی عرق ریزی اور مطالعہ اور مشاہدہ سب کچھ شامل ہوتا ہے۔ انہوں نے عشقیہ شاعری کے حوالے سے پوری کتاب لکھ دی۔ اس کتاب میں انہوں نے عشق سے متعلق دس سوالات قائم کیے ہیں۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس موضوع پر اب تک فراق سے زیادہ کسی نے نہیں سوچا ہے۔ میں یہاں صرف دو سوالوں کو پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ ان کے ڈانڈے ان کے خطوط میں پیش کیے گئے فرمودات عالیہ سے ملتے ہیں:
1۔ کیا چند حالتوں میں یہ بھی ممکن ہے کہ شوہر یا بی بی کے ہوتے ہوئے یا نہ ہوتے ہوئے کسی اور سے بھی سچا اور مستقل اور شدید عشق ہو اور دو چار سے کبھی کبھارے جنسی تعلقات بھی برت لیے جائیں؟
2۔ امردپرستی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیونکہ خواہ آپ اسے غیرفطری کہیں خواہ مکروہ اور ذلیل، خواہ آپ تعزیرات ہند کا سہارا لیں، یہ یاد رہے کہ جو لوگ امردپرستی کے مرتکب ہیں وہ نہ تو جرائم پیشہ ہوتے ہیں، نہ رذیل نہ ذلیل نہ کمینے، نہ عام طور سے خراب بلکہ کئی امردپرست تو اخلاق اور تمدن اور روحانیات کی تاریخ کے مشاہیر رہے ہیں جیسے سقراط سیزر، مائیکل انجلو، سرمد، شیکسپیئر اور دنیا بھر میں لکھوکھا آدمی جو امردپرست رہے ہیں وہ نہایت شریف انسان رہے ہیں۔(اردو کی عشقیہ شاعری: فراق 1945، ص35)
جنسیت زدہ عشق کی آفاقیت کا راز فراق کے مذکورہ بالا اقتباس سے ضرور معلوم ہوجاتا ہے۔ ایسے ہی کچھ مشاہیر کے نام انہوں نے ’’من آنم‘‘ کے خط نمبر-12 میں گنوائے ہیں جیسے ملٹن، شیلے، شیکسپیئر، ڈکنس، گوئٹے، میر و آتش وغیرہ۔ کہہ سکتے ہیں کہ فراق کا میلان طبع عشق کے تئیں بہت پہلے سے ایسا ہی تھا۔ من آنم کے خطوط اور ان کی کتاب اردو کی عشقیہ شاعری میں 14 برسوں کا زمانی بعد ہے۔ کلیم الدین احمد نے فراق کی کتاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’جس تیور سے یہ سوالات کیے گئے ہیں اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے سے عشق نہیں ہوتا اور نہ ہونا چاہیے، امردپرستی بہت اچھی چیز ہے اور اسی طرح عورت کی عورت سے شہوانی محبت بھی کوئی بری چیز نہیں۔ پھر یہ بھی ایک نفسیاتی نکتہ ہے کہ امردپرستی والے سوال کو اور سوالوں سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور پھر اس ضمن میں واقعۂ حقیقت اور منطق پر جو دانستہ ظلم روا رکھا گیا ہے اس کی مثالوں سے یہ کتاب بھری پڑی ہے۔‘‘
(سخن ہائے گفتنی، از کلیم الدین احمد، 1967، ص171)
یہ سچ ہے کہ فراق نے اپنے مختلف خطوط میں اپنے جنسی جذبات اور عشق کے اس خاص پہلو پر کھل کر باتیں کی ہیں اور کوشش بھی کی ہے کہ آزادانہ جنسی تعلقات اور نفسیاتی خواہشات کی تکمیل کا کسی نہ کسی طرح جواز فراہم ہوجائے۔ پتہ نہیں ان کا جواز کہاں تک درست تھا، ہاں یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ انہوں نے جس کھلے پن اور جس اخلاص کے ساتھ اپنی بشری کمزوریوں کا اعتراف کیا ہے، یہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں تھی۔ فراق نے اپنی عشقیہ شاعری میں جس بشری عشق اور زمینی محبت کی کہانی سنائی ہے وہ اپنی شیرینی اور گداختگی کے سبب ہمیشہ زندہ رہے گی۔ حیات و کائنات کو جس خوبصورتی اور دل پذیری کے ساتھ انہوں نے اپنی شاعری میں سمویا ہے، وہ ان کی حیات کو شرف جاودانی بخشتی ہے۔
اخیر میں فراق کے خطوط کے حوالے سے یہ عرض کرنا چاہتا ہو ںکہ ان کی نثر میں ایک طرح کی سرلتا اور کوملتا کے ساتھ ساتھ توانائی اور شوخی موجود ہے— لہجے میں تابناکی اور سرشاری کی کیفیت ملتی ہے۔ کہیں کہیں شاعرانہ تعلی کا رنگ ان کے خطوط میں بھی در آیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے نثری اسلوب پر الگ سے مضمون لکھنے کی گنجائش ہے۔
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

